آپ کس قسم کے لوگوں کو پسند کرتے ہیں؟
”ضرورت ہے دلہن کی۔ رنگ گورا اور دبلیپتلی، گریجویٹ یا ترجیحاً پوسٹ گریجویٹ ہو۔ لازم ہے کہ صاحبجائداد اچھے خاندان سے تعلق رکھتی ہو۔ ہمپلہ ذات کو ترجیح دی جائیگی۔“
یہ ہے ضرورترشتہ کے اشتہار کی عام عبارت جو شاید انڈیا کے کسی بھی اخبار میں آپ کی نظر سے گزرے۔ اغلب ہے کہ اسی قسم کی کوئی چیز آپکو دنیا کے بہتیرے دیگر حصوں میں بھی دیکھنے کو ملے۔ انڈیا میں عموماً ایسا اشتہار امکانی دلہے کے والدین کی طرف سے دیا جاتا ہے۔ جوابات میں شاید ایک ایسی لڑکی کی تصویر شامل ہو جو کہ چمکدار سرخ ساڑھی میں ملبوس سونے کے بیشمار زیورات سے آراستہ ہو۔ اگر لڑکے کے خاندان کو پسند آ جاتی ہے تو اس کے بعد شادی کے خیال سے گفتوشنید کا آغاز ہوتا ہے۔
قدر کے مشترکہ معیار
انڈیا میں ایک گورے رنگ کی دلہن کے مطالبے بہت عام ہیں۔ یہ اس نہایت پُختہ اعتقاد کی وجہ سے ہے کہ ہندو معاشرے کی نامنہاد نیچ ذاتیں کالے رنگ کی ہوتی ہیں۔ حال ہی میں، انڈین ٹیلیوژن کے ایک پروگرام نے دو لڑکیوں کی کہانی سنائی، ایک گوری اور دوسری کالی تھی۔ گوری لڑکی ظالم اور بدتمیز تھی، کالی لڑکی مہربان اور نرم مزاج تھی۔ ایک جادوئی تبدیلی رونما ہوئی اور سزا کے طور پر گوری لڑکی کو تو کالا بنا دیا گیا جبکہ کالی لڑکی کو گورا بنا دیا گیا۔ اس کہانی کا سبق بلاشُبہ یہی تھا کہ اگرچہ جیت ہمیشہ نیکی کی ہوتی ہے لیکن گورا رنگ ایک پسندیدہ انعام ہے۔
ایسے نسلی احساسات اکثر اس قدر گھر کر چکے ہوتے ہیں کہ شاید ہی کوئی شخص انہیں سمجھ سکے۔ مثال کے طور پر، شاید ایک ایشیائی باشندہ کسی مغربی ملک کا دورہ کرے اور یہ شکایت کرے کہ اس کی جلد کے رنگ یا اسکی ترچھی آنکھوں کی وجہ سے اسکے ساتھ بدسلوکی کی گئی تھی۔ ایسی باتیں اسے پریشان کرتی ہیں اور وہ محسوس کرتا ہے کہ اسکے ساتھ ناروا امتیاز برتا گیا ہے۔ لیکن جب وہ اپنے آبائی وطن واپس آ جاتا ہے تو شاید وہ بھی مختلف نسلیاتی گروہوں سے تعلق رکھنے والے اشخاص کیساتھ بالکل اسی طرح کا برتاؤ کرے۔ یہاں تک کہ آجکل بھی بہتیرے لوگوں کے کسی دوسرے شخص کی قدروقیمت کا اندازہ لگانے میں جلد کا رنگ اور نسلیاتی پسمنظر بڑا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
زمانہءقدیم کے بادشاہ سلیمان نے لکھا، ”روپیہ سے سب مقصد پورے ہوتے ہیں۔“ (واعظ ۱۰:۱۹) یہ کس قدر سچ ہے! دولت بھی اس پر اثرانداز ہوتی ہے کہ لوگوں کے بارے میں کیسا خیال کیا جاتا ہے۔ دولت کے مآخذ کی بابت کموبیش ہی سوال اٹھایا جاتا ہے۔ آیا کوئی شخص سخت محنت یا کفایتشعار بندوبست یا بددیانتی کی وجہ سے امیر ہوا ہے؟ اس سے بمشکل ہی کوئی فرق پڑتا ہے۔ دولت، خواہ ناجائز ہو یا نہ ہو، یہ بہتیرے لوگوں کو دولتمند شخص کا خوشامدی بنا دیتی ہے۔
مقابلہ بازی والی اس دنیا میں اعلی تعلیم کو بھی بہت اونچا مقام دیا گیا ہے۔ جوں ہی ایک بچہ پیدا ہوتا ہے، والدین کو یہ تاکید کی جاتی ہے کہ اسکی تعلیم کیلئے کثیر رقم بچانا شروع کر دیں۔ جب وہ دو یا تین سال کا ہوتا ہے تو وہ اس کے یونیورسٹی ڈگری حاصل کرنے کے طویل سفر میں پہلا قدم رکھنے کیلئے کسی صحیح نرسری سکول یا کنڈرگارٹن میں داخل کروانے کی بابت فکرمند ہوتے ہیں۔ بعض لوگ تو یہ سوچتے دکھائی دیتے ہیں کہ ایک باوقار ڈپلوما اپنے ساتھ یہ حق لئے ہوتا ہے کہ وہ دوسروں سے حمایت اور عزت کا مستحق ہے۔
جیہاں، جلد کی رنگت، تعلیم، پیسہ، نسلیاتی پسمنظر—یہ سب ایسے معیار بن گئے ہیں جن سے بہتیرے لوگ دوسرے شخص کو پرکھتے ہیں یا کسی حد تک وقت سے پہلے ہی اسکی بابت رائے قائم کر لیتے ہیں۔ یہ ہیں وہ عناصر جو اس کا تعیّن کرتے ہیں کہ وہ کس کی طرفداری کرتے ہیں اور کس سے وہ یہ حق چھین لیتے ہیں۔ آپ کی بابت کیا ہے؟ آپ کسے پسند کرتے ہیں؟ کیا آپ بھی کسی ایسے شخص کو زیادہ پسند کرتے اور احترام دیتے ہیں جس کے پاس پیسہ ہے، گورا رنگ ہے، یا اعلی تعلیم ہے؟ اگر ایسا ہے تو آپ کو اپنے احساسات کی بنیاد کی بابت سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
کیا یہ معقول معیار ہیں؟
کتاب ہندو ورلڈ مشاہدہ کرتی ہے: ”ایک برہمن کو قتل کرنے والے کسی بھی نیچ ذات کے شخص کو سزائے موت دی جا سکتی تھی اور اسکی جائداد کو ضبط کیا جا سکتا تھا اور اسکی روح کو ہمیشہ کیلئے جہنم واصل کر دیا جاتا تھا۔ کسی کو قتل کرنے والے ایک برہمن سے صرف جرمانہ لیا جا سکتا تھا اور اسے کبھی بھی سزائے موت نہیں دی جا سکتی تھی۔“ اگرچہ کتاب پرانے وقتوں کے بارے میں بیان کر رہی ہے تو بھی آج کل کی بابت کیا ہے؟ نسلی تعصبات اور طبقاتی کشیدگی نے اس ۲۰ ویں صدی میں بھی خون کی ندیاں بہا دی ہیں۔ اور یہ صرف انڈیا تک ہی محدود نہیں۔ جنوبی افریقہ میں نسلی گروہبندی سے متعلق حکومت کی قائمکردہ پالیسی سے فروغ پانے والی نفرت اور تشدد، ریاستہائے متحدہ میں نسلی تعصب، بالٹکس میں قومپرستی کا تعصب—اس کی فہرست تو بہت طویل ہے—یہ سب جبلی برتری کے احساسات سے جنم لیتے ہیں۔ یقیناً، نسل یا قومیت کی وجہ سے ایک شخص پر دوسرے سے کو ترجیح دینے نے اچھے اور پرامن نتائج پیدا نہیں ہوئے۔
دولت کی بابت کیا ہے؟ بلاشُبہ، بہتیرے دیانتداری سے سخت محنت کرکے دولتمند ہوتے ہیں۔ تاہم، بیشمار دولت منظم مجرموں، چور بازاری کرنے والوں، منشیات کا ناجائز کاروبار کرنے والوں، غیرقانونی اسلحہ فروخت کرنے والوں اور دوسرے لوگوں نے جمع کی ہے۔ سچ ہے کہ ان میں سے بعض خیراتی اداروں کو عطیات دیتے ہیں یا غریبوں کی امداد کرنے والی اسکیموں کی حمایت کرتے ہیں۔ پھر بھی، ان کے مجرمانہ افعال ان کے نشانہ بننے والوں پر بیان سے باہر تکلیف اور مصیبت لائے ہیں۔ یہاں تک کہ نسبتاً چھوٹے پیمانے پر کام کرنے والے جیسے کہ وہ جو رشوت لیتے یا کالے دھندے کے کاموں میں شرکت کرتے ہیں وہ بھی اس وقت پریشانی، نقصان اور موت کا باعث بنے ہیں جب انکی مصنوعات اور خدمات ناکام اور خراب ہو جاتی ہیں۔ بیشک، دولت کا مالک ہونا بذاتخود سازگار فیصلہ حاصل کرنے کی بنیاد نہیں۔
تو پھر، تعلیم کی بابت کیا ہے؟ کیا کسی شخص کے نام کے بعد القاب اور ڈگریوں کی ایک لمبی فہرست اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ شخص دیانتدار اور راست ہے؟ کیا اسکا یہ مطلب ہے کہ اسے پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جانا چاہیے؟ مانا کہ تعلیم ایک شخص کے آفاق کو وسیع کر سکتی ہے اور بہتیرے جنہوں نے اپنی تعلیم کو دوسروں کو فائدہ پہنچانے کیلئے استعمال کیا ہے وہ عزت اور احترام کے مستحق ہیں۔ لیکن تاریخ پڑھے لکھے طبقے کی طرف سے عام لوگوں سے ناجائز فائدہ اٹھانے اور استبداد کی مثالوں سے بھری ہوئی ہے۔ اور آجکل کالج یا یونیورسٹی کی جگہ پر جو کچھ ہو رہا ہے اس پر بھی غور کریں۔ کیمپس منشیات کے ناجائز استعمال اور جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریوں کے مسائل سے مسلسل تکلیف میں ہیں اور طالب علموں کی اکثریت صرف پیسے، اقتدار، اور شہرت کے حصول کیلئے یہاں اندارج کراتی ہے۔ ایک شخص کی صرف تعلیم، بمشکل ہی اس کے اصل کردار کی قابلاعتماد عکاسی کرتی ہے۔
نہیں، جلد کی رنگت، تعلیم، پیسہ، نسلیاتی پسمنظر، یا ایسے دیگر عناصر کسی شخص کی قابلیت کا اندازہ لگانے کی حقیقی بنیاد نہیں ہیں۔ مسیحیوں کو دوسروں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش میں ایسے معاملات میں مستغرق نہیں رہنا چاہیے۔ تو پھر، ایک شخص کو کس چیز کی بابت فکرمند ہونا چاہیے؟ ایک شخص کو کن معیاروں کے مطابق چلنا چاہیے؟ (۳ ۱۲/۱ w۹۲)