خدا کی پسندیدگی کسے حاصل ہے؟
ہم سب چاہتے ہیں کہ ہمارے رفیق ہمیں پسند کریں۔ ایک مسیحی کی اس سے بھی بڑی خواہش یہ ہوتی ہے کہ خدا کی پسندیدگی حاصل کرے، یہوواہ خدا کی بابت زبور ۸۴:۱۱ میں بیان کیا گیا ہے: ”خداوند [پسندیدگی، NW] اور جلال بخشیگا۔ وہ راسترو سے کوئی نعمت باز نہ رکھے گا۔“ یسوع کی پیدایش پر، آسمانی فرشتگان کے لشکر کی خوشی کی پکار نے یہ وعدہ کیا ”زمین پر ان آدمیوں کے لئے صلح جن کو وہ پسند کرتا ہے!“—لوقا ۲:۱۴، مافٹ۔
لیکن خدا کسے پسند کرتا ہے؟ کیا خدا کے معیار انسانوں کی طرح کے ہیں؟ قابلفہم طور پر، یہ ایسے نہیں ہیں جیسا کہ جو کچھ پچھلے مضمون میں زیربحث آیا اس سے صاف عیاں کیا گیا ہے۔ درحقیقت، چونکہ مسیحیوں کو فہمائش کی گئی ہے کہ وہ ”خدا کی مانند“ بنیں اسلئے ہم میں سے ہر ایک خوب پوچھ سکتا ہے، کیا میں ایسے لوگوں کو پسند کرتا ہوں جنہیں خدا پسند کرتا ہے، یا کیا میں لوگوں کی بابت اپنے فیصلے کرنے میں دنیاوی معیاروں کی پیروی کرنے کی طرف مائل ہوں؟ (افسیوں ۵:۱) یہوواہ کی پسندیدگی اور مقبولیت حاصل کرنے کیلئے ضروری ہے کہ ہم معاملات کو اس کے نقطہنظر سے دیکھنے میں احتیاط برتیں۔
خدا کے اعلی معیار
”خدا کسی کا طرفدار نہیں،“ رسول پطرس نے کہا، ”بلکہ ہر قوم میں جو اس سے ڈرتا اور راستبازی کرتا ہے وہ اسکو پسند آتا ہے۔“ مزیدبرآں، رسول پولس نے شہادت دی کہ خدا نے ”ایک ہی اصل سے آدمیوں کی ہر قوم پیدا ... کی۔“ (اعمال ۱۰:۳۴، ۳۵، ۱۷:۲۶) لہذا، یہ نتیجہ اخذ کرنا معقول ہے کہ اپنی جسمانی خصوصیات سے قطعنظر تمام انسان خدا کی نظر میں برابر ہیں۔ ایسا معاملہ ہوتے ہوئے ایک مسیحی کیلئے یہ موزوں نہ ہوگا کہ وہ کسی کو غیرضروری حد تک محض اسلئے پسند کرے کہ وہ شخص کسی خاص خطے سے تعلق رکھتا ہے یا اس کی جلد کسی خاص رنگ کی ہے یا وہ کسی دوسری نسل سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کی بجائے، وہ اپنے نمونہ دینے والے، یسوع مسیح کی نقل کرکے اچھا کریگا، جس کی بابت اسکے دشمنوں نے بھی یہ تسلیم کیا کہ اس نے کبھی طرفداری نہیں دکھائی۔—متی ۲۲:۱۶۔
لفظ ”سطحی“ بعض اوقات کسی ایسی چیز کو بیان کرنے کیلئے استعمال ہوتا ہے جو کہ اوپری اور غیراہم ہو۔ جلد کی رنگت بھی بالکل اسی طرح سے ہے، یہ صرف سطحی ہے۔ آدمی کی جلد کا رنگ کسی بھی طرح سے اسکی شخصیت یا باطنی خصوصیات کو منعکس نہیں کرتا۔ جب بات ان لوگوں کے انتخاب کی آتی ہے جن کے ساتھ ہم رفاقت رکھیں، کھائیں پئیں، یا ہاتھ ملائیں تو یقیناً ہمیں بالخصوص جلد کی رنگت پر دھیان نہیں دینا چاہیے۔ اس دوشیزہ کو یاد کریں، جس نے کبھی تحریر کی جانے والی ایک خوبصورت اور رومانی شاعری کی تخلیق کی، اس نے اپنی بابت کہا: ”میں سیاہفام لیکن خوبصورت ہوں۔ ... میں سیاہفام ہوں کیونکہ میں دھوپ کی جلی ہوں۔“ (غزلالغزلات ۱:۵، ۶) رنگ یا نسل پسندیدگی ظاہر کرنے کی مناسب بنیاد کو تشکیل نہیں دیتا۔ اس سے بھی کہیں اہم بات یہ ہے کہ آیا وہ شخص خدا سے ڈرتا اور راستبازی کے کام کرتا ہے۔
مادی دولت کے مالک ہونے کے بارے میں خدا کیسا محسوس کرتا ہے؟ ان تمام لوگوں میں سے جن سے خدا محبت رکھتا اور جن کو پسند کرتا ہے سب سے اول اس کا بیٹا، یسوع مسیح ہے۔ تاہم جب وہ زمین پر تھا تو یسوع کے پاس ”سر دھرنے کی بھی جگہ“ نہیں تھی۔ (متی ۸:۲۰) اس کے پاس کوئی گھر، کھیت، پھلوں کے درخت، یا جانور نہیں تھے۔ اس کے باوجود، یہوواہ نے اسے عزت بخشی اور اسے اس مرتبہ تک سربلند کیا جو سوائے خدا کی ذات کے کائنات میں ہر ایک سے بڑھ کر ہے۔—فلپیوں ۲:۹۔
یسوع مسیح کو خدا کی پسندیدگی اسلئے حاصل ہوئی کیونکہ وہ مادی چیزوں میں نہیں بلکہ اچھے کاموں میں دولتمند تھا۔ (مقابلہ کریں ۱-تیمتھیس ۶:۱۷، ۱۸۔) اس نے اپنے پیروکاروں کو نصیحت کی: ”اپنے واسطے زمین پر مال جمع نہ کرو جہاں کیڑا اور زنگ خراب کرتا ہے اور جہاں چور نقب لگاتے اور چراتے ہیں۔ بلکہ اپنے لئے آسمان پر مال جمع کرو جہاں نہ کیڑا خراب کرتا ہے نہ زنگ اور نہ وہاں چور نقب لگاتے اور چراتے ہیں۔“ (متی ۶:۱۹، ۲۰) لہذا، صرف ان کو پسند کرنے کی بجائے جو اس دنیا کی چیزوں کے اعتبار سے مالدار ہیں، مسیحی دنیاوی مال کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہیں برتیں گے۔ وہ انکی تلاش کریں گے جو خدا کی نظر میں دولتمند ہیں قطعنظر اس کے کہ آیا وہ مادی لحاظ سے امیر ہیں یا غریب۔ کبھی نہ بھولیں کہ ”خدا نے اس جہان کے غریبوں کو ایمان میں دولتمند اور ... بادشاہی کے وارث ہونے کیلئے برگزیدہ کیا۔“ (یعقوب ۲:۵) اگر آپ خدا کا نظریہ برقرار رکھیں تو آپ کبھی بھی مادی طور پر مالدار لوگوں کو پسند کرنے یا ان کے منظورنظر بننے کے عام رواج کا شکار نہیں ہونگے۔
جہاں تک تعلیم کا تعلق ہے، بائبل واضح طور پر یہ ظاہر کرتی ہے کہ خدا ہمیں تاکید کرتا ہے کہ علم اور حکمت کو ڈھونڈیں اور یہ کہ یسوع مسیح اس زمین پر ایک عظیم استاد ہو گزرا ہے۔ (امثال ۴:۷، متی ۷:۲۹، یوحنا ۷:۴۶) لیکن یہ دنیاوی تعلیم یا حکمت نہیں جسے خدا پسند کرتا ہے۔ اس کے برعکس، پولس ہمیں بتاتا ہے کہ ”جسم کے لحاظ سے بہت سے حکیم ... نہیں بلائے گئے بلکہ خدا نے دنیا کے بیوقوفوں کو چن لیا کہ حکیموں کو شرمندہ کرے۔“—۱-کرنتھیوں ۱:۲۶، ۲۷۔
خدا انہیں پسند کرتا ہے جو خوب تعلیمیافتہ ہیں، لیکن اعلی تعلیم کی درسگاہوں میں سکھائے جانے والے دنیاوی مضامین میں نہیں بلکہ سچائی کی اس ”خالص زبان“ میں جو کہ اس کے کلام بائبل میں ملتی ہے۔ (صفنیاہ ۳:۹) درحقیقت، آجکل یہوواہ خود اپنے لوگوں کو ایک ایسے تعلیمی پروگرام کے ذریعے سکھا رہا ہے جو زمین کی انتہا تک پہنچا ہوا ہے۔ جیسے کہ نبی یسعیاہ کی معرفت پیشینگوئی کی گئی تھی تمام قوموں کے لوگ یہ کہتے ہوئے جوابی عمل دکھا رہے ہیں، ”آؤ خداوند کے پہاڑ پر چڑھیں یعنی یعقوب کے خدا کے گھر میں داخل ہوں اور وہ اپنی راہیں ہم کو بتائیگا اور ہم اسکے راستوں پر چلینگے۔“ اسلئے دنیاوی تعلیم کی تعریف کرنے کی بجائے، مسیحی ان کی تلاش کرینگے جو اپنے کلام اور افعال سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ واقعی ”خداوند سے تعلیم“ پائے ہوئے لوگ ہیں۔ ایسا کرنے سے، وہ اس ”بکثرت سلامتی“ سے لطفاندوز ہونگے جو خدا بخشتا ہے۔—یسعیاہ ۲:۳، ۵۴:۱۳۔
ہم خدا کی پسندیدگی حاصل کر سکتے ہیں
جیہاں، دوسروں کو پسندیدگی عطا کرنے کے خدا کے معیار انسان سے بالکل مختلف ہیں۔ تاہم، اگر ہم اس کی نگاہوں میں پسندیدگی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس کے طریقوں سے راہنمائی حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اسکا مطلب ہے کہ ہمیں یہ سیکھنا چاہئے کہ دوسروں کو انسانی معیاروں کی بجائے خدا کے نقطہءنظر سے دیکھیں جو شاید خودغرضی اور تعصب سے متاثر ہوتے ہیں۔ ہم یہ کیسے کر سکتے ہیں؟
یہوواہ خدا ایک شخص کے دل کو جانچتا ہے اور انہیں پسند کرتا ہے جو محبت، نیکی، مہربانی، اور تحمل جیسی خوبیوں کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ہمیں بھی اسی طرح کرنا چاہیے۔ (۱-سموئیل ۱۶:۷، گلتیوں ۵:۲۲، ۲۳) ہمیں اس حد تک کسی کی باطنی شخصیت پر غور کرنے کی ضرورت ہے جس قدر ہم انسانوں کے طور پر کر سکتے ہیں اور کسی کے جلد کے رنگ یا نسلیاتی پسمنظر پر نہیں۔ انکے ساتھ رفاقت کے طالب ہونے کی بجائے جو مالی چیزوں میں دولتمند ہیں، ہم دولت کی بابت خدا کے نظریے کو ذہن میں رکھ کر اور یہ کوشش کرکے اچھا کرتے ہیں کہ ”اچھے کاموں میں دولتمند بنیں اور سخاوت پر تیار اور امداد پر مستعد ہوں۔“ (۱-تیمتھیس ۶:۱۸) خدا کی پسندیدگی حاصل کرنے کیلئے ہمیں سچائی کی خالص زبان میں خوب تعلیمیافتہ ہوتے ہوئے خدا اور اس کے بیٹے، یسوع مسیح کی بابت صحیح علم حاصل کرتے رہنا چاہیے۔ (یوحنا ۱۷:۳، ۱۷) ایسا کرنے سے ہم بھی ان کے درمیان ہونگے جنہیں خدا کی پسندیدگی حاصل ہے۔ (۵ ۱۲/۱ w۹۲)