خاندانی تکلیف—زمانوں کا ایک نشان
خاندانی تکلیف—بہتیرے اسے شادی اور والدین ہونے کے روایتی ضابطوں کے متروک ہونے کے نشان کے طور پر خیال کرتے ہیں۔ دوسرے اسے سیاسی، معاشی، اور معاشرتی تغیر کی پیداوار کے طور پر خیال کرتے ہیں۔ مزید دوسرے اسے بطور جدید ٹیکنالوجی کے ایک اور خراب نتیجے کے خیال کرتے ہیں۔ حقیقت میں آجکل خاندان جن مسائل سے دوچار ہوتے ہیں، وہ کسی نہایت ہی معنیخیز چیز کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ۲-تیمتھیس ۳:۱-۴ میں بائبل کے الفاظ پر غور کریں:
”لیکن یہ جان رکھ کہ اخیر زمانہ میں برے دن آئینگے۔ کیونکہ آدمی خودغرض۔ زردوست۔ شیخیباز۔ مغرور۔ بدگو۔ ماں باپ کے نافرمان۔ ناشکر۔ ناپاک۔ طبعی محبت سے خالی۔ سنگدل۔ تہمت لگانے والے۔ بےضبط۔ تندمزاج۔ نیکی کے دشمن، دغاباز۔ ڈھیٹھ۔ گھمنڈ کرنے والے۔ خدا کی نسبت عیشوعشرت کو زیادہ دوست رکھنے والے ہونگے۔“
کیا یہ الفاظ آجکل کے مسائل کی عین جڑ تک نہیں پہنچ جاتے؟ آجکل کی خاندانی تکلیف واضح طور پر ان حالتوں کا براہراست نتیجہ ہے جنکی اس دنیا کے ان آخری دنوں کے دوران رونما ہونے کی پیشینگوئی کی گئی تھی۔ اور قائل کرنے والی شہادت موجود ہے کہ تکلیف کا یہ دور ۱۹۱۴ کے سال میں شروع ہوا۔a اس وقت سے لیکر، شیطان یعنی ابلیس کہلانے والی فوقالبشر مخلوق کا اثرورسوخ خاص طور پر مُہلک رہا ہے۔—متی ۴:۸-۱۰، ۱-یوحنا ۵:۱۹۔
۱۹۱۴ سے زمین کے قربوجوار تک محدود کیا ہوا شیطان ”بڑے قہر میں ہے اسلئے کہ جانتا ہے کہ میرا تھوڑا ہی سا وقت باقی ہے۔“ (مکاشفہ ۱۲:۷-۱۲) شیطان چونکہ خدا کا سخت دشمن ہے ”جس سے آسمان اور زمین کا ہر ایک خاندان نامزد ہے،“ تو کیا یہ کوئی حیرانی کی بات ہے کہ زمین خاندانوں کے لئے ایک خطرے کی جگہ بن گئی ہے؟ (افسیوں ۳:۱۵) شیطان تمام نسلانسانی کو خدا سے دور کرنے پر تلا ہوا ہے۔ وہ خاندانوں پر مسائل کے ساتھ حملہآور ہونے کی نسبت اور کس بہتر طریقے سے اس کام کو انجام دے سکتا ہے؟
خاندانوں کو اس طرح کے فوقالبشر حملے سے بچانے کے لئے مفروضہ ماہرین کے چربزبان نظریات سے زیادہ کچھ درکار ہوگا۔ تاہم، بائبل شیطان کی بابت کہتی ہے: ”ہم اسکے حیلوں سے ناواقف نہیں۔“ (۲-کرنتھیوں ۲:۱۱) اپنا حملہ جن خاص طریقوں سے وہ کرتا ہے اس کو جاننا کسی حد تک بچاؤ ہے۔
پیسہ اور کام
شیطان کے حملے کے نہایت طاقتور ہتھیاروں میں سے ایک ہتھیار معاشی دباؤ ہے۔ یہ ”برے دن“ ہیں یا جیسے کہ ریوائزڈ سٹینڈرڈ ورشن ۲-تیمتھیس ۳:۱ کو ”مشکلات کا زمانہ“ کے طور پر پیش کرتا ہے۔ ترقیپذیر ممالک میں، بیروزگاری، کم اجرتیں، اور بنیادی ضروریات کے فقدان جیسے مسائل خاندانوں کے لئے بڑی مشکل کا موجب بنتے ہیں۔ تاہم، نسبتاً دولتمند ریاستہائے متحدہ میں بھی، معاشی دباؤ سنگین اثر کرتے ہیں۔ ایک یو-ایس جائزے نے ظاہر کیا کہ پیسہ خاندانی جھگڑے کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔ سیکرٹس آف سٹرانگ فیملیز کتاب وضاحت کرتی ہے کہ ملازمتوں کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے مختص ”وقت، توجہ، [اور] توانائی“ بھی ایک ”حساس دشمن“ ہو سکتے ہیں جو ازدواجی عہد کو توڑ ڈالتا ہے۔
حالات نے خواتین کی ایک بڑی تعداد کو ملازمت کی تلاش میں نکلنے پر مجبور کر دیا ہے۔ مصنف وانس پیکارڈ رپورٹ دیتا ہے: ”آجکل، امریکہ کے ایک چوتھائی شیرخوار یا پاؤں پاؤں چلنے والے تین سال سے کم عمر والوں کی مائیں گھر سے باہر کسی نہ کسی طرح کی ملازمت کرتی ہیں۔“ چھوٹے بچوں کی تقریباً ساری ناقابلتسکین حاجتوں کو پورا کرنے کے علاوہ ایک ملازمت، والدین اور بچوں دونوں پر منفی اثرات کے ساتھ—ایک تھکا دینے، نڈھال کر دینے والی مشقت ہو سکتی ہے۔ پیکارڈ اضافہ کرتا ہے کہ بچوں کیلئے موزوں نگہداشت کی فراہمیوں کے فقدان کی وجہ سے ریاستہائے متحدہ میں ”آجکل کئی ملین بچے اپنی اوئل عمری ہی میں اچھی نگہداشت سے محروم ہو رہے ہیں۔“—آور اینڈینجرڈ چلڈرن۔
خود کام کی جگہ اکثر خاندانی ہمآہنگی کو کمزور کردیتی ہے۔ بہت سے کارندے ساتھی کارکنوں کے ساتھ ناجائز جنسی تعلقات میں پڑ جاتے ہیں۔ تاہم دوسرے کامیابی کیلئے لاحاصل جستجو میں پڑ جاتے ہیں اور پیشے میں ترقی کے لئے خاندانی زندگی کو بھینٹ چڑھا دیتے ہیں۔ (مقابلہ کریں واعظ ۴:۴۔) ایک شخص سیلزمینوں کے طور پر اپنے کام میں اسقدر مگن ہو گیا کہ اس کی بیوی نے خود کو ایک ”ڈیفیکٹو (درحقیقت) تنہا والدین بیان کیا۔“
کمزورشدہ ازدواجی تعلقات
خود شادی کا دستور بھی حملے کا نشانہ بن چکا ہے۔ دی اینٹیمیٹ انوائرمنٹ کتاب کہتی ہے: ”ماضی میں، توقع کی جاتی تھی کہ ایک جوڑا اس وقت تک رشتہازدواج میں بندھا رہیگا جب تک کہ زندگی کے ساتھیوں میں سے ایک شادی کے خلاف کسی سنگین کام کا مرتکب نہیں ہو جاتا—جیسے کہ زناکاری، جفاکاری، انتہائی لاپروائی۔ اب زیادہتر لوگ شادی کو شخصی تکمیل کے مقصد کے طور پر خیال کرتے ہیں۔“ جیہاں، شادی کو ناخوشی، اکتاہٹ، یا تنہائی کا تریاق خیال کیا جاتا ہے—نہ کہ کسی دوسرے شخص کیساتھ زندگی بھر کے عہدوپیمان کے طور پر۔ اب زیادہ زور اس چیز پر ہے کہ آپ شادی سے کیا حاصل کر سکتے ہیں، نہ کہ آپ اسکے لئے کیا کرتے ہیں۔ (موازنہ کریں اعمال ۲۰:۳۵۔) ”شادی کے متعلق اقدار میں اس بڑی تبدیلی“ نے ازدواجی بندھنوں کو بڑی حد تک کمزور کر دیا ہے۔ جب شخصی تکمیل ان سے دامن بچا لیتی ہے تو جوڑے اکثر فوری حل کے طور پر طلاق کی طرف رجوع کرتے ہیں۔
اس ”اخیر زمانہ“ میں لوگوں کو بائبل میں نبوتی طور پر یوں بیان کیا گیا ہے کہ ”وہ دینداری کی وضع تو رکھینگے مگر اسکے اثر کو قبول نہ کرینگے۔“ (۲-تیمتھیس ۳:۴، ۵) بہت سے ماہرین سمجھتے ہیں کہ مذہب کے زوال نے شادی کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے میں ایک کردار ادا کیا ہے۔ اپنی کتاب دی کیس اگینسٹ ڈائیورس!، میں ڈاکٹر ڈائیاین میڈوڈ نے لکھا: ”زیادہ مذاہب کے مطابق، خدا نے کہا کہ شادی کو مستقل ہونا تھا۔ جب آپ کو خدا کی بابت یقین نہیں ہے اور آپ اس پر یقین نہیں رکھتے تو پھر آپ وہی کرتے ہیں جو آپ چاہتے ہیں۔“ نتیجے کے طور پر، جب ایک شادی میں مسائل درپیش آتے ہیں تو جوڑے ٹھوس حل تلاش نہیں کرتے۔ ”وہ جلدی سے شادی کو ختم کر دیتے ہیں۔“
نوجوان حملے کے تحت
نوجوان آجکل کے دباؤ کی ہلچل کا تجربہ کر رہے ہیں۔ بچوں کی حیرانکن تعداد اپنے ہی والدین کے ہاتھوں پرتشدد طور پر مار کھاتی اور زبانی یا جنسی طور پر بدسلوکی کا نشانہ بنتی ہے۔ طلاق کے ذریعے، مزید لاکھوں بچے والدین کی طرف سے پرمحبت رویے سے محروم ہیں، اور والدین کی طلاق کی ذہنی کوفت اکثر زندگی بھر قائم رہتی ہے۔
نوجوانوں پر طاقتور اثرات کی بمباری ہو رہی ہے۔ جبتک ایک اوسط درجے کا امریکی نوجوان ۱۴ سال کی عمر کو پہنچتا ہے تو وہ صرف ٹیلیوژن دیکھنے سے ۱۸،۰۰۰ قتل اور تشدد کی بیشمار دیگر اقسام، ناجائز جنسی تعلقات، سادیت، اور جرم کو دیکھ چکا ہوتا ہے۔ موسیقی بھی نوجوانوں پر بڑی حد تک اثرانداز ہوتی ہے، اور اس میں سے زیادہ حیرانکن طور پر نازیبا خیالات پیدا کرنے والی، جنسی طور پر واضح، یا نفسمضمون کے لحاظ سے بھی شیطانی ہوتی ہے۔ سکول نوجوانوں کے سامنے ارتقا جیسے نظریات پیش کرتے ہیں جو خدا اور بائبل پر ایمان کو کمزور کرنے کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ ہمعصروں کا دباؤ بہتیروں کو شادی سے پہلے جنس اور الکحل یا منشیات کے غلط استعمال میں حصہ لینے پر آمادہ کرتا ہے۔
خاندانی تکلیف کی جڑیں
لہذا خاندانوں پر حملہ وسیع دسترس رکھتا ہے اور تباہکن ہو سکتا ہے۔ خاندانوں کی بقا کیلئے کیا چیز مدد کر سکتی ہے؟ خاندانی مشیر جان براڈ تجویز پیش کرتا ہے: ”ہمارے والدین ہونے کے ضوابط کو ۱۵۰ سالوں میں سنجیدگی سے جدید نہیں بنایا گیا ... میرا یقین ہے کہ پرانے ضوابط اب کارآمد نہیں۔“ تاہم، مزید انسانساختہ ضابطے حل نہیں ہیں۔ یہوواہ خدا خاندان کا بانی ہے۔ وہ ہر کسی سے بہتر جانتا ہے کہ ہماری ذاتی خوشی میں خاندانی زندگی کتنا اہم کردار ادا کرتی ہے اور خاندان کو خوشحال اور مضبوط بنانے کیلئے کیا درکار ہے۔ کیا اسے ہم کو حیران کرنا چاہیے کہ اسکا کلام، بائبل، خاندانی تکلیف کا حل فراہم کرتا ہے؟
یہ قدیم کتاب وضاحت کرتی ہے کہ خاندانی زندگی کیسے غلط راہ پر چلی گئی۔ پہلے انسانی جوڑے، آدم اور حوا کو ایک خوبصورت باغنما ماحول میں رکھا گیا تھا اور زمین کو ایک عالمگیر فردوس میں تبدیل کرنے کا بااجر چیلنج دیا گیا تھا۔ خدا نے فرمان جاری کیا کہ آدم کو خاندان کا سردار ہونا تھا۔ حوا کو اسکی ”مددگار“ یا ”تکملہ“ کے طور پر اسکی سرداری کیساتھ تعاون کرنا تھا۔ لیکن حوا نے اس انتظام سے بغاوت کی۔ اس نے اپنے خاوند کی سرداری پر قبضہ کر لیا اور فقط اس واحد ممانعت کی نافرمانی کی جو خدا نے ان پر عاید کی تھی۔ پھر آدم اپنی سرداری سے دستبردار ہو گیا اور اس بغاوت میں اسکے ساتھ شامل ہو گیا۔—پیدایش ۱:۲۶-۳:۶۔
خدا کے انتظام سے انحراف کے تباہکن اثرات فوراً ظاہر ہو گئے۔ اب پاک اور بےگناہ نہ ہوتے ہوئے، آدم اور حوا نے شرم اور خطا کے احساس کا ردعمل ظاہر کیا۔ آدم، جس نے اس سے پہلے اپنی بیوی کا ذکر پسندیدہ اور شاعرانہ کلمات میں کیا تھا، اب سردمہری سے اسے ”جس عورت کو تو نے میرے ساتھ کیا ہے“ کے طور پر بیان کیا۔ یہ منفی رائےزنی ازدواجی غم کا محض آغاز تھی۔ آدم کا اپنی سرداری کو دوبارہ حاصل کرنے کی لاحاصل کوششیں کرنا اسکے ”اس پر حکومت“ کرنے پر منتج ہوگا۔ اور پھر غالباً بےاعتدال یا غیرمتوازن طریقے سے حوا کی ”رغبت“ بھی اپنے شوہر کی طرف ہوگی۔—پیدایش ۲:۲۳، ۳:۷-۱۶۔
اس میں کوئی تعجب نہیں کہ آدم اور حوا کے ازدواجی جھگڑے نے ان کی اولاد پر تباہکن اثر کیا۔ انکا پہلا بیٹا، قائن، سفاک قاتل بن گیا۔ (پیدائیش ۴:۸) قائن کی نسل، لمک نے ماضی کا پہلا کثیرالازدواج بننے سے خاندانی زندگی کے زوال میں اضافہ کیا۔ (پیدائیش ۴:۱۹) یوں آدم اور حوا نے نہ صرف گناہ اور موت کا ورثہ دیا بلکہ ایک بیمار خاندانی نمونہ بھی جو کہ اس وقت سے نسلانسانی کی صورتحال رہی ہے۔ ان آخری دنوں میں، خاندانی نزاع ہمہوقتی انتہا کو پہنچ گیا ہے۔
خاندان جو کامیاب رہتے ہیں
تاہم، تمام خاندان آجکل کے بوجھوں کے زیراثر نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر، ایک خاوند، ریاستہائے متحدہ کی ایک چھوٹی سی آبادی میں اپنی بیوی اور دو بیٹیوں کیساتھ رہتا ہے۔ اگرچہ ان کے بہت سے پڑوسیوں میں والدین اور انکے بچوں کے درمیان نسلی خلا پایا جاتا ہے، وہ اور اسکی بیوی ایسے نہیں ہیں، اور نہ ہی وہ پریشان ہیں کہ انکی بیٹیاں جنس یا منشیات کے غلط استعمال میں پڑ سکتی ہیں۔ سوموار کی شام کو، انکا پورا خاندان بائبل مباحثے کیلئے کھانے کے کمرے کی میز کے گرد جمع ہو جاتا ہے، جبکہ دوسرے نوجوانوں کی نظریں ٹیوی پر جمی ہوتی ہیں۔ ”سوموار کی رات ہمارے لئے مل بیٹھنے اور باتچیت کرنے کے لئے خاص رات ہوتی ہے،“ وہ وضاحت کرتا ہے۔ ”ہماری بیٹیاں ہمارے ساتھ اپنے مسائل پر باتچیت کرنے کے لئے آزاد محسوس کرتی ہیں۔“
اور دوسری جانب، نیویارک شہر میں ایک اکیلی ماں ہے وہ بھی اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ ایک غیرمعمولی خاندانی پیوستگی سے لطفاندوز ہوتی ہے۔ اسکا راز؟ ”ہم آخرہفتہ تک ٹیوی کو بند رکھتے ہیں،“ وہ وضاحت کرتی ہے۔ ”ہم بائبل آیت پر روزانہ باتچیت کرتے ہیں، ہم ایک شام خاندانی بائبل مباحثے کیلئے بھی مختص کرتے ہیں۔“
دونوں خاندان یہوواہ کے گواہ ہیں۔ وہ خاندانوں کے لئے بائبل میں پیشکردہ مشورت پر عمل کرتے ہیں—اور یہ کارگر ہوتی ہے۔ تاہم، وہ غیرمعمولی نہیں ہیں۔ انکی طرح کے ہزاروں ہزار ایسے خاندان ہیں جو خاندانی زندگی کے لئے اس کتاب میں پائے جانے والے ضابطوں کا اطلاق کرنے سے اچھے نتائج حاصل کر رہے ہیں۔b لیکن وہ ضابطے کیا ہیں؟ وہ آپکو اور آپکے خاندان کو کیسے فائدہ پہنچا سکتے ہیں؟ جواب کے لئے ہم آپکو اگلے صفحے پر شروع ہونے والے مضامین پر غور کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ (۴ ۱۰/۱۵ W۹۲)
[فٹنوٹ]
a مزید شہادت کیلئے کہ آخری ایام ۱۹۱۴ میں شروع ہوئے، واچٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیویارک، انکارپوریٹڈ کی شائعکردہ کتاب یو کین لو فارایور ان پیراڈائیز آن ارتھ کے باب ۱۸ کو دیکھیں۔
b مُفت گھریلو بائبل مطالعے کے ذریعے، یہوواہ کے گواہ خاندان میں بائبل اصولوں کا اطلاق کرنے میں ذاتی مدد پیش کرتے ہیں۔ اس رسالے کے پبلشروں کو لکھ کر ان سے رابطہ قائم کیا جا سکتا ہے۔
[تصویر]
خراب معاشی حالتیں ترقیپذیر ممالک میں خاندانوں کیلئے بڑی تکلیف کا سبب بنتی ہیں
[تصویر کا حوالہ]
U.S. Navy photo
[تصویر]
بائبل اصولوں کا اطلاق کرنے سے، بہتیرے خاندان آجکل کے بوجھوں کا مقابلہ کر رہے ہیں