خاندانی زندگی میں خدائی اَمن کے طالب ہوں
”اَے قوموں کے قبیلو! خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] کی۔ خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] ہی کی تمجیدوتعظیم کرو۔“—زبور ۹۶:۷۔
۱. یہوواہ نے خاندانی زندگی کا کیسا آغاز کِیا؟
جب یہوواہ نے پہلے مرد اور عورت کو ازدواجی بندھن میں باندھا تو اُس نے خاندانی زندگی کا ایک پُراَمن اور مسرتبخش آغاز کِیا۔ درحقیقت، آدم اتنا خوش تھا کہ اُس نے اپنی خوشی کا اظہار ابتدائی تحریرشُدہ شاعری میں کِیا: ”یہ تو اب میری ہڈیوں میں سے ہڈی اور میرے گوشت میں سے گوشت ہے اسلئے وہ ناری کہلائیگی کیونکہ وہ نر سے نکالی گئی۔“—پیدایش ۲:۲۳۔
۲. اپنے انسانی بچوں کو خوشی عطا کرنے کے علاوہ شادی کے سلسلے میں خدا کے ذہن میں اَور کیا تھا؟
۲ جب خدا نے ازدواجی اور خاندانی انتظام کا آغاز کِیا تو اس کے ذہن میں اپنے انسانی بچوں کو محض خوشی عطا کرنے سے زیادہ کچھ تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ وہ اُسکی مرضی بجا لائیں۔ خدا نے پہلے جوڑے سے کہا: ”پھلو اور بڑھو اور زمین کو معمورومحکوم کرو اور سمندر کی مچھلیوں اور ہوا کے پرندوں اور کُل جانوروں پر جو زمین پر چلتے ہیں اختیار رکھو۔“ (پیدایش ۱:۲۸) یقیناً، ایک بااجر تفویض۔ اگر پہلے شادیشُدہ جوڑے نے فرمانبرداری کیساتھ خدا کی مرضی کو پورا کِیا ہوتا تو آدم اور حوا اور اُن کے ہونے والے بچے کتنے خوش ہوتے!
۳. خدائیعقیدت سے زندگی بسر کرنے کیلئے خاندانوں کو کس چیز کی ضرورت ہے؟
۳ آجکل بھی جب خاندان ملکر خدا کی مرضی بجا لانے کیلئے کام کرتے ہیں تو وہ بہت زیادہ خوشی کا تجربہ کرتے ہیں۔ اور ایسے فرمانبردار خاندانوں کے پاس کیا ہی شاندار امکانات ہیں! پولس رسول نے لکھا: ”دینداری [”خدائیعقیدت“، اینڈبلیو] سب باتوں کیلئے فائدہمند ہے اسلئےکہ اب کی اور آئندہ کی زندگی کا وعدہ بھی اسی کیلئے ہے۔“(۱-تیمتھیس ۴:۸) حقیقی خدائیعقیدت کیساتھ زندگی بسر کرنے والے خاندان یہوواہ کے کلام کے اُصولوں کی پیروی کرتے اور اُسکی مرضی بجا لاتے ہیں۔ وہ خدائی اَمن کے طالب ہوتے ہیں اور یوں ”اب کی زندگی“ سے خوشی حاصل کرتے ہیں۔
خاندانی زندگی خطرے میں
۴، ۵. یہ کیوں کہا جا سکتا ہے کہ خاندانی زندگی اب پوری دُنیا میں خطرے کی زد میں ہے؟
۴ حقیقتاً، ہمیں ہر خاندان میں اَمن اور خوشی نظر نہیں آتی۔ ایک پاپولیشن کونسل نامی ڈیموگرافی انسٹیٹیوٹ کی طرف سے کئے گئے ایک تجزیے کا حوالہ دیتے ہوئے، دی نیو یارک ٹائمز بیان کرتا ہے: ”خاندانی زندگی کی ساخت امیر اور غریب ممالک میں یکساں طور پر بڑی تبدیلیوں میں سے گزر رہی ہے۔“ اس تجزیے کی ایک مصنفہ کے بیان کا حوالہ یوں دیا گیا: ”یہ نظریہ کہ خاندان ایک مستحکم اور مضبوط اکائی ہے جس میں باپ معاشی ضروریات پوری کرنے والے کے طور پر کام کرتا ہے اور ماں جذباتی نگہداشت فراہم کرنے والی کے طور پر کام کرتی ہے ایک افسانہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بِنبیاہی ماں، طلاق کی شرح میں اضافہ، [اور] چھوٹے گھرانے رکھنے کے رجحانات . . . پوری دُنیا میں عام ہو رہے ہیں۔“ ایسے رجحانات کی وجہ سے، لاکھوں خاندانوں میں استحکام، اَمن اور خوشی کا فقدان ہے اور بہت سے ٹوٹ رہے ہیں۔ سپین میں، ۲۰ویں صدی کے گزشتہ دہے سے شروع کر کے طلاق کی شرح ۸ شادیوں میں سے ۱ تک بڑھ گئی ہے—۲۵ سال پہلے ۱۰۰ میں سے ۱ کی نسبت بہت بڑی جَست۔ خبر کے مطابق یورپ میں طلاق کی سب سے زیادہ شرح انگلینڈ میں ہے—۱۰ میں سے ۴ شادیاں ناکام ہو جاتی ہیں۔ اس مُلک نے سنگل پیرنٹ فیملیز [والدین میں سے ایک پر مشتمل خاندانوں] کی تعداد میں بھی اضافہ دیکھا ہے۔
۵ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ بعض لوگ طلاق حاصل کرنے کیلئے بمشکل انتظار کر سکتے ہیں۔ ٹوکیو، جاپان میں، بہتیرے لوگ بڑی تعداد میں ”ٹائی سیورنگ شرائن“ [بندھن توڑنے والے مزار] کا رُخ کرتے ہیں! شنٹو مذہب کی یہ عبادتگاہ طلاق کیلئے اور دیگر ناپسندیدہ رشتوں کو توڑنے کیلئے درخواستیں قبول کرتی ہے۔ ہر پرستار اپنی التجا لکڑی کی ایک باریک تختی پر لکھتا ہے، اُسے مزار کے صحن میں لٹکا دیتا ہے اور جواب کیلئے دُعا کرتا ہے۔ ٹوکیو کا ایک اخبار بیان کرتا ہے کہ تقریباً ایک صدی پہلے، جب یہ مزار تعمیر کِیا گیا تھا تو ”مقامی دولتمند تاجروں کی بیویاں اس التجا کیساتھ دُعائیں لکھا کرتی تھیں کہ اُن کے شوہر اپنی محبوباؤں کو چھوڑ کر اُنکے پاس لوٹ آئیں۔“ تاہم، آجکل، بیشتر درخواستیں طلاق کیلئے ہوتی ہیں مفاہمت کیلئے نہیں۔ یقیناً، ساری دُنیا میں خاندانی زندگی خطرے میں ہے۔ کیا مسیحیوں کو اس بات سے حیران ہونا چاہئے؟ ہرگز نہیں، کیونکہ بائبل ہمیں جدید زمانے کے خاندانی بحران کے سلسلے میں سمجھ عطا کرتی ہے۔
خاندانی بحران کیوں؟
۶. آجکل کے خاندانی بحران پر ۱-یوحنا ۵:۱۹ کیسے اثرانداز ہوتی ہے؟
۶ آجکل خاندانی بحران کی ایک وجہ یہ ہے: ”ساری دُنیا اُس شریر کے قبضہ میں پڑی ہوئی ہے۔“ (۱-یوحنا ۵:۱۹) ہم شریر شیطان اِبلیس سے کیا توقع کر سکتے ہیں؟ وہ ایک بدطینت، بداخلاق جھوٹا ہے۔ (یوحنا ۸:۴۴) کچھ عجب نہیں کہ اُسکی دُنیا دھوکےبازی اور بداخلاقی سے لطفاندوز ہوتی ہے جو خاندانی زندگی کیلئے تباہکُن ہے! خدا کی تنظیم سے باہر، شیطانی اثر یہوواہ کے ازدواجی بندھن کے انتظام کو تباہوبرباد کرنے کا خطرہ پیش کرتا اور پُراَمن خاندانی زندگی کو ختم کر دیتا ہے۔
۷. خاندان ایسے خصائل سے کیسے متاثر ہوتے ہیں جو ان آخری ایّام میں بہتیرے لوگ ظاہر کرتے ہیں؟
۷ خاندانی مسائل کی ایک اَور وجہ جس نے اس وقت نوعِانسان کے ناک میں دم کر دیا ہے ۲-تیمتھیس ۳:۱-۵ میں بیان کی گئی ہے۔ وہاں پر درج پولس کے نبوّتی الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ ہم ”اخیر زمانے“ میں رہ رہے ہیں۔ خاندان پُراَمن اور خوش نہیں ہو سکتے اگر اُن کے افراد ”خودغرض۔ زردوست۔ شیخیباز۔ مغرور۔ بدگو۔ ماںباپ کے نافرمان۔ ناشکر۔ ناپاک۔ طبعی محبت سے خالی۔ سنگدل۔ تہمت لگانے والے۔ بےضبط۔ تندمزاج۔ نیکی کے دُشمن۔ دغاباز۔ ڈھیٹھ۔ گھمنڈ کرنے والے۔ خدا کی نسبت عیشوعشرت کو زیادہ دوست رکھنے والے“ ہیں اور ”وہ دینداری کی وضع تو [رکھتے ہیں] مگر اس کے اثر کو قبول [نہیں کرتے]۔“ درحقیقت ایک خاندان خوش نہیں ہو سکتا اگر اُس کے ایک فرد میں بھی طبعی محبت کی کمی ہے یا وہ بےوفا ہے۔ خاندانی زندگی پُراَمن کیسے ہو سکتی ہے اگر گھرانے میں کوئی شخص تندمزاج اور سنگدل ہے؟ اس سے بھی بدتر یہ کہ اگر خاندان کے افراد خدا کی نسبت عیشوعشرت کو زیادہ دوست رکھنے والے ہیں تو وہاں اَمن اور خوشی کیسے ہو سکتی ہے؟ شیطان کے زیرِتسلط اس دُنیا کے یہی خصائل ہیں۔ اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں کہ اِن آخری ایّام میں خاندانی اَمن اور خوشی ناقابلِحصول ہیں!
۸، ۹. خاندانی خوشی پر بچوں کے رویے کا کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
۸ ایک اَور وجہ کہ بہتیرے خاندانوں میں اَمن اور خوشی کا فقدان کیوں ہے وہ گھرانے میں بچوں کا خراب چالچلن ہے۔ جب پولس نے اخیر زمانے کی حالتوں کی بابت بتایا تو اُس نے پیشینگوئی کی کہ بہتیرے بچے ماںباپ کے نافرمان ہونگے۔ اگر آپ ایک جوان شخص ہیں تو کیا آپکا طرزِعمل آپکے خاندان کو پُراَمن اور شادمان بنانے میں معاون ہے؟
۹ بعض بچے اپنے طرزِعمل میں ہمیشہ مثالی نہیں ہوتے۔ مثال کے طور پر، ایک نوعمر لڑکے نے اپنے باپ کو یہ بیہوداہ خط لکھا: ”اگر آپ مجھے سکندریہ لے کر نہیں جائینگے تو مَیں آپکو خط نہیں لکھونگا، آپ سے بات نہیں کرونگا اور نہ ہی آپکو خداحافظ کہونگا اور اگر آپ میرے بغیر سکندریہ چلے گئے تو مَیں نہ تو آپکا ہاتھ پکڑونگا اور نہ ہی پھر کبھی آپکو سلام کرونگا۔ اگر آپ مجھے لیکر نہیں جائینگے تو یہی ہوگا . . . لیکن مَیں آپکی منت کرتا ہوں کہ مجھے ایک باجا ضرور بھیج دیں۔ اگر آپ نہیں بھیجیں گے تو مَیں نہ تو کچھ کھاؤنگا اور نہ کچھ پیونگا۔ یہ میرا فیصلہ ہے!“ کیا آج یہی کچھ ہو رہا ہے؟ ایک لڑکے کی طرف سے اپنے باپ کو یہ خط قدیم مصر میں ۲،۰۰۰ سال سے زیادہ عرصہ پہلے لکھا گیا تھا۔
۱۰. نوعمر اشخاص خدائی اَمن کے طالب ہونے کیلئے اپنے خاندانوں کی کیسے مدد کر سکتے ہیں؟
۱۰ اس نوعمر مصری لڑکے کے رویے نے خاندانی اَمن کو فروغ نہیں دیا تھا۔ بلاشُبہ، ان آخری ایّام میں خاندانوں کے اندر اس سے بھی سنگین باتیں واقع ہوتی ہیں۔ تاہم، آپ نوجوان اپنے خاندان کی خدائی اَمن کے طالب ہونے میں مدد کر سکتے ہیں۔ کیسے؟ بائبل کی اس مشورت پر کان لگانے سے: ”اَے فرزندو! ہر بات میں اپنے ماں باپ کے فرمانبردار رہو کیونکہ یہ خداوند میں پسندیدہ ہے۔“—کلسیوں ۳:۲۰۔
۱۱. والدین اپنے بچوں کی یہوواہ کے وفادار خادم بننے کیلئے کیسے مدد کر سکتے ہیں؟
۱۱ آپ جو والدین ہیں آپ کی بابت کیا ہے؟ پُرمحبت طریقے سے اپنے بچوں کی یہوواہ کے وفادار خادم بننے میں مدد کریں۔ ”لڑکے کی اُس راہ میں تربیت کر جس پر اُسے جانا ہے،“ امثال ۲۲:۶ بیان کرتی ہے۔ ”وہ بوڑھا ہو کر بھی اُس سے نہیں مڑیگا۔“ عمدہ صحیفائی تعلیم اور والدین کے اچھے نمونے سے، بہتیرے لڑکے اور لڑکیاں بڑے ہو کر صحیح راستے سے نہیں بھٹکتے۔ لیکن، زیادہتر کا انحصار بائبل تربیت کی خوبی اور وسعت اور نوجوان کے دل پر ہے۔
۱۲. ایک مسیحی گھرانے کو پُراَمن کیوں ہونا چاہئے؟
۱۲ اگر ہمارے خاندان کے سب افراد یہوواہ کی مرضی کو پورا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو ہمیں خدائی اَمن سے لطفاندوز ہونا چاہئے۔ ایک مسیحی گھر کو ’امن دوستوں‘ سے بھرا ہونا چاہئے۔ لوقا ۱۰:۱-۶ ظاہر کرتی ہیں کہ یسوع کے ذہن میں ایسے ہی اشخاص تھے جب اُس نے ۷۰ شاگردوں کو خادموں کے طور پر بھیجا اور اُن سے کہا: ”جس گھر میں داخل ہو پہلے کہو کہ اس گھر کی سلامتی ہو [”امن ہو،“ اینڈبلیو]۔ اگر وہاں کوئی سلامتی کا فرزند [”امن دوست،“ اینڈبلیو] ہوگا تو تمہارا سلام [”امن،“ اینڈبلیو] اس پر ٹھہریگا۔“ جب یہوواہ کے خادم پُراَمن طور پر ”صلح [”اَمن،“ اینڈبلیو] کی خوشخبری“ کیساتھ گھرباگھر جاتے ہیں تو وہ اَمن دوستوں کی تلاش کرتے ہیں۔ (اعمال ۱۰:۳۴-۳۶؛ افسیوں ۲:۱۳-۱۸) یقیناً، اَمن دوستوں پر مشتمل ایک مسیحی گھرانے کو پُراَمن ہونا چاہئے۔
۱۳، ۱۴. (ا) نعومی نے روت اور عرفہ کیلئے کس چیز کی خواہش کی تھی؟ (ب) ایک مسیحی گھر کو کس قسم کے آراموسکون کی جگہ ہونا چاہئے؟
۱۳ ایک گھر کو اَمنوسکون کی جگہ ہونا چاہئے۔ عمررسیدہ بیوہ نعومی نے اُمید کی تھی کہ خدا اُسکی نوجوان بیوہ بہوؤں، روت اور عرفہ کو ایسا آراموسکون بخشے جو ایک اچھے خاوند اور گھر سے ملتا ہے۔ نعومی نے کہا: ”خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] یہ کرے کہ تُم کو اپنےاپنے شوہر کے گھر میں آرام ملے۔“ (روت ۱:۹) نعومی کی خواہش کے بارے میں، ایک عالم نے لکھا کہ ایسے گھروں میں روت اور عرفہ ”بےسکونی اور پریشانی سے مخلصی پائینگی۔ اُنہیں آرام ملیگا۔ یہ ایسی جگہ ہوگی جس میں وہ قیام کر سکیں گی اور جس میں اُنکے نرمونازک جذبات اور انتہائی آبرومندانہ خواہشات کو تسکین اور آرام حاصل ہوگا۔ عبرانی کی امتیازی خصوصیت کو . . . بڑی عمدگی سے [یسعیاہ ۳۲:۱۷، ۱۸] میں اس کی ہممعنی اصطلاحات کی بناوٹ سے ظاہر کِیا گیا ہے۔“
۱۴ براہِمہربانی یسعیاہ ۳۲:۱۷، ۱۸ کے اس حوالے کو نوٹ فرمائیں۔ ہم اس سلسلے میں پڑھتے ہیں: ”صداقت کا انجام صلح [”اَمن،“ اینڈبلیو] ہوگا اور صداقت کا پھل ابدی آرامواطمینان ہوگا۔ اور میرے لوگ سلامتی کے مکانوں میں اور بےخطر گھروں میں اور آسودگی اور آسایش کے کاشانوں میں رہینگے۔“ ایک مسیحی گھر کو راستبازی، سلامتی، تحفظ اور خدائی اَمن کی ”سکونتگاہ“ ہونا چاہئے۔ لیکن اگر آزمائشیں، اختلافات یا دیگر مسائل اُٹھ کھڑے ہوں تو پھر کیا ہو؟ پھر تو ہمیں خاص طور پر خاندانی خوشی کا راز جاننے کی ضرورت ہے۔
چار اہم اصول
۱۵. آپ خاندانی خوشی کے راز کو کیسے بیان کرینگے؟
۱۵ ہر خاندان، خاندانوں کے خالق، یہوواہ خدا سے نامزد ہے۔ (افسیوں ۳:۱۴، ۱۵) اس لئے خاندانی خوشی کے خواہاں لوگوں کو اُس کی ہدایت پر چلنا چاہئے اور اُسکی حمد کرنی چاہئے، جیسےکہ زبور نویس نے کی: ”اَے قوموں کے قبیلو! خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] کی۔ خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] ہی کی تمجیدوتعظیم کرو۔“ (زبور ۹۶:۷) حقیقی خاندانی خوشی کا راز بائبل کے اوراق اور اُس میں پائے جانے والے اُصولوں کے اطلاق میں پنہاں ہے۔ جو خاندان ان اُصولوں کا اطلاق کرتا ہے وہ خوش ہوگا اور خدائی اَمن سے لطفاندوز ہوگا۔ اسلئے آیئے پھر ان اہم اُصولوں میں سے چار پر غور کریں۔
۱۶. خاندانی زندگی میں ضبطِنفس کو کیا کردار ادا کرنا چاہئے؟
۱۶ ان اُصولوں میں سے ایک اس بات پر مرتکز ہے: خاندانی زندگی میں خدائی اَمن کیلئے ضبطِنفس ضروری ہے۔ سلیمان بادشاہ نے فرمایا: ”جو اپنے نفس پر ضابط نہیں وہ بےفصیل اور مسمارشُدہ شہر کی مانند ہے۔“ (امثال ۲۵:۲۸) اگر ہم پُراَمن اور خوشحال خاندان رکھنے کی خواہش رکھتے ہیں تو اپنے نفس پر ضابط رہنا—ضبطِنفس کو عمل میں لانا—اشد ضروری ہے۔ اگرچہ ہم ناکامل ہیں تَوبھی ہمیں ضبطِنفس کو عمل میں لانے کی ضرورت ہے جوکہ خدا کی روحالقدس کا پھل ہے۔ (رومیوں ۷:۲۱، ۲۲ گلتیوں ۵:۲۲، ۲۳) اگر ہم اس خوبی کیلئے دُعا کرتے، اسکی بابت بائبل مشورت کا اطلاق کرتے اور اُن لوگوں کیساتھ رفاقت رکھتے ہیں جو اسے ظاہر کرتے ہیں تو روح ہمارے اندر ضبطِنفس پیدا کریگی۔ یہ روش ”حرامکاری سے بھاگنے“ میں ہماری مدد کریگی۔ (۱-کرنتھیوں ۶:۱۸) ضبطِنفس تشدد کو مسترد کرنے، شرابنوشی پر غالب آنے یا اس سے گریز کرنے، اور مشکل حالات کیساتھ ٹھنڈے دل سے نپٹنے میں ہماری مدد کریگا۔
۱۷، ۱۸. (ا) مسیحی خاندانی زندگی پر ۱-کرنتھیوں ۱۱:۳ کا اطلاق کیسے ہوتا ہے؟ (ب) سرداری کو تسلیم کرنا خاندان میں خدائی اَمن کو فروغ دینے میں کیسے مدد کرتا ہے؟
۱۷ ایک اَور لازمی اُصول کو یوں بیان کِیا جا سکتا ہے: سرداری کو تسلیم کرنا ہمیں اپنے خاندانوں میں خدائی اَمن کے طالب رہنے کیلئے مدد دیگا۔ پولس نے لکھا: ”مَیں تمہیں آگاہ کرنا چاہتا ہوں کہ ہر مرد کا سر مسیح اور عورت کا سر مرد اور مسیح کا سر خدا ہے۔“ (۱-کرنتھیوں ۱۱:۳) اس کا مطلب ہے کہ مرد خاندان میں پیشوائی کرتا ہے، اُسکی بیوی وفاداری سے اُسکی حمایت کرتی ہے اور بچے فرمانبرداری کرتے ہیں۔ (افسیوں ۵:۲۲-۲۵، ۲۸-۳۳؛ ۶:۱-۴) ایسا چالچلن خاندان میں خدائی اَمن کو فروغ دیگا۔
۱۸ ایک مسیحی شوہر کو یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ صحیفائی سرداری آمریت نہیں ہے۔ اُسے اپنے سردار، یسوع کی نقل کرنی ہے۔ اگرچہ اُس نے ”سب چیزوں کا سردار“ ہونا تھا تَوبھی یسوع ”اسلئے نہیں آیا کہ خدمت لے بلکہ اسلئےکہ خدمت کرے۔“ (افسیوں ۱:۲۲؛ متی ۲۰:۲۸) اسی طریقے سے ایک مسیحی مرد اپنی سرداری کو پُرمحبت طریقے سے عمل میں لاتا ہے جو اُسے بہتر طور پر اپنے خاندان کے مفادات کی دیکھبھال کرنے کے قابل بناتا ہے۔ اور ایک مسیحی بیوی یقیناً اپنے شوہر کیساتھ تعاون کرنا چاہتی ہے۔ اُسکی ”مددگار“ اور ”تکملہ“ ہونے کی حیثیت سے وہ ایسی خوبیاں فراہم کرتی ہے جنکی اُسکے شوہر میں کمی ہے اور یوں اُسے درکار حمایت فراہم کرتی ہے۔ (پیدایش ۲:۲۰؛ امثال ۳۱:۱۰-۳۱) سرداری کو مناسب طریقے سے عمل میں لانا شوہروں اور بیویوں کو ایک دوسرے کیساتھ عزت سے پیش آنے میں مدد دیتا اور بچوں کو فرمانبردار بننے کی تحریک دیتا ہے۔ جیہاں، سرداری کو تسلیم کرنا خاندانی زندگی میں خدائی اَمن کو فروغ دیتا ہے۔
۱۹. خاندانی اَمن اور خوشی کیلئے اچھا رابطہ کیوں ضروری ہے؟
۱۹ ایک تیسرے ضروری اُصول کا اظہار ان الفاظ میں کِیا جا سکتا ہے: خاندانی اَمن اور خوشی کیلئے اچھا رابطہ ضروری ہے۔ یعقوب ۱:۱۹ ہمیں بتاتی ہے: ”ہر آدمی سننے میں تیز اور بولنے میں دھیرا اور قہر میں دھیما ہو۔“ خاندان کے ارکان کو ایک دوسرے کی بات سننا اور ایک دوسرے سے بات کرنا بھی چاہئے کیونکہ بات سننے اور کہنے کا نام ہی تو خاندانی رابطہ ہے۔ تاہم جب ہم کوئی صحیح بات بھی کرتے ہیں تو اگر یہ کرخت، متکبرانہ یا بےحس انداز سے کی جاتی ہے تو یہ فائدے سے زیادہ نقصان کریگی۔ ہماری گفتگو کو مہربانہ ”نمکین“ ہونا چاہئے۔ (کلسیوں ۴:۶) خاندان جو صحیفائی اُصولوں پر عمل کرتے اور اچھا رابطہ رکھتے ہیں وہ خدائی اَمن کے طالب ہیں۔
۲۰. آپ کیوں کہینگے کہ خاندانی اَمن کیلئے محبت لازمی ہے؟
۲۰ چوتھا اُصول یہ ہے: محبت خاندانی اَمن اور خوشی کیلئے اشد ضروری ہے۔ رومانوی محبت شادی میں ایک اہم کردار ادا کر سکتی ہے اور خاندان کے افراد کے مابین گہری اُلفت پیدا ہو سکتی ہے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ اہم وہ محبت ہے جس کا اظہار یونانی لفظ اگاپے سے کِیا گیا ہے۔ یہی وہ محبت ہے جسے ہم یہوواہ کیلئے، یسوع مسیح کیلئے اور اپنے پڑوسی کیلئے پیدا کرتے ہیں۔ (متی ۲۲:۳۷-۳۹) خدا نے نوعِانسان کیلئے ایسی ہی محبت دکھائی جس کے تحت اُس نے ”اپنے اکلوتے بیٹے کو بخشدیا تاکہ جو کوئی اُس پر ایمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے“ (یوحنا ۳:۱۶) یہ کیسی شاندار بات ہے کہ ہم اپنے خاندان کے افراد کیلئے بھی اسی طرح کی محبت ظاہر کر سکتے ہیں! یہ اعلیٰ محبت ”اتحاد کا کامل پٹکا“ ہے۔ (کلسیوں ۳:۱۴) یہ بیاہتا جوڑے کو اکٹھا باندھ دیتی ہے اور اُنہیں ایک دوسرے کیلئے اور اپنے بچوں کیلئے وہی کچھ کرنے کی تحریک دیتی ہے جو بہترین ہے۔ جب مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں تو محبت اُنہیں معاملات سے متحد ہو کر نپٹنے میں مدد دیتی ہے۔ ہم اسکا یقین رکھ سکتے ہیں کیونکہ ”محبت . . . اپنی بہتری نہیں چاہتی . . . سب کچھ سہہ لیتی ہے۔ سب کچھ یقین کرتی ہے۔ سب باتوں کی اُمید رکھتی ہے۔ سب باتوں کی برداشت کرتی ہے۔ محبت کو زوال نہیں۔“(۱-کرنتھیوں ۱۳:۴-۸) وہ خاندان یقیناً خوش ہیں جہاں باہمی محبت کو یہوواہ کیلئے محبت سے مضبوط کِیا جاتا ہے!
خدائی اَمن کے طالب رہیں
۲۱. کونسی چیز آپ کے خاندان کے اَمن اور خوشی میں اضافہ کرتی ہے؟
۲۱ بائبل سے ماخوذ ان مندرجہبالا اور دیگر اُصولوں کی ان مطبوعات میں خاکہکشی کی گئی ہے جو ”دیانتدار اور عقلمند نوکر“ کے ذریعے یہوواہ نے بڑی شفقت سے فراہم کی ہیں۔ (متی ۲۴:۴۵) مثال کے طور پر، ایسی معلومات ۱۹۲ صفحات کی کتاب خاندانی خوشی کا راز میں پائی جاتی ہیں جسکی ۹۷/۱۹۹۶ کی پوری دُنیا میں منعقد ہونے والی یہوواہ کے گواہوں کی ”خدائی اَمن کے پیامبر“ ڈسڑکٹ کنونشنوں پر رُونمائی کی گئی تھی۔ ایسی اشاعت کی مدد کیساتھ صحائف کا ذاتی اور خاندانی مطالعہ بہت سے فوائد پر منتج ہو سکتا ہے۔ (یسعیاہ ۴۸:۱۸،۱۷) جیہاں، صحیفائی مشورت کا اطلاق کرنے سے آپ کے خاندان کے اَمن اور خوشحالی میں اضافہ ہوتا ہے۔
۲۲. کس چیز کو ہماری خاندانی زندگی کا مرکز ہونا چاہئے؟
۲۲ یہوواہ نے اُن خاندانوں کیلئے شاندار چیزیں محفوظ کر رکھی ہیں جو اُسکی مرضی بجا لاتے ہیں اور وہ ہماری حمد اور خدمت کا مستحق ہے۔ (مکاشفہ ۲۱:۱-۴) پس دُعا ہے کہ آپکا خاندان خدائےبرحق کی پرستش کو اپنی زندگی کا مرکز بنائے۔ نیز دُعا ہے کہ جب آپ اپنی خاندانی زندگی میں اَمن کے طالب ہوتے ہیں تو ہمارا آسمانی باپ یہوواہ آپ کو برکت بخشے!
آپ کیسے جواب دینگے؟
▫ خاندانوں کیلئے خدائیعقیدت سے زندگی بسر کرنے کیلئے کیا چیز ضروری ہے؟
▫ آجکل خاندانی بحران کیوں ہے؟
▫ خاندانی خوشی کا راز کیا ہے؟
▫ چند اُصول کونسے ہیں جو خاندانی زندگی میں اَمن اور خوشی کو فروغ دینے میں ہماری مدد کریں گے؟
[صفحہ 17 پر تصویر]
اچھا رابطہ خاندانی زندگی میں خدائی اَمن کے طالب رہنے میں ہماری مدد کرتا ہے