خاندان حملے کے تحت!
”خاندان قدیمترین انسانی ادارہ ہے۔ کئی طریقوں سے یہ نہایت اہم ہے۔ یہ معاشرے کی نہایت ہی بنیادی اکائی ہے۔ خاندانی زندگی کے مضبوط یا کمزور ہونے کی بنا پر پوری کی پوری تہذیبیں یا تو بچ نکلی ہیں یا پھر مر مٹی ہیں۔“
پیچھے ۱۹۷۳ میں دی ورلڈ بک انسائیکلوپیڈیا نے اسکی بابت یہی کہا تھا۔ تاہم، آجکل کے پسمنظر کے اعتبار سے تو وہ الفاظ ایک بدشگونی، تقریباً بدبختی، کا انداز اختیار کئے ہوئے ہیں۔ جو کچھ خاندانی زندگی پر براہراست حملوں کے مترادف ہے گزشتہ چند سالوں نے اسے دیکھا ہے۔ ہردلعزیز مشیر جان براڈ شا لکھتا ہے: ”آجکل خاندان میں بحران ہے۔ ... طلاق کی بلند شرح، نوعمروں کے پرتشدد کام، منشیات کا بےتحاشا ناجائز استعمال، وبائی مباشرتمحرمات، کھانے پینے میں بےترتیبی سے پیدا ہونے والے امراض، اور جسمانی مارپیٹ اس بات کی شہادت ہیں کہ کوئی چیز بالکل خراب ہے۔“
یقیناً، ”خاندان میں ”کسی چیز کے بالکل خراب ہونے کی شہادت“ کو تمام دنیا میں دیکھا جا سکتا ہے۔ یورپ میں صورتحال کی بابت دی یونیسکو کورئیر نے کہا: ”۱۹۶۵ سے لیکر، پورے براعظم میں طلاقوں کی تعداد میں بڑا اضافہ ہوا ہے۔ ... ایسے خاندانوںکی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جہاں پر کہ والدین میں سے ایک ہی بچوں کی پرورش کرتا ہے۔“ ترقیپذیر ممالک بھی اسی طرح سے خاندانی تکلیف میں اضافے کو دیکھ رہے ہیں۔ مصنفہ ایلن ٹرینبلے مشاہدہ کرتی ہے: ”معاشروں میں رہنے والے لاکھوں لوگ جو ایک معیاری، پیشبینی کے قابل، صدیوں تک غیرمتلون طرززندگی سے واقف تھے، انکے لئے آجکل زمانہ ہنگامہخیز ہے۔“
آجکل بہت سے گھروں میں پایا جانے والا ماحول خاص طور پر دہشتانگیز ہے۔ صرف ریاستہائے متحدہ میں، لاکھوں لاکھ بچے ایک شرابی ماں یا باپ سے پرورش پا رہے ہیں۔ خاندانی تشدد میں بھی خوفناک اضافہ رہا ہے۔ اپنی کتاب انٹیمیٹ وائلنس (اندرونی تشدد) میں محققین رچرڈ جیلز اور مرے سٹراؤس رپورٹ دیتے ہیں: ”آپکے لئے زیادہ امکان ہے کہ معاشرے میں کسی دوسری جگہ یا کسی دوسرے شخص کی بہنسبت اپنے ہی گھر میں کسی عزیز کے ہاتھوں جسمانی طور پر حملے کا نشانہ بنیں، مارے پیٹے جائیں، اور قتل کئے جائیں۔“
اگر تہذیب کی بقا کا انحصار واقعی خاندان کی مضبوطی پر ہے تو تہذیب کے مستقبل کے متعلق فکرمند ہونے کی وجہ ہے۔ پھر بھی، تہذیب کے انجام کو شاید آپکی پریشانیوں میں بڑی کم وقعت حاصل ہو۔ غالباً کسی اور چیز سے بڑھ کر آپکی فکر یہ ہے کہ ایسی ہلچل آپکے خاندان کے لئے کیسا شگون ہو سکتی ہے۔ انجام کیا ہوگا؟ ایک معتبر مآخذ سے جواب آپکو خوب حیران کر سکتا ہے۔ (۳ ۱۰/۱۵ W۹۲)