یہوواہ کا پرمحبت خاندانی انتظام
”اس سبب سے میں اس باپ کے آگے گھٹنے ٹیکتا ہوں جس سے آسمان اور زمین کا ہر ایک خاندان نامزد ہے۔“—افسیوں ۳:۱۴، ۱۵۔
۱، ۲. (ا)یہوواہ نے خاندانی اکائی کو کس مقصد کیلئے خلق کیا؟ (ب) آجکل یہوواہ کے انتظام میں خاندان کا کیا مقام ہونا چاہیے؟
یہوواہ نے خاندانی اکائی کو خلق کیا۔ اس کے ذریعے سے اس نے رفاقت، تعاون، یا قربت کے لئے انسانی ضرورت کی تسلی کرنے سے زیادہ کچھ کیا۔ (پیدایش ۲:۱۸) خاندان ہی وہ ذریعہ تھا جسکی بدولت زمین کو معمور کرنے کے لئے خدا کے جلالی مقصد کو پورا ہونا تھا۔ اس نے پہلے بیاہتا جوڑے کو بتایا: ”پھلو اور بڑھو اور زمین کو معمورومحکوم کرو۔“ (پیدایش ۱:۲۸) خاندان کا پرتپاک اور پرورش کرنے والا ماحول ان بیشمار بچوں کے لئے فائدہمند ثابت ہوگا جو آدم اور حوا اور انکی اولاد سے پیدا ہونگے۔
۲ تاہم، اس پہلے جوڑے نے اپنے اور اپنی اولاد کیلئے تباہکن نتائج کیساتھ—نافرمانی کی روش کو منتخب کیا۔ (رومیوں ۵:۱۲) یوں آجکل خاندانی زندگی اس چیز کا بگاڑ ہے جو کچھ خدا اسے بنانا چاہتا تھا۔ پھر بھی، مسیحی معاشرے کی ایک بنیادی اکائی کا کام دیتے ہوئے خاندان یہوواہ کے انتظام میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔ یہ ہمارے درمیان بہت سے غیرشادیشدہ مسیحیوں کے ذریعے کئے جانے والے شاندار کام کیلئے قدردانی کی کمی کی وجہ سے نہیں کہا گیا۔ اسکی بجائے، ہم اس بڑی معاونت کو تسلیم کرتے ہیں جو خاندان مجموعی طور پر مسیحی تنظیم کی روحانی صحت کے لئے بھی کرتے ہیں۔ مضبوط خاندان مضبوط کلیسیائیں بناتے ہیں۔ آجکل کے بوجھوں کے سامنے آپکا خاندان کیسے کامیاب رہتا ہے؟ جواب میں، آئیے ہم جائزہ لیں کہ خاندانی انتظام کی بابت بائبل کیا کہتی ہے۔
بائبل زمانوں میں خاندان
۳. سرقبائلی خاندان میں شوہر اور بیوی نے کیا کردار ادا کئے؟
۳ آدم اور حوا دونوں نے سرداری کے خدا کے انتظام کو ٹھکرا دیا۔ لیکن نوح، ابرہام، اضحاق، یعقوب، اور ایوب جیسے ایماندار آدمیوں نے بطور خاندانی سرداروں کے، جائز طور پر اپنے مقاموں کو قائم رکھا۔ (عبرانیوں ۷:۴) سرقبائلی خاندان ایک چھوٹی حکومت کی مانند ہوتا تھا، باپ مذہبی راہنما، مُعلم، اور قاضی کے طور پر کام کرتا تھا۔ (پیدایش ۸: ۲۰، ۱۸:۱۹) بیویاں بھی غلاموں کی طرح نہیں بلکہ گھرانے کی معاون منتظمین کے طور پر کام کرکے ایک اہم کردار ادا کرتی تھیں۔
۴. موسوی شریعت کے تحت خاندانی زندگی کیسے تبدیل ہوئی، لیکن والدین کیا کردار ادا کرتے رہے؟
۴ ۱۵۱۳ ق۔س۔ع۔ میں جب اسرائیل ایک امت بنی، تو خاندانی شرع نے موسی کے ذریعے دی گئی قومی شرع کی ماتحتی اختیار کر لی۔ (خروج ۲۴:۳-۸) فیصلہ کرنے کا اختیار، بشمول زندگی اور موت کے معاملات کے، اب مقررکردہ قاضیوں کو دے دیا گیا تھا۔ (خروج ۱۸:۱۳-۲۶) لاوی کہانت نے پرستش کے قربانی والے حلقوں کی ذمہداری سنبھال لی۔ (احبار ۱:۲-۵) تاہم، باپ ایک اہم کردار ادا کرتا رہا۔ موسی نے والدوں کو تلقین کی: ”اور یہ باتیں جنکا حکم آج میں تجھے دیتا ہوں تیرے دل پر نقش رہیں۔ اور تو انکو اپنی اولاد کے ذہننشین کرنا اور گھر بیٹھے اور راہ چلتے اور لیٹتے اور اٹھتے وقت انکا ذکر کیا کرنا۔“ (استثنا ۶:۶، ۷) مائیں اچھا خاصا اثرورسوخ رکھتی تھیں۔ امثال ۱:۸ نے نوجوانوں کو حکم دیا: ”اے میرے بیٹے! اپنے باپ کی تربیت پر کان لگا اور اپنی ماں کی تعلیم کر ترک نہ کر۔“ جیہاں، اپنے خاوند کے اختیار کے انتظام کے دائرے میں، عبرانی بیوی خاندانی قانون بنا سکتی اور نافذ کر سکتی تھی۔ اسکے بچوں کو اسکے بوڑھے ہو جانے کے بعد بھی اسکی عزت کرنی تھی۔—امثال ۲۳:۲۲۔
۵. موسوی شریعت نے خاندانی بندوبست میں بچوں کے مقام کی کیسے توضیح کی؟
۵ بچوں کے مقام کو بھی خدا کی شریعت کے ذریعے واضح طور پر بیان کیا گیا تھا۔ استثنا ۵:۱۶ نے کہا: ”اپنے باپ اور اپنی ماں کی عزت کرنا جیسا خداوند تیرے خدا نے تجھے حکم دیا ہے تاکہ تیری عمر دراز ہو اور جو ملک خداوند تیرا خدا تجھے دیتا ہے اس میں تیرا بھلا ہو۔“ موسوی شریعت کے تحت کسی شخص کا اپنے والدین کی بےادبی کرنا نہایت ہی سنگین خلافورزی تھی۔ (خروج ۲۱:۱۵، ۱۷) ”جو کوئی اپنے باپ یا اپنی ماں پر لعنت کرے،“ شریعت نے بیان کیا، ”وہ ضرور جان سے مارا جائے۔“ (احبار ۲۰:۹) اپنے والدین کے خلاف بغاوت کسی شخص کے خود خدا کے خلاف بغاوت کرنے کے مترادف تھا۔
مسیحی خاوندوں کا کردار
۶، ۷. افسیوں ۵:۲۳-۲۹ میں پولس کے الفاظ پہلی صدی کے اسکے قارئین کو انقلابی کیوں دکھائی دئے؟
۶ مسیحیت نے خاندانی انتظام پر روشنی ڈالی، خاص طور پر خاوند کے کردار پر۔ پہلی صدی میں مسیحی کلیسیا کے باہر، خاوندوں کے لئے اپنی بیویوں کے ساتھ سخت اور ظالمانہ سلوک کرنا عام تھا۔ عورتوں کو بنیادی حقوق اور قدرومنزلت نہیں دی جاتی تھی۔ دی ایکسپوزیٹرز بائبل کہتی ہے: ”مہذب یونانی بچے پیدا کرنے کے لئے بیوی رکھتے تھے۔ عورت کے حقوق آدمی کی جنسی اشتہا پر پابندی نہ لگاتے تھے۔ محبت شادی کے معاہدے کا حصہ نہ تھی ... غلام عورت کے کوئی حقوق نہ ہوتے تھے۔ اسکا جسم اسکے مالک کی خدمت کے لئے وقف ہوتا تھا۔“
۷ ایسے ماحول میں، پولس نے افسیوں ۵:۲۳-۲۹ کے الفاظ کو تحریر کیا: ”شوہر بیوی کا سر ہے جیسے کہ مسیح کلیسیا کا سر ہے اور وہ خود بدن کا بچانے والا ہے ... اے شوہرو! اپنی بیویوں سے محبت رکھو جیسے مسیح نے بھی کلیسیا سے محبت کرکے اپنے آپکو اسکے واسطے موت کے حوالہ کر دیا۔ ... شوہروں کو لازم ہے کہ اپنی بیویوں سے اپنے بدن کی مانند محبت رکھیں۔ جو اپنی بیوی سے محبت رکھتا ہے وہ اپنے آپ سے محبت رکھتا ہے۔ کیونکہ کبھی کسی نے اپنے جسم سے دشمنی نہیں کی بلکہ اسکو پالتا اور پرورش کرتا ہے۔“ پہلی صدی کے قارئین کے لئے یہ الفاظ کسی انقلاب سے کم نہ تھے۔ دی ایکسپوزیٹرز بائبل کہتی ہے: ”شادی کے مسیحی نظریے کی نسبت، اس وقت کے بدچلن اخلاقیات کے مقابلے میں، مسیحیت میں کوئی چیز زیادہ عجیب اور زیادہ سختگیر دکھائی نہ دی ... [اس] نے نوعانسانی کے لئے ایک نئے دور کا آغاز کیا۔“
۸، ۹. عورتوں کے متعلق کونسے غیرصحتمندانہ رجحانات مردوں میں عام ہیں، اور ایسے نظریات کو رد کرنا مسیحی مردوں کیلئے کیوں اہم ہے؟
۸ شوہروں کیلئے بائبل کی مشورت آجکل کسی انقلاب سے کم نہیں ہے۔ آزادینسواں کے تمام نعروں کے باوجود، بہت سے مرد، عورتوں کو ابھی تک محض جنسی تسکین کی اشیاء خیال کرتے ہیں۔ باطل عقیدے کا یقین کرتے ہوئے کہ عورتیں حقیقت میں محکومیت، قابو میں رہنے، یا دھونس سے لطفاندوز ہوتی ہیں، بہت سے مرد اپنی بیویوں سے جسمانی اور جذباتی طور پر غلط سلوک کرتے ہیں۔ ایک مسیحی مرد کے لئے دنیاوی سوچ سے متاثر ہونا اور اپنی بیوی کے ساتھ غیرمہذب طریقے سے پیش آنا کتنا شرمناک ہوگا! ایک مسیحی خاتون کہتی ہے: ”میرا خاوند خدمتگزار خادم تھا اور پبلک تقاریر دیتا تھا،“ تاہم، وہ آشکارا کرتی ہے، ”بطور بیوی میری پٹائی ہوتی تھی۔“ واضح طور پر، ایسے کام خدائی انتظام کی مطابقت میں نہ تھے۔ وہ آدمی بالکل غیرمعمولی تھا، اگر وہ خدا کی کرمفرمائی کی امید رکھتا تھا تو اسے اپنے غصے پر قابو پانے کے لئے مدد حاصل کرنے کی ضرورت تھی۔—گلتیوں ۵:۱۹-۲۱۔
۹ شوہروں کو خدا کی طرف سے حکم ملا ہے کہ اپنی بیویوں سے اپنے بدنوں کی مانند محبت رکھیں۔ ایسا کرنے سے انکار خدا ہی کے بندوبست کے خلاف بغاوت ہے اور خدا کے ساتھ کسی کے رشتے کو کھوکھلا کر سکتا ہے۔ پطرس رسول کے الفاظ واضح ہیں: ”اے شوہرو! تم بھی [اپنی] بیویوں کے ساتھ عقلمندی سے بسر کرو اور عورت کو نازک ظرف جان کر اسکی عزت کرو ... تاکہ تمہاری دعائیں رک نہ جائیں۔“ (۱-پطرس ۳:۷) کسی شخص کا اپنی بیوی کے ساتھ جابرانہ سلوک کرنا، بیوی کی روحانیت پر اور اس شخص کی اولاد کی روحانیت پر تباہکن اثر ڈال سکتا ہے۔
۱۰. بعض طریقے کیا ہیں جن کے تحت مسیحی شوہر مسیح جیسے طریقے سے سرداری کو عمل میں لا سکتے ہیں؟
۱۰ اے شوہرو! آپکا خاندان آپکی سرداری کے تحت ترقی کریگا اگر آپ اسے مسیح جیسے طریقے سے عمل میں لاتے ہیں۔ مسیح کبھی سختگیر یا غیرمہذب نہیں تھا۔ اسکے برعکس وہ کہہ سکتا تھا: ”مجھ سے سیکھو کیونکہ میں حلیم ہوں اور دل کا فروتن۔ تو تمہاری جانیں آرام پائینگی۔“ (متی ۱۱:۲۹) کیا آپ کا خاندان آپکی بابت یہ کہہ سکتا ہے؟ مسیح نے اپنے شاگردوں سے دوستوں جیسا سلوک کیا اور ان پر بھروسہ کیا۔ (یوحنا ۱۵:۱۵) کیا آپ اپنی بیوی کو ویسی ہی قدرومنزلت دیتے ہیں؟ بائبل نے ”[لائق بیوی، NW]“ کے متعلق کہا : ”اسکے شوہر کے دل کو اس پر اعتماد ہے۔“ (امثال ۳۱:۱۰، ۱۱) اسکا مطلب اسے کسی حد تک حریت اور آزادی دینا ہے نہ کہ غیرمعقول پابندیوں سے اسے محدود کرنا۔ علاوہازیں، یسوع نے اپنے شاگردوں کو اپنے احساسات اور آراء کا اظہار کرنے کی حوصلہافزائی دی۔ (متی ۹:۲۸، ۱۶:۱۳-۱۵) کیا آپ اپنی بیوی کیساتھ ایسا ہی کرتے ہیں؟ یا کیا آپ دیانتدارانہ نااتفاقی کو اپنے اختیار کے لئے بطور ایک چیلنج خیال کرتے ہیں؟ اپنی بیوی کے احساسات کو نظرانداز کرنے کی بجائے اہمیت دینے سے، آپ درحقیقت اپنی سرداری کے لئے اسکے احترام کو بڑھاتے ہیں۔
۱۱. (ا)والد اپنے بچوں کی روحانی ضروریات کا خیال کیسے رکھ سکتے ہیں؟ (ب) بزرگوں اور خدمتگزار خادموں کو اپنے خاندانوں کی دیکھ بھال کرنے میں ایک اچھا نمونہ کیوں قائم کرنا چاہیے؟
۱۱ اگر آپ باپ ہیں تو آپ سے اپنے بچوں کی روحانی، جذباتی، اور جسمانی ضروریات کا خیال رکھنے میں پیشوائی کرنے کا بھی تقاضا کیا جاتا ہے۔ اس میں اپنے خاندان کے لئے ایک اچھا روحانی معمول رکھنا شامل ہے: میدانی خدمت میں انکے ساتھ کام کرنا، ایک گھریلو بائبل مطالعہ کرانا، روزانہ کی آیت پر باتچیت کرنا۔ دلچسپی کی بات ہے کہ بائبل ظاہر کرتی ہے کہ ایک بزرگ یا ایک خدمتگزار خادم کو ”اپنے گھر کا بخوبی بندوبست کرنے والا“ ہونا چاہیے۔ لہذا، ان حیثیتوں میں کام کرنے والے مردوں کو قابلنمونہ خاندانی سردار ہونا چاہیے۔ جبکہ وہ کلیسیائی ذمہداریوں کے بھاری بوجھ کو اٹھا سکتے ہیں، انہیں اپنے خاندانوں کو اولیت دینی چاہیے۔ پولس نے ظاہر کیا کہ کیوں: ”جب کوئی اپنے گھر ہی کا بندوبست کرنا نہیں جانتا تو خدا کی کلیسیا کی خبرگیری کیونکر کریگا؟“—۱-تیمتھیس ۳:۴، ۵، ۱۲۔
حمایتی مسیحی بیویاں
۱۲. مسیحی انتظام میں بیوی کیا کردار ادا کرتی ہے؟
۱۲ کیا آپ ایک مسیحی بیوی ہیں؟ تو پھر آپکو بھی خاندانی بندوبست میں نہایت اہم حصہ ادا کرنا چاہیے۔ مسیحی بیویوں کو تلقین کی گئی ہے کہ ”اپنے شوہروں کو پیار کریں۔ بچوں کو پیار کریں۔ اور مُتقی اور پاکدامن اور گھر کا کاروبار کرنے والی اور مہربان ہوں اور اپنے اپنے شوہر کے تابع رہیں۔“ (ططس ۲:۴، ۵) لہذا آپکو اپنے خاندان کے لئے ایک صاف اور خوشگوار گھر رکھنے سے، ایک قابلنمونہ بیوی بننے کیلئے کوشش کرنی چاہیے۔ گھریلو کام بعض اوقات تھکا دینے والا ہو سکتا ہے، لیکن نہ تو یہ حقیر ہے اور نہ ہی غیراہم۔ بطور بیوی، آپ ”گھر کا انتظام“ کرتی ہیں اور اس سلسلے میں کافی حد تک آزادی سے استفادہ کرسکتی ہیں۔ (۱-تیمتھیس ۵:۱۴) مثال کے طور پر، [”لائق بیوی،“ NW] نے گھرانے کی ضرورت کی چیزیں خریدیں، غیرمنقولہ جائیداد کی سودےبازی کی، اور کوئی چھوٹا کاروبار چلانے سے آمدنی میں بھی اضافہ کیا۔ کوئی حیرانی کی بات نہیں کہ اس نے اپنے شوہر سے تعریف حاصل کی! (امثال باب ۳۱) فطری بات ہے کہ ایسی پیشقدمیاں ان راہنمائیوں کے دائرے ہی میں کی گئی تھیں جو اسکے شوہر نے اسکے سردار کے طور پر دیں۔
۱۳. (ا)بعض عورتوں کیلئے اطاعت کیوں مشکل ہو سکتی ہے؟ (ب) مسیحی عورتوں کیلئے یہ کیوں فائدہمند ہے کہ خود کو اپنے شوہروں کی اطاعت میں رکھیں؟
۱۳ تاہم، ہو سکتا ہے کہ خود کو اپنے شوہر کے تابع کرنا ہمیشہ آسان نہ ہو۔ سارے مرد عزت کے مستحق نہیں ہوتے۔ اور جب روپے پیسے کا حساب رکھنے، منصوبہ سازی کرنے، یا منظم کرنے کی بات آتی ہے تو آپ خوب لائق ہو سکتی ہیں۔ آپ کوئی دنیاوی ملازمت کر سکتی ہیں اور خاندانی آمدنی میں کافی معاونت کر سکتی ہیں۔ یا شاید آپ نے ماضی میں کسی طریقے سے مردانہ تسلط سے تکلیف اٹھائی ہو اور کسی مرد کی تابعداری کرنا مشکل پا سکتی ہیں۔ تاہم، اپنے شوہر کے لئے ”گہرا احترام“ یا ”ڈر“ دکھانا، خدا کی سرداری کے لئے آپکے احترام کو ظاہر کرتا ہے۔ (افسیوں ۵:۳۳، کنگڈم انٹرلینیئر، ۱-کرنتھیوں ۱۱:۳) آپکے خاندان کی کامیابی کے لئے اطاعت بھی فیصلہکن ہے، یہ آپکی شادی کو غیرضروری بوجھوں اور کشیدگیوں کے تحت کرنے سے بچانے میں آپکی مدد کرتی ہے۔
۱۴. ایک بیوی کیا کر سکتی ہے جب وہ اپنے شوہر کے ذریعے کئے ہوئے فیصلے سے متفق نہیں ہوتی؟
۱۴ تو گویا اسکا مطلب یہ ہے کہ جب آپ محسوس کرتی ہیں کہ آپکا شوہر کوئی ایسا فیصلہ کر رہا ہے جو آپکے خاندان کے بہترین مفادات کے خلاف کام کرتا ہے تو آپکو خاموش رہنا چاہیے؟ ضروری نہیں۔ ابرہام کی بیوی سارہ نے جب اپنے بیٹے، اضحاق کی فلاح کے لئے خطرے کو بھانپ لیا تو وہ خاموش نہیں رہی تھی۔ (پیدایش ۲۱:۸-۱۰) اسی طرح، آپ بھی بعض اوقات اپنے احساسات کا اظہار کرنے کی ذمہداری محسوس کر سکتی ہیں۔ اگر مودٔبانہ طریقے سے [”مناسب وقت“، NW] پرایسا کیا جائے تو ایک خداپرست مسیحی مرد ضرور سنے گا۔ (امثال ۲۵:۱۱) لیکن اگر آپکی تجویز پر عمل نہیں کیا جاتا اور بائبل کے کسی اصول کی سنگین خلافورزی شامل نہیں، تو کیا اپنے شوہر کی خواہشات کے خلاف جانا خودشکستگی نہ ہوگی؟ یاد رکھیں، ”دانا عورت اپنا گھر بناتی ہے پر احمق اسے اپنے ہی ہاتھوں سے برباد کرتی ہے۔“ (امثال ۱۴:۱) اپنے گھر کو بنانے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ اپنے شوہر کی سرداری کی حمایت کریں، اسکی کامرانیوں کی تعریف کرنے والی ہوں، جبکہ پریشان ہوئے بغیر اسکی غلطیوں کیساتھ سکون سے نپٹیں۔
۱۵. کن طریقوں سے ایک بیوی اپنے بچوں کی تادیب اور تربیت کرنے میں حصہ لے سکتی ہے؟
۱۵ اپنے گھر کو ترقی دینے کا ایک اور طریقہ اپنے بچوں کی تادیب اور تربیت کرنے میں حصہ لینا ہے۔ مثال کے طور پر، آپ خاندانی بائبل مطالعے کو باقاعدہ اور ترقیبخش رکھنے کیلئے اپنا حصہ ادا کر سکتی ہیں۔ جب اپنے بچوں کو ہر موقعے پر خدا کی سچائیاں بتانے کی بات ہو تو ”اپنا ہاتھ ڈھیلا نہ ہونے“ دیں—انکے ساتھ سفر کرتے یا فقط خریداری کرتے وقت۔ (واعظ ۱۱:۶) اجلاسوں کیلئے اپنے تبصرے اور تھیوکریٹک منسٹری سکول کیلئے حصے تیار کرنے میں انکی مدد کریں۔ انکی صحبتوں پر نظر رکھیں۔ (۱-کرنتھیوں ۱۵:۳۳) جب خدائی معیاروں اور تادیب کے معاملات آتے ہیں تو اپنے بچوں کے علم میں لائیں کہ آپ اور آپکا شوہر متحد ہیں۔ انہیں اجازت نہ دیں کہ آپکو آپکے شوہر کے خلاف ایک کٹھپتلی بنا دیں۔
۱۶. (ا)کونسا بائبلی نمونہ والدین میں سے ایک کی اور ان لوگوں کی جو بےایمانوں سے بیاہے ہوئے ہیں حوصلہافزائی کرنے کا کام دیتا ہے؟ (ب) کلیسیا میں دوسرے لوگ ایسے اشخاص کے لئے کیسے مددگار ہو سکتے ہیں؟
۱۶ اگر آپ والدین میں سے ایک ہیں یا ایک بےایمان بیاہتا ساتھی رکھتی ہیں تو ہو سکتا ہے کہ آپ ہی کو روحانی طور پر پیشوائی کرنی پڑے۔ یہ مشکل ہو سکتا ہے اور بعض اوقات حوصلہشکن بھی۔ لیکن کوشش کرنا نہ چھوڑیں۔ تیمتھیس کی ماں، یونیکے ایک بےایمان کے ساتھ بیاہے جانے کے باوجود اسے ”بچپن سے“ پاک صحیفوں کی تعلیم دینے میں کامیاب ہوئی تھی۔ (۲-تیمتھیس ۱:۵، ۳:۱۵) اور ہمارے درمیان بہتیری [مائیں] ایسی ہی کامیابی سے لطفاندوز ہو رہی ہیں۔ اگر آپکو اس سلسلے میں کچھ مدد کی ضرورت ہے تو اپنی ضروریات کو بزرگوں کے علم میں لائیں۔ اجلاسوں پر آنے اور باہر میدانی خدمت میں جانے کے سلسلے میں آپکی مدد کیلئے وہ کسی کا بندوبست کرنے کے لائق ہو سکتے ہیں۔ وہ دوسروں کی حوصلہافزائی کر سکتے ہیں کہ آپکے خاندان کو سیروتفریح یا اجتماعات میں شامل کریں۔ یا وہ ایک خاندانی بائبل مطالعہ شروع کرنے میں آپکی مدد کرنے کیلئے کسی تجربہکار پبلشر کا بندوبست کر سکتے ہیں۔
قدردان بچے
۱۷. (ا)نوجوان خاندانی بہبود میں کیسے معاونت کر سکتے ہیں؟ (ب) اس سلسلے میں یسوع نے کیا نمونہ قائم کیا؟
۱۷ مسیحی نوجوان افسیوں ۶:۱-۳ کی مشورت پر عمل کرنے سے خاندانی بہبود میں معاونت کر سکتے ہیں: ”اے فرزندو! خداوند میں اپنے ماں باپ کے فرمانبردار رہو کیونکہ یہ واجب ہے۔ اپنے باپ کی اور ماں کی عزت کر (یہ پہلا حکم ہے جسکے ساتھ وعدہ بھی ہے)۔ تاکہ تیرا بھلا ہو اور تیری عمر زمین پر دراز ہو۔“ اپنے والدین کے ساتھ تعاون کرنے سے، آپ یہوواہ کے لئے اپنا احترام ظاہر کرتے ہیں۔ یسوع مسیح کامل تھا اور آسانی سے یہ دلیل دے سکتا تھا کہ ناکامل والدین کی اطاعت کرنا اسکی شان کے خلاف تھا۔ تاہم، ”وہ ... انکے تابع رہا ... اور یسوع حکمت اور قدوقامت میں اور خدا کی اور انسان کی مقبولیت میں ترقی کرتا گیا۔“—لوقا ۲:۵۱، ۵۲۔
۱۸، ۱۹. (ا)کسی شخص کے لئے اپنے والدین کی عزت کرنے کا کیا مطلب ہے؟ (ب) گھر تازگی کی جگہ کیسے بن سکتا ہے؟
۱۸ کیا آپکو اسی طرح سے اپنے والدین کی عزت نہیں کرنی چاہیے؟ یہاں ”عزت“ کا مطلب ضابطے کے مطابق مُتعیّن اختیار کو تسلیم کرنا ہے۔ (مقابلہ کریں ۱-پطرس ۲:۷۔۱۔) زیادہتر حالتوں میں اگرچہ کسی کے والدین بےایمان ہوں یا ایک اچھا نمونہ قائم کرنے میں ناکام ہوں ایسی عزت واجب ہے۔ اگر وہ قابلنمونہ مسیحی ہیں تو آپکو اپنے والدین کی اور زیادہ عزت کرنی چاہیے۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ آپکے والدین کی طرف سے دی جانے والی تادیب اور راہنمائی سے آپکو غیرواجب طور پر پابند کرنا مراد نہیں۔ اسکی بجائے، وہ آپکی حفاظت کرنے کیلئے ہیں تاکہ آپ ”زندہ رہ“ سکیں۔—امثال ۷:۱، ۲۔
۱۹ تو پھر، خاندان کتنا پرمحبت بندوبست ہے! جب شوہر، بیویاں، اور بچے تمام خاندانی زندگی کے لئے خدا کے ضوابط کی پیروی کرتے ہیں تو گھر ایک محفوظ مقام، تازگی کی جگہ بن جاتا ہے۔ تاہم، بچوں کی تربیت کرنے اور رابطے کی بابت مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ہمارا اگلا مضمون باتچیت کرتا ہے کہ ان میں سے بعض مسائل کیسے حل کئے جا سکتے ہیں۔ (۸ ۱۰/۱۵ W۹۲)
کیا آپ کو یاد ہے؟
▫ بائبل زمانوں میں خداترس شوہروں، بیویوں، اور بچوں کے ذریعے کیا نمونہ قائم کیا گیا تھا؟
▫ مسیحیت نے شوہر کے کردار پر کیا روشنی ڈالی؟
▫ مسیحی خاندان میں بیوی کو کیا کردار ادا کرنا چاہیے؟
▫ مسیحی نوجوان خاندانی بہبود میں کیسے معاونت کر سکتے ہیں؟
[تصویر]
”شادی کے مسیحی نظریے کی بہنسبت اس وقت کے بدچلن اخلاقیات کے مقابلے میں مسیحیت میں کوئی چیز زیادہ عجیب اور زیادہ سختگیر دکھائی نہ دی ... [اس] نے نوعانسانی کے لئے ایک نئے دور کا آغاز کیا۔“
[تصویر]
مسیحی شوہر اپنی بیویوں کے احساسات کو اہمیت دینے سے انکی حوصلہافزائی کرتے ہیں کہ اپنے احساسات کا اظہار کریں