خاندان ایک انسانی ضرورت!
یہ دعویٰ کِیا جاتا ہے کہ انسانی معاشرے کی خوشحالی کا دارومدار خاندانوں کی خوشحالی پر ہے۔ تاریخ ظاہر کرتی ہے کہ جب خاندانی نظام شکستگی کا شکار ہوتا ہے تو معاشرے اور آبادیوں کی طاقت بھی کمزور پڑ جاتی ہے۔ قدیم یونان میں جب اخلاقی تنزلی نے خاندانوں کو تباہ کِیا تو اس کی تہذیب کا شیرازہ بکھر گیا جس کے سبب وہ رومیوں کے لئے ترنوالہ ثابت ہوئی۔ رومی سلطنت اس وقت تک مضبوط رہی جب تک اس کے خاندان مضبوط رہے۔ تاہم صدیاں گزرنے کے ساتھ ساتھ خاندانی زندگی کمزور پڑ گئی اور سلطنت کی قوت جاتی رہی۔ ”خاندان اور خاندانی زندگی کا ارتفاع اور سلامتی تہذیب کے اوّلین مقاصد اور تمامتر محنت کے انجامکار نشانے ہیں،“ ہارورڈ یونیورسٹی کے سابق صدر چارلس ڈبلیو. ایلیٹ، نے تبصرہ کِیا۔
جیہاں، خاندان انسان کی ضرورت ہے۔ یہ معاشرے کے استحکام اور بچوں اور آئندہ نسلوں کی فلاحوبہبود پر براہِراست اثرانداز ہوتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں بہت سی تنہا مائیں اپنے بچوں کو لائق بنانے کیلئے سخت محنت کرتی ہیں اور اپنی محنت کیلئے تعریف کی مستحق ہیں۔ تاہم، تحقیقات ظاہر کرتی ہیں کہ عموماً دونوں والدین پر مشتمل خاندان میں رہنے والے بچے کہیں زیادہ بہتر ہوتے ہیں۔
آسٹریلیا میں ۲،۱۰۰ نوبالغوں پر مشتمل ایک تحقیق نے ظاہر کِیا کہ ”محفوظ خاندانوں کے بچوں کی نسبت شکستہ خاندانوں کے نوعمروں میں صحت کے عمومی مسائل، جذباتی مسائل کی علامتوں اور جنسی طور پر فعال ہونے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔“ یو.ایس. نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ سٹیٹسٹک کی ایک تحقیق نے آشکارا کِیا کہ شکستہ خاندانوں کے ”۲۰–۳۰ فیصد بچوں میں حادثے کا شکار ہونے، ۴۰–۷۵ فیصد بچوں میں سکول میں کسی جماعت میں دو سال لگانے اور ۷۰ فیصد کے سکول سے خارج کئے جانے کے امکانات ہوتے ہیں۔“ ایک پالیسی کا تجزیہنگار رپورٹ دیتا ہے کہ ”روایتی گھرانوں میں پرورش پانے والے بچوں کی نسبت سنگل پیرنٹ گھرانوں کے بچوں میں جرائم میں ملوث ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔“
گھر محفوظ جگہ ہے
خاندانی نظام سب کو ایک مسرور، تقویتبخش اور خوشگوار گھر پیش کرتا ہے۔ ”خوشی اور فلاحوبہبود کا سب سے اہم ذریعہ پیشہ، مشاغل یا دوست نہیں بلکہ خاندان ہے،“ ایک سویڈش ماہر دعویٰ کرتا ہے۔
بائبل ظاہر کرتی ہے کہ زمین کا ہر خاندان، خاندانوں کے عظیم خالق یہوواہ خدا سے نامزد ہے جس نے خاندانی نظام کا آغاز کِیا تھا۔ (پیدایش ۱:۲۷، ۲۸؛ ۲:۲۳، ۲۴؛ افسیوں ۳:۱۴، ۱۵) تاہم، الہامی صحائف میں پولس رسول نے خاندان پر بُرائی کے حملے کی بابت پہلے سے بتا دیا تھا جو مسیحی کلیسیا سے باہر اخلاقیات اور انسانی معاشرے کے زوال پر منتج ہوا ہے۔ اس نے کہا کہ ”اخیر زمانہ“ کا نشان بیوفائی، ”طبعی محبت،“ کی کمی اور ماںباپ کی نافرمانی ہوگا جو ”دینداری کی وضع“ رکھنے والوں کے درمیان بھی پایا جائیگا۔ اس نے مسیحیوں کو ایسے اشخاص سے کنارہ کرنے کی تاکید کی۔ یسوع نے پہلے سے بتا دیا تھا کہ خدا کی سچائی کی مخالفت، خاندانوں کو منقسم کر دے گی۔—۲-تیمتھیس ۳:۱-۵؛ متی ۱۰:۳۲-۳۷۔
تاہم، خدا نے ہمیں بےیارومددگار نہیں چھوڑا۔ اس کے کلام میں خاندانی رشتوں کے سلسلے میں بہت سی ہدایات درج ہیں۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ ہم کس طرح خاندان کو کامیابی سے ہمکنار کر سکتے اور گھر کو خوشی کا گہوارہ بنا سکتے ہیں جہاں خاندان کے ہر فرد پر دوسروں کے سلسلے میں ذمہداری عائد ہوتی ہے۔a—افسیوں ۵:۳۳؛ ۶:۱-۴۔
کیا آجکل ایسا خوشگوار رشتہ استوار کرنا ممکن ہے جبکہ خاندان کو شدید خطرہ لاحق ہے؟ جیہاں، یقیناً! آپ اس بےآبوگیاہ صحرا جیسی دُنیا میں اپنے خاندان کو پُرلطف، تازگیبخش نخلستان بنانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ تاہم، یہ خاندانی حلقے میں سب سے کسی چیز کا تقاضا کرتا ہے۔ چند تجاویز درجذیل ہیں۔
بچ نکلنے کیلئے اپنے خاندان کی مدد کرنا
خاندان کو متحد رکھنے کا ایک بہترین طریقہ اکٹھے ملکر وقت صرف کرنا ہو سکتا ہے۔ تمام افراد کو رضامندی سے اپنا فارغ وقت دینا چاہئے۔ اس کا مطلب قربانیاں ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، آپ نوجوانوں کو شاید اپنے پسندیدہ ٹیوی پروگرام، کھیلوں یا دوستوں کیساتھ گھومنےپھرنے کی قربانی دینی پڑے۔ اے اولاد والو! آپ جو گھر کے بڑے کفیل ہیں، اپنے فارغ وقت کو صرف اپنے مشاغل یا دیگر ذاتی دلچسپیوں میں صرف نہ کریں۔ خاندان کے ساتھ مختلف سرگرمیوں شاید ویکاینڈز یا چھٹیاں اکٹھے ملکر گزارنے کیلئے منصوبہ بنائیں۔ بِلاشُبہ ایسی چیزوں کی بابت منصوبہ بنائیں جسکے سب منتظر رہیں اور اُس سے لطفاندوز ہوں۔
بچوں کو کبھیکبھار دئے جانے والے ایک یا آدھ گھنٹے کے بہترین وقت سے کہیں زیادہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اُنہیں وقت کی بڑی مقدار چاہئے۔ سویڈش روزنامہ میں ایک کالمنویس لکھتا ہے: ”ایک رپورٹر کے طور پر ۱۵ سال کے دوران، میری ملاقات بہت سے جرائمپیشہ نوجوانوں سے ہوئی ہے . . . مشترکہ عنصر یہ ہے کہ پرورش کے دوران انہیں کوالٹی ٹائم دیا گیا: ’میرے والدین کے پاس وقت نہیں تھا۔‘ ’انہوں نے میری کبھی نہ سنی۔‘ ’میرے والد ہمیشہ سفر میں رہتے تھے۔‘ . . . ماں یا باپ کے طور پر آپ ہمیشہ یہ انتخاب کر سکتے ہیں کہ آپ اپنے بچے کو کتنا وقت دیں گے۔ آپ کا انتخاب ۱۵ سال بعد ایک ۱۵سالہ بےرحم نوجوان کی صورت میں پرکھا جائے گا۔“
پیسوں کی بابت مناسب نقطۂنظر
تمام افراد کو پیسوں کی بابت بھی ایک صحیح نقطۂنظر اپنانا چاہئے۔ خاندان کے مشترکہ اخراجات کو پورا کرنے کیلئے وہ جتنا حصہ بھی ادا کر سکتے ہیں اسے ادا کرنے کیلئے انہیں تیار رہنا چاہئے۔ بہت سی خواتین کو ضروریاتِزندگی مہیا کرنے کیلئے ملازمت کرنی پڑتی ہے لیکن آپ بیویوں کو ان خطرات اور ترغیبات سے آگاہ ہونا چاہئے جن سے آپکا سامنا ہو سکتا ہے۔ یہ دُنیا آپ کو ”ماہر“ بننے اور ”جو دل چاہے کرو“ کی تحریک دے سکتی ہے۔ یہ شاید آپ کو خودمختار بنا دے اور ایک ماں اور گھر کو بنانے والی کے طور پر اپنے خداداد کردار سے غیرمطمئن کر دے۔—ططس ۲:۴، ۵۔
اگر آپ مائیں گھر پر رہ کر اپنے بچوں کی راہنما اور دوست بنتی ہیں تو یہ رشتوں کو مضبوط بنانے میں بہت معاون ثابت ہوگا جو اچھے اور بُرے حالات میں آپ کے خاندان کو متحد رکھے گا۔ ایک خاتون ایک گھر کو پُرمسرت، محفوظ اور کارآمد بنانے کیلئے نمایاں طور پر مدد کر سکتی ہے۔ ”ایک چھاؤنی بنانے کیلئے سو آدمی چاہئیں جبکہ صرف ایک خاتون ایک گھر بنا سکتی ہے،“ ۱۹ویں صدی کے ایک سیاستدان نے بیان کِیا۔
اگر تمام افرادِخانہ، خاندان کی مجموعی آمدنی میں گزربسر کرنے کے لئے تعاون کریں تو یہ خاندان کو بہت سے مسائل سے محفوظ رکھیگا۔ میاں بیوی کو زندگی سادہ رکھنے اور روحانی مفادات کو پہلا درجہ دینے کے سلسلے میں متفق ہونا چاہئے۔ بچوں کو قناعت کا اصول سیکھنا چاہئے اور ایسی چیزوں کا تقاضا نہیں کرنا چاہئے جنکا خاندانی بجٹ متحمل نہیں ہو سکتا۔ آنکھوں کی خواہش سے ہوشیار رہیں! جن چیزوں کو آپ خریدنے کے متحمل نہیں ہو سکتے، اُنکی خواہش نے بہتیرے خاندانوں کو قرض میں اُلجھا کر تباہوبرباد کر دیا ہے۔ خاندانی اتحاد کیلئے یہ اچھا ہوگا اگر سب اپنے فنڈز مشترکہ استعمال میں لاتے ہیں—ایک تازگیبخش سفر، گھر کیلئے کچھ مفید اور مسرتبخش سامان یا مسیحی کلیسیا کی مدد کیلئے عطیہ۔
ایک خوشگوار خاندانی جذبے کو فروغ دینے کیلئے ایک ”مدد“ جس کیلئے تمام افرادِخانہ کو اپنا حصہ ادا کرنا چاہئے، مطلب یہ ہے کہ خاندان کے سب افراد گھر، باغ، کار اور دیگر چیزوں کی صفائی اور دیکھبھال کے کام میں شریک ہوں۔ خاندان کے ہر فرد کو حتیٰکہ چھوٹے بچوں کو بھی کچھ نہ کچھ کام تفویض کِیا جا سکتا ہے۔ اَے بچو، آپ بھی اپنا وقت ضائع نہ کریں۔ اسکی بجائے مدد اور تعاون کی روح کو ترقی دیں؛ یہ حقیقی دوستی اور رفاقت پر منتج ہوگا جو خاندانی اتحاد کو تعمیر کرتا ہے۔
بائبل تعلیم کی اہمیت
ایک متحد مسیحی خاندان میں، باقاعدہ بائبل مطالعے کی اہمیت پر بھی زور دیا جاتا ہے۔ بائبل آیات پر روزانہ باتچیت اور پاک صحائف کا ہفتہوار مطالعہ، ایک متحد خاندان کیلئے بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ بنیادی بائبل سچائیوں اور اصولوں پر ملکر اس طرح باتچیت کی جانی چاہئے جو خاندان میں سب کے دلوں کو متاثر کرے۔
ایسی خاندانی نشستوں کو تعلیمی ہونے کے ساتھ ساتھ حوصلہافزا اور محظوظکُن بھی ہونا چاہئے۔ سویڈن کے شمال میں ایک خاندان میں بچے ہفتے کے دوران اُٹھنے والے سوالات لکھ لیا کرتے تھے۔ بعدازاں، ان سوالات پر ہفتہوار بائبل مطالعہ کے دوران باتچیت کی جاتی تھی۔ یہ سوالات عموماً عمیق اور سوچ کو اُبھارنے والے اور بچوں کی قوتِادراک اور بائبل کی تعلیم کیلئے انکی قدردانی کو منعکس کرنے والے ہوتے تھے۔ بعض سوالات اس طرح کے ہوتے تھے: ”کیا یہوواہ ہر وقت کسی چیز کو بڑھاتا ہے یا صرف ابتدا میں ہی ایسا کرتا ہے؟“ ”بائبل یہ کیوں کہتی ہے کہ خدا نے انسان کو ’اپنی شبِیہ‘ پر بنایا جبکہ خدا انسان نہیں ہے؟“ ”کیا فردوس میں آدم اور حوا سردی سے جم نہیں گئے تھے جبکہ وہ ننگے پاؤں تھے اور انکے پاس کوئی لباس بھی نہیں تھا؟“ ”رات کے وقت جب اندھیرا ہونا چاہئے تو ہمیں چاند کی ضرورت کیوں ہے؟“ بچے اب بڑے ہو چکے ہیں اور خدا کے کُلوقتی خادموں کی حیثیت سے خدمت انجام دے رہے ہیں۔
خاندانی مسائل کیساتھ نپٹتے وقت آپ والدین مثبت اور پُرامید رہنے کی کوشش کر کے اچھا کرتے ہیں۔ بامروّت اور لچکدار بنیں تاہم جب اہم اصولوں کی بات ہو تو اصولپسند بنیں۔ بچوں کو یہ دیکھنے کا موقع دیں کہ آپکے فیصلے ہمیشہ خدا اور اسکے راست اصولوں کیلئے محبت کے تابع ہوتے ہیں۔ سکول کا ماحول عموماً بہت کھچاؤ اور افسردگی پیدا کرنے والا ہوتا ہے اور بچوں کو اس اثر کا سامنا کرنے کیلئے گھر سے بہت زیادہ حوصلہافزائی کی ضرورت ہوتی ہے۔
اے اولاد والو! کامل ہونے کا تاثر نہ دیں۔ غلطیوں کو تسلیم کریں اور جب ضروری ہو تو اپنے بچوں سے معذرت بھی کر لیں۔ جب ماں یا باپ اپنی غلطی تسلیم کرتے ہیں تو نوجوانوں کی محبت ان کیلئے اَور زیادہ ہو جاتی ہے۔—واعظ ۷:۱۶۔
جیہاں، متحد خاندان ایک پُرامن، پُرسکون اور مسرور گھر فراہم کرتا ہے۔ جرمنی کے ایک شاعر گوئٹے نے ایک مرتبہ یوں کہا: ”بادشاہ ہو یا کسان، سب سے زیادہ خوش وہ ہے جسے گھر میں خوشی ملتی ہے۔“ قدردان والدین اور بچوں کیلئے گھر جیسی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہئے۔
درست ہے کہ آج ہم جس دُنیا میں رہتے ہیں اسکے دباؤ کی وجہ سے خاندان کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ تاہم، خاندان چونکہ خدا کی طرف سے ہے لہٰذا یہ بچ نکلے گا۔ اگر آپ خوشحال خاندانی زندگی کیلئے خدا کی راست ہدایات کی پیروی کرتے ہیں تو آپ اور آپ کا خاندان بھی ضرور بچ جائینگے۔
[فٹنوٹ]
a اس موضوع پر مزید تفصیلات کے لئے واچٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیویارک، انکارپوریٹڈ کی شائعکردہ ۱۹۲ صفحات کی کتاب خاندانی خوشی کا راز دیکھیں۔