یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م93 1/‏1 ص.‏ 30-‏32
  • ‏”‏میری طرف رجوع ہو تو میں تمہاری طرف رجوع ہونگا“‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ‏”‏میری طرف رجوع ہو تو میں تمہاری طرف رجوع ہونگا“‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1993ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • یہوواہ کے رحمانہ برتاؤ
  • ٹھوکر کھانے کی وجوہات
  • کیا آپ یہوواہ کی دعوت کا جواب دینگے؟‏
  • رجوع لانے میں مدد کی گئی
  • جلدازجلد گلّے میں لوٹ آئیں!‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2008ء
  • ‏”‏میرے پاس واپس آؤ!‏“‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2020ء
  • ‏”‏اپنے چرواہے اور نگہبان کے پاس لوٹ“‏ آئیں
    یہوواہ کے پاس لوٹ آئیں
  • خدا کی تنظیم کے اندر تحفظ پائیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1998ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1993ء
م93 1/‏1 ص.‏ 30-‏32

‏”‏میری طرف رجوع ہو تو میں تمہاری طرف رجوع ہونگا“‏

خاندان جنگل میں خوش‌کن تفریح سے لطف‌اندوز ہو رہا تھا۔ تب پیٹر، سب سے چھوٹا، گلہری کا پیچھا کرتے ہوئے ایک پہاڑی کے نیچے بھٹک گیا۔ یکایک، آسمان بادلوں سے بھر گیا اور بارش شروع ہو گئی۔ پہلے ہلکی چھینٹیں پڑیں، لیکن آہستہ آہستہ موسلادھار بن گئی۔ خاندان نے جلدی جلدی اپنی چیزیں اکٹھی کیں اور اپنی گاڑی کیلئے بھاگے۔ اور ہر ایک نے سوچا کہ پیٹر کہاں ہے۔‏

اسی وقت پیٹر واپس خاندان کے پاس آنے کی کوشش کر رہا تھا۔ آگے دیکھنا مشکل تھا اور بارش میں پہاڑی کے اوپر کا راستہ پھسلنے والا تھا۔ جیسے ہی اس نے چھپے ہوئے گہرے گڑھے میں ٹھوکر کھائی۔ اچانک، زمین اسکے قدموں سے نکلتی ہوئی معلوم دی، اس نے باہر نکلنے کی کوشش کی، لیکن اطراف بہت پھسلنی تھیں۔‏

بارش کا پانی پہاڑی سے نیچے آ گیا تھا اور گڑھے کو کیچڑ سے بھر رہا تھا۔ پیٹر واقعی ڈوبنے کے خطرے میں تھا۔ لیکن اسکے والد نے اسے ڈھونڈ لیا اور ایک رسی سے اسے باہر کھینچا۔ بعد میں، ادھرادھر گھومنے کی وجہ سے پیٹر کو سخت ڈانٹ پڑی۔ پھر بھی، کمبل میں لپٹے ہوئے اپنی ماں کے بازوں تلے ڈانٹ قبول کرنا بہت آسان تھا۔‏

یہ تجربہ خوب وضاحت کرتا ہے کہ بعض کیساتھ کیا ہوتا ہے جو خدا کے لوگوں کے درمیان ہوا کرتے تھے۔ وہ اس دنیا کے گہرے گڑھے میں گر چکے ہیں اور بے‌تاب ہو کر آہستہ آہستہ یہوواہ کی تنظیم کے محفوظ مقام پر واپس آنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ جاننا کتنا خوشگوار ہے کہ یہوواہ رحم کرنے والا ہے اور ”‏رسی ڈالنے کیلئے“‏ اور انکی دوبارہ حفاظت کرنے کیلئے تیار ہے۔‏

یہوواہ کے رحمانہ برتاؤ

واپس اسرائیل کے زمانے میں، ہیکل کے تعمیر ہونے پر سلیمان نے مخصوصیت کی دعا کی جس میں اس نے یہوواہ سے ہیکل کی جانب رخ کرکے کی ہوئی مناجاتیں سننے کیلئے درخواست کی۔ پھر اس نے کہا:‏ ”‏اگر وہ [‏اسرائیلی]‏ تیرا گناہ کریں (‏کیونکہ کوئی ایسا آدمی نہیں جو گناہ نہ کرتا ہو)‏ اور تو ان سے ناراض ہو کر انکو دشمن کے حوالہ کردے .‏.‏.‏ تو بھی اگر وہ اس ملک میں جہاں وہ اسیر ہو کر پہنچائے گئے ہوش میں آئیں اور رجوع لائیں اور اپنے اسیر کرنے والوں کے ملک میں تجھ سے مناجات کریں .‏.‏.‏ تو تو آسمان پر سے جو تیری سکونت‌گاہ ہے انکی دعا اور مناجات سنکر انکی حمایت کرنا۔“‏—‏۱-‏سلاطین ۸:‏۴۶-‏۴۹‏۔‏

اسرائیل کی تاریخ کے دوران بہت سارے موقعوں پر سلیمان کی درخواست پوری ہوئی۔ ایک دفعہ پھر خدا کی امت گمراہ ہو گئی اور اس کو چھوڑ دیا۔ پھر انہوں نے اپنی غلطی پہچانی اور اس کی تلاش کرتے ہوئے واپس مڑے۔ اور یہوواہ نے انکو معاف کیا۔ (‏استثنا ۴:‏۳۱،‏ یسعیاہ ۴۴:‏۲۱، ۲۲،‏ ۲-‏کرنتھیوں ۱:‏۳،‏ یعقوب ۵:‏۱۱‏)‏ ملاکی کے ذریعے، یہوواہ نے اپنی قوم کیساتھ ہزار سالہ برتاؤ کا خلاصہ بیان کیا جب اس نے کہا:‏ ”‏تم اپنے باپ دادا کے ایام سے میرے آئین سے منحرف رہے اور انکو نہیں مانا۔ تم میری طرف رجوع ہو تو میں تمہاری طرف رجوع ہونگا۔“‏—‏ملاکی ۳:‏۷۔‏

ٹھوکر کھانے کی وجوہات

اسرائیلیوں کی طرح، آج خدا کے کافی لوگ گمراہ ہو جاتے ہیں اور یہوواہ کی تنظیم سے اپنے آپ کو الگ کر لیتے ہیں۔ کیوں؟ بعض لوگ کچھ ایسی چیزوں کے پیچھے جاتے ہیں جو شروع میں بے‌ضرر معلوم ہوتی ہیں، جیسے پیٹر گلہری کا پیچھا کرتا رہا۔ یہی ہے جو ایڈا کے ساتھ ہوا۔ وہ بیان کرتی ہے:‏ ”‏ہم تمام ساتھی کام کرنے والوں کا یہ دستور تھا کہ دوپہر کے کھانے کیلئے سب اکٹھے کسی نزدیکی ریسٹورینٹ میں جائیں۔ پس جب وہ دن کے اختتام پر ایک کپ کافی کیلئے دعوت دیتے تو قبول کرنا مشکل نہ تھا۔ میں نے استدلال کیا کہ میں وہ وقت استعمال نہیں کر رہی جو مجھے اجلاسوں یا منادی کیلئے استعمال کرنا چاہیے۔ میں نے یہ نہ پہچانا کہ ایسا کرنا ۱-‏کرنتھیوں ۱۵:‏۳۳ کے اصول پر عمل‌پیرا ہونے میں ناکامی ہوگی۔‏

‏”‏جلد ہی، میں ہفتہ کے دن انکے ساتھ گھڑسواری پر جا رہی تھی۔ پھر میں فلم اور تھیئٹر کیلئے انکے ساتھ جا رہی تھی۔ اس نے مجھے بعض اجلاس سے غیرحاضر ہونے تک پہنچایا۔ آخرکار، میں کسی اجلاسوں پر نہیں جا رہی تھی اور نہ ہی منادی کے کام میں حصہ لے رہی تھی۔ جب مجھے احساس ہوا کہ کیا ہو رہا تھا، اس وقت میں تنظیم کیساتھ رفاقت نہیں رکھ رہی تھی۔“‏

دوسرے معاملات میں وجہ شاید چھپا ہوا سنگین گناہ ہو جو کسی شخص کو خدا کی خدمت کرنے کے نااہل ہونے کا احساس دلاتا ہے۔ (‏زبور ۳۲:‏۳-‏۵‏)‏ یا کوئی فرد کسی مسیحی رفیق کے کچھ کہنے یا کرنے پر شاید ٹھوکر کھائے، یہ نہ سمجھتے ہوئے جیسے سیلمان نے کہا، کہ”‏کوئی ایسا آدمی نہیں جو گناہ نہ کرتا ہو۔“‏—‏۱-‏سلاطین ۸:‏۴۶،‏ یعقوب ۳:‏۲‏۔‏

دیگر مزید لوگ جب وہ تنبیہ پاتے ہیں تو انکی حوصلہ‌شکنی ہوتی ہے۔ مادہ‌پرست طرززندگی کی کشش بہتوں کو خدا کی خدمت سے روکنے کا سبب بنی ہے۔ اکثر، دنیاوی کامیابی کی تلاش میں، انہوں نے اپنے آپ کو دنیاوی کام میں پوری طرح منہمک کر لیا ہے کہ ان کی زندگیوں میں خدا کی خدمت کے لئے کوئی جگہ موجود نہیں رہی ہے۔ (‏متی ۱۳:‏۴-‏۹،‏ ۱-‏تیمتھیس ۶:‏۹، ۱۰‏)‏ کیا ایسوں کی صورتحال ناامیدی کی ہے؟‏

کیا آپ یہوواہ کی دعوت کا جواب دینگے؟‏

ایک موقعہ پر یسوع نے کچھ کہا جس کا سمجھنا مشکل تھا، اور بعض کو ٹھوکر لگی۔ ریکارڈ کہتا ہے:‏ ”‏اس پر اسکے شاگردوں میں سے بہتیرے الٹے پھر گئے اور اسکے بعد اسکے ساتھ نہ رہے۔“‏ لیکن سب نے ٹھوکر نہیں کھائی۔ بائبل کا بیان جاری رہتا ہے:‏ ”‏پس یسوع نے ان بارہ سے کہا ”‏کیا تم بھی چلا جانا چاہتے ہو؟ شمعون پطرس نے اسے جواب دیا اے خداوند!‏ ہم کس کے پاس جائیں؟ ہمیشہ کی زندگی کی باتیں تو تیرے پاس ہیں۔“‏ (‏یوحنا ۶:‏۶۶-‏۶۸‏)‏ یسوع کے رسولوں نے دانشمندی سے سمجھ لیا تھا کہ یسوع کو چھوڑ دینا تباہ‌کن ہوگا۔‏

کچھ جو پیچھے ہٹ گئے تھے آخرکار اسی نتیجہ پر پہنچے۔ انہوں نے پہچان لیا کہ خدا کی تنظیم کو چھوڑنا تباہ‌کن قدم تھا اور وہ صرف یہوواہ اور مسیح کے پاس ہی وہ باتیں پائیں گے جو زندگی کا باعث ہیں۔ جب وہ اس کو پہچان لیں، ان کو یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ دوبارہ غور کرنے کیلئے کبھی دیر نہیں ہوتی، یہوواہ سے معافی مانگیں، اور اسکی طرف واپس آئیں۔ یہ یہوواہ بذات‌خود تھا جس نے دعوت دی:‏ ”‏میری طرف رجوع ہو تو میں تمہاری طرف رجوع ہونگا۔“‏—‏ملاکی ۳:‏۷۔‏

درحقیقت، ایک مخلص مسیحی کہاں خوشی پا سکتا ہے اگر یہ یہوواہ کی خدمت کرنے میں نہیں ہے؟ کچھ عرصہ خدا کی تنظیم کا حصہ ہونے کے بعد اگر ایک شخص بہہ جاتا ہے، باہر دنیا میں کیا چیز اسکی منتظر ہے؟ وہ جلد پہچان لے گا کہ اب وہ ایک ایسی دنیا کا حصہ ہے جو زیادہ سے زیادہ تشددآمیز ہو رہی ہے۔ وہ اپنے آپ کو ریاکاری، جھوٹ، دھوکے‌بازی اور بداخلاقی سے بھری ہوئی دنیا میں ملوث پائے گا یعنی اتنی ہی خطرناک اور ناخوشگوار دنیا جتنا کیچڑ کا گڑھا جس نے پیٹر کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔ جب وہ اپنے حواس میں آتا ہے اور پہچانتا ہے کہ اسکی ابدی زندگی خطرے میں ہے تو اسے اپنے آپ کو صورتحال سے نکالنے کیلئے مدد کی تلاش میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ پھر بھی، واپسی شاید آسان نہ ہو۔‏

کیا آپ ایک ایسے شخص ہیں جس نے یہوواہ کی طرف رجوع کرنا چاہا لیکن اسکو مشکل پایا؟ تو پھر یہ جان لیں کہ آپ کو مدد کی ضرورت ہے۔ اور یقین کر لیں کہ خدا کی تنظیم میں آپکے بھائی اور بہنیں خوشی سے آپکو مدد پیش کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن یہوواہ کے حضور اپنی خواہش ظاہر کرنے کیلئے آپکو کوشش کرنی ہوگی۔ یہ وقت ”‏ہوش میں آنے“‏ اور ”‏درحقیقت رجوع لانے“‏ کا ہے۔—‏۱سلاطین ۸:‏۴۷۔‏

رجوع لانے میں مدد کی گئی

ایڈا بیان کرتی ہے کہ کس چیز نے یہوواہ کی طرف رجوع لانے میں اسکی مدد کی:‏ ”‏عین صحیح لمحہ پر، جس بہن نے مجھے مطالعہ کروایا تھا اس نے مجھے اپنے ساتھ سرکٹ اسمبلی میں حاضر ہونے کی دعوت دی۔ وہ اتنی اچھی تھی!‏ اور اس نے مجھے بالکل رسوا نہیں کیا!‏ اس نے بہت زیادہ محبت دکھائی۔ مجھے اپنے آخری اجلاس پر حاضر ہوئے ایک سال گزر چکا تھا، لیکن میں اس دنیا کے کھوکھلے‌پن پر اور اس حقیقت پر غوروخوض کرتی رہی کہ چمک دمک کے پیچھے، صرف افسردگی، مایوسی، اور بداخلاقی ہے۔ پس میں نے اسمبلی پر حاضر ہونے کا فیصلہ کیا۔ جب میں اس تھیئٹر میں پہنچی جہاں یہ منعقد ہوئی تو میں نشستوں کی آخری قطار میں گئی اور ایک اندھیرے کونے میں اپنے آپ کو چھپا لیا۔ میں نہیں چاہتی تھی کہ بہن بھائی مجھے دیکھیں اور سوال پوچھیں۔‏

‏”‏تاہم، پروگرام نے ایسی مشورت دی جسکی مجھے اشد ضرورت تھی۔ جب وہ ختم ہوا تو میں نے تہیہ کیا کہ نہ صرف یہوواہ کے لوگوں کی طرف رجوع لاؤں گی بلکہ اپنے سارے دل سے اپنے آپ کو اسکے لئے مخصوص بھی کروں گی۔ بھائیوں نے مجھے بانہیں کھول کر قبول کیا اور ”‏مسرف“‏ واپس آ گیا۔“‏ (‏لوقا ۱۵:‏۱۱-‏۲۴‏)‏ یہ سب کام کچھ عرصہ پہلے ہوا اور ایڈا اب ۲۵ سالوں سے زیادہ عرصہ سے کل‌وقتی خدمت میں ہے۔‏

ایک دوسرے فرد کے معاملہ کا جو بھٹک گیا تھا ایسا ہی خوش‌کن نتیجہ نکلا۔ چند بزرگوں نے ہوسے کو مشورہ دیا جو بائبل اصولوں سے زیادہ انکی اپنی سوچ کو منعکس کرتا تھا۔ ہوسے بے‌حوصلہ اور آزردہ ہوا، آخرکار بے‌قاعدگی میں پڑ گیا۔ آٹھ سال وہ خدا کے لوگوں سے جدا رہا، اور اسی عرصہ میں اس نے ایک بے‌ایمان سے شادی کر لی اور بچوں کا باپ بن گیا، جن میں سے ایک کو اس نے کیتھولک چرچ میں بپتسمہ لینے کی اجازات دی۔‏

بالآخر، جب سرکٹ کے نگہبان نے اس کے ساتھ گلہ‌بانی کی ملاقات کی اور بزرگوں کی حوصلہ‌افزائی کی کہ ایسا ہی کریں تو اس کی مدد ہوئی۔ وہ بحال ہو گیا اور اپنی بیوی کو سچائی میں دلچسپی لیتے دیکھ کر خوش تھا۔ ہوسے اس وقت کلیسیا میں بطور ایک بزرگ کے خدمت کر رہا ہے۔ جیسے یہ دو تجربات ظاہر کرتے ہیں، یہوواہ ان لوگوں سے برکات کو روک نہیں لیتا جو اسکی پرمحبت رجوع لانے کی دعوت کا جواب دیتے ہیں۔‏

ایسی برکات سے لطف‌اندوز ہونے کیلئے، گویا کسی کو پہلے پیش‌کردہ مدد کی قدر کرنا اور جوابی قدم اٹھانا ہوگا۔ زیادہ‌تر کلیسیاؤں میں بھائی انکو یاد رکھتے ہیں جو بے‌قاعدہ ہو گئے ہیں اور اکثر اوقات ان سے ملاقات کرتے، انکی مدد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسی مدد کا جواب دینا یہوواہ کے رحم کی قدر کرنے کو ظاہر کرتا ہے۔—‏یعقوب ۵:‏۱۹، ۲۰‏۔‏

حقیقت میں، یہوواہ کی دعوت کا جواب دینے کا یہ وقت ہے:‏ ”‏میری طرف رجوع ہو۔“‏ (‏ملاکی ۳:‏۷،‏ یسعیاہ ۱:‏۱۸‏)‏ مزید انتظار نہ کریں۔ دنیا کے واقعات غیرمعمولی طور پر تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ آنے والے طوفانی وقتوں کے دوران بہتیرین جگہ یہوواہ کی تنظیم کے اندر، اسکی حفاظت میں محفوظ ہونا ہے۔ صرف وہی جو یہوواہ میں پناہ لیتے ہیں یہوواہ کے عظیم غضب کے دن اسکے قہرشدید سے بچنے کی پُختہ امید رکھتے ہیں۔—‏صفنیاہ ۲:‏۲، ۳۔ (‏۲۸ ۸/۱ w۹۲)‏

‏[‏تصویر]‏

کیا آپ یہوواہ کی ”‏میری طرف رجوع ہو“‏ کی دعوت کا جواب دیں گے؟‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں