آزادی والی خدا کی نئی دنیا کا خیرمقدم کرنا
”[خدا] ان کی آنکھوں کے سب آنسو پونچھ دیگا۔ اس کے بعد نہ موت رہیگی اور نہ ماتم۔ نہ آہونالہ نہ درد۔“ مکاشفہ ۲۱:۴۔
۱، ۲. صرف کون حقیقی آزادی لا سکتا ہے، اور بائبل سے ہم اس کی بابت کیا سیکھ سکتے ہیں؟
یرمیاہ نبی نے جو کچھ کہا تاریخ نے اس کی صداقت کو ثابت کر دیا ہے: ”انسان کی راہ اس کے اختیار میں نہیں۔ انسان اپنی روش میں اپنے قدموں کی راہنمائی نہیں کر سکتا۔“ صرف کون صحیح طور پر انسان کے قدموں کی راہنمائی کر سکتا ہے؟ یرمیاہ آگے بیان کرتا ہے: ”اے خداوند! مجھے تنبیہ کر۔“ (یرمیاہ ۱۰:۲۳، ۲۴) جی ہاں، صرف یہوواہ ہی انسانی خاندان پر مصیبت ڈھانے والے مسائل سے حقیقی آزادی لا سکتا ہے۔
۲ جو اسکی خدمت کرتے ہیں انکو آزادی دلانے کیلئے یہوواہ کی قدرت کی بہت سی مثالیں بائبل میں ملتی ہیں۔ ”کیونکہ جتنی باتیں پہلے لکھی گئیں وہ ہماری تعلیم کے لکھی گئیں تاکہ صبر سے اور کتاب مقدس کی تسلی سے امید رکھیں۔“ (رومیوں ۱۵:۴) جھوٹی پرستش کے خلاف یہوواہ کے فیصلے بھی ریکارڈ کئے گئے ہیں، اور یہ ”ہم آخری زمانہ والوں کی نصیحت“ کیلئے کام کرتے ہیں۔ ۱-کرنتھیوں ۱۰:۱۱۔
اپنے لوگوں کو آزاد کرانا
۳. یہوواہ نے مصر میں اپنے لوگوں کو رہائی دلانے کی اپنی قدرت کو کیسے ظاہر کیا؟
۳ جھوٹی پرستش کے خلاف عدالتی سزا کا حکم دینے اور جو اس کی مرضی بجا لاتے ہیں ان کو بچانے کی خدائی قدرت کی ایک مثال اس وقت سے ملتی ہے جب قدیم زمانے کے اس کے لوگ مصر کی غلامی میں تھے۔ خروج ۲:۲۳-۲۵ کہتی ہے: ”اور ان کا رونا جو انکی غلامی کے باعث تھا خدا تک پہنچا۔ اور خدا نے ان کا کراہنا سنا۔“ مصر کے جھوٹے معبودوں پراپنی برتری کے بارعب اظہار میں، قادرمطلق خدا اس قوم پر دس آفتیں لایا۔ ہر آفت مصر کے دیوتا کو شرمندہ کرنے کیلئے ترتیب دی گئی تھی جس نے ظاہر کیا کہ وہ جھوٹے تھے اور ان مصریوں کی کوئی مدد نہیں کر سکتے تھے جو انکی پرستش کرتے تھے۔ یوں خدا نے اپنے لوگوں کو رہائی بخشی اور فرعون اور اس کی فوجوں کو بحرقلزم میں غرق کر دیا۔ خروج، ۷ تا ۱۴ ابواب۔
۴. کنعانیوں کے خلاف عدالتی کارروائی کرنے میں خدا کیوں بےانصاف نہیں تھا؟
۴ جب خدا اسرائیل کو کنعان میں لایا تو اس کے شیاطین کی پرستش کرنے والے باشندے ختم کر دئے گئے تھے اور ملک خدا کے لوگوں کو دے دیا گیا۔ بطور عالمگیر حاکم کے، یہوواہ کو یہ حق حاصل ہے کہ اخلاقی بگاڑ پیدا کرنے والے مذاہب کے خلاف اپنی عدالتی سزا سنائے۔ (پیدایش ۱۵:۱۶) اور کنعانی مذہب کی بابت ہیلی کی بائبل ہینڈبک کہتی ہے: ”کنعانی دیوتاؤں کی پرستش بےقابو عبادتی رنگ رلیوں پر مشتمل تھی، انکی عبادت گاہیں گناہ کے مراکز تھے۔ . . . کنعانی اپنے دیوتاؤں کی موجودگی میں، مذہبی رسم کے طورپر، بداخلاقی سے جی بھر کر لطفاندوز ہونے سے، اور پھر، انہی دیوتاؤں کیلئے قربانی کے طورپر، اپنے پہلوٹھوں کو ذبح کرنے سے پرستش کرتے تھے۔ ایسے دکھائی دیتا ہے قومی معیار سے ملک کنعان بڑی حد تک ایک طرح کا سدوم اور عمورہ بن چکا تھا۔“ وہ اضافہ کرتا ہے: ”ایسی نفرتانگیز غلاظت اور سفاکی والی تہذیب کو مزید زندہ رہنے کا کوئی حق حاصل تھا؟ . . . ماہرین آثارقدیمہ جو کنعانی شہروں کے کھنڈرات کی کھدائی کرتے ہیں حیران ہیں کہ خدا نے انہیں اور جلد تباہ کیوں نہ کیا۔“
۵. خدا کا اپنے قدیم لوگوں کو آزاد کرانا ہمارے زمانے کے لئے ایک نمونے کے طور پر کیسے کام کرتا ہے؟
۵ جھوٹی پرستش کے خلاف کارروائی کرنے، اپنے معہود لوگوں کو آزاد کرا نے، اور ان کے لئے ایک موعودہ ملک فراہم کرنے کا یہ بیان آنے والی چیزوں کے نمونے کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ بہت قریبی مستقبل کا اشارہ دیتا ہے جب خدا اس دنیا کے جھوٹے مذاہب اور انکے حامیوں کو کچل دیگا اور موجودہ زمانے کے اپنے خادموں کو راستبازی کی نئی دنیا میں لائیگا۔ مکاشفہ ۷:۹، ۱۰، ۱۳، ۱۴، ۲-پطرس ۳:۱۰-۱۳۔
خدا کی نئی دنیا میں حقیقی آزادی
۶. بعض شاندار آزادیاں کونسی ہیں جو خدا نئی دنیا میں فراہم کریگا؟
۶ نئی دنیا میں خدا آزادی کے تمام شاندار زاویوں سے اپنے لوگوں کو برکت دیگا جن کا اس نے انسانی خاندان کے لئے قصد کیا ہے۔ وہاں پر سیاسی، معاشی، اور جھوٹے مذہبی عناصر کے ذریعے ظلم سے آزادی ہوگی۔ وہاں لوگوں کے زمین پر ابد تک زندہ رہنے کے امکان کے ساتھ گناہ اور موت سے آزادی ہوگی۔ ”صادق زمین کے وارث ہونگے اور اس میں ہمیشہ بسے رہینگے۔“ زبور ۳۷:۲۹، متی ۵:۵۔
۷، ۸. نئی دنیا میں کامل صحت حاصل کرنے کے سلسلے میں کس چیز کا تجربہ ہوگا؟
۷ جب نئی دنیا آ جائے گی تو اسکے تھوڑا بعد، اسکے باشندوں کی صحت کاملہ معجزانہ طور پر بحال کر دی جائیگی۔ ایوب ۳۳:۲۵ کہتی ہے: ”تب اسکا جسم بچے کے جسم سے بھی تازہ ہوگا اور اسکی جوانی کے دن لوٹ آتے ہیں۔“ یسعیاہ ۳۵:۵، ۶ وعدہ کرتی ہے: ”اس وقت اندھوں کی آنکھیں وا کی جائینگی اور بہروں کے کان کھولے جائینگے۔ تب لنگڑے ہرن کی مانند چوکڑیاں بھرینگے اور گونگے کی زبان گائیگی۔“
۸ آپ میں سے کمزور صحت یا بڑھاپے کی وجہ سے جسمانی بیماریوں والے، خود کو نئی دنیا میں ہر صبح جاگتے ہوئے صحتمند اور طاقتور تصور کریں۔ آپکی جھریوں نے صحتمند، ملائم جلد کیلئے جگہ خالی کر دی ہے سکن لوشنز کی مزید ضرورت نہیں۔ آپکی دھندلی یا نابینا آنکھوں کی کامل بینائی بحال ہو چکی ہے عینکوں کی مزید ضرورت نہیں۔ مکمل سماعت بحال ہو چکی ہے ان سماعتی آلات کو پھینک دیں۔ لولے لنگڑے بازو اور ٹانگیں اب مضبوط اور مکمل ہیں ان چھڑیوں، بیساکھیوں، اور ویلچیرز سے جان چھڑا لیں۔ اب کوئی بیماری نہیں ان تمام ادویات کو پھینک دیں۔ لہذا یسعیاہ ۳۳:۲۴ پیشینگوئی کرتی ہے: ”وہاں کے باشندوں میں بھی کوئی نہ کہے گا کہ میں بیمار ہوں۔“ وہ مزید بیان کرتا ہے: ”وہ خوشی اور شادمانی حاصل کرینگے اور غم واندوہ کافور ہو جائینگے۔“ یسعیاہ ۳۵:۱۰۔
۹. کیسے جنگ کا ہمیشہ کیلئے خاتمہ کر دیا جائیگا؟
۹ اب مزید کوئی جنگ کی بھینٹ نہیں چڑھیگا۔ ”[ خدا] زمین کی انتہا تک جنگ موقوف کراتا ہے۔ وہ کمان کو توڑتا اور نیزے کے ٹکڑے کر ڈالتا ہے۔ وہ رتھوں کو آگ سے جلا دیتا ہے۔“ (زبور ۴۶:۹) خدا کی بادشاہت کا حکمران، یسوع مسیح پھر کبھی جنگی رتھوں کو اجازت نہیں دیگا، جسے یسعیاہ ۹:۶ ”سلامتی کا شہزادہ“ کہتی ہے، ۷ آیت اضافہ کرتی ہے: ”اسکی سلطنت کے اقبال اور سلامتی کی کچھ انتہا نہ ہوگی۔“
۱۰، ۱۱. مکمل امن کا زمین کیلئے کیا مطلب ہوگا؟
۱۰ جنگی ہتھیاروں سے آزاد ہونا بنیآدم اور اس زمین کے لئے کتنی بڑی برکت ہوگی! پچھلی جنگوں میں استعمال ہونے والے ہتھیار، اس موجودہ دور میں بھی لوگوں کو تباہ کر رہے ہیں۔ ایک ملک فرانس میں، ۱۹۴۵ سے لیکر، کوئی ۶۰۰ سے زائد بم ڈسپوزل ایکسپرٹ گذشتہ جنگوں میں سے بچے ہوئے دھماکہخیز مادہ کو ختم کرنے میں مارے جا چکے ہیں۔ وہاں کی بم ڈسپوزل ایجنسی کے سربراہ نے کہا: ”ابھی تک ہمیں ۱۸۷۰ کی فرنکو۔ پروشین جنگ کے نہ چلے ہوئے توپ کے گولے مل رہے ہیں۔ کئی ایسی جھیلیں ہیں جو پہلی عالمی جنگ سے بچے ہوئے زہریلے دستی بموں سے بھری پڑی ہیں۔ کبھی کبھار، ٹریکٹر چلاتا ہوا ایک کسان دوسری عالمی جنگ کے وقت کی ٹینک شکن سرنگ پر جا چڑھتا ہے اور وہ پھٹ جاتی ہے، بس کام تمام۔ یہ چیزیں ہر جگہ ہیں۔“ دو سال پہلے دی نیویارک ٹائمز نے تبصرہ کیا: ”دوسری عالمی جنگ سے لیکر ۴۵ سالوں میں، [بم۔ ڈسپوزل یونٹس] نے [ فرانس] کی سرزمین کو ۱۶ ملئن گولہ مار توپوں، ۴،۹۰،۰۰۰ بموں اور ۶،۰۰،۰۰۰ بحری سرنگوں سے پاک صاف کیا ہے۔ . . . باڑ لگی ہوئی لاکھوں ایکڑ زمین ابھی تک گھٹنوں گھٹنوں اسلحے میں دھنسی ہوئی ہے اور ایسے پوسٹروں سے گھری ہوئی ہے جو کہ آگاہ کرتے ہیں: ”اسے مت چھوئیں۔ یہ مہلک ہے!““
۱۱ نئی دنیا کس قدر مختلف ہوگی! ہر ایک کے پاس اچھا گھر، باافراط خوراک ، اور پوری زمین کو فردوس میں تبدیل کرنے کا ایک بااجر اور پرامن کام ہوگا۔ (زبور ۷۲:۱۶، یسعیاہ ۲۵:۶، ۶۵:۱۷-۲۵) پھر کبھی بھی انسان، اور زمین، لاکھوں دھماکا خیز ہتھیاروں سے تباہ نہیں ہوں گے۔ ایسی ہی نئی دنیا یسوع کے ذہن میں تھی جب اس نے اپنے اوپر ایمان رکھنے والے ایک شخص سے کہا: ”تو میرے ساتھ فردوس میں ہوگا۔“ لوقا ۲۳:۴۳۔
زندگی کیلئے عالمگیر تعلیم
۱۲، ۱۳. یسوع اور یسعیاہ نے ہمارے زمانے کیلئے کس عالمگیر تعلیمی کام کی پیشینگوئی کی؟
۱۲ جب کوئی شخص خدا کی نئی دنیا کی بابت سیکھتا ہے تو وہ یہ بھی سیکھ جاتا ہے کہ ہمارے زمانے میں، یہوواہ نے ایک عالمگیر کلیسیا کو تنظیم دی ہے جو سچی پرستش کے لئے منظم ہے۔ یہی نئی دنیا کا مرکزی حصہ ہوگی، اور خدا اب اسے دوسروں کو اپنے مقاصد کی بابت تعلیم دینے کیلئے استعمال کر رہا ہے۔ یہ مسیحی تنظیم ایک ایسی نوعیت اور وسعت کے عالمگیر تعلیمی کام کو سرانجام دے رہی ہے جو پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔ یسوع نے پہلے ہی سے پیشنگوئی کی تھی کہ یہ کیا جائیگا۔ اس نے کہا: ”بادشاہی کی اس خوشخبری کی منادی تمام دنیا میں ہوگی تاکہ سب قوموں کے لئے گواہی ہو تب خاتمہ ہوگا۔“ متی ۲۴:۱۴۔
۱۳ یسعیاہ نے بھی اس عالمگیر تعلیمی کام کا ذکر کیا: ”آخری دنوں میں [ہمارے زمانے میں] یوں ہوگا کہ خداوند کے گھر کا پہاڑ [اس کی بلندترسچی پرستش] پہاڑوں کی چوٹی پر قائم کیا جائیگا . . . اور سب قومیں وہاں پہنچیں گی۔ بلکہ بہت سی امتیں آئینگی اور کہینگی آؤ خداوند کے پہاڑ پر چڑھیں . . . اور وہ اپنی راہیں ہم کو بتائیگا اور ہم اس کے راستوں پر چلینگے۔“ یسعیاہ ۲:۲، ۳۔
۱۴. آجکل ہم خدا کے لوگوں کی شناخت کیسے کر سکتے ہیں؟
۱۴ پس، خدا کی بادشاہی کی بابت گواہی دینے کا عالمگیر کام اس بات کی قوی شہادت ہے کہ ہم اس بدکار دستورالعمل کے خاتمے کے بالکل قریب ہیں اور یہ کہ حقیقی آزادی بالکل قریب ہے۔ وہ جو لوگوں کے پاس خدا کی نئی دنیا کے امیدافزا پیغام کیساتھ جاتے ہیں انہیں اعمال ۱۵:۱۴ میں بطور ”[خدا] کے نام کی امت کے بیان کیا گیا ہے۔“ کون خدا کا نام اپنے اوپر لئے ہوئے ہیں اور یہوواہ اور اس کی بادشاہی کی بابت عالمگیر گواہی دیتے ہیں؟ ۲۰ ویں صدی کا تاریخی ریکارڈ جواب دیتا ہے: صرف یہوواہ کے گواہ۔ آجکل انکی تعداد پوری دنیا میں ۶۶،۰۰۰ کلیسیاؤں میں ۴ ملئن سے بھی زیادہ ہے۔ یسعیاہ ۴۳:۱۰-۱۲، اعمال ۲:۲۱۔
۱۵. سیاسی معاملات کے سلسلے میں، ہم خدا کے سچے خادموں کی شناخت کیسے کر سکتے ہیں؟
۱۵ ایک اور شہادت کہ یہوواہ کے گواہ بادشاہتی منادی کے کام کی بابت پیشنگوئیوں کو پورا کر رہے ہیں یسعیاہ ۲:۴ میں ملتی ہے: ”وہ اپنی تلواروں کو توڑ کر پھالیں اور اپنے بھالوں کو ہنسوئے بنا ڈالینگے اور قوم قوم پر تلوار نہ چلائیگی اور وہ پھر کبھی جنگ کرنا نہ سیکھینگے۔“ لہذا جو خدا کی بادشاہتی حکمرانی کی بابت منادی کا عالمگیر کام کر رہے ہیں ضرور ہے کہ وہ ”جنگ کرنا نہ سیکھیں۔“ یسوع نے کہا کہ وہ ”دنیا کا حصہ نہیں ہو نگے۔“ (یوحنا ۱۷:۱۶) اس کا مطلب ہے کہ انہیں دنیا کے سیاسی معاملات میں غیرجانبدار رہتے ہو ئے، قوموں کے اختلافات اور جنگوں میں شرکت نہیں کرنا۔ کون دنیا کا حصہ نہیں ہیں اور کبھی جنگ کرنا نہیں سیکھتے؟ ایک بار پھر ۲۰ ویں صدی کا تاریخی ریکارڈ تصدیق کرتا ہے: صرف یہوواہ کے گواہ۔
۱۶. خدا کا عالمگیر تعلیمی کام کتنا مکمل ہوگا؟
۱۶ یہوواہ کے گواہوں کا عالمگیر تعلیمی کام خدا کے اس بدکار دستورالعمل کو ختم کر دینے کے بعد بھی جاری رہیگا۔ یسعیاہ ۵۴:۱۳ بیان کرتی ہے: ”تیرے سب فرزند خداوند سے تعلیم پائینگے۔“ پس یہ تعلیم اتنی مفصل ہوگی یسعیاہ ۱۱:۹ پیشینگوئی کرتی ہے : ”کیونکہ جس طرح سمندر پانی سے بھرا ہے اسی طرح زمین خداوند کے عرفان سے معمور ہوگی۔“ مسلسل تعلیم نہ صرف اس پرانے دستورالعمل سے بچنے والوں اور نئی دنیا میں پیدا ہونے والے بچوں کے لئے ہی ضروری ہوگی بلکہ ان کروڑوں انسانوں کے لئے بھی جو قیامت کے ذریعے زندگی حاصل کرتے ہیں۔ بالآخر، اس زمین پر رہنے والا ہر شخص خدا کے قوانین کی حدود کے اندر رہ کر مناسب طور پر اپنی آزاد مرضی کو استعمال کرنا سیکھ جائیگا۔ نتیجہ؟ ”حلیم زمین کے وارث ہونگے اور سلامتی کی فراوانی سے شادمان رہینگے۔“ زبور ۳۷:۱۱۔
عظیم آزادیاں اب بھی
۱۷. موسیٰ نے خدا کے قدیم لوگوں کو کیا کرنے کیلئے کہا؟
۱۷ جب قدیم اسرائیلی ملک موعود میں داخل ہونے کو تھے تو موسیٰ نے ان سے مخاطب ہو کر کہا: ”دیکھو! جیسا خداوند میرے خدا نے مجھے حکم دیا اس کے مطابق میں نے تم کو آئین اور احکام سکھا دئے ہیں تاکہ اس ملک میں ان پر عمل کرو جس پر قبضہ کرنے کیلئے جا رہے ہو۔ سو تم ان کو ماننا اور عمل میں لانا کیونکہ اور قوموں کے سامنے یہی تمہاری عقل اور دانش ٹھہریں گے۔ وہ ان تمام آئین کو سن کر کہیں گی کہ یقیناً یہ بزرگ قوم نہایت عقلمند اور دانشور ہے۔ کیونکہ ایسی بڑی قوم کون ہے جس کا معبود اس قدر اس کے نزدیک ہو جیسا خداوند ہمارا خدا کہ جب کبھی ہم اس سے دعا کریں ہمارے نزدیک ہے۔“ استثنا ۴:۵-۷۔
۱۸. وہ جو خدا کی خدمت کرتے ہیں انہیں اب بھی کونسی عظیم آزادیاں حاصل ہیں؟
۱۸ آجکل بھی لاکھوں جو یہوواہ کی پرستش کرتے ہیں ملک موعود نئی دنیا کے کنارے پر کھڑے ہیں۔ کیونکہ وہ خدا کے آئین کی فرمانبرداری کرتے ہیں، وہ ان کے بھی بالکل نزدیک ہے اور وہ دوسرے تمام لوگوں سے نمایاں ہیں۔ پہلے ہی خدا نے انہیں جھوٹے مذہبی عقائد، نسل پرستی، منشیات کے ناجائز استعمال، قوم پرستی، جنگ ، اور جنسی طور پر لگنے والی عالمگیر مہلک بیماریوں سے آزاد کرایا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ، اس نے انہیں ایک اٹوٹ بینالاقومی محبت والی برادری میں متحد کر دیا ہے۔ (یوحنا ۱۳:۳۵) وہ مستقبل کی بابت پریشان نہیں ہیں بلکہ ”دل کی خوشی سے گاتے ہیں۔“ (یسعیاہ ۶۵:۱۴) خدا کی بطور حکمران خدمت کرنے سے وہ اب بھی کسقدر عظیم آزادیوں سے لطفاندوز ہو رہے ہیں! اعمال ۵:۲۹، ۳۲، ۲-کرنتھیوں ۴:۷، ۱-یوحنا ۵:۳۔
دوسروں کو جھوٹے عقائد سے آزاد کرانا
۱۹، ۲۰. مردوں کی حالت کی بابت بائبل کی تعلیم کے ذریعے لوگ کیسے آزادی پاتے ہیں؟
۱۹ بہتیرے جن کو یہوواہ کے گواہ منادی کرتے ہیں وہ بھی ان آزادیوں کو حاصل کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر، ملک جن میں آباؤاجداد کی پرستش ہوتی ہے، وہاں یہوواہ کے گواہ دوسروں کو یہ بتا رہے ہیں کہ مردے کسی بھی جگہ پر زندہ نہیں ہیں اور زندوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ گواہ واعظ ۹:۵ کی نشاندہی کرتے ہیں جو کہ بیان کرتی ہے کہ ”زندہ جانتے ہیں کہ وہ مرینگے پر مردے کچھ بھی نہیں جا نتے۔“ وہ زبور ۱۴۶:۴ کا بھی حوالہ دیتے ہیں جو کہ بیان کرتی ہے کہ جب آدمی مر جاتا ہے ”تو وہ مٹی میں مل جاتا ہے۔ اسی دن اس کے منصوبے فنا ہو جاتے ہیں۔“ پس بائبل یہ ظاہر کرتی ہے کہ کوئی بدروح یا غیرفانی جان نہیں جو کہ شفا بخشتی ہو یا پھر زندوں کو خوفزدہ کرتی ہو۔ اس لئے، اسکی کوئی ضرورت نہیں کہ محنت مشقت سے کمائے ہوئے پیسے کو جادوگروں یا مذہبی راہنماؤں کی خدمات حاصل کرنے میں ضائع کیا جا ئے۔
۲۰ بائبل کا ایسا صحیح علم لوگوں کو دوزخ کی آگ اور اعراف کی جھوٹی تعلیمات سے آزاد کرتا ہے۔ جب لوگ بائبل کی اس سچائی کو سیکھ جاتے ہیں کہ مردے بےخبر ہیں، جیسے کوئی گہری نیند کی حالت میں ہوتا ہے تو وہ اس کی بابت فکرمند نہیں ہوتے کہ ان کے مرے ہوئے عزیزوں کیساتھ کیا کچھ واقع ہوا ہے۔ اس کی بجا ئے، وہ اس شاندار وقت کے منتظر ہوتے ہیں جس کی بابت بیان کرتے ہو ئے، رسول پولس نے کہا: ”راستبازوں اور ناراستوں دونوں کی قیامت ہوگی۔“ اعمال ۲۴:۱۵۔
۲۱. قیامت پانے والوں میں بلاشبہ کون شامل ہو نگے، اور غالباً ان کا ردعمل کیا ہوگا؟
۲۱ قیامت میں مردے آدم سے ورثے میں پائی ہوئی موروثی موت سے آزاد ہو کر ابد تک اس زمین پر زندہ رہینگے۔ بلاشبہ قیامت پانے والوں میں وہ بچے بھی شامل ہونگے جو کہ کنعانی دیوتاؤں کے لئے قربان کئے گئے تھے جیسے کہ مولک کے لئے، وہ جوان آدمی جو کہ ازٹکوں کے معبود کے لئے قربان کئے گئے، اور وہ لاکھوں ملئن جو جنگ کے دیوتا کی بھینٹ چڑھا دئے گئے تھے۔ جھوٹے عقائد کے شکار وہ قدیمی لوگ کسقدر حیران اور شادماں ہو نگے! ایسے قیامت پانے والے لوگ پھر خوشی سے یہ پکار اٹھیں گے: ”اے موت تیری وبا کہاں ہے؟ اے پاتال تیری ہلاکت کہاں ہے؟“ ہوسیع ۱۳:۱۴۔
یہوواہ کی تلاش کریں
۲۲. اگر ہم خدا کی نئی دنیا میں زندہ رہنا چاہتے ہیں تو ہمیں کیا ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے؟
۲۲ کیا آپ خدا کی اس راست نئی دنیا میں رہنا چاہتے ہیں جہاں حقیقی آزادی ہوگی؟ اگر ایسا ہے تو آپ ۲-تواریخ ۱۵:۲ کے الفاظ پر دل لگائیں: ”خداوند تمہارے ساتھ ہے۔ جب تک تم اسکے ساتھ ہو اور اگر تم اسکے طالب ہو تو وہ تم کو ملیگا پر اگر تم اسے ترک کرو تو وہ تم کو ترک کریگا۔“ اور یہ بھی یاد رکھیں کہ خدا کی بابت سیکھنے اور اسے خوش کرنے کی آپکی مخلص کوششیں کبھی بےتوجہی کا شکار نہیں ہونگی۔ عبرانیوں ۱۱:۶ یہ کہتی ہے کہ خدا ”اپنے طالبوں کو بدلہ دیتا ہے۔“ اور رومیوں ۱۰:۱۱ کہتی ہے: ”جو کوئی اس پر ایمان لائیگا وہ شرمندہ نہ ہوگا۔“
۲۳. کیوں ہمیں آزادی والی خدا کی نئی دنیا کا خیرمقدم کرنا چاہیے؟
۲۳ حقیقی آزادی والی خدا کی نئی دنیا بالکل قریب ہے۔ وہاں ”مخلوقات بھی فنا کے قبضہ سے چھوٹ کر خدا کے فرزندوں کے جلال کی آزادی میں داخل ہو جائیگی۔“ اور ”[خدا] ان کی آنکھوں کے سب آنسو پونچھ دیگا۔ اس کے بعد نہ موت رہیگی اور نہ ماتم رہیگا۔ نہ آہونالہ نہ درد۔“ (رومیوں ۸:۲۱، مکاشفہ ۲۱:۴) تب یہوواہ کے تمام خادم اپنے سر اوپر اٹھائینگے اور خوشی سے آزادی والی خدا کی نئی دنیا کا یہ کہتے ہوئے خیرمقدم کرینگے، ”اے یہوواہ، بالآ خر حقیقی آزادی کے لئے آپ کا شکر ہو!“ (۲ ۹ ۴/۱ w۹)
آپ کیسے جواب دینگے؟
▫ یہوواہ نے اپنے لوگوں کو آزاد کرانے کی اپنی قدرت کا مظاہرہ کیسے کیا؟
▫ خدا کی نئی دنیا میں کونسی شاندار آزادیاں میسر ہونگی؟
▫ یہوواہ زندگی کیلئے لوگوں کو کیسے تعلیم دے رہا ہے؟
▫ بعض کونسی آزادیاں ہیں جن سے خدا کے لوگ یہوواہ کی خدمت کرکے اب بھی لطفاندوز ہوتے ہیں؟
[تصویر]
اپنے پرستاروں کو آزاد کرانے سے، یہوواہ نے مصر کے دیوتاؤں پر اپنی برتری کو ثابت کیا
[تصویر]
آجکل، یہوواہ کے سچے خادموں کی شناخت عالمگیر پیمانے پر تعلیم دینے کا کام کرنے اور اس کے نام کو اپنے اوپر لینے سے ہوتی ہے