یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م97 1/‏4 ص.‏ 25-‏29
  • راست نئی دُنیا میں مخلصی

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • راست نئی دُنیا میں مخلصی
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1997ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • ‏”‏بڑی مصیبت“‏
  • خدا کے خادموں پر حملہ
  • ‏”‏تمہاری مخلصی نزدیک ہوگی“‏
  • نئی دُنیا
  • اتنی دیر کیوں؟‏
  • کچھ اَور سرانجام دینا
  • خدا کی بادشاہت جلد نجات دلائے گی
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2008ء
  • خدا کی بادشاہت کیا انجام دیگی
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2000ء
  • ‏”‏بڑی مصیبت“‏ کے دوران یہوواہ کے وفادار رہیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2019ء
  • خاطرجمع رکھیں چونکہ مخلصی نزدیک ہے
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1997ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1997ء
م97 1/‏4 ص.‏ 25-‏29

راست نئی دُنیا میں مخلصی

‏”‏[‏وہ]‏ سلامتی کی فراوانی سے شادمان رہینگے۔“‏—‏زبور ۳۷:‏۱۱‏۔‏

۱، ۲.‏ (‏ا)‏ ہمارے زمانے میں یہوواہ کی مخلصی قدیم زمانوں کی مخلصی سے کیسے مختلف ہوگی؟ (‏ب)‏ یہوواہ اپنے لوگوں کو کس قسم کی دُنیا میں لائیگا؟‏

یہوواہ مخلصی بخشنے والا خدا ہے۔ قدیم زمانوں میں، اُس نے کئی مواقع پر اپنے لوگوں کو مخلصی بخشی۔ ایسی مخلصی عارضی تھی کیونکہ یہوواہ اُن واقعات میں سے کسی میں بھی شیطان کی تمام دُنیا کیخلاف اپنے فیصلوں کو عمل میں نہیں لایا تھا۔ لیکن ہمارے زمانے میں، یہوواہ جلد ہی اپنے خادموں کیلئے عظیم‌الشان مخلصی کا اہتمام کرے گا۔ اس مرتبہ وہ پوری زمین سے شیطانی نظام کے نام‌ونشان کو مٹا دے گا اور وہ اپنے خادموں کو دائمی، راست نئی دُنیا میں لائے گا۔—‏۲-‏پطرس ۲:‏۹؛‏ ۳:‏۱۰-‏۱۳‏۔‏

۲ یہوواہ وعدہ فرماتا ہے:‏ ”‏تھوڑی دیر میں شریر نابود ہو جائیگا۔ .‏ .‏ .‏ لیکن حلیم ملک کے وارث ہونگے اور سلامتی کی فراوانی سے شادمان رہینگے۔“‏ (‏زبور ۳۷:‏۱۰، ۱۱‏)‏ کتنی مدت تک؟ ”‏صادق زمین کے وارث ہونگے اور اُس میں ہمیشہ بسے رہینگے۔“‏ (‏زبور ۳۷:‏۲۹؛‏ متی ۵:‏۵‏)‏ تاہم، اس سے پہلے کہ ایسا ہو، اس دُنیا کو ایسے عظیم‌ترین تکلیف‌دہ وقت میں سے گزرنا پڑیگا جسکا اس نے کبھی گمان بھی نہیں کِیا ہوگا۔‏

‏”‏بڑی مصیبت“‏

۳.‏ یسوع نے ”‏بڑی مصیبت“‏ کو کیسے بیان کِیا؟‏

۳ ۱۹۱۴ میں یہ دُنیا اپنے ”‏اخیر زمانہ“‏ میں داخل ہو گئی۔ (‏۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱-‏۵،‏ ۱۳‏)‏ اب ہم اس دَور میں ۸۳ سال گزار چکے ہیں اور اب اس کے خاتمے کے قریب ہیں جب یسوع کی پیشینگوئی کے مطابق بیان‌کردہ واقعہ رونما ہوگا:‏ ”‏اُس وقت ایسی بڑی مصیبت ہوگی کہ دُنیا کے شروع سے نہ اب تک ہوئی نہ کبھی ہوگی۔“‏ (‏متی ۲۴:‏۲۱‏)‏ جی‌ہاں، دوسری عالمی جنگ سے بھی بدتر جس نے تقریباً ۵۰ ملین جانیں لے لیں۔ دُنیا کو متزلزل کرنے والا وقت کتنی تیزی سے چلا آ رہا ہے!‏

۴.‏ ”‏بڑے بابل“‏ پر خدا کی طرف سے سزا کیوں نازل ہوتی ہے؟‏

۴ ”‏بڑی مصیبت“‏ حیران‌کُن طریقے سے ”‏گھڑی ہی بھر میں،“‏ ناگہاں نازل ہوگی۔ (‏مکاشفہ ۱۸:‏۱۰‏)‏ اِس کا آغاز تمام جھوٹے مذہب پر خدائی عدالت کی تعمیل سے ہوگا جسے خدا کا کلام ”‏بڑا بابل“‏ کہتا ہے۔ (‏مکاشفہ ۱۷:‏۱-‏۶،‏ ۱۵‏)‏ قدیم بابل کی نمایاں خصوصیت جھوٹا مذہب تھا۔ جدید بابل بھی اپنے قدیم مماثل کی مانند ہے اور جھوٹے مذہب کی عالمی سلطنت کی نمائندگی کرتا ہے۔ سیاسی عناصر کے ساتھ باہمی گٹھ‌جوڑ سے اِس نے کسبی کا کردار ادا کِیا ہے۔ اس نے اُن کی جنگوں کی حمایت کی ہے اور ایک دوسرے کی مخالف فوجوں کو برکت دی ہے جس کے نتیجے میں ایک ہی مذہب کے لوگوں نے ایک دوسرے کو قتل کِیا ہے۔ (‏متی ۲۶:‏۵۱، ۵۲؛‏ ۱-‏یوحنا ۴:‏۲۰، ۲۱‏)‏ اُس نے اپنے پیروکاروں کے گھناؤنے کاموں کو نظرانداز کر دیا ہے اور سچے مسیحیوں کو ستایا ہے۔—‏مکاشفہ ۱۸:‏۵،‏ ۲۴‏۔‏

۵.‏ ”‏بڑی مصیبت“‏ کا آغاز کیسے ہوتا ہے؟‏

۵ ”‏بڑی مصیبت“‏ کا آغاز اُس وقت ہوتا ہے جب سیاسی عناصر یک‌لخت ”‏بڑے بابل“‏ پر حملہ‌آور ہوتے ہیں۔ وہ ”‏کسبی سے عداوت رکھینگے اور اُسے بیکس اور ننگا کر دینگے اور اُس کا گوشت کھا جائینگے اور اُسکو آگ میں جلا ڈالینگے۔“‏ (‏مکاشفہ ۱۷:‏۱۶‏)‏ اس کے بعد، اُسکے سابقہ حمایتی ”‏اُس کے لئے روئینگے اور چھاتی پیٹیں گے۔“‏ (‏مکاشفہ ۱۸:‏۹-‏۱۹‏)‏ لیکن یہوواہ کے خادموں نے بڑی دیر سے اس کا انتظار کِیا ہے اور وہ خوشی سے للکارینگے:‏ ”‏ہللویاہ!‏ .‏ .‏ .‏ اس لئے کہ اُس نے اُس بڑی کسبی کا انصاف کِیا جس نے اپنی حرامکاری سے دُنیا کو خراب کِیا تھا اور اُس سے اپنے بندوں کے خون کا بدلہ لیا۔“‏—‏مکاشفہ ۱۹:‏۱، ۲‏۔‏

خدا کے خادموں پر حملہ

۶، ۷.‏ جب یہوواہ کے خادم ”‏بڑی مصیبت“‏ کے دوران حملے کی زد میں آتے ہیں تو وہ کیوں پُراعتماد ہو سکتے ہیں؟‏

۶ جھوٹے مذہب کو تباہ کر دینے کے بعد، سیاسی عناصر یہوواہ کے خادموں کیخلاف صف‌آرا ہوتے ہیں۔ شیطان، پیشینگوئی میں ”‏جوج .‏ .‏ .‏ جو ماجوج کی سرزمین کا ہے،“‏ کہتا ہے:‏ ”‏مَیں اُن پر حملہ کرونگا جو راحت‌وآرام سے بستے ہیں۔“‏ یہ سوچتے ہوئے کہ وہ آسانی سے اُنہیں دبوچ لیگا، وہ ”‏زمین کو بادل کی طرح چھپا“‏ لینے والے ”‏بھاری لشکر“‏ کے ساتھ اُن پر حملہ کریگا۔“‏ (‏حزقی‌ایل ۳۸:‏۲، ۱۰-‏۱۶)‏ یہوواہ کے لوگ جانتے ہیں کہ یہ حملہ ناکام ہو جائیگا کیونکہ اُن کا توکل یہوواہ پر ہے۔‏

۷ جب فرعون اور اُسکی فوجوں نے سمجھا کہ اُنہوں نے خدا کے خادموں کو بحرِقلزم پر گھیر لیا ہے تو یہوواہ نے معجزانہ طور پر اپنے لوگوں کو مخلصی بخشی اور مصری فوجوں کو تباہ کر دیا۔ (‏خروج ۱۴:‏۲۶-‏۲۸)‏ ”‏بڑی مصیبت“‏ کے دوران، جب اقوام یہ سوچیں گی کہ اُنہوں نے یہوواہ کے لوگوں کو پھندے میں پھانس لیا ہے تو وہ ایک بار پھر معجزانہ طور پر چھڑانے کے لئے آئے گا:‏ ”‏اُن ایّام میں .‏ .‏ .‏ میرا قہر میرے چہرہ سے نمایاں ہوگا .‏ .‏ .‏ مَیں نے اپنی غیرت اور آتشِ‌قہر میں فرمایا۔“‏ (‏حزقی‌ایل ۳۸:‏۱۸، ۱۹)‏ ”‏بڑی مصیبت“‏ کا عروج اُس وقت قریب ہوگا!‏

۸.‏ یہوواہ کی طرف سے بدکاروں کو سزا ملنے سے پہلے کونسے مافوق‌الفطرت واقعات رونما ہونگے اور کس نتیجے کے ساتھ؟‏

۸ ”‏بڑی مصیبت“‏ کے شروع ہونے کے بعد کسی خاص وقت پر لیکن باقیماندہ دُنیا کو سزا دینے سے پہلے، مافوق‌الفطرت واقعات رونما ہونگے۔ اُن کے اثرات پر غور کریں۔ ”‏اُس وقت ابنِ‌آدم [‏مسیح]‏ کا نشان آسمان پر دکھائی دیگا۔ اور اُس وقت زمین کی سب قومیں چھاتی پیٹیں گی اور ابنِ‌آدم کو بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ آسمان کے بادلوں پر آتے دیکھینگی۔“‏ (‏متی ۲۴:‏۲۹، ۳۰‏)‏ ”‏سورج اور چاند اور ستاروں میں نشان ظاہر ہونگے .‏ .‏ .‏ ڈر کے مارے اور زمین پر آنے والی بلا‌ؤں کی راہ دیکھتے دیکھتے لوگوں کی جان میں جان نہ رہیگی۔“‏—‏لوقا ۲۱:‏۲۵، ۲۶‏۔‏

‏”‏تمہاری مخلصی نزدیک ہوگی“‏

۹.‏ جب مافوق‌الفطرت واقعات رونما ہوتے ہیں تو یہوواہ کے خادم کیوں ’‏اپنے سر اُٹھا‘‏ سکتے ہیں؟‏

۹ اس خاص وقت پر لوقا ۲۱:‏۲۸ کی پیشینگوئی کا اطلاق ہوتا ہے۔ یسوع نے فرمایا:‏ ”‏جب یہ باتیں ہونے لگیں تو سیدھے ہوکر سر اُوپر اُٹھانا اس لئے کہ تمہاری مخلصی نزدیک ہوگی۔“‏ خدا کے دشمن خوف سے لرزیں گے کیونکہ اُنہیں معلوم ہوگا کہ مافوق‌الفطرت واقعات یہوواہ کی طرف سے وقوع‌پذیر ہو رہے ہیں۔ لیکن یہوواہ کے خادم شادمان ہونگے کیونکہ وہ جان جائینگے کہ اُن کی مخلصی نزدیک آ رہی ہے۔‏

۱۰.‏ خدا کا کلام ”‏بڑی مصیبت“‏ کے عروج کو کیسے بیان کرتا ہے؟‏

۱۰ پھر یہوواہ شیطان کے نظام پر کاری ضرب لگاتا ہے:‏ ”‏مَیں وبا بھیج کر اور خونریزی کرکے [‏جوج کو]‏ سزا دونگا اور اُس پر اور اُس کے لشکروں پر .‏ .‏ .‏ شدت کا مینہ اور بڑے بڑے اولے اور آگ اور گندھک برساؤنگا۔ .‏ .‏ .‏ اور وہ جانینگے کہ خداوند مَیں ہوں۔“‏ (‏حزقی‌ایل ۳۸:‏۲۲، ۲۳)‏ شیطانی نظام کے تمام آثار ختم ہو جاتے ہیں۔ خدا سے مُنہ پھیرنے والا تمام انسانی معاشرہ برباد ہو جاتا ہے۔ یہی ہرمجِدّون یعنی ”‏بڑی مصیبت“‏ کا نقطۂ‌عروج ہے۔—‏یرمیاہ ۲۵:‏۳۱-‏۳۳؛‏ ۲-‏تھسلنیکیوں ۱:‏۶-‏۸؛‏ مکاشفہ ۱۶:‏۱۴،‏ ۱۶؛‏ ۱۹:‏۱۱-‏۲۱‏۔‏

۱۱.‏ یہوواہ کے خادم ”‏بڑی مصیبت“‏ سے کیوں بچائے جاتے ہیں؟‏

۱۱ پوری دُنیا سے یہوواہ کے لاکھوں پرستاروں کو ”‏بڑی مصیبت“‏ سے بچا لیا جائیگا۔ یہ ایسی ”‏بڑی بِھیڑ“‏ کو تشکیل دیتے ہیں جو ”‏ہر ایک قوم اور قبیلہ اور اُمت اور اہلِ‌زبان“‏ میں سے نکل آئی ہے۔ اُنہیں ایسے حیرت‌انگیز طریقے سے کیوں بچایا جاتا ہے؟ اس لئے کہ وہ ”‏رات دن“‏ یہوواہ کی ”‏عبادت کرتے ہیں۔“‏ لہٰذا وہ اس دُنیا کے خاتمے سے بچ جاتے ہیں اور راست نئی دُنیا میں داخل ہو جاتے ہیں۔ (‏مکاشفہ ۷:‏۹-‏۱۵‏)‏ یوں، وہ یہوواہ کے وعدے کی تکمیل کو دیکھتے ہیں:‏ ”‏خداوند کی آس رکھ اور اُسی کی راہ پر چلتا رہ اور وہ تجھے سرفراز کرکے زمین کا وارث بنائیگا۔ جب شریر کاٹ ڈالے جائینگے تو تُو دیکھیگا۔“‏—‏زبور ۳۷:‏۳۴‏۔‏

نئی دُنیا

۱۲.‏ ہرمجِدّون سے بچنے والے کس چیز کے منتظر ہو سکتے ہیں؟‏

۱۲ وہ وقت کسقدر ہیجان‌خیز ہوگا—‏بدکاری کا خاتمہ اور تمام انسانی تاریخ کا نہایت پُرشکوہ دَور کا آغاز!‏ (‏مکاشفہ ۲۰:‏۱-‏۴‏)‏ ہرمجِدّون سے بچنے والے فردوس میں تبدیل کر دی گئی زمین پر خدا کی بنائی ہوئی بارونق، پاک تہذیب، نئی دُنیا میں داخل ہوکر یہوواہ کے کسقدر ممنون ہونگے!‏ (‏لوقا ۲۳:‏۴۳‏)‏ اور اُنہیں پھر کبھی مرنا نہیں پڑے گا!‏ (‏یوحنا ۱۱:‏۲۶‏)‏ یقیناً، اُس وقت سے لیکر، جبتک یہوواہ زندہ ہے اُنہیں اُتنی ہی دیر تک زندہ رہنے کا حیران‌کُن، شاندار امکان حاصل ہوگا!‏

۱۳.‏ یسوع اُس شفائیہ کام کو کیسے ازسرِنو شروع کرتا ہے جسکا آغاز اُس نے زمین پر کِیا تھا؟‏

۱۳ یسوع، جسے یہوواہ نے آسمانی بادشاہ کے طور پر مقرر کِیا ہے، اُن معجزانہ برکات کی نگرانی کریگا جن سے مخلصی پانے والے لوگ لطف‌اندوز ہونگے۔ جب وہ زمین پر تھا تو اُس نے اندھوں کو بینائی عطا کی اور بہروں کے کان کھولے اور ”‏ہر طرح کی بیماری اور ہر طرح کی کمزوری دُور“‏ کی۔ (‏متی ۹:‏۳۵؛‏ ۱۵:‏۳۰، ۳۱‏)‏ نئی دُنیا میں، وہ اس شفائیہ کام کو پھر سے عالمگیر پیمانے پر شروع کریگا۔ خدا کے نمائندے کی حیثیت سے، وہ اس وعدے کو پورا کریگا:‏ ”‏[‏خدا]‏ اُن کی آنکھوں کے سب آنسو پونچھ دیگا۔ اس کے بعد نہ موت رہیگی اور نہ ماتم رہیگا۔ نہ آہ‌ونالہ نہ درد۔ پہلی چیزیں جاتی رہیں۔“‏ (‏کاشفہ ۲۱:‏۴)‏ پھر کبھی ڈاکٹروں یا گورکنوں کی ضرورت نہیں پڑیگی!‏—‏یسعیاہ ۲۵:‏۸؛‏ ۳۳:‏۲۴‏۔‏

۱۴.‏ یہوواہ کے جو خادم پہلے ہی مر چکے ہیں اُنہیں کونسی مخلصی حاصل ہوگی؟‏

۱۴ مخلصی پانے والوں میں خدا کے وہ وفادار خادم بھی شامل ہونگے جو ماضی میں فوت ہو گئے تھے۔ نئی دُنیا میں اُنہیں قبر کے شکنجے سے آزاد کرایا جائیگا۔ یہوواہ ضمانت دیتا ہے:‏ ”‏راستبازوں اور ناراستوں دونوں کی قیامت ہوگی۔“‏ (‏اعمال ۲۴:‏۱۵‏)‏ غالباً، ”‏راستباز“‏ پہلے قیامت پائینگے اور فردوس کو وسیع کرنے میں مدد کرینگے۔ ہرمجِدّون سے بچنے والوں کے لئے برسوں پہلے مرنے والے اُن ایماندار اشخاص کے تجربات کو سننا کسقدر دلکش ہوگا جو اُس وقت زندہ ہو چکے ہونگے!‏—‏یوحنا ۵:‏۲۸، ۲۹‏۔‏

۱۵.‏ بعض ایسی حالتوں کو بیان کریں جنکا نئی دُنیا میں تجربہ کِیا جائیگا۔‏

۱۵ اُس وقت تمام زندہ لوگ اس بات کا تجربہ کرینگے جو زبورنویس نے یہوواہ کی بابت کہی:‏ ”‏تُو اپنی مٹھی کھولتا ہے اور ہر جاندار کی خواہش پوری کرتا ہے۔“‏ (‏زبور ۱۴۵:‏۱۶‏)‏ پھر کوئی بھوک نہیں:‏ زمین کا ماحولیاتی توازن بحال ہو جائیگا اور یہ کثرت سے پیداوار دیگی۔ (‏زبور ۷۲:‏۱۶‏)‏ پھر کوئی بے‌گھر لوگ نہیں:‏ ”‏وہ گھر بنائینگے اور اُن میں بسینگے“‏ اور ہر ایک ”‏اپنی تاک اور اپنے انجیر کے درخت کے نیچے بیٹھیگا اور اُنکو کوئی نہ ڈرائیگا۔“‏ (‏یسعیاہ ۶۵:‏۲۱، ۲۲؛‏ میکاہ ۴:‏۴)‏ پھر کوئی خوف نہیں؛ کوئی جنگ، تشدد یا جُرم نہیں ہوگا۔ (‏زبور ۴۶:‏۸، ۹؛‏ امثال ۲:‏۲۲‏)‏ ”‏ساری زمین پر آرام‌وآسائش ہے۔ وہ یکایک گیت گانے لگتے ہیں۔“‏—‏یسعیاہ ۱۴:‏۷‏۔‏

۱۶.‏ نئی دُنیا راستبازی سے معمور کیوں ہوگی؟‏

۱۶ نئی دُنیا میں، شیطان کے خیالات کی تشہیر کرنے والے ذرائع ختم ہو چکے ہونگے۔ اس کی بجائے، ”‏دُنیا کے باشندے صداقت سیکھتے ہیں۔“‏ (‏یسعیاہ ۲۶:‏۹؛‏ ۵۴:‏۱۳‏)‏ سال‌بسال کی اثرآفریں روحانی تعلیم‌وتربیت کے ساتھ، ”‏جس طرح سمندر پانی سے بھرا ہے اُسی طرح زمین خداوند کے عرفان سے معمور ہوگی۔“‏ (‏یسعیاہ ۱۱:‏۹‏)‏ نوعِ‌انسان حوصلہ‌افزا خیالات اور اعمال سے معمور ہونگے۔ (‏فلپیوں ۴:‏۸‏)‏ جُرم، انانیت، حسد سے پاک لوگوں کے عالمی معاشرے کا تصور کریں—‏ایک بین‌الاقوامی برادری جہاں سب کے سب خدا کی روح کے پھلوں کو پیدا کرتے ہیں۔ بیشک، بڑی بِھیڑ تو ابھی سے ایسی خوبیوں کو فروغ دے رہی ہے۔—‏گلتیوں ۵:‏۲۲، ۲۳‏۔‏

اتنی دیر کیوں؟‏

۱۷.‏ بدکاری کو ختم کرنے سے پہلے یہوواہ نے اتنی دیر انتظار کیوں کِیا ہے؟‏

۱۷ تاہم، یہوواہ نے بدکاری کو ختم کرنے اور اپنے لوگوں کو نئی دُنیا میں مخلصی عطا کرنے کے لئے اتنا انتظار کیوں کِیا ہے؟ غور کریں کہ کیا کچھ انجام دیا جانا تھا۔ سب سے اہم یہوواہ کی حاکمیت، اُس کے حکمرانی کرنے کے حق کی برأت ہے۔ کافی زیادہ وقت گزرنے کی اجازت دینے سے، اُس نے بِلاشُبہ ظاہر کر دیا ہے کہ اُس کی حاکمیت سے آزاد انسانی حکمرانی بُری طرح ناکام ہو گئی ہے۔ (‏یرمیاہ ۱۰:‏۲۳‏)‏ اب یہوواہ انسانی حکمرانی کی جگہ مسیح کے تحت اپنی آسمانی بادشاہت کی حکمرانی کو قائم کرنے کے لئے حق‌بجانب ہے۔—‏دانی‌ایل ۲:‏۴۴؛‏ متی ۶:‏۹، ۱۰‏۔‏

۱۸.‏ ابرہام کی اولاد ملکِ‌کنعان کی وارث کب بنی؟‏

۱۸ ان تمام صدیوں کے دوران جوکچھ واقع ہوا ہے ایسا ہی ابرہام کے وقت میں واقع ہوا تھا۔ یہوواہ نے ابرہام کو بتایا کہ اُس کی اولاد کو ملکِ‌کنعان میراث میں ملے گا—‏لیکن چار سو برس تک ایسا نہ ہوا ”‏کیونکہ اموریوں کے گناہ اب تک پورے نہیں ہوئے“‏ تھے۔ (‏پیدایش ۱۲:‏۱-‏۵؛‏ ۱۵:‏۱۳-‏۱۶‏)‏ یہاں پر اصطلا‌ح ”‏اموری“‏ (‏حکمران قبیلہ)‏ غالباً مجموعی طور پر کنعان کے لوگوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ لہٰذا کوئی چار سو سال بعد یہوواہ نے اپنے لوگوں کو کنعان پر مسلّط ہونے کے قابل بنایا۔ اس اثنا میں یہوواہ نے کنعان کی اقوام کو اپنے تہذیب‌وتمدن کو فروغ دینے کا موقع دئے رکھا۔ کس نتیجے کے ساتھ؟‏

۱۹، ۲۰.‏ کنعانیوں نے کس قسم کے معاشروں کو فروغ دیا تھا؟‏

۱۹ بائبل ہینڈبُک، از ہنری ایچ.‏ ہیلی بیان کرتی ہے کہ مجدو کے مقام پر آثارِقدیمہ کے ماہرین نے بعل کی شریکِ‌حیات دیوی، عستارات کے مندر کے کھنڈرات دریافت کئے ہیں۔ وہ لکھتا ہے:‏ ”‏اس مندر سے چند قدم کے فاصلے پر ایک قبرستان تھا جہاں ایسے مٹکے پڑے ملے جن میں اُن ننھے بچوں کی ہڈیاں تھیں جنہیں اس مندر میں قربان کر دیا جاتا تھا .‏ .‏ .‏ بعل اور عستارات کے پجاری چھوٹے بچوں کے باضابطہ قاتل ہوتے تھے۔“‏ ”‏ایک اَور خوفناک رسم ہوا کرتی تھی جسے وہ ’‏نیو ڈالنے کی قربانیاں‘‏ کہتے تھے۔ جب کوئی گھر تعمیر کِیا جاتا تھا تو ایک بچے کو قربان کرکے اُس کے جسم کو دیوار میں چن دیا جاتا تھا۔“‏

۲۰ ہیلی رائے‌زنی کرتا ہے:‏ ”‏بعل، عستارات اور دیگر کنعانی دیوتاؤں کی پرستش حد سے تجاوز کر جانے والی رنگ‌رلیوں پر مشتمل ہوتی تھی؛ اُن کے مندر گھناؤنے کاموں کے مرکز ہوتے تھے۔ .‏ .‏ .‏ کنعانی بداخلاقی کے مزے لے کر .‏ .‏ .‏ اور پھر انہی دیوتاؤں کے آگے قربانی کے طور پر اپنے پہلوٹھوں کو ذبح کرنے سے پرستش کرتے تھے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ملکِ‌کنعان قومی سطح پر بڑی حد تک سدوم اور عمورہ کی مانند بن گیا تھا۔ .‏ .‏ .‏ کیا ایسی نفرت‌انگیز غلاظت اور سفاکانہ تہذیب اتنی دیر تک قائم رہنے کا حق رکھتی تھی؟ .‏ .‏ .‏ آثارِقدیمہ کے ماہرین جنہوں نے کنعانی شہروں کی کھدائی کی حیران ہیں کہ خدا نے اُنہیں اتنی جلدی تباہ نہیں کِیا تھا جتنی جلدی اُسے کر دینا چاہئے تھا۔“‏—‏مقابلہ کریں ۱-‏سلاطین ۲۱:‏۲۵، ۲۶‏۔‏

۲۱.‏ کنعانیوں کی حالت اور ہمارے زمانے کی حالت میں کیا مماثلت پائی جاتی ہے؟‏

۲۱ اموریوں کی بدکاری ”‏انتہا کو پہنچ“‏ (‏این‌ڈبلیو)‏ چکی تھی۔ لہٰذا اب یہوواہ اُنہیں نیست کرنے کے لئے بالکل حق‌بجانب تھا۔ آجکل بھی یہی بات صادق آتی ہے۔ یہ دُنیا تشدد، بداخلاقی اور خدائی اصولوں کی توہین سے بھر گئی ہے۔ اور جب ہم قدیم کنعان میں بچوں کی گھناؤنی قربانیوں سے بجا طور پر ہراساں ہوتے ہیں تو پھر اس دُنیا کی جنگوں میں لاکھوں نوجوان لوگوں کو بھینٹ چڑھا دینے کی بابت کیا ہے جوکہ کنعان میں ہونے والے کاموں سے بھی بدتر ہے؟ یقیناً، یہوواہ اب اس بدکار نظام کا خاتمہ کرنے کے لئے بالکل حق‌بجانب ہے۔‏

کچھ اَور سرانجام دینا

۲۲.‏ ہمارے زمانے میں یہوواہ کے صبر نے کیا کام سرانجام دیا ہے؟‏

۲۲ ان آخری ایّام میں یہوواہ کا صبر ایک اَور کام بھی انجام دے رہا ہے۔ وہ بڑی بِھیڑ کو اکٹھا کرنے اور اُنہیں تعلیم دینے کے لئے وقت دے رہا ہے جن کی تعداد پہلے ہی پانچ ملین سے زیادہ ہو گئی ہے۔ یہوواہ کے زیرِہدایت، انہیں ترقی‌پسند تنظیم بنا دیا گیا ہے۔ مردوں، عورتوں اور نوجوانوں کو دوسرے لوگوں کو بائبل کی سچائیاں سکھانے کی تربیت دی گئی ہے۔ اپنے اجلاسوں اور بائبل مطبوعات کے ذریعے، وہ خدا کی مشفقانہ راہوں کی تعلیم پاتے ہیں۔ (‏یوحنا ۱۳:‏۳۴، ۳۵؛‏ کلسیوں ۳:‏۱۴؛‏ عبرانیوں ۱۰:‏۲۴، ۲۵‏)‏ اس کے علاوہ، وہ ”‏خوشخبری“‏ کی منادی کرنے کے کام میں مدد دینے کے لئے فنِ‌تعمیر، الیکٹرونکس، پرنٹنگ اور دیگر شعبہ‌جات میں مہارتوں کو بڑھا رہے ہیں۔ (‏متی ۲۴:‏۱۴‏)‏ غالباً ایسی تعلیمی اور تعمیری مہارتوں کو نئی دُنیا میں وسیع پیمانے پر استعمال کِیا جائیگا۔‏

۲۳.‏ اِس وقت زندہ ہونا ایک شرف کیوں ہے؟‏

۲۳ جی‌ہاں، آجکل یہوواہ اپنے خادموں کو تیار کر رہا ہے تاکہ وہ ”‏بڑی مصیبت“‏ سے نکل کر راست نئی دُنیا میں داخل ہو سکیں۔ اِس کے بعد شیطان اور اُس کی بدکار دُنیا کو برداشت نہیں کرنا پڑے گا اور نہ ہی بیماری، غم اور موت ہوگی۔ بڑے جوش‌وخروش اور خوشی کے ساتھ خدا کے لوگ فردوس بنانے کے پُرمسرت کام کا آغاز کرینگے جہاں ہر دن ”‏شادمانی کی فراوانی“‏ ہوگی۔ ہم کتنے متشرف ہیں کہ زمانوں کے نقطۂ‌عروج میں رہتے ہیں، یہوواہ کو جانتے اور اُس کی خدمت کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ بہت جلد ہم ’‏اپنے سر اُوپر اُٹھائینگے کیونکہ ہماری مخلصی نزدیک ہوگی‘‏!‏—‏لوقا ۲۱:‏۲۸؛‏ زبور ۱۴۶:‏۵‏۔‏

اعادے کے سوالات

▫ ”‏بڑی مصیبت“‏ کیا ہے اور اسکا آغاز کیسے ہوتا ہے؟‏

▫ یہوواہ کے خادموں پر جوج کا حملہ ناکام کیوں ہو جائیگا؟‏

▫ ”‏بڑی مصیبت“‏ کا اختتام کیسے ہوتا ہے؟‏

▫ نئی دُنیا کونسے شاندار فوائد عطا کریگی؟‏

▫ اس نظام کا خاتمہ کرنے سے پہلے یہوواہ نے اتنی دیرانتظار کیوں کِیا ہے؟‏

‏[‏صفحہ 26 پر تصویر]‏

ساری زمین فردوس میں بدل دی جائیگی

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں