انسان کا ”نیا عالمی نظام“ قریب؟
۱. حالیہ برسوں میں زیادہ سیاسی آزادی کے لئے خواہش کا اظہار کیونکر کیا گیا ہے؟
آجکل لاکھوں لوگ جھوٹے مذہب کی غلامی میں ہیں، اور بہتیرے اسی طرح رہنے کو منتخب کرتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ ، زیادہ سے زیادہ لوگ سیاسی آزادیوں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ گذشتہ چند سالوں میں مشرقی یورپ اور دیگر جگہوں کے غیرمعمولی واقعات نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ لوگ مزید آزادانہ قسم کی حکومت چاہتے ہیں۔ نتیجہ کے طور پر، بہتیرے یہ کہہ رہے ہیں کہ آزادی کا ایک نیا دور بالکل قریب ہے۔ ریاستہائے متحدہ کے صدر نے اسے ”نیا عالمی نظام“ قرار دیا۔ بلاشبہ، ہر جگہ عالمی لیڈر یہ کہہ رہے تھے کہ سرد جنگ اور اسلحہ کی دوڑ ختم ہو گئی ہے اور یہ کہ بنی آدم کے لئے امن کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گیا ہے۔ مقابلہ کریں ۱-تھسلنیکیوں ۵:۳۔
۲، ۳. کونسی حالتیں حقیقی آزادی کے برعکس کام کرتی ہیں؟
۲ تاہم، اگرچہ انسانی کاوشیں اسلحے کی کمی اور زیادہ آزادانہ قسم کی حکمرانی پر منتج ہوئی ہیں، تو بھی کیا واقعی حقیقی آزادی کا وجود ہوگا؟ نہیں، کیونکہ دہشتزدہ کرنے والے مسائل سب قوموں میں موجود ہیں، بشمول جمہوری حکومتوں کے، جہاں پر غریبوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور لاکھوں لوگ معاشی طور پر زندہ رہنے کیلئے جان توڑ کوشش کرتے ہیں۔ یونائیٹڈ نیشنز کی ایک رپورٹ بیان کرتی ہے کہ سائنس اور میڈیسن میں ترقیوں کے باوجود، ہر روز دنیا بھر میں اوسطاً ۴۰،۰۰۰ بچے ناقص غذا یا قابلانسداد بیماریوں سے مرتے ہیں۔ اس شبعے کے ایک ماہر نے کہا: ”غربت اب ایسی امتیازی خاصیتیں اختیار کرتی جا رہی ہے جو کہ انسانیت کے مستقبل کے لئے واقعی خطرہ پیدا کرتی ہیں۔“
۳ اس کے علاوہ، پہلے سے زیادہ لوگ جرائم کا نشانہ بن رہے ہیں جو کہ دن بدن زیادہ سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔ نسلی، سیاسی، اور مذہبی نفرتیں مختلف ممالک کو ٹکڑے ٹکڑے کر رہی ہیں۔ بعض مقامات پر حالت زکریاہ ۱۴:۱۳ میں بیانکردہ آنے والے اس وقت سے دور نہیں، جب لوگ ”اتنے پریشان اور خائف“ ہوں گے ”کہ ہر ایک دوسرے آدمی کو پکڑ کر اس کے خلاف ہاتھ اٹھائے [ گا، ] ۔“ (ٹوڈیز انگلش ورشن) منشیات کا غلط استعمال اور جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریاں پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں۔ لاکھوں لوگ ایڈز سے متاثر ہیں، صرف ریاستہائے متحدہ ہی میں، ۱،۲۰،۰۰۰ سے زائد پہلے ہی اس کی وجہ سے مر گئے ہیں۔
گناہ اور موت کی غلامی
۴، ۵. ان آزادیوں سے قطعنظر جو آج موجود ہیں، کس قسم کی غلامی ہر ایک کو اپنی گرفت میں جکڑے رکھتی ہے؟
۴ تاہم، اگر ان بری حالتوں میں سے کوئی بھی موجود نہ ہو تو بھی لوگوں کو حقیقی آزادی میسر نہیں ہو گی۔ تمام کے تمام پھر بھی غلامی میں ہونگے۔ معاملہ ایسا کیوں ہے؟ مثال دیکر سمجھانے کیلئے: کیا ہو اگر ایک مطلقالعنان حاکم زمین پر کے تمام انسانوں کو غلام بنا لے اور ان سب کو قتل کر ڈالے؟ درحقیقت، یہی کچھ بنی آدم کے ساتھ واقع ہوا جب ہمارے پہلے والدین نے خدا کے خلاف بغاوت کی اور ابلیس کی ظالمانہ حکمرانی کے غلام بن گئے۔ ۲-کرنتھیوں ۴:۴۔
۵ جب خدا نے انسانوں کو خلق کیا تو جیسا کہ پیدایش ۱ اور ۲ باب ظاہر کرتا ہے اسکا ان کیلئے یہ مقصد تھا کہ وہ ایک فردوس میں اس زمین پر کاملیت کی حالت میں ہمیشہ تک زندہ رہیں۔ لیکن ہمارے جد امجد آدم کی خدا کے خلاف بغاوت کی وجہ سے، ہم سب حمل کے وقت ہی سے موت کی سزا کے تحت ہیں: ”ایک آدمی [آدم، بنی نوع انسان کے خاندان کے سردار] کے سبب سے گناہ دنیا میں آیا اور گناہ کے سبب سے موت آئی اور یوں موت سب آدمیوں میں پھیل گئی۔“ جیسے کہ بائبل کہتی ہے، ”موت نے ان پر بادشاہی کی۔“ (رومیوں ۵:۱۲، ۱۴) پس اس سے قطع نظر کہ ذاتی طور پر ہمیں کتنی آزادی حاصل ہے، ہم سب کے سب گناہ اور موت کی غلامی میں ہیں۔
۶. جب سے زبور ۹۰:۱۰ کو لکھا گیا اس وقت سے لیکر زندگی کی معیاد میں کم بہتری کیوں رہی ہے؟
۶ مزیدبرآں، زندگی جو اب ہمیں حاصل ہے وہ بڑی محدود ہے۔ یہاں تک کہ خوشنصیب لوگوں کے لئے بھی یہ صرف چند دہوں کی ہے۔ بدنصیبوں کے لئے، محض چند سال، یا اس سے بھی کم۔ اور ایک نئی تحقیق کہتی ہے: ”سائنس اور میڈیسن نے انسانی زندگی کی مدت کو اس کی قدرتی حدود تک پہنچا دیا ہے۔“ یہ اس لئے ہے کہ آدم کے گناہ کے نتیجہ میں ناکاملیت اور موت ہمارے توارثی نظام کا ایک حصہ ہے۔ یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ اگر ہم ۷۰ یا ۸۰ برس زندہ رہیں، جس وقت کہ ہمیں اور زیادہ عقلودانائی حاصل کرنی چاہیے اور زندگی سے بہتر طور پر لطفاندوز ہونا چاہیے، ہمارے بدن ٹوٹنے پھوٹنے لگتے ہیں اور ہم خاک میں جا ملتے ہیں! زبور ۹۰:۱۰۔
۷. کیوں انسان کبھی بھی ان حقیقی آزادیوں کے ماخذ نہیں بن سکتے جو ہم چاہتے ہیں اور جن کی ہمیں ضرورت ہے؟
۷ کس قسم کی انسانی حکمرانی گناہ اور موت کی اس غلامی کو روک سکتی ہے؟ کوئی بھی نہیں۔ کوئی سرکاری افسر، سائنسدان، یا ڈاکٹر ہمیں کہیں بھی بیماری، بڑھاپے، اور موت کی لعنتوں سے آزاد نہیں کرا سکتے، اور نہ ہی کوئی عدمتحفظ ، ناانصافی، جرم، بھوک ، اور غربت کو ختم کر سکتا ہے۔ (زبور ۸۹:۴۸) چاہے انسان کتنے ہی نیک نیت کیوں نہ ہوں، ان کے لئے یہ ناممکن ہے کہ وہ ان حقیقی آزادیوں کے ماخذ بن سکیں جو ہم چاہتے ہیں اور جن کی ہمیں ضرورت ہے۔ زبور ۱۴۶:۳۔
آزاد مرضی کا غلط استعمال
۸، ۹. کیا چیز انسانوں کو ان کی موجودہ افسوسناک حالت میں لے آئی؟
۸ انسانی خاندان اس افسوسناک حالت میں اس لئے ہے کیونکہ آدم اور حوا نے اپنی آزاد مرضی کو غلط استعمال کیا۔ دی جیروضلم بائبل کے مطابق ، پہلا پطرس ۲:۱۶ کہتی ہے: ”آزاد بندوں کی طرح رہو لیکن آزادی کو بدی کا پردہ نہ بناؤ۔“ پس یہ واضح ہو جاتا ہے کہ خدا کا یہ مقصد نہیں تھا کہ انسان کی آزادی غیرمحدود ہو۔ اسے خدا کے قوانین کی حدود کے اندر ہی استعمال کیا جانا تھا، جو کہ راست تھے اور یوں ہر ایک کی بہتری کے لئے کام کرینگے۔ اور وہ حدود اس قدر وسیع تھیں کہ ان میں شخصی پسند کی آزادی کی گنجائش تھی، تاکہ خدا کی حکمرانی کبھی بھی ظالمانہ نہ ہو۔ استثنا ۳۲:۴۔
۹ تاہم، ہمارے پہلے والدین نے اپنے لئے خود فیصلہ کرنے کا انتخاب کیا کہ کیا درست تھا اور کیا غلط تھا۔ چونکہ وہ جان بوجھ کر خدا کی حکمرانی سے باہر نکل آئے، اس لئے اس نے ان سے اپنی حمایت کو ہٹا لیا۔ (پیدایش ۳:۱۷-۱۹) یوں وہ ناکامل بن گئے، اور اس کے نتیجے میں بیماری اور موت آگئی۔ آزادی کی بجائے، نسلانسانی گناہ اور موت کی غلامی کے تحت آگئی۔ اس کیساتھ ساتھ وہ ناکامل اور، اکثر، ظالم انسانی حکمرانوں کی متلون مرضی کے تابع ہو گئے۔ استثنا ۳۲:۵۔
۱۰. یہوواہ نے معاملات کو کس پرمحبت طریقے سے نپٹایا ہے؟
۱۰ خدا نے انسانوں کو مفروضہ کلی آزادی کے اس تجربے کیلئے ایک محدود مدت ہی دی ہے۔ وہ جانتا تھا کہ نتائج کسی شک کے بغیر یہ ظاہر کر دینگے کہ خدا سے آزاد انسانی حکمرانی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ چونکہ آزاد مرضی، اگر اس کا صحیح استعمال کیا جائے تو یہ ایک ایسا قیمتی خزانہ ہے، اس لئے خدا نے اپنی محبت میں عارضی طور پر آزاد مرضی کی بخشش کو چھین لینے کی بجائے جو کچھ واقع ہوا ہے اس سب کی اجازت دے دی۔
”انسان اپنے قدموں کی راہنمائی نہیں کر سکتا“
۱۱. تاریخ نے کیسے بائبل کی صداقت کی حمایت کی ہے؟
۱۱ تاریخی ریکارڈ نے یرمیاہ ۱۰ باب کی ۲۳ اور ۲۴ آیات کی صداقت کو ظاہر کر دیا ہے، جو کہتی ہیں: ”انسان اپنی روش میں اپنے قدموں کی راہنمائی نہیں کر سکتا۔ اے [یہوواہ، NW] مجھے تنبیہ کر۔“ تاریخ نے واعظ ۸:۹ کی صداقت کو بھی ظاہرکر دیا ہے، جو بیان کرتی ہے: ”ایک شخص دوسرے پر حکومت کر کے اپنے اوپر بلا لاتا ہے۔“ کسقدر سچ! انسانی خاندان ایک کے بعد دوسری مصیبت میں گرفتار ہوا ہے، اور انجام کار سب کیلئے قبر ہی ہے۔ رسول پولس نے حالت کو ٹھیک طور پر بیان کیا جب اس نے کہا، جیسا کہ رومیوں ۸:۲۲ میں درج ہے: ”کیونکہ ہم کو معلوم ہے کہ ساری مخلوقات مل کر کراہتی ہے اور دردزہ میں پڑی تڑپتی ہے۔“ جی ہاں، خدا کے قوانین سے آزادی تباہ کن ثابت ہوئی ہے۔
۱۲. بعض دنیاوی ذرائع کلی آزادی کی بابت کیا کہتے ہیں؟
۱۲ کتاب انکویزیشن اینڈ لبرٹی نے آزادی کی بابت اس طرح سے تبصرہ کیا: ”خودمختاری بذات خود ضروری طور پر کوئی نادر شے نہیں، یہ کوئی ایسی چیز نہیں جس پر مزید لیاقت کے بغیر فخر کیا جائے۔ درحقیقت، یہ شاید، خودغرضی کی حقیر ترین اقسام میں سے محض ایک ہو . . . انسان نہ تو ہے، اور نہ ہی نامعقولیت کے بغیر، ایک مکمل طور پر آزاد مخلوق ہونے کی تمنا کر سکتا ہے۔“ اور انگلینڈ کے پرنس فلپ نے ایک مرتبہ کہا: ”ہر طرح کے منموجی کام میں ملوث ہونے کی آزادی اور جبلت شاید دلکش تو لگے، لیکن تجربہ بار بار یہ درس دیتا ہے کہ آزادی بغیر پابندی نفس کے . . . اور دوسروں کا لحاظ کئے بغیر والا طرزعمل ایک گروہ کے لوگوں کی زندگی کو تباہ کرنے کا ایک یقینی طریقہ ہے، اس سے قطع نظر کہ اس کی دولت کتنی ہے۔“
کون سب سے بہتر جانتا ہے؟
۱۳، ۱۴. فقط کون انسانی خاندان کیلئے حقیقی آزادی فراہم کر سکتا ہے؟
۱۳ کون سب سے بہتر طور پر یہ جانتا ہے کہ ایک گھر کو کیسے منظم کیا جانا چاہیے شفیق، قابل، تجربہکار والدین یا چھوٹے بچے؟ جواب بالکل واضح ہے۔ اسی طرح، انسانوں کا خالق، ہمارا آسمانی باپ، جانتا ہے کہ ہمارے لئے کیا بہترین ہے۔ وہ جانتا ہے کہ انسانی معاشرے کو کیسے منظم کیا جانا چاہئے اور اس پر کیسے اختیار رکھا جانا چاہیے۔ وہ جانتا ہے کہ ہر ایک کو حقیقی آزادی کا فائدہ پہنچانے کے لئے آزاد مرضی کا استعمال کس طرح کیا جانا چاہئے۔ صرف قادرمطلق خدا، یہوواہ، ہی یہ جانتا ہے کہ کیسے انسانی خاندان کو اس غلامی سے نکالا جائے اور سب کیلئے حقیقی آزادی فراہم کی جا ئے۔ یسعیاہ ۴۸:۱۷-۱۹۔
۱۴ اپنے کلام میں، رومیوں ۸:۲۱ میں، یہوواہ یہ پرجوش وعدہ کرتا ہے: ”مخلوقات بھی فنا کے قبضہ سے چھوٹ کر خدا کے فرزندوں کے جلال کی آزادی میں داخل ہو جائیگی۔“ جیہاں، خدا انسانی خاندان کو اس کی موجودہ تکلیفدہ حالت سے مکمل طور پر آزاد کرانے کا وعدہ کرتا ہے۔ اگلا مضمون اس پر بحث کریگا کہ یہ کیسے واقع ہوگا۔ (۶ ۴/۱ w۹۲)
آپ کیسے جواب دینگے؟
(صفحات ۳ تا ۸ پر نظرثانی کرتے ہو ئے)
▫ کیوں انسان آزادی کی بابت اس قدر زبردست احساس رکھتے ہیں؟
▫ پوری تاریخ میں لوگ کن طریقوں سے غلام بن گئے؟
▫ یہوواہ نے اتنے لمبے عرصہ تک آزاد مرضی کے غلط استعمال کی اجازت کیوں دی ہے؟
▫ فقط کون تمام انسانوں کے لئے حقیقی آزادی لا سکتا ہے، اور کیوں؟
[تصویر]
انسان کی زندگی کی میعاد بالکل ویسی ہی ہے جیسے کہ ۳،۵۰۰ سال پہلے زبور ۹۰:۱۰ میں بیان کیا گیا تھا
[تصویر کا حوالہ]
Courtesy of The British Museum