حصہ ۱۰
خدا کی بنائی ہوئی شاندار نئی دنیا
۱، ۲. پاک صاف کرنے والی ہرمجدون کی لڑائی کے بعد کیا واقع ہوگا؟
خداکی پاک صاف کرنے والی لڑائی ہرمجدون کے بعد، پھر کیا ہوگا؟ پھر ایک عالیشان نئے دَور کا آغاز ہوگا۔ ہرمجدون سے بچنے والوں کو، پہلے ہی خدا کی حکمرانی کیلئے اپنی وفاداری ثابت کر لینے کے بعد، نئی دنیا کے اندر لایا جائے گا۔ وہ تاریخ کا کیا ہی ہیجانخیز نیا دَور ہوگا جب خدا کی طرف سے انسانی خاندان کو شاندار فائدے پہنچیں گے!
۲ خدا کی بادشاہت کی زیرِہدایت، بچنے والے فردوس کی نشوونما کرنا شروع کریں گے۔ انکی قوتیں بےغرضانہ کاموں کیلئے وقف کر دی جائیں گی جو اس وقت تمام زندہ رہنے والوں کو فائدہ پہنچائینگی۔ زمین کو بنیآدم کیلئے ایک خوبصورت، پُرسکون، اطمینانبخش گھر میں تبدیل کیا جانا شروع ہو جائے گا۔
راستبازی بدکاری کی جگہ لے لیتی ہے
۳. ہرمجدون کے فوراً بعد کونسا فوری آرام محسوس کیا جائے گا؟
۳ یہ سب کچھ شیطان کی دنیا کی بربادی کے ذریعے ممکن بنا دیا جائیگا۔ منقسم کرنے والے جھوٹے مذاہب، معاشرتی نظام، یا حکومتیں باقی نہیں رہینگی۔ لوگوں کو فریب دینے کیلئے کوئی شیطانی پروپیگنڈا باقی نہیں رہیگا؛ اسکا باعث بننے والی تمام ایجنسیاں شیطان کے نظام کیساتھ ہی ختم ہو جائینگی۔ ذرا سوچیں: شیطان کی دنیا کی تمام زہریلی فضا صاف کر دی گئی! وہ کیا ہی آرام ہوگا!
۴. تعلیم میں جو تبدیلی واقع ہوگی اسکو بیان کریں۔
۴ پھر انسانی حکمرانی کے تباہکُن نظریات کی جگہ تعمیری تعلیم لے لیگی جو خدا کی طرف سے آتی ہے۔ ”تیرے سب فرزند خداوند سے تعلیم پائینگے۔“ (یسعیاہ ۵۴:۱۳) سالبسال اس عمدہ تعلیم کے باعث ”جسطرح سمندر پانی سے بھرا ہے اسی طرح زمین خداوند کے عرفان سے معمور ہوگی۔“ (یسعیاہ ۱۱:۹) پھر لوگ بُرائی نہیں سیکھینگے بلکہ ”دنیا کے باشندے صداقت [سیکھیں گے]۔“ (یسعیاہ ۲۶:۹) تعمیری خیال اور افعال روزمرہ کا معمول ہونگے۔—اعمال ۱۷:۳۱؛ فلپیوں ۴:۸۔
۵. تمام شرارت اور شریر لوگوں کے ساتھ کیا واقع ہوگا؟
۵ پس وہاں پر کوئی قتل، تشدد، زنابالجبر، ڈاکہزنی، یا کوئی اور جرم باقی نہیں رہیگا۔ کسی کو بھی دوسروں کے بُرے افعال کی وجہ سے تکلیف نہیں اُٹھانی پڑیگی۔ امثال ۱۰:۳۰ کہتی ہے: ”صادقوں کو کبھی جنبش نہ ہوگی لیکن شریر زمین پر قائم نہیں رہیں گے۔“
کامل صحت بحال کر دی گئی
۶، ۷. (ا) بادشاہت کس تلخ حقیقت کو ختم کر دیگی؟ (ب) جب یسوؔع زمین پر تھا تو اس نے اس کا مظاہرہ کیسے کیا تھا؟
۶ نئی دنیا میں ابتدائی بغاوت کے تمام بُرے اثرات زائل کر دئے جائینگے۔ مثال کے طور پر، بادشاہتی حکمرانی بیماری اور بڑھاپے کو ختم کر دیگی۔ آجکل خواہ آپ کسی حد تک اچھی صحت سے لطفاندوز ہوتے بھی ہوں تو بھی تلخ حقیقت یہ ہے کہ جب آپ بوڑھے ہونے لگتے ہیں تو آپ کی آنکھیں دھندلا جاتی ہیں، آپ کے دانت خراب ہو جاتے ہیں، آپ کی سماعت کمزور پڑ جاتی ہے، آپ کی جِلد پر جُھریاں پڑ جاتی ہیں، آپ کے اندرونی اعضا جواب دینے لگتے ہیں، یہانتک کہ بالآخر آپ مر جاتے ہیں۔
۷ تاہم، وہ تکلیفدہ اثرات جنہیں ہم نے اپنے پہلے والدین سے وراثت میں لیا تھا جلد ہی گئی گزری باتیں ہوں گی۔ آپ کو یاد ہے کہ جب یسوؔع زمین پر تھا تو اس نے صحت کے سلسلے میں کیا ظاہر کیا تھا؟ بائبل بیان کرتی ہے: ”بڑی بِھیڑ لنگڑوں۔ اندھوں۔ گونگوں۔ ٹنڈوں اور بہت سے اَور بیماروں کو اپنے ساتھ لیکر اس کے پاس آئی اور ان کو اس کے پاؤں میں ڈال دیا اور اس نے ان کو اچھا کر دیا۔ چنانچہ جب لوگوں نے دیکھا کہ گونگے بولتے . . . اور لنگڑے چلتے پھرتے اور اندھے دیکھتے ہیں تو تعجب کیا۔“—متی ۱۵:۳۰، ۳۱۔
۸، ۹. اس شادمانی کو بیان کریں جو نئی دنیا میں کامل صحت کی بحالی کے وقت آئے گی۔
۸ نئی دنیا میں کیا ہی بڑی خوشی ہوگی جب ہماری تمام بیماریاں ختم کر دی جائیں گی! کمزور صحت کی وجہ سے پیدا ہونے والی تکلیف پھر کبھی ہمیں اذیت نہیں پہنچائے گی۔ ”وہاں کے باشندوں میں بھی کوئی نہ کہے گا کہ میں بیمار ہوں۔“ ”اس وقت اندھوں کی آنکھیں وا کی جائیں گی اور بہروں کے کان کھولے جائیں گے۔ تب لنگڑے ہرن کی مانند چوکڑیاں بھریں گے اور گونگے کی زبان گائیگی۔“—یسعیاہ ۳۳:۲۴؛ ۳۵:۵، ۶۔
۹ کیا ہر صبح جاگنا اور یہ جاننا ہیجانخیز نہیں ہوگا کہ آپ اب عمدہ صحت سے لطفاندوز ہوتے ہیں؟ عمررسیدہ اشخاص کے لئے کیا یہ جاننا تسکینبخش نہیں ہوگا کہ وہ زیادہ جوان ہو رہے ہیں، یہانتک کہ وہ اس کاملیت کو حاصل کر لیں گے جس سے شروع میں آؔدم اور حوؔا نے لطف اٹھایا تھا؟ بائبل کا وعدہ ہے: ”اس کا جسم بچے کے جسم سے بھی تازہ ہو گا اور اس کی جوانی کے دن لوٹ آتے ہیں۔“ (ایوب ۳۳:۲۵) ان عینکوں، سماعتیآلوں، بیساکھیوں، پہیےدارکرسیوں، اور ادویات کو دُور پھینک دینا کتنی خوشی کی بات ہوگی! ہسپتالوں، ڈاکٹروں، اور دندانسازوں کی پھر کبھی ضرورت نہیں ہوگی۔
۱۰. موت کا کیا ہوگا؟
۱۰ جو اشخاص ایسی عمدہ صحت سے لطف اٹھاتے ہیں وہ مرنا نہیں چاہینگے۔ اور انہیں مرنا بھی نہیں پڑیگا کیونکہ نسلِانسانی اب موروثی ناکاملیت اور موت کے قبضے میں نہیں ہوگی۔ ”جب تک [خدا] سب دشمنوں کو اسکے پاؤں تلے نہ لے آئے“ مسیح کو ”بادشاہی کرنا ضرور ہے۔ سب سے پچھلا دشمن جو نیست کیا جائیگا وہ موت ہے۔“ ”خدا کی بخشش . . . ہمیشہ کی زندگی ہے۔“—۱-کرنتھیوں ۱۵:۲۵، ۲۶؛ رومیوں ۶:۲۳؛ نیز دیکھیں یسعیاہ ۲۵:۸۔
۱۱. مکاشفہ نئی دنیا کے فوائد کا خلاصہ کیسے بیان کرتا ہے؟
۱۱ فردوس میں انسانی خاندان کو پرواہ کرنے والے خدا کیطرف سے پہنچنے والے فوائد کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے، بائبل کی آخری کتاب کہتی ہے: ”اور [خدا] انکی آنکھوں کے سب آنسو پونچھ دیگا۔ اسکے بعد نہ موت رہیگی اور نہ ماتم رہیگا۔ نہ آہونالہ نہ درد۔ پہلی چیزیں جاتی رہیں۔“—مکاشفہ ۲۱:۳، ۴۔
مُردے واپس آتے ہیں
۱۲. یسوؔع نے اپنی خدا داد قیامت کی قوت کو کیسے ظاہر کیا؟
۱۲ یسوؔع نے بیماروں کو شفا دینے اور لنگڑوں کو تندرست کرنے سے زیادہ کچھ کیا۔ وہ انسانوں کو قبر سے بھی واپس لے آیا۔ لہٰذا، اس نے قیامت کی شاندار قوت کا مظاہرہ کیا جو خدا اسے دے چکا تھا۔ کیا آپ اس موقع کو یاد کرتے ہیں جب یسوؔع ایک آدمی کے گھر آیا جسکی لڑکی مر چکی تھی؟ یسوؔع نے مُردہ لڑکی سے کہا: ”اے لڑکی میں تجھ سے کہتا ہوں اٹھ!“ کس نتیجہ کے ساتھ؟ ”وہ لڑکی فیالفور اٹھکر چلنے پھرنے لگی۔“ یہ دیکھنے پر، وہاں پر موجود لوگ ”بہت ہی حیران ہوئے۔“ وہ اپنی خوشی پر بمشکل قابو رکھ سکے!—مرقس ۵:۴۱، ۴۲؛ نیز دیکھیں لوقا ۷:۱۱-۱۶؛ یوحنا ۱۱:۱-۴۵۔
۱۳. کن اقسام کے لوگ زندہ کئے جائینگے؟
۱۳ نئی دنیا میں ”راستبازوں اور ناراستوں دونوں کی قیامت ہوگی۔“ (اعمال ۲۴:۱۵) اس وقت یسوؔع اپنی خداداد قوت کو مُردے زندہ کرنے کے لئے استعمال کرے گا چونکہ جیسے اس نے کہا: ”قیامت اور زندگی تو میں ہوں۔ جو مجھ پر ایمان لاتا ہے گو وہ مر جائے تو بھی زندہ ہو جائیگا۔“ (یوحنا ۱۱:۲۵، اینڈبلیو) اس نے یہ بھی کہا: ”جتنے قبروں [خدا کی یاد] میں ہیں اس کی [یسوؔع کی] آواز سنکر نکلینگے۔“—یوحنا ۵:۲۸، ۲۹۔
۱۴. چونکہ موت باقی نہ رہیگی، اسلئے کونسی چیزیں ختم کر دی جائینگی؟
۱۴ تمام زمین پر بڑی خوشی کا عالم ہوگا جب مُردہ اشخاص کے گروہ کے گروہ اپنے عزیزوں کے ساتھ شامل ہونے کیلئے پھر سے زندہ ہو جائیں گے! بچنے والوں کے لئے افسردگی لانے والی موت کی خبریں شائع کرنے کے کالم پھر نہیں ہوں گے۔ اس کی بجائے، حالت اس کے بالکل ہی برعکس ہو سکتی ہے: نئے قیامت پانے والوں کی بابت اعلانات ان اشخاص کو خوشی دینے کے لئے ہوں گے جو ان سے محبت رکھتے تھے۔ پس اب کوئی جنازے، چتائیں، نعشسوز بھٹیاں، یا قبرستان نہیں ہونگے!
واقعی پُرامن دنیا
۱۵. مکمل مفہوم میں میکاؔہ کی پیشینگوئی کی تکمیل کس طرح ہو جائے گی؟
۱۵ زندگی کے تمام حلقوں میں حقیقی امن حاصل ہو جائے گا۔ جنگیں، جنگیں پھیلانے والے، اور ہتھیاروں کی صنعتکاری گئی گزری باتیں ہوں گی۔ کیوں؟ اس لئے کہ منقسم کرنے والے قومی، قبائلی، اور نسلی مفادات کافور ہو جائیں گے۔ اس کے بعد، مکمل مفہوم میں، ”قوم قوم پر تلوار نہ چلائیگی اور وہ پھر کبھی جنگ کرنا نہ سیکھینگے۔“—میکاہ ۴:۳۔
۱۶. خدا کیسے اس بات کا خیال رکھیگا کہ جنگیں ناممکن ہو جائیں؟
۱۶ خون کی پیاسی انسانی تاریخ کی مسلسل جنگ کے پیشِنظر، یہ شاید حیرانکُن دکھائی دے۔ لیکن یہ اسلئے واقع ہوا ہے کہ بنیآدم انسان اور شیاطین کی حکمرانی کے تحت رہے ہیں۔ یہ ہے جو نئی دنیا میں، بادشاہتی حکمرانی کے تحت واقع ہوگا: ”آؤ! خداوند کے کاموں کو دیکھو . . . وہ زمین کی انتہا تک جنگ موقوف کراتا ہے۔ وہ کمان کو توڑتا اور نیزے کے ٹکڑے کر ڈالتا ہے۔ وہ [جنگی] رتھوں کو آگ سے جلا دیتا ہے۔“—زبور ۴۶:۸، ۹۔
۱۷، ۱۸. نئی دنیا میں انسان اور جانوروں کے درمیان کیا تعلق موجود ہوگا؟
۱۷ انسان اور حیوان بھی اسی طرح صلح سے رہیں گے، جیسے وہ عدؔن میں رہتے تھے۔ (پیدایش ۱:۲۸؛۲:۱۹) خدا کہتا ہے: ”تب میں ان کیلئے جنگلی جانوروں اور ہوا کے پرندوں اور زمین پر رینگنے والوں سے عہد کرونگا . . . اور لوگوں کو امنوامان سے لیٹنے کا موقع دونگا۔“—ہوسیع ۲:۱۸۔
۱۸ وہ صلح کتنی وسیع ہوگی؟ ”پس بھیڑیا بّرہ کے ساتھ رہے گا اور چیتا بکری کے بچے کے ساتھ بیٹھے گا اور بچھڑا اور شیربچہ اور پلا ہوا بیل مِل جُل کر رہیں گے اور ننّھا بچہ ان کی پیشروی کرے گا۔“ جانور پھر کبھی انسان کے لئے یا خود اپنے لئے خطرہ نہیں ہوں گے۔ یہاں تک کہ ”شیر ببر بیل کی طرح بھوسا کھائے گا“!—یسعیاہ ۱۱:۶-۹؛ ۶۵:۲۵۔
زمین ایک فردوس میں تبدیل کر دی گئی
۱۹. زمین کس چیز میں تبدیل ہو جائیگی؟
۱۹ تمام زمین بنیآدم کیلئے ایک فردوسی گھر میں تبدیل ہو جائیگی۔ اسی وجہ سے یسوؔع ایک شخص سے جو اس پر ایمان لایا تھا یہ وعدہ کر سکتا تھا: ”تو میرے ساتھ فردوس میں ہوگا۔“ بائبل کہتی ہے: ”بیابان اور ویرانہ شادمان ہونگے اور دشت خوشی کریگا اور نرگس کی مانند شگفتہ ہوگا . . . کیونکہ بیابان میں پانی اور دشت میں ندیاں پھوٹ نکلینگی۔“—لوقا ۲۳:۴۳؛ یسعیاہ ۳۵:۱،۶۔
۲۰. پھر کبھی بھوک بنیآدم کو تکلیف کیوں نہ پہنچائیگی؟
۲۰ خدا کی بادشاہت کے تحت، پھر کبھی لاکھوں لوگوں کو بھوک نہیں ستائے گی۔ ”زمین میں پہاڑوں کی چوٹیوں پر اناج کی افراط ہوگی۔“ ”میدان کے درخت اپنا میوہ دینگے اور زمین اپنا حاصل دیگی اور وہ سلامتی کیساتھ اپنے ملک میں بسینگے۔“—زبور ۷۲:۱۶؛ حزقیایل ۳۴:۲۷۔
۲۱. بےخانگی، تنگ وتاریک گلیوں، اور خراب آبادیوں کیساتھ کیا ہوگا؟
۲۱ پھر غربت، بےخانماں لوگ، گندی و تاریک گلیاں، یا جرم سے بھری ہوئی آبادیاں باقی نہیں رہیں گی۔ ”وہ گھر بنائینگے اور ان میں بسینگے۔ وہ تاکستان لگائینگے اور ان کے میوے کھائینگے۔ نہ کہ وہ بنائیں اور دوسرا بسے۔ وہ لگائیں اور دوسرا کھائے۔“ ”تب ہر ایک آدمی اپنی تاک اور اپنے انجیر کے درخت کے نیچے بیٹھیگا اور انکو کوئی نہ ڈرائیگا۔“—یسعیاہ ۶۵:۲۱، ۲۲؛ میکاہ ۴:۴۔
۲۲. بائبل خدا کی حکمرانی کی برکات کو کیسے بیان کرتی ہے؟
۲۲ فردوس میں انسانوں کو یہ تمام چیزیں، اور مزید بھی عطا کی جائینگی۔ زبور ۱۴۵:۱۶ کہتی ہے: ”تُو [خدا] اپنی مٹھی کھولتا ہے اور ہر جاندار کی خواہش پوری کرتا ہے۔“ تعجب نہیں کہ بائبل پیشینگوئی اعلان کرتی ہے: ”حلیم ملک کے وارث ہونگے اور سلامتی کی فراوانی سے شادمان رہیں گے۔ . . . صادق زمین کے وارث ہونگے اور اس میں ہمیشہ بسے رہیں گے۔“—زبور ۳۷:۱۱، ۲۹۔
ماضی کے اثر کو زائل کرنا
۲۳. خدا کی بادشاہت اس تمام تکلیف کے اثر کو کیسے زائل کریگی جسکا ہم نے تجربہ کیا ہے؟
۲۳ خدا کی بادشاہتی حکمرانی اس تمام نقصان کے اثر کو زائل کریگی جو گزشتہ چھ ہزار سالوں میں انسانی خاندان کو پہنچا ہے۔ اس وقت مسّرتیں کسی بھی اس تکلیف سے زیادہ ہونگی جسکا انسان تجربہ کر چکے ہیں۔ گزشتہ تکلیف کی کوئی بھی تلخ یادیں زندگی میں خلل پیدا نہیں کرینگی۔ تعمیری خیالات اور سرگرمیاں جو لوگوں کی زندگی کا معمول ہونگی، دردناک یادوں کو بتدریج مٹا دینگی۔
۲۴، ۲۵. (ا) یسعیاؔہ نے کیا واقع ہونے کی پیشینگوئی کی تھی؟ (ب) ہم کیوں یقین رکھ سکتے ہیں کہ گزشتہ تکلیف کی یادیں کمزور پڑ جائیں گی؟
۲۴ پرواہ کرنے والا خدا اعلان کرتا ہے: ”میں نئے آسمان [بنیآدم پر ایک نئی آسمانی حکومت] اور نئی زمین [ایک راستباز انسانی معاشرے] کو پیدا کرتا ہوں اور پہلی چیزوں کا پھر ذکر نہ ہوگا اور وہ خیال میں نہ آئینگی۔ بلکہ تم میری اس نئی خلقت سے ابدی خوشی اور شادمانی کرو۔“ ”ساری زمین آرام و آسایش سے ہے [”آرام سے ہے۔ خلل سے آزاد ہو گئی ہے،“ اینڈبلیو]۔ وہ یکایک گیت گانے لگتے ہیں۔“—یسعیاہ ۱۴:۷؛ ۶۵:۱۸،۱۷۔
۲۵ پس اپنی بادشاہت کے ذریعے، خدا اس خراب حالت کو مکمل طور پر اُلٹ دے گا جو طویل عرصے تک قائم رہی ہے۔ ابدالآباد تک وہ ہمارے لئے برکات نازل کرنے سے بڑی فکر دکھائے گا جو کسی بھی تکلیف کی وجہ سے پیدا ہونے والی کمی کو پورا کرنے سے کہیں زیادہ ہونگی جو ہم ماضی میں پا چکے ہیں۔ گزشتہ مصیبتیں جنکا ہم تجربہ کر چکے ہیں، اگر کبھی ہم انہیں یاد رکھنا بھی چاہیں گے تو اس وقت انکی یاد کمزور پڑ جائے گی۔
۲۶. خدا ماضی کی ہماری کسی بھی تکلیف کی تلافی کیوں کریگا؟
۲۶ اسطرح سے خدا ہمارے لئے اس تکلیف کی تلافی کریگا جو شاید ہم اس دنیا میں برداشت کر چکے ہیں۔ وہ جانتا ہے کہ یہ ہماری خطا نہیں ہے کہ ہم ناکامل پیدا ہوئے تھے، کیونکہ ہم نے اپنے پہلے والدین سے ناکاملیت ورثے میں پائی۔ یہ ہماری خطا نہ تھی کہ ہم ایک شیطانی دنیا میں پیدا ہوئے تھے، کیونکہ اگر آؔدم اور حوؔا وفادار رہے ہوتے تو ہم اسکی بجائے ایک فردوس میں پیدا ہوئے ہوتے۔ پس خدا بڑی رحمدلی کیساتھ اس خراب ماضی کی کمی کو پورا کرنے سے کہیں زیادہ کام کریگا جو ہم پر مسلّط کر دیا گیا تھا۔
۲۷. نئی دنیا میں کونسی پیشینگوئیاں اپنی شاندار تکمیل کو دیکھینگی؟
۲۷ نئی دنیا میں، بنیآدم اس آزادی کا تجربہ کرینگے جسکی رومیوں ۸:۲۱، ۲۲ میں پیشینگوئی کی گئی ہے: ”مخلوقات بھی فنا کے قبضہ سے چھوٹ کر خدا کے فرزندوں کے جلال کی آزادی میں داخل ہو جائیگی۔ کیونکہ ہم کو معلوم ہے کہ ساری مخلوقات ملکر اب تک کراہتی ہے اور دردِزہ میں پڑی تڑپتی ہے۔“ اس وقت لوگ اس دعا کی مکمل تکمیل کو دیکھیں گے: ”تیری بادشاہی آئے۔ تیری مرضی جیسی آسمان پر پوری ہوتی ہے زمین پر بھی ہو۔“ (متی ۶:۱۰) زمینی فردوس کی شاندار حالتیں آسمان کی حالتوں کو منعکس کرینگی۔
[صفحہ ۲۳ پر تصویریں]
نئی دنیا میں، عمررسیدہ لوگوں کی جوانی کی قوت لوٹ آئے گی
[صفحہ ۲۴ پر تصویر]
نئی دنیا میں تمام بیماریاں اور معذوریاں ختم ہو جائیں گی
[صفحہ ۲۵ پر تصویر]
نئی دنیا میں مُردے زندگی کی قیامت پائینگے
[صفحہ ۲۶ پر تصویر]
’وہ پھر کبھی جنگ کرنا نہ سیکھینگے‘
[صفحہ ۲۷ پر تصویریں]
فردوس میں انسانوحیوان میں پوری صلح ہوگی
[صفحہ ۲۷ پر تصویر]
’خدا اپنی مٹھی کھو لے گا اور ہر جاندار کی خواہش کو پورا کرے گا‘
[صفحہ ۲۸ پر تصویر]
خدا کی بادشاہت اس تمام تکلیف کی کمی کو پورا کر نے سے کہیں زیادہ کچھ کرے گی جو ہم نے برداشت کی ہے