صحت اور خوشی آپ انہیں کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟
انسان طویل عرصے سے صحت اور خوشی کے درمیان گہرے تعلق کو تسلیم کر چکا ہے۔ سقراط جسے ”طب کا بانی“ خیال کیا جاتا ہے، اس نے بیان کیا: ”ایک صاحبحکمت شخص کو یہ سمجھنا چاہیے کہ انسان کو دی گئی تمام برکتوں میں صحت سب سے افضل ہے۔“ جرمن مفکر آرتھرشوپینہایور نے نشاندہی کی: ”انسانی خوشی کے دو دشمن درد اور اکتاہٹ ہیں۔“
کتاب انیٹمی آف این النس ایز پرسیوڈ بائے دی پیشنٹ میں نارمن کزنز نے اپنا ایک تجربہ بیان کیا جو کہ اسے امکانی طور پر زندگی کے لیے خطرناک بیماری پر ہنسی کے ذریعے قابو پانے کے سلسلے میں ہوا۔ اس نے کسی حد تک اپنی صحتیابی کو اس پرجوش ہنسی پر محمول کیا جو کہ اسے مزاحیہ فلمیں دیکھنے سے آتی تھی۔ نامور ڈاکٹروں نے بعض کیمیکلز پر، جو کہ انڈورفنز کہلاتی ہیں، اور اس وقت جسم سے خارج ہوتی ہیں جب ہم ہنستے ہیں، ممکنہ فائدہ حاصل کرنے۔ کے لیے تحقیق شروع کر دی ہے۔ پس یوں ہم الہامی امثال کی اس حکمت کو سمجھ سکتے ہیں: ”شادمان دل شفا بخشتا ہے۔“ امثال ۱۷:۲۲۔
تاہم، پرمتناقص طور سے، تحقیقدان اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ اچھی صحت ضروری طور پر خوشی کی گارنٹی نہیں، کیونکہ بہتیرے صحتمند لوگ ناخوش ہیں۔ ۱۰۰،۰۰۰ سے زیادہ لوگوں سے کیے گئے سوالنامہ اور انٹرویو کے جوابات پر مبنی تحقیق نے جوناتھن فریڈمین کو اس غیرمتوقع نتیجہ پر پہنچایا کہ ۵۰ فیصد سے زیادہ لوگ جو اپنی زندگیوں سے ناخوش تھے وہ بنیادی طور پر صحتمند اشخاص تھے۔
صحت اور خوشی—ایک لفظ میں
تو پھر، صحت اور خوشی کے حیرانکن اتصال کو، ہمیں کہاں تلاش کرنا ہو گا؟ کئی صدیاں پہلے کنفیوشس نے یہ دلچسپ بصیرت پیش کی: ”اچھی حکومت اس وقت حاصل ہوتی ہے جب اس کے قریبی لوگوں کو خوش کیا جاتا ہے، اور جو دور ہوتے ہیں وہ اس کے گرویدہ ہوتے ہیں۔“ ہمارے وقت کے بالکل قریب ہی، سیاستدان تھامس جیفرسن نے دعویٰ کیا کہ حکومت کا واحد مقصد یہی ہے کہ ”اپنے زیرسایہ رہنے والے عام لوگوں میں جہاں تک ممکن ہو خوشی کے احساس کو محفوظ رکھے۔“
درحقیقت، انتہائی قریبی تجزیہ یہ آشکارہ کرتا ہے کہ صحت اور خوشی کے لیے نسلانسانی کی جستجو کا بنیادی جواب بلاشبہ ایک ہی چیز حکومت پر مرتکز ہے۔
مدتوں سے، انسانوں نے اپنی خوشی کے لیے حکومت کی طرف نظریں لگائی ہیں۔ مثال کے طور پر، ریاستہائے متحدہ کے ڈیکلریشن آف انڈیپینڈینس میں یہ مشہور الفاظ شامل تھے: ”ہم ان سچائیوں کو بدیہی تسلیم کرتے ہیں کہ تمام انسان مساوی پیدا کیے گئے ہیں، اور یہ کہ انہیں اپنے خالق کی طرف سے بعض ناقابلانتقال حقوق عطا کیے گئے ہیں، جن میں زندگی، آزادی اور خوشی کی جستجو شامل ہیں۔“ غور کریں کہ وہاں پر تصورکردہ حکومت نے اپنی رعایا سے صرف یہ وعدہ کیا کہ وہ خوشی کی جستجو کریں۔ جہاں تک صحت کا تعلق ہے، بہتیری حکومتوں نے قابلتعریف طور پر اپنے شہریوں کی صحت کو بہتر بنانے کے متعلق پروگراموں کی تائید کی ہے۔ پھر بھی، بہتیروں کے لیے عمومی طور پر اچھی صحت مغالطہآمیز ثابت ہوئی ہے۔
تاہم اس حکومت کی بابت کیا ہے جو اس سے بھی زیادہ فراہم کرنے کا وعدہ کرتی ہے؟ اور اگر یہ نہ صرف خوشی کی تلاش بلکہ خود خوشی دینے کا وعدہ بھی کرے تب کیا ہو؟ اور اگر یہ نہ صرف صحت کے بیمے کا بلکہ خود اچھی صحت کا بھی وعدہ کرے تب کیا ہو؟ کیا آپ اس سے خوش نہ ہوں گے کہ انسان کی صحت اور خوشی کی جستجو کا بنیادی حل اسی کے پاس ہے؟
بہتیرے آج کل شاید یہ سوچیں کہ یہ تو ایک غیریقینی سا خواب ہے، تاہم ایک ایسی حکومت کی دراصل پیشنگوئی کی گئی ہے اور اسکی بابت کچھ تفصیل بھی بیان کی گئی ہے۔ یہ حکومت خدا کی مسیحائی بادشاہت ہے، اور اس کی بابت قابلاعتماد معلومات ہمیں بائبل مقدس میں مل سکتی ہیں۔
خدا کی بادشاہت، یا حکومت
بائبل اکثر ”خدا کی بادشاہت“ کا ذکر کرتی ہے۔ بھلا یہ کیا ہے؟ وبسٹرز نیو ورلڈ ڈکشنری آف دی امریکن لینگویج ”بادشاہت“ کی تشریح بطور ”ایک حکومت یا ملک کے کرتی ہے جس کا سربراہ ایک ملکہ یا بادشاہ ہو۔“ آسان لفظوں میں بیان کرتے ہوئے، خدا کی بادشاہت ایک حکومت، ایک شاہی حکومت ہے جس کا سربراہ خدا کا ممسوح بیٹا اور بادشاہ، یسوع مسیح ہے۔ خدا کے مقصد کے لیے یہ حکومت کتنی اہم ہے؟ یسوع کے الفاظ کو جواب دینے دیں: ”پہلے بادشاہی کی تلاش کرو . . . بادشاہی کی اس خوشخبری کی منادی تمام آبادشدہ زمین پر ہو گی . . . مجھے خدا کی بادشاہی کی خوشخبری سنانا ضرور ہے کیونکہ میں اسی لیے بھیجا گیا ہوں۔ . . . اس وقت سے خدا کی بادشاہی کی خوشخبری دی جاتی ہے اور ہر ایک اس میں زور مار کر داخل ہوتا ہے۔“ متی ۶:۳۳، ۲۴:۱۴، لوقا ۴:۴۳، ۱۶:۱۶، NW۔
اناجیل میں یسوع کی زندگی کی سرگزشت میں لفظ ”بادشاہی“ سینکڑوں بار استعمال ہوا ہے، بعض اوقات خاص طور پر صحت اور خوشی کے ضمن میں۔ متی ۹:۳۵ پر غور کریں: ”اور یسوع سب شہروں اور گاؤں میں پھرتا رہا، اور انکے عبادتخانوں میں تعلیم دیتا اور بادشاہی کی خوشخبری کی منادی کرتا اور ہر طرح کی بیماری اور ہر طرح کی کمزوری دور کرتا رہا۔“ اگرچہ یسوع نے اچھی صحت لانے کا ذکر بادشاہت کی بابت اپنی تعلیم کے ساتھ ملا کر کیا، ہمیں اس پر بھی غور کرنا چاہیے کہ اس کے منادی کرنے اور تعلیم دینے کے مقابلے میں اسکا بیماریوں کو ٹھیک کرنا ایک اتفاقیہ بات تھی۔ وہ بطور ایک ”استاد“ کے جانا جاتا تھا نہ کہ بطور ایک ”شفا بخشنے والے کے۔“ (متی ۲۶:۱۸، مرقس ۱۴:۱۴، یوحنا ۱:۳۸) بنیادی طور پر اس نے لوگوں کو شفا دینے اور بیماروں کو نگہداشت فراہم کرنے پر ہی توجہ مرکوز نہیں رکھی۔ اس کی اولین فکر ہمیشہ بادشاہت ہی رہی۔ لوگوں کو بیماریوں سے شفا دینے سے، اس نے اپنی رحمدلی کا اظہار کیا اور یہ ظاہر کیا کہ اسے الہی حمایت حاصل تھی۔
یسوع کے ذریعے شفایابیوں نے اس وقت کا نظارہ پیش کیا جب وہ پوری زمین پر بادشاہتی اختیار کو چلاتے ہوئے انسانی صحت کو بحال کرنے کے لیے کام کرے گا۔ مکاشفہ ۲۲:۱، ۲ میں بیانکردہ رویا نے اسے اور بھی یقینی بنا دیا ہے: ”پھر اس نے مجھے بلور کی طرح چمکتا ہوا آبحیات کا ایک دریا دکھایا جو خدا اور برہ کے تخت سے نکل کر اس شہر کی سڑک کے [ درمیان] بہتا تھا۔ اور دریا کے وارپار زندگی کا درخت تھا۔ اس میں بارہ قسم کے پھل آتے تھے اور ہر مہینے میں پھلتا تھا اور اس درخت کے پتوں سے قوموں کو شفا ہوتی تھی۔“
لیکن اس سے لطف اٹھانا ہمارے لیے کہاں ممکن ہوگا؟ زمین پر ایسی شاندار شفا کے واقع ہونے کی توقع کرنا شاید بھلا معلوم دے۔ تاہم، یسوع کے ان الفاظ کو یاد کریں جو شاید آپ نے خود دعا میں کہے ہوں: ”تیری بادشاہی آئے۔ تیری مرضی جیسی آسمان پر پوری ہوتی ہے زمین پر بھی ہو۔“ متی ۶:۱۰۔
لہذا، مستقبل میں خوشی اور صحت کے لیے ہماری حقیقی، ہماری قابلبھروسہ، امید خدا کی مسیحائی بادشاہت کے ساتھ وابستہ ہے۔ تاہم، ایک سوال باقی رہ جاتا ہے۔
کیا ہم اب خوشی اور صحت سے لطفاندوز ہو سکتے ہیں؟
اب بھی، ہمارا بائبل اصولوں پر چلنا شاید ہمیں کسی حد تک اضافی خوشی کے ساتھ، اچھی صحت سے لطفاندوز ہونے کے قابل بنائے۔ جیسے کہ اس رسالے کے صفحات میں بارہا اس کی نشان دہی کی گئی ہے کہ جو بائبل کو اپنی روزمرہ زندگیوں میں استعمال کرتے ہیں وہ عام طور پر جنسیبداخلاقی، سگریٹ نوشی، زیادہ مے پینے، اور منشیات کے ناجائز استعمال کے نتیجہ میں لگنے والی صحت کی بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں۔ انہیں ایک پرسکون زندگی اور رشتہداروں اور دیگر لوگوں کے ساتھ عمدہ تعلقات کے فوائد کا تجربہ بھی ہوتا ہے۔
تاہم، ہم پہلے ہی یہ دیکھ چکے ہیں کہ یہ ضروری نہیں کہ اچھی صحت دائمی خوشی پر منتج ہو۔ زیادہ خوشی سے لطفاندوز ہونے کے لیے آپ کو کیا کرنے کی ضرورت ہے؟
شروع میں بیانکردہ تحقیق میں، جوناتھن فریڈمین نے اس سوال کی گہرائی پر غور کیا۔ اس نے ایسے پہلوؤں پر غور کیا جیسے ”جنس اور محبت،“ ”جوانی اور عمر،“ ”آمدنی اور تعلیم،“ اور ”قصبہ اور دیہات۔“ شاید یہ جاننا آپ کو دلچسپ لگے کہ اس کی تحقیق یہ تھی کہ یہ تمام عناصر ایک شخص کی بنیادی خوشی پر بہت کم اثرانداز ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، بہت سے ایسے لوگوں کے واقعات بیان کرتے ہوئے جن کے پاس بیشمار مادی اشیاء تھیں لیکن وہ پھر بھی ناخوش تھے، اس نے یہ نتیجہ اخذ کیا: ”کسی حد تک حیرانکن طور پر، ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ نہ تو آمدنی اور نہ ہی تعلیم خوشی کے سلسلے میں کوئی اہم کردار ادا کرتی دکھائی دیتی ہے۔“
اسکے نتائج بائبل کے ایک دانشور مصنف، رسول پولس، کے الفاظ کو دوہراتے ہیں جس نے کہا: ”میں نے یہ سیکھا ہے کہ میں جس حالت میں ہوں، اسی پر قناعت کروں۔“ (فلپیوں ۴:۱۱، کنگ جیمز ورشن) یسوع کے الفاظ کو بھی یاد کریں: ”خبردار! اپنے آپ کو ہر طرح کے لالچ سے بچائے رکھو کیونکہ کسی کی زندگی اسکے مال کی کثرت پر موقوف نہیں۔“ لوقا ۱۲:۱۵۔
بلاشبہ، پروفیسر فریڈمین نے یہ جان لیا تھا: ”بارہا، جب ہم ان بیانات پر غور کرتے ہیں جو ان ناخوش لوگوں کی طرف سے دیے جاتے ہیں جن کے پاس بظاہر سب کچھ ہوتا ہے تو ہم انہیں ایسے تبصرے کرتے سنتے ہیں کہ ان کی زندگیوں میں مقصد اور راہنمائی کی کمی ہے۔“ اس نے مزید کہا: ”مجھے اس کی بابت بہت کچھ کہتے ہوئے ہچکچاہٹ محسوس ہوتی ہے، لیکن یہ دکھائی دیتا ہے کہ روحانی قدریں حقیقت کی بابت ہمارے احساسات پر اثرانداز ہوتی ہیں، جبکہ ان کی کمی ہر چیز کو کسی حد تک زہریلا بنا دیتی یا دیگر ہر چیز کی قدر میں کمی کر دیتی ہے۔“
اپنے زمانے میں ہم ان شہادتوں میں پائی جانے والی سچائی کا ثبوت دیکھتے ہیں۔ اپنے اردگرد نظر دوڑائیں۔ کیا آپ تقریباً سب لوگوں کو بعض کو تھوڑی، بعض کو زیادہ خوشی سے لطفاندوز ہونے کی بجائے اس کے پیچھے بھاگتے نہیں دیکھتے؟ سچ ہے، بعض ناامید ہو گئے ہیں اور نہایت مایوسی کی حالت میں رہتے ہیں، تاہم بہتیرے اپنی زندگیاں ایسے گذار رہے ہیں جیسے کہ وہ اکتا دینے والا کام کر رہے ہیں یعنی اس کے پیچھے بھاگ رہے ہیں لیکن وہ سب کچھ جس کی انہیں تلاش ہے وہ اسے پکڑ نہیں سکتے۔ بعض خوشی پانے کے لیے شادی کر لیتے ہیں، جبکہ ان کا پڑوسی خواہ اسی وجہ سے طلاق دے رہا ہو۔ دیگر لوگ اپنے آپکو کام میں غرق کر لیتے ہیں، جبکہ کئی دوسرے شاید لمبی اور مہنگی چھٹیاں گذارنے کے لیے کام چھوڑ دیتے ہیں۔ سب ایک ہی طرح کے مغالطہآمیز انجام یعنی صحتمند اور خوش رہنے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ کیا وہ اسے پا لیتے ہیں؟ کیا آپ نے اسے پا لیا ہے؟
آپکی صحت، آپکی خوشی
حقیقت تو یہ ہے کہ آپ اب کسی حد تک صحت اور خوشی حاصل کر سکتے ہیں۔ لیکن کیسے؟
یقیناً یہ دانشمندی ہو گی کہ متوازن طور پر صحت کا خیال رکھنے کے لیے کوشش کی جائے جیسے کہ بائبل کی عملی مشورت کا اطلاق کرنا۔ یہ حقیقت پسندانہ بننے میں بھی مددگار ثابت ہو گا۔ اس میں یہ شامل ہے کہ ہم یہ سمجھ لیں کہ بیماری ہمارے ناکامل بدن پر شاید حملہآور ہو، لیکن جب ایسا ہو تو ہم ہرگز پستہمت نہیں ہوں گے۔ یہ شاید مزید کوشش کا تقاضا کرے کہ ہم آنے والے نئے عالمی نظام میں کامل صحت کے وعدہ پر یقین کے ساتھ ایک رجائیت پسند رجحان کو برقرار رکھنے کی کوشش کریں۔
یہ یقین کرنے کے لیے کہ آیا آپ اب بھی معقول حد تک خوش ہیں، خود سے یہ سوالات پوچھیں: ۱۔ کیا میں لازمی طور پر اپنی زندگی پر کنٹرول رکھتا ہوں؟ ۲۔ کیا بنیادی طور پر اپنے اور اپنے اردگرد کے لوگوں کے ساتھ میری صلح ہے؟ ۳۔ کیا میں عام طور پر بائبل کی روشنی میں تولی گئی اپنی زندگی کی کامیابیوں سے خوش ہوں؟ ۴۔ خدا کی خدمت کرنے کے قابل ہوتے ہوئے کیا میں اور میرا خاندان لطفاندوز ہو رہے ہیں؟
بڑی حد تک انتخاب ہمارا اپنا ہے۔ ہم میں سے بہتیرے شاید بنیادی طور پر صحتمند ہوں، اور خوش رہنے کے لیے ہمارے پاس انتخاب کا موقع ہے۔ لیکن ضرور ہے کہ ہمارے پاس روحانی منازل ہوں اور پھر ان کے حصول کے لیے کام کریں۔ یسوع کے الفاظ یاد رکھیں: ”جہاں تیرا مال ہے، وہیں تیرا دل بھی لگا رہے گا۔“ (متی ۶:۲۱) اور ہمارے پاس تو بائبل پر مبنی وجہ ہے کہ مسیحائی بادشاہت کی کامل حکمرانی کے تحت اور بھی بڑی خوشی اور صحت کے منتظر رہیں۔ تب مکمل صحت اور خوشی ہماری ہو سکتی ہیں۔ (۴ ۸/۱۵ w۹۱)
[صفحہ 7 پر تصویر]
خوش لوگ دوسروں کو کامل صحت کی اپنی امید میں شریک کرکے شادمان ہوتے ہیں