خوشی اسقدر مغالطہآمیز
غصہ، پریشانی اور افسردگی طویل عرصے سے سائنسی تحقیقات کا موضوع رہے ہیں۔ تاہم، حالیہ برسوں کے دوران، صفِاوّل کے سائنسدان اپنی تحقیق ایک مثبت اور پسندیدہ انسانی تجربے—خوشی پر مرکوز کر رہے ہیں۔
کیا چیز لوگوں کو زیادہ خوش کر سکتی ہے؟ اگر وہ زیادہ جوان، امیر، صحتمند، لمبے یا دُبلے ہوتے؟ حقیقی خوشی کی کُنجی کیا ہے؟ بیشتر لوگ اگر اِس سوال کا جواب دینا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور پاتے ہیں۔ خوشی کی تلاش میں وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی ناکامی پر غور کرتے ہوئے، بعض شاید اِس سوال کا جواب دینا زیادہ آسان پائینگے کہ کیا چیز خوشی کی کُنجی نہیں ہے۔
ایک طویل عرصے تک، ممتاز نفسیاتدانوں نے خودپسندیت کے فلسفے کو خوشی کی کُنجی کے طور پر تجویز کِیا۔ اُنہوں نے ناخوش لوگوں کی حوصلہافزائی کی کہ اپنی پوری توجہ اپنی انفرادی ضروریات کی تسکین پر مرتکز کریں۔ نفسیاتی طریقۂعلاج میں ”انفرادیتپسند بنیں،“ ”خود کو پہچانیں“ اور ”خود کو دریافت کریں“ جیسی جاذبِتوجہ اصطلاحات کو استعمال کِیا گیا۔ تاہم، چند ماہرین جنہوں نے اِس اندازِفکر کو فروغ دیا، اب اتفاق کرتے ہیں کہ انفرادیتپسند رویہ دائمی خوشی کا باعث نہیں بنتا۔ انانیت بھی ناگزیر طور پر رنج اور ناخوشی کا باعث بنے گی۔ خودغرضی بھی خوشی کی کُنجی نہیں ہے۔
ناخوشی کی کُنجی
جو لوگ عیشوعشرت میں مگن ہو کر خوشی کے حصول کی توقع کرتے ہیں، وہ غلط روش اپنا رہے ہیں۔ قدیم اسرائیل کے دانشمند بادشاہ سلیمان کی مثال پر غور کریں۔ بائبل میں واعظ کی کتاب میں وہ وضاحت کرتا ہے: ”سب کچھ جو میری آنکھیں چاہتی تھیں مَیں نے اُن سے باز نہ رکھا۔ مَیں نے اپنے دل کو کسی طرح کی خوشی سے نہ روکا کیونکہ میرا دل میری ساری محنت سے شادمان ہوا اور میری ساری محنت سے میرا بخرہ یہی تھا۔“ (واعظ ۲:۱۰) سلیمان نے اپنے لئے گھر تعمیر کئے، تاکستان لگائے اور باغ، باغیچے اور اپنے لئے پانی کے تالاب بنائے۔ (واعظ ۲:۴-۶) ایک مرتبہ اُس نے استفسار کِیا: ”مجھ سے زیادہ کون کھا سکتا اور کون مزہ اُڑا سکتا ہے؟“ (واعظ ۲:۲۵) بہترین گلوکاروں اور موسیقاروں نے اُس کیلئے سامانِتفریح فراہم کِیا اور اُس نے مُلک کی حسینترین عورتوں کی رفاقت سے لطف اُٹھایا۔—واعظ ۲:۸۔
اصل نقطہ یہ ہے کہ جب عشرتآمیز سرگرمیوں کی بات آئی تو سلیمان باز نہ رہا۔ اپنی زندگی میں عیشونشاط کی فراوانی کے بعد وہ کس نتیجے پر پہنچا؟ اُس نے کہا: ”مَیں نے اُن سب کاموں پر جو میرے ہاتھوں نے کئے تھے اور اُس مشقت پر جو مَیں نے کام کرنے میں کھینچی تھی نظر کی اور دیکھا کہ سب بطلان اور ہوا کی چران ہے اور دُنیا میں کچھ فائدہ نہیں۔“—واعظ ۲:۱۱۔
دانشمند بادشاہ کی دریافتیں آج دن تک درست ہیں۔ مثال کے طور پر، ریاستہائے متحدہ جیسے امیر مُلک کو ہی لے لیں۔ گذشتہ ۳۰ سال کے دوران، امریکیوں نے درحقیقت اپنے مادی اثاثوں، مثلاً آٹوموبابلز اور ٹیلیویژنز کو دُگنا کر لیا ہے۔ تاہم، ماہرینِنفسیات کے مطابق، امریکی بالکل خوش نہیں ہیں۔ ایک جریدے کے مطابق ”اِسی عرصہ کے دوران افسردگی کی شرح میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ نوعمری میں خودکشی کا رُجحان تین گنا بڑھ گیا ہے۔ طلاق کی شرح دُگنی ہو گئی ہے۔“ حال ہی میں، دولت اور خوشی کے درمیان باہمی تعلق کے حوالے سے ۵۰ مختلف ممالک کی آبادی کا جائزہ لینے کے بعد محققین بھی اسی نتیجے پر پہنچے ہیں۔ سادہ سی بات ہے کہ آپ خوشی خرید نہیں سکتے۔
اِس کے برعکس، دولت کے حصول کو موزوں طور پر ناخوشی کی کُنجی کہا جا سکتا ہے۔ پولس رسول نے آگاہ کِیا: ”جو دولتمند ہونا چاہتے ہیں وہ ایسی آزمایش اور پھندے اور بہت سی بیہودہ اور نقصان پہنچانے والی خواہشوں میں پھنستے ہیں جو آدمیوں کو تباہی اور ہلاکت کے دریا میں غرق کر دیتی ہیں۔ کیونکہ زر کی دوستی ہر قسم کی بُرائی کی جڑ ہے جسکی آرزو میں بعض نے ایمان سے گمراہ ہو کر اپنے دلوں کو طرحطرح کے غموں سے چھلنی کر لیا۔“—۱-تیمتھیس ۶:۹، ۱۰۔
دولت، صحت، جوانی، حسن، اقتدار یا اِن کا کوئی بھی امتزاج دائمی خوشی کی ضمانت نہیں دے سکتا۔ کیوں نہیں؟ اِسلئےکہ ہم بُری باتوں کو واقع ہونے سے روکنے کا اختیار نہیں رکھتے۔ بادشاہ سلیمان نے موزوں طور پر بیان کِیا: ”انسان اپنا وقت بھی نہیں پہچانتا۔ جس طرح مچھلیاں جو مصیبت کے جال میں گرفتار ہوتی ہیں اور جس طرح چڑیاں پھندے میں پھنسائی جاتی ہیں اُسی طرح بنیآدم بھی بدبختی میں جب اچانک اُن پر آ پڑتی ہے پھنس جاتے ہیں۔“—واعظ ۹:۱۲۔
ایک مغالطہآمیز مقصد
تمام سائنسی تحقیق بھی خوشی کے لئے کوئی انسانساختہ فارمولہ یا حکمتِعملی وضع نہیں کر سکتی۔ سلیمان نے یہ بھی کہا: ”مَیں نے توجہ کی اور دیکھا کہ دُنیا میں نہ تو دوڑ میں تیز رفتار کو سبقت ہے نہ جنگ میں زورآور کو فتح اور نہ روٹی دانشمند کو ملتی ہے نہ دولت عقلمندوں کو اور نہ عزت اہلِخرد کو بلکہ اُن سب کے لئے وقت اور حادثہ ہے۔“—واعظ ۹:۱۱۔
مذکورہبالا الفاظ سے اتفاق کرنے والے بہتیرے لوگ اِس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ واقعی ایک خوشکُن زندگی کی توقع کرنا غیرحقیقتپسندانہ ہے۔ ایک ممتاز مُعلم نے بیان کِیا کہ ”خوشی ایک تخیلاتی حالت ہے۔“ دوسروں کا یقین ہے کہ خوشی کی کُنجی ایک سربستہ راز ہے اور اِس راز کو پانے کی لیاقت شاید چند خداداد صلاحیت کے مالک ذیفہم لوگوں تک ہی محدود ہے۔
تاہم، خوشی کی تلاش میں، لوگ مختلف طرزِزندگی کو آزماتے رہتے ہیں۔ اپنے پیشروؤں کی ناکامی کے باوجود، آجکل بہتیرے ناخوشی کے تدارک کے لئے دولت، طاقت، صحت یا عیشوعشرت کے طالب بنتے ہیں۔ جستجو جاری ہے کیونکہ بیشتر لوگ یقین رکھتے ہیں کہ دائمی خوشی صرف ایک تخیلاتی حالت نہیں۔ وہ اُمید رکھتے ہیں کہ خوشی ایک مغالطہآمیز خواب نہیں۔ لہٰذا آپ شاید پوچھیں، ’مَیں اِسے کیسے حاصل کر سکتا ہوں؟‘