صحت اور خوشی کیا یہ آپ کی ہو سکتی ہیں؟
جب سے ناکامل مردوزن رہتے آئے ہیں، انہوں نے صحت اور خوشی کی تمنا کی ہے۔ یقینی طور پر، اگرچہ یہ دو نہایت ہی اہم انسانی خواہشات ہیں، تو بھی یہ مغالطہآمیز ثابت ہوئی ہیں۔
انسانوں نے اس تحقیق پر کافی غوروفکر کیا ہے، اور انہوں نے اسکی بابت، بہت مشورہ دیا ہے۔ ڈاکٹر ڈینس جیف نے مشاہدہ کیا: ”آج کل، صحت اور شفا حاصل کرنے کا راز عموماً آپ کے اپنے طرزعمل پر منحصر ہے۔“ ابراہام لنکن نے ایک مرتبہ یہ بیان دیا: ”لوگ اتنے ہی خوش ہوتے ہیں جتنا کہ وہ اپنے ذہنوں میں تصور کر لیتے ہیں۔“ کیا آپ اس سے اتفاق کرتے ہیں؟ آپ خوشی کے کتنی شدت سے آرزومند ہیں؟ اسے حاصل کرنا کس حد تک اچھی صحت پر منحصر ہے؟
بظاہر غیرمختتم رہبر اصولوں کی پیروی کرتے ہوئے، لوگوں نے ہر جگہ خوشی کو تلاش کیا ہے۔ انہوں نے فلسفے، نفسیات، اور مابعدالطبیعات کی تفتیش کی ہے۔ خوشی کی اپنی تلاش میں، بعض نے سائنس، فن، اور موسیقی کا گہرا مطالعہ کیا ہے۔ پھربھی اس میں شک نہیں کہ حقیقی خوشی کا زیادہتر انحصار اچھی صحت رکھنے پر ہے۔ ”اگر آپکے پاس اچھی صحت ہے تو آپ کے پاس تقریباً سب کچھ ہے،“ ایک معروف ٹیلیویژن کمرشل نے بیان کیا۔
اس راہ کی جستجو میں، بہتیرے لوگوں نے صحت کی بابت، فرسودہ اور غیرفرسودہ دونوں طرح کے مختلف نظریات کا مطالعہ کیا ہے۔ تقریباً ہر عوامی لائبریری پرہیزی کھانوں اور علاج کے بیشمار ممکنہ طریقے پیش کرتی ہے۔ ”عہد پارینہ سے لے کر، صحت کی بابت بہت کچھ لکھا جا چکا ہے،“ ایک مشہور ماہرامراضقلب ڈاکٹر پال ڈیوڈلے وائٹ نے تبصرہ کیا۔ ”سب سے بہترین رجیمنٹ آف ہیلتھ تھی جو تقریباً ایک ہزار برس پہلے لکھی گئی۔“
اس تمام کے باوجود، انسانوں کی اکثریت کے لیے صحت اور خوشی کی تلاش نہایت مایوسکن ثابت ہوئی ہے۔ اس پر غور کرتے ہوئے کہ ہماری تہذیب نے مفروضہ طور پر کتنی ترقی کی ہے، کیا یہ سب کچھ آپ کو حیرانکن لگتا ہے؟ صاف ظاہر ہے کہ سائنس نے بیماری، بڑھاپے، اور موت کو ختم نہیں کیا ہے۔
لیکن کیا یہ جاننا آپ کو مزید حیران نہیں کر دے گا کہ ابھی تک ہمارے پاس خوشی کی وسعت کا اندازہ لگانے اور یہ تشریح کرنے کا کوئی طریقہ نہیں کہ یہ دراصل ہے کیا؟ ”خوشی پر غوروفکر“ کی بابت ایک لیکچر میں، پریری ٹلہارڈ ڈی چارڈین نے یہ نتیجہ اخذ کیا: ”کئی صدیوں سے یہ، یکےبعددیگرے، غیرمختتم کتابوں، تحقیقات، انفرادی اور اجتماعی تجربات کا موضوع رہا ہے، اور افسوس سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ اتفاقرائے سے کسی فیصلے پر پہنچنے میں مکمل ناکامی ہوئی ہے۔ آخر میں، ہم میں سے بہتوں کے لیے تمام بحث سے حاصل ہونے والا واحد عملی نتیجہ یہ ہے کہ تلاش کو جاری رکھنا فضول ہے۔“
کیا آپ خوشی کی بابت اسی طرح محسوس کرتے ہیں؟ خود سے کچھ ذاتی مگر دیانتدارانہ سوالات پوچھیں۔ کیا آپ اب واقعی خوش ہیں؟ یا کیا حقیقی خوشی صرف آسمان ہی میں ملے گی؟ کیا اسکا کوئی یقینی امکان ہے کہ ہم خوشی اور صحت حاصل کر سکتے ہیںاور انہیں یہاں زمین پر ہی حاصل کر سکتے ہیں؟ (۳ ۸/۱۵ w۹۱)