یہوواہ کی بکثرت نیکی
”آہ ! تو نے اپنے ڈرنے والوں کے لیے کیسی بڑی [نیکی] رکھ چھوڑی ہے!“—زبور ۳۱:۱۹۔
۱، ۲. (ا)ماضی بعید میں کسی موقع پر یہوواہ نے کیا بڑا کام شروع کیا تھا؟ (ب) یہوواہ نے اپنے تخلیقی کاموں کے انجام کو کیسے بیان کیا تھا؟
ایک وقت تھا جب خدا نے ”آسمانوں کو اپنے تخت اور زمین کو اپنے پاؤں کی چوکی کے طور پر“ پیدا کرنا شروع کیا۔ (یسعیاہ ۶۶:۱) الہیٰ ریکارڈ انکشاف نہیں کرتا کہ یہ کب واقع ہوا۔ یہ صرف اتنا ہی بیان کرتا ہے: ”خدا نے ابتدا میں [آسمانوں] اور زمین کو پیدا کیا۔“ (پیدایش ۱:۱) تخلیقی مدت کے دوران، بے شمار کہکشائیں پیدا کی گئیں، جن میں سے بہت کے اندر ہزاروں ملین ستارے ہیں۔ ایک ایسی ہی کہکشاں کے بیرونی کنارے کیطرف ایک روشن ستارہ تھا جس کے گرد نسبتاً چھوٹے بہت سے تاریک اجرام فلکی گھومتے تھے۔ ان میں سے ایک کو زمین کہا گیا۔ بڑے اور چمکدار ستاروں کے مقابلے میں زمین غیراہم تھی۔ تاہم، یہی تھی جسے یہوواہ نے اپنے پاؤں کی چوکی بنانے کا قصد فرمایا۔
۲ یوں یہوواہ نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا رخ زمینی کرہ کی طرف موڑ دیا۔ جب چھ لمبے تخلیقی ”دنوں“ کے اندر اس چھوٹے تاریک مادے کو تبدیل کیا گیا تو اس دوران میں ”تمام مخلوقات کا پہلوٹھا“ بطور ماہر کاریگر اسکے پاس تھا۔ علامتی طور پر، یہ خدا کے پاؤں کے لیے ایک موزوں چوکی بن گئی۔ (کلسیوں ۱:۱۵، خروج ۲۰:۱۱، امثال ۸:۳۰) یہ تھی وہ جگہ جہاں خدا نے ایک ذیشعور حیاتنو کو رکھنے کا قصد فرمایا تھا۔ پہلا انسانی جوڑا جو زمین میں موجود عناصر سے بنایا گیا وہ خوشنما فردوسی ماحول میں رکھا گیا تھا۔ (پیدایش ۱:۲۶، ۲۷، ۲:۷، ۸) تخلیق کے اس کارنمایاں کا آخری نتیجہ اس قدر کامل، اور دلکش، تھا کہ بائبل چھٹے تخلیقی دن کے آخری حصے یعنی صبح کو خدا کے احساسات کا انکشاف یوں کرتی ہے: ”خدا نے سب پر جو اس نے بنایا تھا نظر کی اور دیکھا کہ بہت اچھا ہے۔“ پیدایش ۱:۳۱۔
خدا کی نیکی
۳. تخلیق میں یہوواہ کی کونسی نمایاں صفت ظاہر کی گئی ہے؟
۳ ہزاروں برس بعد، اس پہلے انسانی جوڑے کی اولاد میں سے ایک نے پیچھے خلقت کے وقت پر نظر کرتے ہوئے یہ لکھا: ”[خدا] کی اندیکھی صفتیں یعنی اس کی ازلی قدرت اور الوہیت دنیا کی پیدایش کے وقت سے بنائی ہوئی چیزوں کے ذریعہ سے معلوم ہو کر صاف نظر آتی ہیں۔“ (رومیوں ۱:۲۰) جی ہاں، زمین اور اس پر کی مخلوقات کی اعلیٰ درجہ کی برتری بلاشبہ خدا کی اندیکھی صفتوں کا عظیمالشان مظہر تھی ۔جن میں خدا کی بکثرت نیکی کچھ کم نہیں۔ پس، یہ کتنا موزوں ہے کہ خدا نے یہ اعلان فرمایا کہ سب کچھ جو اس نے بنایا اچھا ہے!۔ زبور ۳۱:۱۹۔
۴، ۵. نیکی کیا ہے؟
۴ نیکی خدا کی روح کے پھل کا چھٹا پہلو ہے جسے پولس رسول نے گلتیوں ۵:۲۲ میں بیان کیا تھا۔ دی واچٹاور کے گذشتہ مطالعوں نے مکمل مسیحی شخصیت پیدا کرنے میں ان پھلوں کی اہمیت دکھاتے ہوئے روح کے پہلے پانچ پھلوں پر بحث کی ہے۔* تاہم، یہ کتنا ضروری ہے کہ ہم نیکی کو نہ بھولیں! واجب طور پر، اب ہم اس صفت پر توجہ دیتے ہیں۔a
۵ نیکی کیا ہے؟ یہ اچھا اور نیک ہونے کی ایک خوبی یا حالت ہے۔ یہ اخلاقی فضیلت، حسنسیرت ہے۔ لہذا، یہ ایک مثبت صفت ہے جو دوسروں کے لیے اچھے اور مفید کاموں کی انجامدہی میں اپنا اظہار کرتی ہے۔ ہم اس دلکش صفت کو کیسے ظاہر کر سکتے ہیں؟ بنیادی طور پر، یہوواہ کی نقل کرنے سے۔ پس، مزید اس پر بحث کرنے سے پہلے کہ فرداً فرداً مسیحیوں کے طور پر ہم نیکی کو کیسے ظاہر کر سکتے ہیں، آئیے ہم اس نیکی کی جانچ کریں جو ہمارے پرمحبت خدا یہوواہ نے انسانی خاندان کی ضرورتیں فراہم کرنے اور ان کے ساتھ برتاؤ کرنے میں دکھائی ہے۔
تخلیق میں آشکارہکردہ نیکی
۶. کس چیز نے یہوواہ کو آمادہ کیا کہ دیگر ذیشعور زندگی کی اقسام کو تخلیق کرے؟
۶ سب سے پہلے ہمارے آسمانی باپ کو کس چیز نے آمادہ کیا کہ زندگی سے اپنی شادمانی میں ذیشعور زندہ مخلوقات کو شریک کرے؟ یوحنا رسول اس سوال کا جواب یہ کہتے ہوئے دیتا ہے: ”خدا محبت ہے۔“ (۱-یوحنا ۴:۸) جیہاں، بےغرض محبت نے زندگی کے عظیم منبع کو آمادہ کیا کہ دیگر زندہ انواع پیدا کرے، اور کچھ کو آسمانی گھر اور کچھ کو زمینی گھر عنایت فرمائے۔ بلاشبہ، ہم آسمان یا آسمانی مخلوقات کی بابت کم جانتے ہیں کہ وہ کیسی ہیں۔ وہ ارواح ہیں جو انسانی آنکھوں سے اوجھل ہیں اور ان کا گھر عالمارواح ہے۔ لیکن زمینی گھر پر اپنے چاروں طرف نگاہ دوڑائیں جو یہوواہ نے انسانی بچوں کے لیے فراہم کیا ہے۔ اور پھر خود انسان پر غور کریں۔ یوں آپ خدا کی نیکی کا زبردست ثبوت اپنی آنکھوں سے دیکھنے لگیں گے۔
۷، ۹. جس طرح خدا نے زمین اور اس پر انسان کو پیدا کیا اس میں خدا کی نیکی کیسے ظاہر ہوتی ہے؟
۷ یہوواہ نے ہمارے پہلے والدین کو زندگی دی۔ اس سے بھی بڑھ کر، اس نے زندگی کا خوشگوار اور پرلطف ہونا ممکن بنایا۔ سب سے پہلے تو یہ کہ اس نے ان کے گھر، یعنی زمین کو، محوری گردش، حرارت کے مدارج، اور ایسی فضا کے ساتھ پیدا کیا جو بالکل مناسب تھی۔ اس نے پانی، نائیٹروجن، اور آکسیجن کے چکر کو رواں کیا جنہوں نے انسانوں کے فائدے اور آرام کے لیے کامل طور پر کام کیا۔ اس نے زمین کی سطح کو ہزاروں اقسام کی نباتات سے ڈھانپ دیا، جن میں سے کچھ انسان کی خوراک کے لیے اور کچھ خصوصی طور پر آنکھوں کو خوشنما دکھائی دینے کے لیے تھیں۔ اس نے اوپر کی فضاؤں کو پرندوں سے بھر دیا جو اپنے رنگوں اور گیتوں سے لطفاندوز کرتے ہیں۔ اس نے سمندروں کو بکثرت مچھلیوں سے اور زمین کو متعدد اقسام کے جانداروں سے بھر دیا، بعض جنگلی اور بعض وہ جن کو پالتو بنایا جا سکتا تھا۔ کیسی حیرتانگیز فیاضی! خدا کی بےپناہ نیکی کا کیا ہی شاندار ثبوت! زبور ۱۰۴:۲۴۔
۸ جسطرح خدا نے انسان کو بنایا اب اس پر غور کریں۔ اسکے بازو، ٹانگیں، اور ہاتھ بالکل ضروری تھے تاکہ اسے توازن قائم رکھنے اور آسانی سے ادھر ادھر گھومنے کے قابل بنائیں۔ یوں، وہ زمین پر اپنے چوگرد ملنے والی بکثرت خام اشیاء سے اپنے لیے خوراک حاصل کر سکتا اور دیگر ضروریات کو پورا کر سکتا ہے۔ یہوواہ نے ذائقہ کی صلاحیت بھی دی تاکہ کھانا اور پینا توانائی حاصل کرنے کے محض میکانیکی افعال نہ بن جائیں جیسے کہ آج کل بجلی کے کنکشن کے ساتھ کسی چیز کو جوڑ دینے کی مانند۔ نہیں، کھانا اور پینا دراصل مزہ دینے کے لیے بنائے گئے تھے، اس لیے کہ وہ محض پیٹ ہی کو نہیں بھرتے بلکہ ذائقے کی حس کو بھی اکساتے ہیں۔ یہوواہ نے انسان کو کان بھی دیے اور ان کانوں کو مسرور کرنے کے لیے اس کے اردگرد آوازیں بھی بکثرت پیدا کیں۔ بہتی ندیا کی پرسکون سرسراہٹ، جنگلی فاختہ کی کوکو، یا چھوٹے بچے کی کھلکھلاتی ہنسی سننا کتنا خوشگوار لگتا ہے! جیہاں، یہوواہ کی نیکی کی وجہ سے خلقت کے شروع سے ہی واقع ہونے والی تمام بری باتوں کے باوجود، اس نے یہ ممکن بنایا ہے کہ ہم زندگی سے لطفاندوز ہو سکیں۔
۹ اپنے دوسرے حواس پر بھی غور کریں۔ ہماری آنکھوں کو خوشنما دکھائی دینے کے لیے، کتنی قسم کے خوبصورت رنگ ہیں! اور پھول کی بھینی بھینی خوشبو سونگھنا کس قدر فرحتبخش ہے! اس میں کوئی تعجب نہیں کہ کیوں زبورنویس یہوواہ کے حضور پکار اٹھا: ”میں تیرا شکر کروں گا کیونکہ میں عجیب وغریب طور سے بنا ہوں۔ تیرے کام حیرتانگیز ہیں“! زبور ۱۳۹:۱۴۔
بنی آدم کا زوال اور بچاؤ
۱۰. زیادہتر انسانوں نے خدا کی نیکی کا جواب کیسے دیا ہے، اور پھر بھی وہ اس سے کیسے فائدہ اٹھاتے ہیں؟
۱۰ افسوس کی بات ہے کہ کچھ عرصہ بعد ہمارے پہلے والدین نے خدا کی اس نیکی کے لیے کم قدری دکھائی جو خدا نے ان کے ساتھ کی تھی۔ اس کا اظہار انہوں نے اس وقت کیا جب انہوں نے یہوواہ کے احکام کی نافرمانی کی اور اس ایک ممانعت کی خلافورزی کی جو یہوواہ نے ان پر عائد کی تھی۔ نتیجے کے طور پر، وہ خود اور ان کی اولاد رنجوغم، مصائب، اور موت سے واقف ہو گئے۔ (پیدایش ۲:۱۶، ۱۷، ۳:۱۶-۱۹، رومیوں ۵:۱۲) نافرمانی کے اس فعل سے لے کر، گذشتہ ہزارہا سالوں کے دوران بنیآدم میں سے زیادہتر نے خدا کی نیکی کے لیے لاپروائی یا اسکے لیے کمقدری دکھائی ہے۔ تاہم، اسکے باوجود، ناشکرے اور بے قدرے لوگ ابھی تک خدا کی نیکی سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ کس طریقے سے؟ پولس رسول نے مشرق وسطی میں لسترہ کے باشندوں کو سمجھایا تھا: ”[خدا] نے اپنے آپ کو بےگواہ نہ چھوڑا۔ چنانچہ اس نے مہربانیاں کیں اور آسمان سے تمہارے لیے پانی برسایا اور بڑی بڑی پیداوار کے موسم عطا کیے اور تمہارے دلوں کو خوراک اور خوشی سے بھر دیا۔“ اعمال ۱۴:۱۷۔
۱۱. کس طرح یہوواہ کی نیکی بنی آدم کے لیے ایک پرمسرت گھر فراہم کرنے سے زیادہ کچھ انجام دیتی ہے؟
۱۱ لیکن خدا کی نیکی مسرتبخش اور زندگی کو تقویت دینے والی ان نعمتوں کی فراہمی تک ہی محدود نہیں رکھی گئی جن سے زمین معمور ہے، بلکہ وہ مزید آگے بڑھا۔ یہوواہ نے آدم کی اولاد کے گناہوں کو معاف کرنے اور بنیآدم کے درمیان وفادار لوگوں کے ساتھ تعلقات بڑھاتے رہنے کے لیے اپنے آپ کو رضامند ظاہر کیا۔ خدا کی نیکی کے اس پہلو پر موسیٰ کی توجہ اس وقت دلائی گئی جب یہوواہ نے ”اپنی ساری نیکی [موسیٰ] کے سامنے ظاہر کر نے“ کا وعدہ فرمایا تھا۔ اس وقت موسیٰ نے یہ اعلان سنا: ”[یہوواہ] [یہوواہ] خدای رحیم اور مہربان، قہر کرنے میں دھیما اور شفقت اور وفا میں غنی، ہزاروں پر فضل کرنے والا۔ گناہ اور تقصیر اور خطا کو بخشنے والا ہے۔“ خروج ۳۳:۱۹، ۳۴: ۶، ۷۔
۱۲. موسوی شریعت کے کن اہتمامات نے یہوواہ کی نیکی کو ظاہر کیا تھا؟
۱۲ موسیٰ کے زمانے، میں یہوواہ نے اسرائیلیوں کی نئی قوم کے لیے ایک قانونی نظام قائم فرمایا جس کی رو سے سہواً گناہ کرنے والے عارضی یا علامتی معافی حاصل کر سکتے تھے۔ شریعت کے عہد کے وسیلہ سے جس کا درمیانی موسیٰ بنا، اسرائیلی خدا کی خاص قوم بن گئے اور انہیں یہوواہ کے حضور مختلف جانوروں کی قربانیاں پیش کرنا سکھایا گیا جو ان کے گناہوں اور ناپاک افعال کو ڈھانک دیں گی۔ اسطرح، اپنی ناکامل فطرتوں کے باوجود، تائب اسرائیلی مقبول طور پر یہوواہ تک رسائی کو جاری رکھ سکتے اور یہ جان سکتے تھے کہ ان کی پرستش قابلقبول ہے۔ شاہ داؤد جو شریعت کے تحت اس قوم کا فرد تھا، اس نے خدا کی نیکی کے لیے اپنے احساس کا اظہار ان الفاظ میں کیا تھا: ”میری جوانی کی خطاؤں اور میرے گناہوں کو یاد نہ کر۔ اے [یہوواہ] اپنی نیکی کی خاطر اپنی شفقت کے مطابق مجھے یاد فرما۔“ زبور ۲۵:۷۔
۱۳. یہوواہ نے گناہوں کی معافی کے لیے جانوروں کی قربانیوں سے زیادہ مؤثر ذریعہ کیسے مہیا کیا؟
۱۳ کچھ عرصہ بعدیہوواہ کی نیکی نے اسے آمادہ کیا کہ گناہوں کو معاف کرنے کا ایک اور مؤثر اور مستقل طریقہ فراہم کرے۔ یہ یسوع کی قربانی کے وسیلہ سے مہیا کیا گیا جو شاہ داؤد کی نسل کا تھا۔ (متی ۱:۶-۱۶، لوقا۳:۲۳-۳۱) یسوع نے گناہ نہ کیا۔ لہذا، جب وہ مرا تو قربانی میں دی گئی اس کی جان بڑی بھاری قیمت رکھتی تھی، اور یہوواہ نے اسے فدیہ کے طور پر قبول فرمایا جو آدم کی ساری گنہگار اولاد کو ڈھانک سکتا تھا۔ پولس رسول نے لکھا: ”سب نے گناہ کیا اور خدا کے جلال سے محروم ہیں۔ مگر اسکے فضل کے سبب سے اس مخلصی کے وسیلہ سے جو مسیح یسوع میں ہے مفت راستباز ٹھہرائے جاتے ہیں۔ اسے خدا نے اس کے خون کے باعث ایک ایسا کفارہ ٹھہرایا جو ایمان لانے سے فائدہمند ہو۔“ رومیوں ۳:۲۳-۲۶۔
۱۴. کفارہ کی قربانی کے وسیلہ سے انسانوں کے لیے کونسی شاندار امیدیں ممکن بنا دی گئی ہیں؟
۱۴ یسوع کے کفارہ کی قربانی پر ایمان مسیحیوں کے لیے بہت کچھ بلکہ اس سے زیادہ کچھ انجام دیتا ہے جو شریعت کے ماتحت جانوروں کی قربانیوں نے اسرائیلیوں کے لیے کیا تھا۔ یہ مسیحیوں کی ایک محدود تعداد کے لیے راستباز ٹھہرائے جانے اور خدا کی روح سے لےپالک فرزند بننے کا باعث بنا۔ یوں انہوں نے یسوع کے بھائی بننے اور اسکی آسمانی بادشاہت میں اس کے ساتھ شرکت کرنے کے لیے روحانی مخلوق کے طور پر زندہ کئے جانے کی امید پائی تھی۔ (لوقا ۲۲:۲۹، ۳۰، رومیوں ۸:۱۴-۱۷) ذرا تصور کریں کہ خدا اس چھوٹے سیارے یعنی زمین پر زندہ مخلوقات کے لیے ایسے آسمانی امکانات کا آغاز کرے گا! اس امید کو عزیز رکھنے والوں کی ایک چھوٹی جماعت ابھی تک زمین پر ہے۔ لیکن باقی کروڑہا مسیحیوں کے لیے، کفارہ پر ایمان لانا اس چیز سے لطفاندوز ہونے کی راہ کھول دیتا ہے جو آدم اور حوا نے کھو دی باغنما فردوسی زمین پر ابدی زندگی۔ فقط شریعت کا عہد اپنے ماننے والوں کے لیے مستقبل میں نہ تو آسمانی اور نہ ہی زمینی امکانات فراہم کرنے کے قابل تھا۔
۱۵. خوشخبری میں کیا کچھ شامل ہے؟
۱۵ پھر یہ کتنا واجب ہے کہ یسوع مسیح کے وسیلہ سے قائمکردہ خدا کے نئے انتظامات کی بابت پیغام ”خوشخبری“ کہلاتا ہے، کیونکہ یہ خدا کی نیکی کو منعکس کرتا ہے۔ (۲-تیمتھیس ۱:۹، ۱۰) بائبل میں، خوشخبری کو بعض اوقات ”بادشاہت کی خوشخبری“ بھی کہا گیا ہے۔ آجکل اس کا مرکز یہ سچائی ہے کہ بادشاہت جی اٹھے یسوع کی حکومت کے ماتحت قائم کر دی گئی ہے۔ (متی ۲۴:۱۴، مکاشفہ ۱۱:۱۵، ۱۴:۶، ۷) علاوہازیں، خوشخبری میں اور بھی بہت کچھ شامل ہے۔ جیسا کہ تیمتھیس کے نام پولس رسول کے الفاظ نے ظاہر کیا جن کا حوالہ اوپر دیا گیا، اس میں یہ بھی شامل ہے کہ یسوع نے ہماری خاطر کفارہ کی قربانی دی۔ اس قربانی کے بغیر، خدا کے ساتھ ہمارا رشتہ، ہماری نجات یسوع کی اور زمین سے لیے گئے ۱۴۴،۰۰۰ کاہنوں اور بادشاہوں کی بادشاہت تو درکنار سب کچھ ناممکن تھا۔ یہ کفارہ خدا کی نیکی کا کیا ہی عظیمالشان مظاہرہ ہے!
آج کل خدا کی نیکی
۱۶، ۱۷. ہوسیع ۳:۵ کی تکمیل کیسے ہوئی (ا) ۵۳۷ ق۔س۔ع۔ میں؟ (ب) ۱۹۱۹ س۔ع۔ میں؟
۱۶ ”اخیر زما نے“ کا خیال کرتے ہوئے پولس رسول نے آگاہ کیا تھا: ”آدمی . . . نیکی کے دشمن ہونگے۔“ (۲-تیمتھیس ۳:۱-۳) یہاں تک کہ نیکی کے نارمل اظہارات، جیسے سخاوت اور ہمسائیگی کی بھی قدر نہیں کی جائے گی۔ پھر تو ہوسیع ۳:۵ کی دل کو گرما دینے والی پیشنگوئی کس قدر حوصلہافزا ہے: ”اس کے بعد بنیاسرائیل رجوع لائیں گے اور [یہوواہ] اپنے خدا کو اور اپنے بادشاہ داؤد کو ڈھونڈیں گے، اور آخری دنوں میں ڈرتے ہوئے [یہوواہ] اور اس کی [نیکی] کے طالب ہوں گے۔“
۱۷ اس پیشنگوئی کی پہلی تکمیل ۵۳۷ ق۔س۔ع۔ میں ہوئی جب یہودی بابل کی اسیری سے واپس ملک موعود کو لوٹے تھے۔ جدید وقتوں میں، اس کی تکمیل سن ۱۹۱۹ میں شروع ہو گئی جب روحانیاسرائیل کا بقیہ شیطان کی تنظیم میں سے نکل آیا اور سنجیدگی سے یہوواہ اور اس کی نیکی کا متلاشی ہوا۔ انہیں معلوم ہو گیا کہ ”ان کا بادشاہ داؤد“ ۱۹۱۴ سے لے کر یسوع مسیح کے طور پر آسمانی اختیار کے ساتھ حکمرانی کر رہا ہے۔ اسکی آسمانی نگرانی کے تحت، انہوں نے گرمجوشی کے ساتھ قوموں کو اس خوشخبری کا اعلان دینے کا کام سنبھال لیا۔ یوں انہوں نے متی ۲۴:۱۴ میں درج اس کام کو انجام دینا شروع کر دیا: ”اور [قائم شدہ] بادشاہت کی اس خوشخبری کی منادی تمام آبادشدہ زمین پر ہو گی تاکہ سب قوموں کے لیے گواہی ہو، اور تب خاتمہ آ جائے گا۔“ (NW)
۱۸. خوشخبری کا اعلان کرنے کے لیے روحانی اسرائیل کے بقیہ کے ساتھ کون شامل ہو گئے ہیں؟
۱۸ آج کل، ممسوحوں کے بقیہ کے ساتھ ”بڑی بھیڑ،“ آ ملی ہے جو ان ہی کی طرح یہوواہ کی نیکی کا خیرمقدم کرتی ہے۔ (مکاشفہ ۷:۹) اب، چار ملین سے زیادہ لوگ اس فرشتے کی آواز کو دہراتے ہیں جسے یوحنا رسول نے ایک رویا میں سب قوموں کے سامنے یہ اعلان کرتے دیکھا تھا: ”خدا سے ڈرو اور اس کی تمجید کرو کیونکہ اسکی عدالت کا وقت آ پہنچا ہے اور اسی کی عبادت کرو جس نے آسمان اور زمین اور سمندر اور پانی کے چشمے پیدا کئے۔“ مکاشفہ ۱۴:۷۔
۱۹. خدا کی نیکی کی عظیمترین شہادتوں میں سے ایک کا نام لیں؟
۱۹ خدا کی نیکی کی عظیمترین شہادتوں میں سے ایک شہادت یہ ہے کہ وہ ہمیں اجازت دیتا ہے کہ ہم اس انتہا کو پہنچنے والے کام میں اسکے ساتھ کام کرنے والے بنیں۔ یہ کتنا بڑا شرف ہے کہ اس نے ہمیں ”خدائے مبارک کے جلال کی خوشخبری“ سونپی ہے! (۱-تیمتھیس ۱:۱۱) دوسروں کو اس کی منادی کرنے اور تعلیم دینے سے، ہم خدا کی روح کے اہم پھل، نیکی کو بڑی حد تک ظاہر کر رہے ہیں۔ یوں ہم، خدا کے قدیمی خادم داؤد کا سا رجحان رکھتے ہیں جس نے کہا تھا: ”وہ تیرے بڑے احسان کی یادگار کا بیان کریں گے اور تیری صداقت کا گیت گائیں گے۔“ زبور ۱۴۵:۷۔
۲۰. اگلے مضمون میں نیکی کی بابت کونسی مزید معلومات زیربحث آئیں گی؟
۲۰ تاہم، کیا خوشخبری کی منادی کرنے میں حصہ لینا ہی نیکی کو اپنی زندگیوں میں ظاہر کرنے کا واحد طریقہ ہے؟ ہرگز نہیں! ہماری حوصلہ افزائی کی گئی ہے کہ ”عزیز فرزندوں کی طرح خدا کی مانند“ بنیں۔ (افسیوں ۵:۱) خدا کی نیکی مختلف طریقوں سے ظاہر کی گئی ہے۔ لہذا، ہماری نیکی کو بھی ہماری زندگیوں کے متعدد پہلوؤں پر اثرانداز ہونا چاہیے۔ اس کے بعد کے مضمون میں ان میں سے چند پر غور کیا جائے گا۔ (۱۳ ۸/۱۵ w۹۱)
[فٹنوٹ]
a روح کے منفرد پھل محبت، خوشی، اطمینان، تحمل، مہربانی، نیکی، ایمانداری، حلم، اور ضبط نفس ہیں۔
کیا آپ جواب دے سکتے ہیں؟
▫ کس طرح سے خلقت خدا کی نیکی کو منعکس کرتی ہے؟
▫ یہوواہ نے تائب انسانوں کے گناہوں کو معاف کرنے کے لیے کیا انتظامات کئے؟
▫ ہوسیع ۳:۵ کی تکمیل میں، ممسوح بقیہ کب یہوواہ اور اسکی نیکی کے پاس آیا، اور یہ کس چیز کا باعث ہوا؟
▫ آج کل خدا کی نیکی کی عظیم ترین شہادتوں میں سے ایک کیا ہے؟
[تصویر]
خلقت خدا کی بکثرت نیکی کی شہادت دیتی ہے
[تصویر]
منادی کرنے کے کام میں حصہ لینے کے لیے ہمیں دی گئی اجازت خدا کی نیکی کا ایک نمایاں ثبوت ہے