41 زکریاہ اور الیشبع
’وہ دونوں خدا کی نظر میں نیک تھے‘
زکریاہ اُن بہت سے کاہنوں میں سے ایک تھے جن کا تعلق ہارون کے گھرانے سے تھا۔ اب زکریاہ کی زندگی میں وہ دن آ گیا تھا جس کا شاید اُنہیں کافی وقت سے اِنتظار تھا۔ ہیکل میں سونے کی قربانگاہ پر بخور جلانے کی باری اُن کی تھی۔ یہ ایک ایسا اعزاز تھا جو شاید اُنہیں اپنی زندگی میں صرف ایک بار ہی ملنا تھا۔ بےشک زکریاہ اور اُن کی بیوی الیشبع دونوں ہی اِس اہم دن پر بہت خوش تھے۔
بائبل میں بتایا گیا ہے کہ زکریاہ اور الیشبع دونوں ہی ”خدا کی نظر میں نیک تھے۔“ اُن دونوں کی شادی کو بہت سال ہو چُکے تھے اور یہوواہ نے اُنہیں بہت سی برکتوں سے نوازا تھا۔ لیکن ایک برکت ایسی تھی جو ابھی تک اُنہیں نہیں ملی تھی اور اِسے پانے کے لیے وہ بہت ترس رہے تھے۔ اُن کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ اُس زمانے میں اولاد نہ ہونا بڑی ذِلت کی بات سمجھی جاتی تھی۔ حالانکہ زکریاہ اور الیشبع دونوں ہی بوڑھے ہو چُکے تھے لیکن وہ خدا سے اولاد کی نعمت پانے کے لیے دُعا کرتے رہے۔ اُنہیں پکا یقین تھا کہ یہوواہ اُن کی دُعا ضرور سنے گا، بھلے ہی اُنہیں اُس عمر میں اولاد پانا ناممکن دِکھائی دے رہا تھا۔
تو اب زکریاہ ہیکل کے اندر بخور جلانے گئے۔ اِس دوران باہر کھڑے بہت سے لوگ دُعا کرنے لگے۔ جب زکریاہ اکیلے اندر تھے تو یہوواہ کا فرشتہ اچانک سے بخور کی قربانگاہ کے نزدیک کھڑا ہو گیا۔ اُس فرشتے نے زکریاہ کو بتایا کہ خدا نے اُن کی دُعائیں سُن لی ہیں اور جلد ہی اُن کا اور الیشبع کا ایک بیٹا ہوگا جس کا نام وہ یوحنا رکھیں۔ اُن کے بیٹے کے بارے میں بات کرتے ہوئے فرشتے نے کہا کہ جب وہ بڑا ہوگا تو اُس میں ’ایلیاہ جیسا جوش اور طاقت‘ ہوگی۔ وہ بڑے بڑے کام کرے گا اور لوگوں کو یہوواہ کی طرف لوٹنے کے لیے تیار کرے گا۔
زکریاہ نے فرشتے کی بات کا یقین نہیں کِیا بلکہ اُلٹا یہ کہا: ”یہ کیسے ممکن ہے؟“ فرشتے نے اُن کی درستی کرتے ہوئے اُن سے کہا: ”مَیں جبرائیل ہوں اور خدا کے حضور کھڑا رہتا ہوں۔“ تو زکریاہ کے پاس یہوواہ کے اِس طاقتور فرشتے کی بات پر شک کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ چونکہ زکریاہ نے جبرائیل کی بات کا یقین نہیں کِیا اِس لیے جبرائیل نے زکریاہ سے کہا کہ وہ تب تک بول نہیں سکیں گے جب تک یہوواہ کی کہی بات پوری نہیں ہو جاتی۔ پھر جب زکریاہ ہیکل سے باہر گئے تو وہ لوگوں کو ہاتھوں سے اِشارے کر کے بتانے لگے کہ اندر اُن کے ساتھ کیا ہوا تھا۔
ایک بوڑھے اور بےاولاد میاں بیوی کو یہوواہ کے ایک فرشتے نے ایسا پیغام سنایا جس سے اُن کی زندگی بدل گئی۔
یقیناً زکریاہ نے کسی نہ کسی طرح سے الیشبع کو یہ بتا دیا ہوگا کہ فرشتے نے اُن سے کہا ہے کہ اُن دونوں کا ایک بیٹا ہوگا۔ پھر ’کچھ دنوں کے بعد الیشبع حاملہ ہو گئیں۔‘ وہ پانچ مہینے گھر میں رہیں اور کسی سے نہیں ملی جلیں۔ لیکن جب اُن کا چھٹا مہینہ چل رہا تھا تو اُن کی ایک رشتےدار اُن سے ملنے آئی جس کا نام مریم تھا۔ مریم عیلی کی بیٹی تھیں اور ناصرت میں رہتی تھیں۔ جیسے ہی مریم الیشبع کے گھر میں داخل ہوئیں، الیشبع کے پیٹ میں بچہ خوشی سے اُچھل پڑا۔ اُسی لمحے الیشبع یہوواہ کی پاک روح سے بھر گئیں۔ وہ جان گئیں کہ مریم حاملہ ہیں اور جس بچے کو وہ جنم دیں گی، وہ مسیح بنے گا۔ اِس لیے اُنہوں نے مریم کو ”میرے مالک کی ماں“ کہا۔ الیشبع مریم کو ملنے والے اعزاز کی وجہ سے اُن سے نہیں جلیں۔ اِس کی بجائے اُنہوں نے مریم کا حوصلہ بڑھایا اور اُنہیں یقین دِلایا کہ یہوواہ اُس اہم ذمےداری کو نبھانے میں اُن کے ساتھ ہوگا۔
جب الیشبع نے اپنے بیٹے کو جنم دیا تو اُس خوشی کے موقعے پر اُن کے پڑوسی اور رشتےدار اُن سے ملنے آئے۔ وہ سب چاہتے تھے کہ بچے کا نام اُس کے باپ کے نام پر رکھا جائے۔ لیکن الیشبع کو یاد تھا کہ جبرائیل فرشتے نے زکریاہ سے یہ کہا تھا کہ وہ بچے کا نام یوحنا رکھیں۔ اِس لیے اُنہوں نے لوگوں سے کہا: ”نہیں، اِس کا نام یوحنا رکھا جائے گا۔“ لیکن رشتےداروں نے الیشبع کی بات کو نظرانداز کر دیا اور زکریاہ سے پوچھا کہ وہ بچے کا کیا نام رکھنا چاہتے ہیں۔ زکریاہ ابھی تک بول نہیں سکتے تھے اِس لیے اُنہوں نے ایک تختی منگوائی اور اِس پر لکھا: ”اِس کا نام یوحنا ہے۔“ اُسی وقت زکریاہ کی بولنے کی صلاحیت بحال ہو گئی۔
پھر زکریاہ پاک روح سے بھر گئے اور پیشگوئی کرنے لگے۔ یہوواہ کی پاک روح کی رہنمائی میں اُنہوں نے اُمید کا، نجات کا اور خدا کے رحم کا پیغام سنایا۔ پھر اُنہوں نے اپنے بیٹے یوحنا کے بارے میں پیشگوئی کرتے ہوئے بتایا کہ وہ یہوواہ کا راستہ تیار کرنے کے لیے اُس کے آگے آگے جائے گا۔ اور بالکل ایسا ہی ہوا۔ اِس سے پہلے کہ یسوع نے خدا کی بادشاہت کی مُنادی کرنا شروع کی، یوحنا بپتسمہ دینے والے نے لوگوں کے دلوں کو بادشاہت کا پیغام سننے کے لیے تیار کِیا۔
آنے والے مسیح نے خدا کے بندوں کو اُن کے مخالفوں اور غیرایمان لوگوں کے ساتھ پیش آنے کا ایک نیا طریقہ سکھانا تھا۔ ماضی میں یہوواہ کے بندوں نے اُس کے دُشمنوں سے جنگیں لڑنے سے دلیری ظاہر کی تھی۔ لیکن اب یہوواہ کے بندوں کی تاریخ میں ایک نیا دَور شروع ہونے والا تھا۔ اب یہوواہ اپنے بندوں سے یہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ جنگ لڑیں۔ مگر اِس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ اب یہوواہ کے بندوں کو دلیری کی ضرورت نہیں پڑنی تھی۔ جن لوگوں نے مسیح کو قبول کرنا تھا، اُنہیں زکریاہ اور الیشبع کی طرح اپنی بولنے کی صلاحیت کو یہوواہ کی بڑائی کرنے اور یسوع مسیح کے بارے میں خوشخبری سنانے کے لیے اِستعمال کرنا تھا۔
اِن آیتوں کو پڑھیں:
باتچیت کے لیے:
زکریاہ اور الیشبع نے کن طریقوں سے دلیری دِکھائی؟
موضوع کی گہرائی میں جائیں
1. حالانکہ زکریاہ اور الیشبع عیبدار تھے لیکن بائبل میں اُن کے بارے میں یہ کیوں کہا گیا کہ ”وہ دونوں بےاِلزام اور خدا کی نظر میں نیک تھے“؟ (لُو 1:6؛ م02 1/6 ص. 16 پ. 14)
2. بائبل میں جبرائیل کے بارے میں کیا بتایا گیا ہے؟ (آئیٹی ”جبرائیل“ پ. 2-3) تصویر نمبر 1
تصویر نمبر 1
تصویر نمبر 1
3. جبرائیل نے زکریاہ سے کہا کہ وہ اپنے بیٹے کا نام یوحنا رکھیں۔ نام ”یوحنا“ کا کیا مطلب ہے؟ (آئیٹی ”یوحنا“ پ. 1)
4. کیا زکریاہ گونگے ہونے کے ساتھ ساتھ بہرے بھی ہو گئے تھے؟ (م08 15/3 ص. 30 پ. 6)
آپ نے کیا سیکھا ہے؟
زکریاہ کے زمانے کے یہودی مذہبی رہنماؤں نے اِس بات کی اِجازت دی ہوئی تھی کہ اگر ایک آدمی کے اپنی بیوی سے بچے نہیں ہوتے تو وہ اُسے طلاق دے سکتا ہے۔ لیکن زکریاہ نے ایسا نہیں کِیا۔آج شوہر زکریاہ سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟ تصویر نمبر 2
تصویر نمبر 2
الیشبع نے اپنے رشتےداروں اور پڑوسیوں کی بات ماننے کی بجائے وفاداری سے اپنے شوہر کا ساتھ دیا۔ (لُو 1:58-61) بیویاں الیشبع سے کیا سیکھ سکتی ہیں؟
آپ زکریاہ اور الیشبع کی طرح دلیری کیسے دِکھا سکتے ہیں؟
یہوواہ اور اُس کے مقصد پر سوچ بچار کریں
مجھے اِس واقعے سے یہوواہ کے بارے میں کیا پتہ چلتا ہے؟
اِس واقعے کا یہوواہ کے مقصد سے کیا تعلق ہے؟
اگر یہوواہ نے زکریاہ اور الیشبع کو زمین پر زندہ کِیا تو مَیں اُن دونوں سے کیا پوچھوں گا؟a
مزید جانیں
دیکھیں کہ جب زکریاہ کی بولنے کی صلاحیت بحال ہوئی تو اُنہوں نے اِس صلاحیت کو یہوواہ کی بڑائی کرنے کے لیے کیسے اِستعمال کِیا۔
مریم کو الیشبع سے مل کر یہوواہ کی طرف سے ہمت اور طاقت کیسے ملی اور اِس سے ہم کیا سیکھتے ہیں؟
”وہ آپ کو طاقت بخشے گا“ (م23.10 ص. 14-15 پ. 10-14)
a اگر زکریاہ اور الیشبع 33ء کی عیدِپنتِکُست سے پہلے فوت ہو گئے تھے تو یہوواہ اُنہیں زمین پر زندہ کرے گا۔