یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • gcw باب 42 ص.‏ 192-‏195
  • وہ یہوواہ کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار تھیں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • وہ یہوواہ کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار تھیں
  • دلیری سے خدا کے ساتھ ساتھ چلیں
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • موضوع کی گہرائی میں جائیں
  • آپ نے کیا سیکھا ہے؟‏
  • یہوواہ اور اُس کے مقصد پر سوچ بچار کریں
  • مزید جانیں
  • ‏”‏دیکھیں!‏ مَیں یہوواہ کی بندی ہوں“‏
    اِن جیسا ایمان ظاہر کریں
  • ہم مریم کی مثال سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2009ء
  • ‏”‏یہ جو کچھ کر سکتی تھی، اِس نے کِیا“‏
    دلیری سے خدا کے ساتھ ساتھ چلیں
  • ‏’‏وہ اِن باتوں پر سوچ بچار کرتی رہیں‘‏
    اِن جیسا ایمان ظاہر کریں
مزید
دلیری سے خدا کے ساتھ ساتھ چلیں
gcw باب 42 ص.‏ 192-‏195

42 مریم

وہ یہوواہ کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار تھیں

چھاپا ہوا ایڈیشن
چھاپا ہوا ایڈیشن

پوری اِنسانی تاریخ میں وہ سب سے بھاری ذمے‌داری کون سی تھی جو یہوواہ نے کسی عیب‌دار اِنسان کو دی ہو؟ ذرا اُس ذمے‌داری کے بارے میں سوچیں جو یہوواہ نے ایک کنواری یہودی لڑکی کو دی تھی جس کا نام مریم تھا۔ مریم گلیل کے شہر ناصرت میں رہتی تھیں۔ ایک دن ایک شخص اُن سے ملنے اُن کے گھر گیا۔ یہ کوئی عام شخص نہیں تھا بلکہ یہوواہ کا ایک فرشتہ تھا جس کا نام جبرائیل تھا۔ جبرائیل ایک بہت ہی خاص مقصد سے مریم کے پاس گئے تھے۔‏

اُنہوں نے مریم کے پاس آ کر کہا:‏ ”‏سلام!‏ آپ کو بڑی برکت حاصل ہوئی ہے۔ یہوواہ آپ کے ساتھ ہے۔“‏ لیکن مریم یہ سُن کر بہت گھبرا گئیں۔ وہ خود کو اِس تعریف کے لائق نہیں سمجھتی تھیں۔ جبرائیل نے مریم کو تسلی دیتے ہوئے اُن سے کہا:‏ ”‏آپ کو خدا کی خوشنودی حاصل ہوئی ہے۔“‏ اِس کے بعد اُنہوں نے مریم کو بتایا کہ یہوواہ اُنہیں کون سی شان‌دار ذمے‌داری دینے والا ہے۔ جبرائیل نے مریم سے کہا:‏ ”‏آپ حاملہ ہوں گی اور آپ کا بیٹا ہوگا۔“‏ لیکن بات صرف ایک بیٹے کو جنم دینے تک نہیں تھی۔ جبرائیل نے آگے مریم کو بتایا:‏ ”‏وہ عظیم ہوگا اور خدا تعالیٰ کا بیٹا کہلائے گا۔“‏ تو مریم کے بیٹے نے ایک بادشاہ کے طور پر حکمرانی کرنی تھی، ایک ایسے بادشاہ کے طور پر جس نے بادشاہ داؤد کے تخت کا سب سے عظیم وارث ہونا تھا۔‏

مریم کی منگنی تو ہو چُکی تھی لیکن ابھی تک اُن کی شادی نہیں ہوئی تھی اور وہ ابھی بھی کنواری تھیں۔ تو جبرائیل کی بات سُن کر وہ اُلجھن میں پڑ گئیں۔ اِس لیے اُنہوں نے ہمت جٹا کر جبرائیل سے پوچھا:‏ ”‏یہ کیسے ہو سکتا ہے؟“‏ اِس پر جبرائیل نے مریم کو بتایا کہ وہ یہوواہ کی پاک روح کے ذریعے حاملہ ہوں گی اور یوں ایک بے‌عیب بچے کو جنم دیں گی جو ”‏خدا کا بیٹا اور مُقدس کہلائے گا۔“‏ پھر جبرائیل نے مریم کو یہ بھی بتایا کہ یہوواہ نے اُن کی رشتے‌دار الیشبع کے لیے کیا کچھ کِیا ہے۔ مریم کے لیے یہی ثبوت کافی تھا۔ اُنہوں نے خاکساری سے کہا:‏ ”‏دیکھیں!‏ مَیں یہوواہ کی بندی ہوں۔ جیسا آپ نے کہا، ویسا ہی ہو۔“‏ جب مریم نے خود کو ”‏یہوواہ کی بندی“‏ کہا تو اُنہوں نے ایک ایسا لفظ اِستعمال کِیا جو سب سے کم‌تر غلام کے لیے اِستعمال کِیا جاتا تھا۔ مریم یہوواہ کو اپنا شفیق مالک سمجھتی تھیں اور خود کو اُس کی وفادار غلام۔ وہ اِس بات پر پورا بھروسا کرتی تھیں کہ اگر وہ یہوواہ کی مرضی پوری کریں گی تو وہ ہمیشہ اُس کی پناہ میں رہیں گی۔ اِسی بات کی وجہ سے وہ بڑی دلیری سے ایک مشکل ذمے‌داری کو نبھانے کے لیے تیار ہو گئیں۔‏

مریم کا دل خوشی سے بھرا ہوا ہے اور وہ زمین پر گُھٹنوں کے بل بیٹھی جبرائیل فرشتے سے بات کر رہی ہیں۔‏

جب جبرائیل مریم کے پاس سے چلے گئے تو مریم الیشبع سے ملنے کے لیے روانہ ہوئیں۔ اِن دونوں عورتوں نے مل کر ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا اور اُس ذمے‌داری کے لیے ایک دوسرے کو تیار کِیا جو بہت جلد وہ دونوں نبھانے والی تھیں۔ مریم نے اپنے ایمان کا اِظہار کرتے ہوئے بتایا کہ اُن میں یہوواہ کی دی ہوئی ذمے‌داری کو نبھانے کے لیے اِتنی دلیری کہاں سے آئی۔ تھوڑی سی بات‌چیت کے دوران ہی اُنہوں نے 20 سے زیادہ بار عبرانی صحیفوں کا ذکر کِیا۔ وہ ایسا اِس لیے کر پائیں کیونکہ وہ خدا کے کلام پر گہرائی سے سوچ بچار کرتی تھیں۔ وہ یہوواہ کو اچھی طرح سے جانتی تھیں اِس لیے وہ اُس کے وعدوں پر پکا بھروسا کرتی تھیں۔ مریم الیشبع کے ساتھ تقریباً تین مہینے تک رہیں اور اِس کے بعد اپنے گھر لوٹ گئیں۔ اب اُنہیں یوسف کو یہ بتانے کے لیے بہت دلیری کی ضرورت تھی کہ وہ حاملہ ہیں اور یہ سب کچھ کیسے ہوا ہے۔ شروع شروع میں تو یوسف کو مریم کی بات پر یقین کرنا مشکل لگ رہا تھا لیکن پھر یہوواہ کے فرشتے نے اُنہیں سمجھایا کہ مریم سچ کہہ رہی ہیں۔‏

پھر یوسف اور مریم نے شادی کرلی۔ لیکن جب بچے کی پیدائش کا وقت آیا تو رومی شہنشاہ نے یہ حکم جاری کِیا کہ ہر شخص اپنے اپنے آبائی شہر میں جا کر اپنا نام لکھوائے۔ اِس لیے مریم اور یوسف کو بیت‌لحم جانا پڑا جو یوسف کا آبائی شہر تھا۔ یہ شہر تقریباً 150 کلومیٹر (‏93 میل)‏ دُور تھا۔ مریم کے لیے ایسی حالت میں گدھے پر بیٹھ کر ایک لمبا سفر کرنا بہت مشکل تھا لیکن وہ پھر بھی یوسف کے ساتھ گئیں۔ اُنہیں ایک ایسی جگہ پر اپنے بچے کو جنم دینا پڑا جہاں لوگ اپنے جانوروں کو رکھتے تھے۔ حالانکہ مریم کے لیے یہ صورتحال بہت مشکل تھی لیکن اُنہوں نے ہمت سے کام لیا اور یہوواہ پر بھروسا کرنا نہیں چھوڑا۔ اُنہوں نے اِس بات کا پکا اِرادہ کِیا ہوا تھا کہ وہ اپنے بچے کا ہر صورت میں اچھی طرح سے خیال رکھیں گی جو کہ خدا کا بیٹا تھا۔‏

فرشتے نے مریم کو یہوواہ کی طرف سے ایک ایسی ذمے‌داری نبھانے کے لیے دی جو یہوواہ نے پہلے کبھی کسی اِنسان کو نہیں دی تھی۔‏

لیکن مریم کو آنے والے دنوں اور سالوں میں دلیری کی اَور بھی زیادہ ضرورت پڑنے والی تھی۔ اِس کی ایک ضرورت تو تب پڑی جب اُنہیں اور یوسف کو ننھے یسوع کو لے کر مصر بھاگنا پڑا کیونکہ بادشاہ ہیرودیس اُسے مار ڈالنا چاہتا تھا۔ مریم کو تب بھی ہمت کی ضرورت پڑی جب اُنہیں اور یوسف کو غریبی میں اپنے کم سے کم سات بچوں کا پیٹ پالنا پڑا۔ مریم کو تب بھی بہت ہمت سے کام لینا پڑا جب اُن کا پیارا شوہر فوت ہو گیا۔ شاید یہ یسوع کے مسیح بننے سے پہلے ہوا تھا۔ مریم کو تب بھی دلیری کی ضرورت پڑی جب یسوع نے یہوواہ کی خدمت کرنے کے لیے اپنا گھر چھوڑ دیا۔ سب سے زیادہ ہمت اور دلیری کی ضرورت تو مریم کو تب پڑی جب اُن کے بیٹے پر جھوٹے اِلزام لگا کر اور اُسے بہت زیادہ مار پیٹ کر موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا۔ اور آخر میں مریم کو مسیحی کلیسیا کا حصہ بننے اور یہودی معاشرے کی نفرت کا سامنا کرنے کے لیے بھی دلیری سے کام لینے کی ضرورت پڑی۔‏

مریم کو واقعی ایک بہت بھاری ذمے‌داری نبھانے کے لیے دی گئی تھی۔ مگر اُن میں اِسے نبھانے کی ہمت کیسے آئی؟ بائبل میں بتایا گیا ہے کہ جب بھی مریم ایسی باتیں سنتی تھیں جن سے اُن کا ایمان مضبوط ہوتا تھا تو وہ اِسے اپنے دل میں بٹھا لیتی تھیں۔ اُن کا دل خدا کے علم کے بیش‌قیمت خزانے سے بھرا ہوا تھا۔ لیکن اُنہوں نے یہ علم کہاں سے حاصل کِیا تھا؟ کچھ خدا کے کلام سے اور کچھ اُن باتوں سے جو مختلف فرشتوں، یہوواہ کے بندوں اور اُن کے بیٹے نے کہی تھیں۔ جب بھی مریم اِن تمام باتوں پر گہرائی سے سوچ بچار کِیا کرتی تھیں تو اُن میں ہر طرح کی مشکل کو برداشت کرنے کی ہمت پیدا ہوتی تھی۔‏

اِن آیتوں کو پڑھیں:‏

  • لُوقا 1:‏26-‏56؛‏ 2:‏1-‏7،‏ 19،‏ 48-‏51

بات‌چیت کے لیے:‏

مریم نے کن طریقوں سے دلیری دِکھائی؟‏

موضوع کی گہرائی میں جائیں

  1. 1.‏ بائبل میں بتایا گیا ہے کہ سُوریہ کے حاکم کوِرِنیُس کے زمانے میں مردم‌شماری کرانے کا حکم جاری ہوا تھا۔ یہ کیسے ثابت ہوتا ہے کہ کوِرِنیُس ایک حقیقی شخص تھا اور اُس کے زمانے میں واقعی مردم‌شماری ہوئی تھی؟‏ (‏لُو 2:‏1-‏3‏؛ جی 11/‏4 ص.‏ 11 پ.‏ 4-‏5‏)‏ تصویر نمبر 1

    British Library, London, UK, from the British Library archive/Bridgeman Images

    تصویر نمبر 1‏:‏ مصر کے رومی گورنر کی طرف سے 104ء میں جاری کِیا گیا مردم شماری کا حکم

  2. 2.‏ بیت‌لحم کا سفر مریم کے لیے مشکل کیوں رہا ہوگا؟‏ (‏ایمان ظاہر کریں،‏ ص.‏ 153-‏155 پ.‏ 4-‏7‏)‏

  3. 3.‏ جب یسوع بہت چھوٹے تھے تو خدا کے بندے شمعون نے مریم سے کہا:‏ ”‏آپ کے دل میں ایک لمبی تلوار گھونپی جائے گی۔“‏ یہ بات کیسے پوری ہوئی؟‏ (‏لُو 2:‏35‏؛ م08 15/‏3 ص.‏ 31 پ.‏ 1‏)‏

  4. 4.‏ ہم یہ کیوں کہہ سکتے ہیں کہ مریم کو آسمان پر ہمیشہ کی زندگی پانے کا اِنعام ملا ہوگا؟‏ (‏م18.‏07 ص.‏ 7 پ.‏ 14‏)‏ تصویر نمبر 2

    مریم اپنے تین بیٹوں کے ساتھ یروشلم کی ایک گلی سے گزر رہی ہیں جہاں کافی رش ہے۔‏

    تصویر نمبر 2‏:‏ مریم اور اُن کے بیٹے 33ء کی عید پنتِکُست سے کچھ دن پہلے یروشلم میں

آپ نے کیا سیکھا ہے؟‏

  • جب مریم کو ہمت اور حوصلے کی ضرورت تھی تو وہ الیشبع سے ملنے گئیں۔ (‏لُو 1:‏39، 40‏)‏جب ہمیں بھی کسی مسئلے کا سامنا ہوتا ہے یا ہم کسی مشکل ذمے‌داری کو نبھا رہے ہوتے ہیں تو ہمیں بھی اپنی کلیسیا میں کسی قابلِ‌بھروسا دوست سے بات کیوں کرنی چاہیے؟ تصویر نمبر 3

    تصویروں کا مجموعہ:‏1.‏ ایک بہن کُرسی پر بیٹھی ہوئی اپنے میز پر رکھے لیپ‌ٹاپ اور اُس ہیلمٹ کو دیکھ رہی ہے جو تعمیراتی کام میں اِستعمال ہوتا ہے۔ سامنے دیوار پر ایک کیلنڈر لگا ہے جس میں اُس نے وہ بہت سے کام لکھے ہوئے ہیں جو اُسے کرنے ہیں۔ وہ بہن پریشان ہے کہ وہ اِن سب کاموں کو کیسے کر پائے گی۔ 2.‏ وہی بہن بعد میں ایک بڑی عمر والی بہن کے ساتھ گھر گھر مُنادی کر رہی ہے اور اُسے اپنی پریشانی کے بارے میں بتا رہی ہے۔‏

    تصویر نمبر 3

  • مریم یوسف کی منگیتر تھیں اور اِس لحاظ سے یوسف کو اُن کا سربراہ سمجھا جاتا تھا۔ لیکن یہوواہ نے اپنے فرشتے کو پہلے مریم کے پاس بھیجا۔ یہوواہ اپنی وفادار بندیوں کو جیسا خیال کرتا ہے، اِس سے ہمیں اُس کے بارے میں کیا پتہ چلتا ہے؟‏

  • آپ مریم کی طرح دلیری کیسے دِکھا سکتے ہیں؟‏

یہوواہ اور اُس کے مقصد پر سوچ بچار کریں

  • مجھے اِس واقعے سے یہوواہ کے بارے میں کیا پتہ چلتا ہے؟‏

  • اِس واقعے کا یہوواہ کے مقصد سے کیا تعلق ہے؟‏

  • بہت حد تک ممکن ہے کہ مریم کو آسمان پر یسوع مسیح کے ساتھ حکمرانی کرنے کے لیے چُنا گیا ہوگا۔ اگر ایسا ہے تو آپ اِس بات کے لیے یہوواہ کے شکرگزار کیوں ہیں؟‏

مزید جانیں

غور کریں کہ مریم نے کتنی محنت اور محبت سے اپنے بچوں کی پرورش کی۔‏

‏”‏ہم مریم کی مثال سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟“‏ (‏م09 1/‏2 ص.‏ 5 پ.‏ 4–‏ص.‏ 6 پ.‏ 2)‏

آپ کے خیال میں مریم کو اُس وقت کیسا لگا ہوگا جب یہوواہ نے اُنہیں ایک بہت ہی بھاری ذمے‌داری نبھانے کے لیے چُنا؟‏

‏”‏دیکھیں!‏ مَیں یہوواہ کی بندی ہوں“‏ (‏40:‏3)‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں