5 اَبراہام
وہ سخت اِمتحان میں بھی یہوواہ کے وفادار رہے
بےشک اَبراہام کو اُس جگہ تک پہنچنے کے لیے ایک ایک قدم اُٹھانا مشکل لگ رہا ہوگا جہاں یہوواہ نے اُنہیں جانے کو کہا تھا۔ لیکن اُنہوں نے یہوواہ کے حکم پر عمل کرنے کا پکا اِرادہ کِیا ہوا تھا۔ اَبراہام نے اپنی زندگی میں کئی مشکل سفر کیے تھے۔ لیکن یہ اُن کی زندگی کا سب سے مشکل سفر تھا حالانکہ اِسے طے کرنے میں بس کچھ ہی دن لگنے تھے۔
اَبراہام مسلسل اُس بات کے بارے میں سوچتے رہے جو یہوواہ نے اُن سے کہی تھی۔ یہوواہ نے اَبراہام سے یہ کہا تھا: ”مہربانی سے اپنے اِکلوتے بیٹے اِضحاق کو جس سے تُم بےحد پیار کرتے ہو، ساتھ لے کر موریاہ کے علاقے میں جاؤ اور وہاں اُسے ایک پہاڑ پر جو مَیں تمہیں دِکھاؤں گا، بھسم ہونے والی قربانی کے طور پر پیش کرو۔“ یہوواہ جانتا تھا کہ اَبراہام اپنے بیٹے اِضحاق سے بہت محبت کرتے ہیں۔ تو پھر اُس نے اُنہیں اپنا بیٹا قربان کرنے کو کیوں کہا؟ اور اَبراہام میں اِس حکم کو ماننے کے لیے اِتنی دلیری اور ایمان کیسے آ گیا؟
بائبل میں اَبراہام کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ ’اُن سب لوگوں کے باپ ہیں جو ایمان رکھتے ہیں۔‘ (روم 4:11) دراصل اَبراہام اِس واقعے سے بہت پہلے ہی مضبوط ایمان کے مالک بن چُکے تھے اور یہوواہ نے اُن کے ایمان کو مضبوط رکھنے میں اُن کی بہت مدد بھی کی تھی۔ مثال کے طور پر بہت سال پہلے خدا نے اَبراہام سے کہا تھا کہ وہ سدوم اور عمورہ کے شہروں کو تباہ کر دے گا کیونکہ وہاں بُرائی بہت زیادہ پھیل گئی ہے۔ یہ سُن کر اَبراہام پریشان ہو گئے تھے اور اُنہوں نے یہوواہ سے پوچھا تھا کہ کیا وہ بُرے لوگوں کے ساتھ اچھے لوگوں کو بھی تباہ کر دے گا۔ یہوواہ نے بڑے صبر سے اَبراہام کو بتایا تھا کہ اگر اُسے اِن شہروں میں دس نیک لوگ بھی ملے تو وہ اُن کی خاطر اِن شہروں کو تباہ نہیں کرے گا۔ (پید 18:16-33) اَبراہام نے اِس باتچیت سے جو کچھ سیکھا، وہ اُسے کبھی نہیں بھولے۔ وہ جان گئے تھے کہ یہوواہ اِنصافپسند اور رحمدل خدا ہے۔
جب یہوواہ نے اَبراہام کو ایک ایسا کام کرنے کے لیے کہا جسے کرنے کے بارے میں اُن جیسا شفیق باپ سوچ بھی نہیں سکتا تھا تو اَبراہام میں یہوواہ کا حکم ماننے کی دلیری کیسے آئی؟
پھر اِس واقعے کے تھوڑے ہی عرصے بعد یہوواہ نے اَبراہام اور سارہ کو ایک معجزے کے ذریعے بہت بڑی نعمت دی۔ حالانکہ سارہ تقریباً 90 سال کی تھیں اور اَبراہام تقریباً 100 سال کے تھے لیکن یہوواہ نے اُنہیں اُن کے بڑھاپے میں ایک بیٹا دیا جس کا نام اُنہوں نے اِضحاق رکھا۔ اِس بات سے اَبراہام جان گئے کہ یہوواہ کے لیے کوئی بھی کام ناممکن نہیں ہے۔ (روم 4:18، 19) یہ بات بھی اَبراہام کے دلودماغ میں ساری زندگی رہی۔
تو اب اِس کے تقریباً 25 سال بعد جب اَبراہام موریاہ کا سفر کر رہے تھے تو یقیناً یہ سارے واقعات اُن کے ذہن میں بار بار آ رہے ہوں گے۔ وہ جانتے تھے کہ اگر اِضحاق مر بھی گئے تو یہوواہ اُنہیں زندہ کر سکتا ہے اور وہ ایسا کرے گا بھی! (عبر 11:19) اِس لیے اَبراہام اپنی منزل کی طرف بڑھتے رہے اور اُن کی اِس اُمید نے اُن میں دلیری پیدا کی۔
جب اَبراہام نے تھوڑے فاصلے سے اُس جگہ کو دیکھا جو یہوواہ نے اُنہیں بتائی تھی تو اَبراہام نے اپنے نوکروں سے کہا کہ جب تک وہ اور اِضحاق یہوواہ کے حضور قربانی پیش کر کے نہیں آ جاتے، وہ وہیں رُک کر اُن کا اِنتظار کریں۔ اَبراہام نے یہ بات پورے یقین سے کہی تھی کہ وہ اور اِضحاق دونوں ہی واپس آئیں گے۔ پھر آخرکار وہ لمحہ آ گیا جب اَبراہام اور اِضحاق پہاڑ پر اکیلے تھے اور اَبراہام یہوواہ کے حکم پر عمل کرنے والے تھے۔ اِضحاق جوان تھے اور اپنے بوڑھے باپ سے زیادہ طاقتور تھے۔ لیکن جب اَبراہام اُن کے ہاتھ اور پاؤں باندھ رہے تھے تو اِضحاق نے اُنہیں ایسا کرنے سے نہیں روکا۔ اَبراہام اپنے بیٹے سے بہت پیار کرتے تھے لیکن اب وہ ایک ایسا کام کرنے والے تھے جو کوئی بھی شفیق باپ کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ اُنہوں نے چُھری اُٹھائی۔ مگر جیسے ہی وہ اپنے بیٹے پر چُھری چلانے والے تھے، ایک فرشتے نے اُن کا نام پکارا اور اُن سے کہا: ”لڑکے کو کچھ مت کریں؛ اُسے کوئی نقصان نہ پہنچائیں۔“
یہوواہ نے اَبراہام کے ایمان اور اُن کی فرمانبرداری کے لیے اُن کی بہت تعریف کی۔ یہوواہ نے اپنے وعدے کو دُہراتے ہوئے اَبراہام سے کہا کہ وہ اُن کی نسل کو بہت بڑھائے گا اور اِس کے ذریعے ”زمین کی سب قوموں کو برکت ملے گی۔“
یہوواہ نے اَبراہام سے جو وعدہ کِیا تھا، وہ ابھی بھی پورا ہو رہا ہے۔ اِس وعدے کے ذریعے لوگوں کو ایسی برکتیں ملیں گی جو ہمیشہ تک قائم رہیں گی۔ یہوواہ نے اَبراہام اور اِضحاق کے اِس واقعے سے اپنے بارے میں ایک اَور بات بھی ظاہر کی۔ اُس نے ہمیں یہ جھلک دِکھائی کہ وہ اُن اِنسانوں کو بچانے کی خاطر کتنا دُکھ سہنے والا ہے جو اُس کی فرمانبرداری کریں گے۔ اَبراہام کی طرح یہوواہ بھی اپنے پیارے بیٹے کو قربان کرنے کو تیار تھا تاکہ ہم سب کو ایک اچھا مستقبل مل سکے۔ (یوح 3:16) تو جب ہم پڑھتے ہیں کہ اَبراہام اپنی قیمتی چیز کو بھی قربان کرنے کے لیے تیار تھے تو ہمیں یہوواہ کی اُس محبت کا اندازہ ہوتا ہے جو وہ ہمارے لیے رکھتا ہے۔
اَبراہام کی طرح اگر ہم بھی اُن باتوں پر سوچ بچار کریں گے اور اُن کاموں کو کبھی نہیں بھولیں گے جو یہوواہ نے ماضی میں کیے تو ہمارا ایمان بھی مضبوط ہوگا۔ اور جتنا زیادہ ہمارا ایمان مضبوط ہوگا اُتنی ہی زیادہ ہم میں دلیری پیدا ہوگی۔ آج ہمیں اِس بات کی وجہ سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کہ یہوواہ ہم سے وہ کام کرنے کے لیے کہے گا جو اُس نے اَبراہام سے کرنے کو کہا تھا۔ اُس نے اَبراہام کے علاوہ کبھی کسی کو وہ کام کرنے کو نہیں کہا۔ لیکن ہم اِس بات کا پکا یقین رکھ سکتے ہیں کہ چاہے وہ ہمیں کوئی بھی کام کرنے کو کہے، اگر ہم اُس پر مضبوط ایمان رکھتے ہیں تو ہم میں اُس کے حکم ماننے کے لیے دلیری پیدا ہوگی۔ اور اُس کی فرمانبرداری کرنے کی وجہ سے ہمیں اِتنی زیادہ برکتیں ملیں گی جن کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔
اِن آیتوں کو پڑھیں:
باتچیت کے لیے:
اَبراہام نے اپنی زندگی کے اِس حصے میں کن طریقوں سے دلیری دِکھائی؟
موضوع کی گہرائی میں جائیں
1. کن باتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ اَبراہام کوئی فرضی شخص نہیں تھے؟ (جی 12/5 ص. 18، بکس؛ آئیٹی ”اَبراہام“ پ. 22-23) تصویر نمبر 1
تصویر نمبر 1: مصر میں قدیم کرنک کے مندر کی تصویر جس کی ایک دیوار پر ”اَبرام کے کھیت“ کے بارے میں بتایا گیا ہے۔
2. اَبراہام نے شاید کس طرح سے یہوواہ خدا کے بارے میں سیکھا ہوگا؟ (ایمان ظاہر کریں، ص. 26 پ. 4-5)
3. اَبراہام جس طرح سے یہوواہ کی عبادت کرتے تھے، یہوواہ نے اِسے قبول کیوں کِیا؟ (آرآر ص. 20 پ. 18)
4. یہوواہ نے اَبراہام سے پیدائش 22:17 میں جو وعدہ کِیا، اُس سے کیسے ثابت ہوتا ہے کہ بائبل سائنس کے لحاظ سے درست ہے؟ (جی88 8/4 ص. 25) تصویر نمبر 2
تصویر نمبر 2
تصویر نمبر 2
آپ نے کیا سیکھا ہے؟
اَبراہام کی اُمید نے اُن میں دلیری کیسے پیدا کی؟ اگر ہم اپنا دھیان اپنی اُمید پر رکھیں گے تو ہم میں دلیری کیسے پیدا ہوگی؟ تصویر نمبر 3
تصویر نمبر 3
ہم اَبراہام کی طرح اُس وقت دلیری کیسے دِکھا سکتے ہیں اور یہوواہ کے حضور قربانی کیسے پیش کر سکتے ہیں جب . . .
ہمیں یہوواہ کے بارے میں گواہی دینے کا موقع ملتا ہے؟ (عبر 13:15)
ہمیں یہ فیصلہ لینا ہوتا ہے کہ ہم اپنے پیسوں اور چیزوں کو کیسے اِستعمال کریں گے؟ (اَمثا 3:9)
ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ہمارے ہمایمانوں کو ہماری ضرورت ہے؟ (فِل 4:18)
آپ اپنی زندگی میں کن طریقوں سے اَبراہام کی طرح ویسے ہی دلیری دِکھا سکتے ہیں جس کا اِس باب میں ذکر ہوا ہے؟
یہوواہ اور اُس کے مقصد پر سوچ بچار کریں
مجھے اِس واقعے سے یہوواہ کے بارے میں کیا پتہ چلتا ہے؟
اِس واقعے کا یہوواہ کے مقصد سے کیا تعلق ہے؟
جب یہوواہ اَبراہام اور اِضحاق کو زندہ کرے گا تو مَیں اَبراہام یا اِضحاق سے کیا پوچھوں گا؟
مزید جانیں
اِس ویڈیو کو دیکھیں جس نے اِس باب میں بتائے گئے واقعات میں جان ڈال دی ہے:
اَبراہام یہوواہ کے پکے دوست کیسے بن گئے اور آپ یہوواہ کے ساتھ اپنی دوستی کیسے مضبوط کر سکتے ہیں؟