6 رِبقہ
وہ دلیری سے ایک انجان ملک چلی گئیں
شام ہونے والی تھی۔ رِبقہ اپنے کندھے پر پانی کا گھڑا رکھے ہوئے کنوئیں پر پہنچیں۔ وہ یقیناً ہر روز اِسی وقت اپنے گھر والوں کے لیے وہاں پانی لینے آتی تھیں۔ لیکن اِس بار اُنہوں نے دیکھا کہ کچھ اجنبی اپنے اونٹوں کے ساتھ کنوئیں کے قریب کھڑے ہیں۔ حالانکہ وہ اِن آدمیوں کو نہیں جانتی تھیں لیکن وہ پھر بھی دلیری سے کنوئیں کے پاس گئیں اور اپنا گھڑا پانی سے بھر لیا۔
جیسے ہی وہ اپنا گھڑا اُٹھا کر اپنے گھر کی طرف لوٹنے لگیں، اُن اجنبیوں میں سے ایک بوڑھا آدمی جلدی سے اُن کے پاس گیا اور اُن سے کہنے لگا: ”کیا آپ مجھے اپنے گھڑے سے تھوڑا پانی پلاؤ گی؟“ رِبقہ نے فوراً اِن اجنبیوں کے لیے مہماننوازی دِکھائی۔ اُنہوں نے اُس بوڑھے آدمی سے کہا: ”ضرور میرے مالک۔“ پھر اُنہوں نے فوراً اپنا گھڑا کندھے سے اُتار کر ہاتھ میں پکڑا اور اُس آدمی کو پانی پلانے لگیں۔
لیکن رِبقہ نے بس اِتنا ہی نہیں کِیا۔ اُنہوں نے اُس آدمی سے کہا کہ وہ اُس کے دس اُونٹوں کے لیے بھی تب تک پانی بھر کر لاتی رہیں گی جب تک وہ پی نہیں لیتے۔ رِبقہ نے مہماننوازی کی بڑی شاندار مثال قائم کی! وہ اجنبی حیرانی سے رِبقہ کو دیکھتا رہا جو بھاگ بھاگ کر تب تک کُھرلی میں پانی بھرتی رہیں جب تک سب اُونٹوں نے پی نہیں لیا۔ پھر اُس آدمی نے رِبقہ سے پوچھا کہ وہ کس کی بیٹی ہیں اور کیا اُن کے ابو کے گھر میں اِتنی جگہ ہے کہ وہ لوگ وہاں رات رُک سکیں۔ رِبقہ اِن آدمیوں کی مدد کرنے سے پیچھے نہیں ہٹیں۔ اُنہوں نے اپنے ابو کے گھر میں اُن سب آدمیوں کے لیے رات ٹھہرنے اور اُن کے اُونٹوں کے لیے چارے اور بھوسے کا بندوبست بھی کِیا۔
رِبقہ نہیں جانتی تھیں کہ یہوواہ نے ہی اُن کی اور اِس بوڑھے آدمی کی آپس میں ملاقات کرائی ہے۔ یہ آدمی غالباً اَبراہام کا خادم اِلیعزر تھا جس پر اَبراہام بہت بھروسا کرتے تھے۔ اِس ملاقات سے بہت ہفتے پہلے اَبراہام نے اِلیعزر سے کہا تھا کہ وہ اُن کے بیٹے اور وارث کے لیے ایک اچھی بیوی ڈھونڈیں جس کے لیے اُنہیں سینکڑوں میل کا سفر کرنا تھا۔ اَبراہام نے اِس بات پر بہت زور دیا تھا کہ اِلیعزر صرف اُسی گھرانے سے لڑکی چُنیں جو یہوواہ کی عبادت کرتا ہو۔ اِس لیے اِلیعزر نے مدد کے لیے یہوواہ سے دُعا کی۔ اُنہوں نے یہوواہ سے کہا کہ جس لڑکی کو اُس نے اِضحاق کے لیے چُنا ہے، وہ اُن کی مہماننوازی کرے۔ اور رِبقہ نے بالکل ایسا ہی کِیا۔ اُنہوں نے دل کھول کر اُن اجنبیوں کی مہماننوازی کی!
بےشک آج لوگ”وحشی[اور]نیکی کے دُشمن“ ہیں۔ اِس لیے ہمارے زمانے کی نسبت اُس زمانے میں اجنبیوں کے لیے مہماننوازی دِکھانے میں کوئی خطرہ نہیں ہوتا تھا۔ (2-تیم 3:1، 3) لیکن اُس زمانے میں بھی کسی جوان لڑکی کے لیے اجنبیوں کی اِس حد تک مہماننوازی کرنا بڑا مثالی تھا اور اِس کے لیے بہت ہمت کی بھی ضرورت تھی۔ رِبقہ نے تو آگے چل کر اَور بھی زیادہ دلیری دِکھائی۔
پھر جب وہ آدمی رِبقہ کے گھر پہنچے تو رِبقہ کو پتہ چلا کہ وہ سب اِتنی دُور سفر کر کے کیوں وہاں آئے ہیں۔ رِبقہ کے ابو بیتوایل اور بھائی لابن نے اِلیعزر کو اپنے ساتھ کھانے پر بُلایا۔ لیکن اِلیعزر نے اِصرار کِیا کہ وہ پہلے اُنہیں اپنے آنے کا مقصد بتانا چاہتے ہیں۔ پھر اُنہوں نے بتایا کہ یہوواہ نے کس طرح سے رِبقہ کو ڈھونڈنے میں اُن کی مدد کی۔ بیتوایل اور لابن دونوں ہی یہ سمجھ گئے تھے کہ ”یہ سب کچھ یہوواہ کی مرضی سے ہوا ہے۔“
جب رِبقہ کو پتہ چلا کہ یہوواہ چاہتا ہے کہ وہ اپنے گھر والوں سے دُور کسی اَور ملک میں چلی جائیں اور اُس آدمی سے شادی کریں جس سے وہ پہلے کبھی نہیں ملی تھیں تو اُنہوں نے کیا کِیا؟
اب ساری بات رِبقہ کی تھی۔ اِلیعزر جانتے تھے کہ شاید لڑکی اُن کے ساتھ ملک کنعان جانے سے اِنکار کر دے۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ رِبقہ کو چپچاپ فیصلے کو قبول نہیں کرنا تھا بلکہ وہ خود یہ فیصلہ لے سکتی تھیں کہ وہ اِلیعزر کے ساتھ جائیں گی یا نہیں۔ پھر اگلی صبح اِلیعزر نے رِبقہ کے گھر والوں سے رِبقہ کو اپنے ساتھ لے جانے کی اِجازت مانگی۔ اِس پر رِبقہ کے گھر والوں نے کہا کہ وہ رِبقہ کو بُلا کر پوچھتے ہیں کہ وہ جانا چاہتی ہیں یا نہیں۔ پھر جب اُنہوں نے رِبقہ سے اِس بارے میں پوچھا تو اُنہوں نے جواب دیا: ”جی، مَیں جاؤں گی۔“ رِبقہ اپنے گھر اور گھر والوں کو چھوڑ کر بہت دُور جانے کو تیار ہو گئیں حالانکہ وہ جانتی تھیں کہ شاید وہ پھر کبھی اُن سے نہیں مل پائیں گی۔ رِبقہ نے اِتنی دلیری کیوں دِکھائی؟ ایسا لگتا ہے کہ وہ بھی یہ بات جانتی تھیں کہ اِس میں یہوواہ کی مرضی شامل ہے۔
کئی ہفتے اُونٹ پر سفر کرنے کے بعد رِبقہ اُس جگہ پہنچیں جہاں اَبراہام کے گھرانے کے خیمے لگے ہوئے تھے۔ جب شام ڈھل رہی تھی تو رِبقہ نے ایک آدمی کو اکیلے میدان میں چلتے ہوئے دیکھا جو سوچ بچار کر رہا تھا۔ جب اُنہیں پتہ چلا کہ یہ آدمی اِضحاق ہیں تو اُنہوں نے بڑی خاکساری سے اپنی چادر اپنے سر پر لے لی جس سے ظاہر ہوا کہ رِبقہ نے اِضحاق کو اپنے ہونے والے شوہر کے طور پر تسلیم کر لیا ہے۔ اِضحاق کی عمر اُس وقت 40 سال تھی۔ وہ ایک بہت ہی سمجھدار اور دوسروں کا احساس کرنے والے شخص تھے۔ وہ ابھی بھی اپنی ماں یعنی سارہ کی موت کی وجہ سے دُکھی تھے جنہیں فوت ہوئے تین سال ہو گئے تھے۔ کیا رِبقہ دلیری سے اُس ذمےداری کو نبھانے کے لیے تیار تھیں جو یہوواہ اُنہیں دینے والا تھا یعنی یہ ذمےداری کہ وہ ایک اچھی جیون ساتھی ثابت ہوں اور اِضحاق کی مدد کریں تاکہ وہ گھر کے سربراہ کے طور پر یہوواہ کی خدمت کرتے رہیں؟ بائبل سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ایسی ہی بیوی ثابت ہوئیں۔ اِس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اِضحاق رِبقہ کے بارے میں کیسا محسوس کرتے تھے۔ بائبل میں لکھا ہے: ”اِضحاق کو[رِبقہ]سے پیار ہو گیا۔ اِس طرح وہ اپنی والدہ کی وفات کے غم سے نکل پائے اور اُنہیں تسلی ملی۔“
اِن آیتوں کو پڑھیں:
باتچیت کے لیے:
رِبقہ نے کن طریقوں سے دلیری دِکھائی؟
موضوع کی گہرائی میں جائیں
1. جب اَبراہام کے بچے ہوئے تو اِس کا اِلیعزر کی زندگی پر کیا اثر پڑا اور یہ کیسے پتہ چلتا ہے کہ اِلیعزر نے اپنے دل میں حسد کو جگہ نہیں دی؟ (پید 15:2-4؛ 24:12؛ ڈبلیو97 1/1 ص. 30 پ. 2)
2. اَبراہام نے اِضحاق کو رِبقہ کے ملک بھیجنے کی بجائے رِبقہ کو کیوں کنعان آنے کو کہا؟ (ڈبلیو97 1/1 ص. 30 پ. 3)
3. رِبقہ اور اُن کے گھر والوں کو جو تحفے دیے گئے تھے، اُنہیں دینے کا مقصد کیا تھا؟ (آئیٹی ”رِبقہ“ پ. 4)
4. اُس سفر کے بارے میں بتائیں جو رِبقہ نے حاران سے لے کر نِجِب تک کِیا جہاں اِضحاق رہتے تھے۔ (ڈبلیوپی16.3 ص. 15 پ. 1) تصویر نمبر 1
www.LifeintheHolyLand.com
تصویر نمبر 1: ماضی میں بہت سے لوگ نِجِب میں رہتے تھے اور یہ اَبراہام اور اُن کے مویشیوں کے رہنے کے لیے کافی بڑا علاقہ تھا۔
آپ نے کیا سیکھا ہے؟
ہم جیون ساتھی چُننے کے حوالے سے اَبراہام، اِضحاق اور رِبقہ سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟ (پید 24:2، 3؛ 27:46–28:1)
رِبقہ ایک محنتی، فراخدل اور دوسروں کا احترام کرنے والی عورت تھیں۔ آج بہنیں کن طریقوں سے رِبقہ کی مثال پر عمل کر سکتی ہیں؟ تصویر نمبر 2
تصویر نمبر 2
آپ اپنی زندگی میں رِبقہ کی طرح دلیری کیسے دِکھا سکتے ہیں؟
یہوواہ اور اُس کے مقصد پر سوچ بچار کریں
مجھے اِس واقعے سے یہوواہ کے بارے میں کیا پتہ چلتا ہے؟
اِس واقعے کا یہوواہ کے مقصد سے کیا تعلق ہے؟
جب یہوواہ رِبقہ کو زندہ کرے گا تو مَیں رِبقہ سے کیا پوچھوں گا؟
مزید جانیں
غور کریں کہ رِبقہ ایک بیوی اور ماں کے طور پر دلیری کیسے دِکھاتی رہیں۔
بچے رِبقہ سے کیا کچھ سیکھ سکتے ہیں؟
”رِبقہ کی شاندار خوبیاں“ (ویبسائٹ پر سلسلہ ”تصویری مشقیں“)