سبق نمبر 11
ایمان کا اِمتحان
اَبراہام نے اپنے بیٹے اِضحاق کو بچپن سے ہی یہوواہ سے پیار کرنا اور اُس کے وعدوں پر بھروسا رکھنا سکھایا تھا۔ لیکن جب اِضحاق تقریباً 25 سال کے تھے تو یہوواہ نے اَبراہام سے ایک بہت ہی مشکل کام کرنے کو کہا۔ وہ کام کیا تھا؟
خدا نے اَبراہام سے کہا: ”مہربانی سے اپنے اِکلوتے بیٹے کو لو اور موریاہ کے علاقے کے ایک پہاڑ پر اُسے میرے لیے قربان کرو۔“ اَبراہام نہیں جانتے تھے کہ یہوواہ نے اُنہیں ایسا کرنے کے لیے کیوں کہا ہے۔ لیکن اُنہوں نے پھر بھی یہوواہ کی بات مانی۔
اگلے دن صبح صبح اَبراہام اِضحاق اور اپنے دو نوکروں کو لے کر موریاہ جانے کے لیے نکل پڑے۔ تین دن کے سفر کے بعد اُنہیں دُور سے پہاڑ نظر آنے لگے۔ اَبراہام نے اپنے نوکروں سے کہا کہ وہ یہیں اِنتظار کریں اور وہ اور اِضحاق قربانی چڑھانے کے لیے چلے گئے۔ اَبراہام نے ایک چُھرا لیا اور اِضحاق سے کہا کہ وہ لکڑیاں اُٹھائیں۔ اِضحاق نے اپنے ابو سے پوچھا: ”قربانی کے لیے جانور کہاں ہے؟“ اَبراہام نے کہا: ”بیٹا! جانور یہوواہ دے گا۔“
جب وہ پہاڑ پر پہنچ گئے تو اُنہوں نے ایک قربانگاہ بنائی۔ پھر اَبراہام نے اِضحاق کے ہاتھ پاؤں باندھے اور اُنہیں قربانگاہ پر لِٹا دیا۔
اَبراہام نے اِضحاق کو قربان کرنے کے لیے چُھرا اُٹھایا۔ اُسی وقت آسمان سے یہوواہ کے فرشتے کی آواز آئی: ”اَبراہام! لڑکے کو کچھ مت کریں۔ اب مجھے پتہ چل گیا ہے کہ آپ خدا پر ایمان رکھتے ہیں کیونکہ آپ اپنے بیٹے کو قربان کرنے کے لیے بھی تیار تھے۔“ پھر اَبراہام کو ایک مینڈھا نظر آیا جس کے سینگ جھاڑیوں میں پھنسے ہوئے تھے۔ اُنہوں نے فوراً اِضحاق کے ہاتھ پاؤں کھولے اور اُن کی جگہ اُس مینڈھے کو قربان کِیا۔
اُس دن سے یہوواہ اَبراہام کو اپنا دوست کہنے لگا۔ کیا آپ کو پتہ ہے کہ یہوواہ نے یہ کیوں کہا؟ کیونکہ اَبراہام نے ہمیشہ وہ کِیا جو یہوواہ چاہتا تھا۔ اُنہوں نے تب بھی ایسا کِیا جب اُن کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ یہوواہ نے اُنہیں وہ کام کرنے کے لیے کیوں کہا ہے۔
یہوواہ نے اَبراہام سے پھر سے یہ وعدہ کِیا: ”مَیں تمہیں برکت دوں گا۔ مَیں تمہاری نسل کو بڑھاؤں گا۔“ اِس کا مطلب تھا کہ اَبراہام کے گھرانے کے ذریعے سب اچھے لوگوں کو برکت ملنی تھی۔
”خدا کو دُنیا سے اِتنی محبت ہے کہ اُس نے اپنا اِکلوتا بیٹا دے دیا تاکہ جو کوئی اُس پر ایمان ظاہر کرے، وہ ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے۔“—یوحنا 3:16