’اُنہوں نے کوئی دھیان نہ دیا‘
آگاہیوں پر دھیان نہ دینا تباہکُن ہو سکتا ہے۔ اِن مثالوں پر غور کیجئے۔
سن ۱۹۷۴ کی بات ہے۔ آسٹریلیا کے شہر ڈارون میں لوگ چھٹی منانے کی تیاریوں میں مشغول تھے۔ اچانک چاروں طرف سے سائرن کی آواز سنائی دی۔ سائنسدانوں کے مطابق ایک خطرناک طوفان تیزی سے شہر کی طرف بڑھ رہا تھا۔ مگر لوگوں نے دھیان نہ دیا۔ ڈارون شہر کو تقریباً ۳۰ سال سے طوفانوں سے کبھی کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا۔ اِسلئے لوگوں نے سوچا اب طوفان سے تباہی کیوں آئیگی۔ مگر اِس بار طوفان آیا اور گھروں کی چھتوں کو سوکھے پتوں کی طرح اُڑا کر لے گیا اور دیواروں کو بنیادوں سے اُکھاڑ دیا۔ ایک ہی رات میں سارا شہر اُجڑ گیا۔
ملک کولمبیا کے ایک گاؤں پر غور کیجئے۔ اِسکے پاس ایک آتشفشاں پہاڑ ہے۔ یہ پہاڑ نومبر ۱۹۸۵ میں، ایک زوردار دھماکے سے پھٹنے لگا۔ دہکتے انگاروں جیسے پتھر پہاڑ سے برسنے لگے اور پگھلنے والی برف اور کیچڑ کی ندی نے تمام شہر کو ڈبو دیا اور ۲۰،۰۰۰ لوگ زندہ دفن ہو گئے۔ کیا کوئی پیشگی آگاہی دی گئی تھی؟ پہاڑ کئی مہینوں سے اندر ہی اندر گرج رہا تھا۔ مگر لوگوں نے دھیان نہ دیا۔ سرکاری حکام کو سر پر کھڑی تباہی سے آگاہ کِیا گیا تھا لیکن اُنہوں نے عوام کو آگاہ کرنے کیلئے کوئی قدم نہ اُٹھایا۔ آگاہ کرنے کی بجائے اُنہوں نے ریڈیو کے ذریعے اعلانات کئے کہ لوگوں کو گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ چرچ سے لاؤڈسپیکر پر لوگوں کو مطمئن رہنے کی تاکید کی گئی۔ شام کے وقت دو زوردار دھماکوں کیساتھ آتشفشاں پھٹنے لگا۔ مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی۔ اگر آپ وہاں ہوتے تو کیا کرتے؟
زلزلوں پر غور کیجئے۔ اکثر سائنسدان یہ تو بتا سکتے ہیں کہ زلزلے کہاں آئینگے مگر کب آئینگے اسکی بابت وہ نہیں بتا سکتے۔ سن ۱۹۹۹ میں، پوری دُنیا میں کوئی ۲۰،۰۰۰ زندگیاں زلزلوں کی نذر ہو گئیں۔ موت کا شکار ہونے والوں میں سے بہتیروں نے یہ نہیں سوچا تھا کہ اُنکے ساتھ کبھی ایسا ہوگا۔
کیا آپ خدا کی آگاہیوں پر دھیان دے رہے ہیں؟
بائبل میں ہمیں ”نوؔح کے دنوں“ کی مثال دی گئی ہے۔ طوفان کے آنے سے پہلے لوگ روزمرّہ کے کاموں میں مصروف تھے۔ ساری دُنیا ظلموتشدد سے بھری پڑی تھی۔ نیز لوگ لاپرواہ تھے۔ یہوواہ نے نوح سے لوگوں کو طوفان کے بارے میں آگاہ کرنے کیلئے کہا۔ نوح نے ہر جگہ اِس بات کی بابت آگاہی دینا شروع کر دی۔ مگر کسی نے دھیان نہ دیا۔ (متی ۲۴:۳۷-۳۹) اگر آپ اُس زمانہ میں ہوتے تو آپ کیا کرتے؟ کیا آپ نوح کی بات سنتے؟ آجکل یہوواہ کے گواہ نوح کی طرح لوگوں کو آگاہ کر رہے ہیں۔ کیا آپ اُنکی بات سن رہے ہیں؟
بائبل کی ایک اَور مثال پر غور کیجئے۔ ابرہام کا بھتیجا لوط شہر سدوم میں رہتا تھا۔ اِس شہر کے اِردگِرد کا علاقہ فردوس کی مانند تھا۔ شہر خوشحال تھا۔ لوگ بےفکر تھے۔ لوط کے دنوں میں ”لوگ کھاتے پیتے اور خریدوفروخت کرتے اور درخت لگاتے اور گھر بناتے تھے۔“ سارا شہر بدچلنی سے بھرا پڑا تھا۔ لوگ اتنے بگڑ چکے تھے کہ اُن میں کوئی شرموحیا نہیں رہی تھی۔ خدا نے سدوم کے شہر کو تباہ کرنے کا فیصلہ کِیا۔ لوط نے لوگوں کو آگاہ کرنا شروع کر دیا۔ مگر اُنہوں نے دھیان نہ دیا۔ اگر آپ وہاں ہوتے تو کیا کرتے؟ کیا آپ بھی لوط کے دامادوں کی طرح اُسکی باتوں کا مذاق اُڑاتے؟ کیا آپ شہر سے نکل جانے کے بعد لوط کی بیوی کی طرح پیچھے مڑ کر دیکھتے؟ جس دن لوط سدوم سے نکلا ”آگ اور گندھک نے آسمان سے برس کر سب کو ہلاک کر دیا۔“—لوقا ۱۷:۲۸، ۲۹۔
آج اِس دُنیا کے بدکار لوگوں کا خاتمہ بھی نزدیک ہے۔ مگر لوگ بائبل میں دی گئی آگاہی پر دھیان نہیں دیتے۔ لیکن خدا کے کلام میں اِن مثالوں کو آگاہی کے طور پر محفوظ کِیا گیا ہے تاکہ ہم جاگتے رہیں!
[صفحہ ۲۲ پر بکس/تصویر]
کیا واقعی ایک عالمگیر طوفان آیا تھا؟
بہت سے لوگ یہ نہیں مانتے کہ نوح کے زمانہ میں طوفان آیا تھا۔ لیکن بائبل بیان کرتی ہے کہ طوفان واقعی آیا تھا۔
یسوع مسیح نے آسمان سے اِن واقعات کو دیکھا تھا۔ صدیوں بعد اُس نے زمین پر اِس طوفان کے بارے میں بیان بھی کِیا تھا۔
[صفحہ ۳۲ پر بکس/تصویر]
کیا خدا نے واقعی سدوم اور عمورہ کو تباہ کِیا تھا؟
سائنسدان اِس واقعہ کی تصدیق کرتے ہیں۔
تاریخ اِسکا ذکر کرتی ہے۔
یسوع مسیح نے اِس واقعہ کی تصدیق کی اور بائبل کی ۱۴ کتابیں بھی اِس واقعہ کا ذکر کرتی ہیں۔