”دُعا کرتے رہو تاکہ آزمایش میں نہ پڑو“
”جاگو اور دُعا کرو تاکہ آزمایش میں نہ پڑو۔“—متی ۲۶:۴۱۔
یہ یسوع کی زندگی کی آخری گھڑی تھی۔ تھوڑی دیر بعد اُسکے دُشمن اُسے پکڑ کر سولی پر چڑھانے والے تھے۔ یسوع جانتا تھا کہ اگر اُس نے کوئی غلط قدم اُٹھایا تو یہوواہ کا نام بدنام ہو سکتا ہے۔ ہر انسان کی زندگی اب اُسکے ہاتھوں میں تھی۔ یسوع نے اِس شدید دباؤ کو کیسے برداشت کِیا؟
۲ یسوع اپنے شاگردوں کیساتھ گتسمنی باغ میں گیا کیونکہ یہ اُسکی پسندیدہ جگہ تھی۔ اُسکے شاگرد ایک جگہ بیٹھے تھے کہ یسوع تھوڑی دُور جاکر گھٹنوں کے بل گر کر یہوواہ سے دل کھولکر فریاد کرنے لگا۔ اُس نے تین مرتبہ ایسا کِیا۔ کیوں؟ یسوع تو کامل اور طاقتور تھا۔ مگر اُسے معلوم تھا کہ صرف یہوواہ کی مدد سے وہ اِس شدید دباؤ کو برداشت کر سکتا ہے۔—متی ۲۶:۳۶-۴۴۔
۳ یسوع کی طرح آجکل ہم بھی دباؤ کے تحت ہیں اور ہمیں بہت سی مصیبتوں سے گزرنا پڑتا ہے کیونکہ ہم اِس دُنیا کے آخری دنوں میں رہ رہے ہیں۔ شیطان جانتا ہے کہ اُسکے پاس اب تھوڑا سا وقت باقی ہے۔ وہ ہمیں اپنے ساتھ موت کے مُنہ میں دھکیلنے کیلئے سرتوڑ کوشش کر رہا ہے۔ اِسلئے وہ ہم پر ہر طرح کی آزمائش لاتا ہے۔لہٰذا، ہمیں سوچ سمجھ کر قدم اُٹھانے کی ضرورت ہے۔ یاد رکھیں کہ اگر ہم غلط قدم اُٹھاتے ہیں تو اِس سے یہوواہ کا نام بدنام ہو سکتا ہے۔ ہم اپنی زندگی بھی کھو سکتے ہیں۔ اِسلئے ہمیں چاہئے کہ ہم آخری سانس تک یہوواہ کے قریب رہیں۔ (متی ۲۴:۱۳) مگر یہ آسان نہیں ہے۔ تو پھر ہم ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟
۴ یسوع جانتا تھا کہ اُسکے شاگرد کئی تکلیفوں سے گزرینگے۔ اِسلئے اُس نے کہا: ”جاگو اور دُعا کرو تاکہ آزمایش میں نہ پڑو۔“ (متی ۲۶:۴۱) یہ ہدایت آج ہماری مدد کیسے کر سکتی ہے؟ ہم پر کس طرح کی آزمائشیں آ سکتی ہیں؟ ہم کسطرح جاگتے رہ سکتے ہیں؟ آئیے دیکھیں؟
ہم پر کسطرح کی آزمائش آ سکتی ہے؟
۵ شیطان ایک چالاک شکاری ہے۔ (۲-تیمتھیس ۲:۲۶) وہ خاص طور پر یہوواہ کے خادموں کو اپنے پھندے میں پھنسانا چاہتا ہے۔ (۱-پطرس ۵:۸؛ مکاشفہ ۱۲:۱۲، ۱۷) کیا وہ ہماری زندگی لینا چاہتا ہے؟ جینہیں۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اگر ہم یہوواہ کے وفادار رہتے ہوئے مر جاتے ہیں تو یہوواہ ہمیں ضرور پھر سے زندہ کریگا۔ اس سے اُسکی ہار ہوگی۔—لوقا ۲۰:۳۷، ۳۸۔
۶ شیطان ہماری جان نہیں لینا چاہتا بلکہ ہماری وفاداری کو توڑنا چاہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ہم یہوواہ کی خدمت کرنا چھوڑ دیں۔ وہ چاہتا ہے کہ ہم منادی کے کام میں نہ جائیں، بداخلاق کام کریں اور اُسکی طرح بنیں۔ جیہاں، اِسی میں شیطان کی جیت ہوگی! (افسیوں ۶:۱۱-۱۳) اِسلئے ’آزمانے والا‘ ہمارے سامنے آزمائشیں رکھتا ہے۔—متی ۴:۳۔
۷ شیطان آزمائشیں لانے میں ماہر ہے۔ وہ ہر طرح کے ”منصوبے“ بناتا ہے۔ (افسیوں ۶:۱۱) وہ ہمیں دھندولت یا عیشوعشرت کا لالچ دیتا ہے۔ ہمارے دل میں شک کے بیج بونے کی کوشش کرتا ہے، یا پھر دل میں خوف پیدا کرتا ہے۔ لیکن اُسکا ایک اَور مکار طریقہ بھی ہے۔ وہ ہے ہماری ہمت کو توڑنا۔ وہ جانتا ہے کہ نااُمیدی ہمیں روحانی طور پر کمزور کر سکتی ہے اور ہم آزمائش میں پڑ سکتے ہیں۔ (امثال ۲۴:۱۰) لہٰذا، جب ہم بیدل محسوس کرتے ہیں تو وہ خاص طور پر ہمیں آزماتا ہے تاکہ ہم ہمت ہار بیٹھیں۔—زبور ۳۸:۸۔
۸ شیطان کے پاس ہماری ہمت توڑنے کے کئی طریقے ہیں۔ (دیکھیں بکس ”کچھ بہن بھائی ہمت کیوں ہار بیٹھتے ہیں؟“) اگر ہم افسردگی میں ڈوب جاتے ہیں تو ہمارے ایمان کا چراغ دھیرے دھیرے بجھ سکتا ہے۔ کیسے؟ اگر آپ ہمت ہار بیٹھتے ہیں تو کیا آپکا دل بائبل پڑھنے کو کرتا ہے؟ اگر آپ بہت تھک جاتے ہیں تو کیا آپکا دل اجلاس اور منادی میں لگتا ہے؟ جینہیں۔ شیطان یہی چاہتا ہے۔ آپ تھک کر ہمت نہ ہاریں کیونکہ دُنیا کا خاتمہ بہت نزدیک ہے۔ (لوقا ۲۱:۳۴-۳۶) یہوواہ کی خدمت کرنے کیلئے ہر موقع سے فائدہ اُٹھائیں۔ (افسیوں ۵:۱۵، ۱۶) ہم کیسے آزمائش کی مزاحمت کر سکتے ہیں۔ آئیے چار مشوروں پر غور کریں۔
’دُعا کرتے رہو‘
۹ طاقت کیلئے یہوواہ خدا سے دل سے فریاد کریں۔ یسوع جب شدید دباؤ میں تھا تو اُس نے کیا کِیا؟ اُس نے یہوواہ سے فریاد کی۔ دُعا کرتے وقت ”اُسکا پسینہ گویا خون کی بڑی بڑی بوندیں ہوکر زمین پر ٹپکا۔“ (لوقا ۲۲:۴۴) ذرا سوچیں۔ یسوع اتنا طاقتور تھا۔ وہ شیطان سے پوری طرح واقف تھا۔ وہ جانتا تھا کہ شیطان یہوواہ کے خادموں کو پھنسانے کیلئے کس آزمائش میں ڈالتا ہے۔ تاہم، اُس نے اپنی طاقت پر نہیں بلکہ یہوواہ پر پورا بھروسا رکھا۔ اگر خدا کے کامل بیٹے نے مدد اور قوت کیلئے خدا سے دُعا کرنے کی ضرورت کو محسوس کِیا تو بےشک ہمیں اِس سے بھی زیادہ مدد کی ضرورت ہے۔—۱-پطرس ۲:۲۱۔
۱۰ یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا کہ ’متواتر دُعا کرتے رہو۔‘ یسوع جانتا تھا کہ ہم میں یہوواہ کی خدمت کرنے کا جذبہ تو ہے لیکن ہم آسانی کیساتھ ہار بھی مان سکتے ہیں۔ اِسلئے اُس نے کہا ”رُوح تو مستعد ہے مگر جسم کمزور ہے۔“ (متی ۲۶:۴۱) یسوع میں کوئی گُناہ نہیں تھا، وہ کامل انسان تھا۔ (۱-پطرس ۲:۲۲) لیکن وہ جانتا تھا کہ اُسکے شاگرد آدم کی اولاد ہیں۔ اِسلئے اُنہیں خاص طور پر آزمائش کی مزاحمت کرنے کیلئے مدد کی ضرورت ہے۔ (رومیوں ۷:۲۱-۲۴) اِسی لئے اُس نے اُنہیں کہا تھا کہ آزمائش کا مقابلہ کرنے کیلئے دُعا کرتے رہو۔ (متی ۶:۱۳) مگر یہوواہ کسطرح ہماری دُعاؤوں کا جواب دیتا ہے؟ (زبور ۶۵:۲) آئیے دیکھیں۔
۱۱ سب سے پہلے تو یہوواہ شیطان کے مکار طریقوں کو پہچاننے میں ہماری مدد کرتا ہے۔ شیطان کی آزمائشیں اندھیری راہ میں بچھائے گئے پھندوں کی مانند ہیں۔ اگر آپ اُنہیں نہیں دیکھتے تو آپ اِن پھندوں میں پھنس سکتے ہیں۔ بائبل اور بائبل پر مبنی کتابوں کے ذریعے یہوواہ اِس راہ پر روشنی ڈالتا ہے تاکہ ہم شیطان کے پھندوں کو صاف دیکھ سکیں۔ یہوواہ ہمیں کنونشن اور اسمبلی پروگراموں کے ذریعے بھی شیطان کے مکار طریقوں سے آگاہ کرتا ہے۔ یہوواہ ہمیں کن پھندوں سے آگاہ کرتا ہے؟ شیطان چاہتا ہے کہ ہم لوگوں سے ڈرکر منادی کرنا چھوڑ دیں، اپنی شرموحیا چھوڑکر بدچلن کام کریں اور پیسے کے پیچھے بھاگیں۔ لیکن اِن باتوں سے آگاہ کرکے یہوواہ ہمیں آزمائش میں پڑنے سے بچنے کے قابل بناتا ہے۔ (امثال ۲۹:۲۵؛ ۱-کرنتھیوں ۱۰:۸-۱۱؛ ۱-تیمتھیس ۶:۹، ۱۰) اِسلئے ہم یہوواہ کے شکرگزار ہیں۔ (۲-کرنتھیوں ۲:۱۱) جیہاں، ہماری دُعاؤں کے جواب میں یہوواہ ہماری راہنمائی کرتا ہے۔
۱۲ اِن آزمائشوں کا سامنا کرنے کے لئے یہوواہ ہمیں طاقت بھی دیتا ہے۔ اُسکا کلام وعدہ فرماتا ہے: ”خدا . . . تمکو تمہاری طاقت سے زیادہ آزمایش میں نہ پڑنے دیگا بلکہ آزمایش کیساتھ نکلنے کی راہ بھی پیدا کر دیگا تاکہ تم برداشت کر سکو۔“ (۱-کرنتھیوں ۱۰:۱۳) جیہاں، یہوواہ ہمیں کبھی بھی ایسی آزمائشوں سے گزرنے نہیں دیگا جس سے ہمارا ایمان خطرے میں پڑ جائے۔ توپھر یہوواہ کسطرح سے آزمائش سے نکلنے کی راہ پیدا کرتا ہے؟ وہ ’اپنے مانگنے والوں کو رُوحاُلقدس دیتا ہے۔‘ (لوقا ۱۱:۱۳) یہوواہ ہمیں ایسے صحیفے یاد دلائیگا جو ہمیں ہمت دے سکتے ہیں۔ اُسکی راہنمائی سے ہم سوچ سمجھ کر فیصلہ کر سکیں گے۔ (یوحنا ۱۴:۲۶؛ یعقوب ۱:۵، ۶) اُسکی طاقت سے ہم بُرے خیالوں کو اپنے ذہن سے جڑ سے نکال سکتے ہیں اور انمول موتیوں جیسی خوبیاں پیدا کر سکیں گے۔ (گلتیوں ۵:۲۲، ۲۳) یہوواہ خدا ہمارے بھائی بہنوں کے ذریعے بھی ہماری مدد کرتا ہے۔ (کلسیوں ۴:۱۱) تو آئیے دُکھسکھ میں یہوواہ سے دُعا کرتے رہیں۔
آزمائشوں کیلئے تیار رہیں
۱۳ آزمائشوں کیلئے ہمیشہ تیار رہیں۔ یہوواہ نے کبھی یہ نہیں کہا کہ شیطان کی دُنیا میں اُسکے خادموں کو کسی دُکھ تکلیف کا سامنا نہیں ہوگا۔ پُرانے زمانہ میں بھی خدا کے خادموں نے اذیت، غربت، افسردگی اور بیماری جیسی مصیبتوں کا سامنا کِیا تھا۔—اعمال ۸:۱؛ ۲-کرنتھیوں ۸:۱، ۲؛ ۱-تھسلنیکیوں ۵:۱۴؛ ۱-تیمتھیس ۵:۲۳۔
۱۴ آجکل شیطان ہم پر ایک کے بعد ایک آزمائش لا رہا ہے۔ ہمیں اذیت، پیسے کی تنگی، افسردگی یا دیگر بیماری کا مقابلہ کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہوواہ خدا ہم کو تمام دُکھتکلیفوں سے بچاتا نہیں ہے۔ ورنہ شیطان کے لئے یہوواہ کو طعنہ دینے کی بنیاد فراہم ہوگی۔ (امثال ۲۷:۱۱) اِس لئے یہوواہ اپنے خادموں پر آزمائشیں آنے کی اجازت دیتا ہے، بعضاوقات تو مخالفوں کے ہاتھوں موت بھی واقع ہونے دیتا ہے۔—یوحنا ۱۶:۲۔
۱۵ لیکن اِن آزمائشوں کے دوران یہوواہ ہمیں کبھی نہیں چھوڑیگا۔ اگر ہم اُس پر پورا بھروسا رکھتے ہیں تو وہ ہمیں ہمت اور طاقت ضرور دیگا۔ (امثال ۳:۵، ۶) ہمارے ایمان کا چراغ روشن رکھنے کیلئے یہوواہ نے ہمیں بائبل دی ہے۔ اِسکے ساتھ ہی ساتھ اپنی رُوح اور تنظیم کے ذریعے وہ ہماری راہنمائی کرتا ہے۔ کبھی بھی اُسکا ہاتھ مت چھوڑیں۔ چاہے شیطان ہمیں جان سے مار ڈالے لیکن یہوواہ ہمیں پھر سے زندہ کر سکتا ہے۔ (عبرانیوں ۱۱:۶) اگر آپ یہوواہ کا ہاتھ کبھی نہیں چھوڑینگے تو آنے والی نئی دُنیا میں یہوواہ آپکو بہت برکتیں دیگا۔—زبور ۱۴۵:۱۶۔
دُکھ تکلیفوں کی وجہ کو یاد رکھیں
۱۶ دُکھ تکلیفوں کی وجہ یاد رکھیں۔ جب ہم پر دُکھ تکلیفیں آتی ہیں تب ہمارے ایمان کی کشتی ڈگمگا سکتی ہے۔ مگر یاد رکھیں کہ تکلیفوں کا ذمہدار یہوواہ نہیں بلکہ شیطان ہے۔ شیطان یہ ماننے کو تیار نہیں کہ یہوواہ ہی اِس جہان کا مالک ہے۔ اُسکا کہنا ہے کہ ہم خودغرضی کی وجہ سے یہوواہ کی خدمت کرتے ہیں۔ (ایوب ۱:۸-۱۱؛ ۲:۳، ۴) یہوواہ اِنصاف پسند ہے۔ اِسلئے، شیطان کے اِن سوالوں کے جواب دینے کیلئے یہوواہ نے اِن تکلیفوں کی اجازت دی ہے۔ لیکن اِس دوران اُس نے انسان کو بچانے کیلئے اقدام اُٹھائے ہیں۔ وہ کیا ہیں؟
۱۷ یہوواہ کے صبر کی وجہ سے کئی لوگوں نے سچائی سیکھی ہے۔ اُس نے یسوع کی قربانی بھی دی ہے۔ یسوع نے اِسلئے دُکھ اُٹھایا کہ ہم زندگی حاصل کر سکیں۔ (یوحنا ۳:۱۶) کیا ہم اِس کیلئے شکرگزار نہیں ہیں؟ کیا ہمیں تھوڑی دیر تک مصیبت برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں رہنا چاہئے تاکہ دوسرے بھی زندگی حاصل کر سکیں؟ یاد رکھیں کہ جوکچھ یہوواہ خدا کرتا ہے وہ ہماری بھلائی کیلئے کرتا ہے۔ جیسے آسمان زمین سے بلند ہے اُسی طرح یہوواہ کے خیال ہمارے خیالوں سے بلند ہے۔ (یسعیاہ ۵۵:۹) یہوواہ کبھی بھی بےانصافی نہیں کریگا۔ (رومیوں ۹:۱۴-۲۴) وہ ہماری برداشت سے زیادہ ایک پل بھی دُکھ تکلیفوں کی اجازت نہیں دیگا۔ وہ ہمیشہ کیلئے یہ ثابت کر دیگا کہ شیطان سراسر جھوٹا ہے۔
یہوواہ کے نزدیک جاؤ
۱۸ یہوواہ کے قریب رہیں۔ پھر اُس سے دُور جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوگا۔ یہ کبھی نہ بھولیں کہ شیطان آپ کے ایمان کو توڑنا چاہتا ہے۔ شیطان ہمیں یہ یقین دلانا چاہتا ہے کہ خاتمہ کبھی نہیں آئیگا اور خوشخبری کی منادی کرنے یا بائبل معیاروں کے مطابق زندگی بسر کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ مگر یاد رکھیں کہ شیطان ”جھوٹا ہے بلکہ جھوٹ کا باپ ہے۔“ (یوحنا ۸:۴۴) ہمیں شیطان کا مقابلہ کرنے کیلئے اٹل رہنا چاہئے۔ ہمیں یہوواہ کیساتھ اپنے رشتے کو کبھی معمولی خیال نہیں کرنا چاہئے۔ بائبل کہتی ہے: ”خدا کے نزدیک جاؤ تو وہ تمہارے نزدیک آئیگا۔“ (یعقوب ۴:۷، ۸) آپ کیسے یہوواہ کے نزدیک جا سکتے ہیں؟
۱۹ یہوواہ پر پورا بھروسا رکھیں۔ دل کھولکر اُس سے دُعا کریں۔ پھر وہ آپکو راستہ دکھائیگا۔ وہ کبھی آپکا ہاتھ نہیں چھوڑیگا۔ (۱-یوحنا ۵:۱۴) جب آپ اُسکی راہ پر چلتے رہینگے تو آپکا ایمان بڑھتا جائیگا۔ بائبل پڑھائی کرنے اور ان باتوں پر عمل کرنے سے یہوواہ کیلئے آپکا پیار ایک پھول کی طرح کھل اُٹھیگا۔ (زبور ۱۹:۱۴) نیز جب پہاڑ جیسی مصیبتیں آپکی راہ میں آئینگی تو آپ اُنکا سامنا کرنے کے قابل ہونگے۔—۱-یوحنا ۵:۳۔
۲۰ یہوواہ کے نزدیک رہنے کیلئے بھائی بہنوں کے نزدیک رہنا بھی ضروری ہے۔ آئیے اب اِس پر بات کرتے ہیں۔
اِن سوالوں پر غور کریں
• شدید دباؤ کے تحت یسوع نے کیا کِیا؟ اُس نے اپنے شاگردوں کو کیا کرنے کی صلاح دی؟ (پیرا. ۱-۴)
• شیطان نے یہوواہ کے خادموں کو کیوں اپنا نشانہ بنایا ہے؟ وہ کن طریقوں سے ہمیں آزماتا ہے؟ (پیرا. ۵-۸)
• شیطان کے پھندوں سے بچنے کیلئے ہمیں کیوں دُعا کرنی چاہئے؟ (پیرا. ۹-۱۲) ہمیں آزمائشوں کیلئے کیوں تیار رہنا چاہئے؟ (پیرا. ۱۳-۱۵) دُکھ تکلیفوں کی وجہ کیا ہے؟ (پیرا. ۱۶، ۱۷) ہمیں کیوں یہوواہ کے قریب رہنا چاہئے؟ (پیرا. ۱۸-۲۰)
[صفحہ ۲۵ پر بکس/تصویر]
کچھ بہن بھائی ہمت کیوں ہار بیٹھتے ہیں؟
صحت/بڑھاپا۔ کچھ بہن بھائی بیماری یا بڑھاپے کی وجہ سے افسردہ ہو سکتے ہیں کیونکہ اب وہ یہوواہ کی خدمت میں زیادہ کام کرنے کے قابل نہیں رہتے۔—عبرانیوں ۶:۱۰۔
بیدلی۔ منادی کے کام میں اگر لوگ خوشخبری کو نہیں سنتے تو اِسکی وجہ سے کچھ بہن بھائی بیدل ہو سکتے ہیں۔—امثال ۱۳:۱۲۔
خود کو نااہل محسوس کرنا۔ اگر کسی کیساتھ سالوں سے بُرا سلوک کیا گیا ہے تو وہ شاید سوچے کہ مجھے کوئی پیار نہیں کرتا یہانتک کہ یہوواہ بھی نہیں۔—۱-یوحنا ۳:۱۹، ۲۰۔
دُکھی دل۔ اگر کسی کے دل کو کسی بھائی یا بہن سے ٹھیس پہنچی ہے تو وہ شاید مسیحی اجلاسوں پر آنا یا منادی میں جانا بند کر دے۔—لوقا ۱۷:۱۔
اذیت۔ لوگ ہمیں مخالفت، اذیت یا تمسخر کا نشانہ بنا سکتے ہیں جسکی وجہ سے بھی کئی بھائی بہن ہمت ہار بیٹھتے ہیں۔—۲-تیمتھیس ۳:۱۲؛ ۲-پطرس ۳:۳، ۴۔
[صفحہ ۲۶ پر تصویر]
آزمائش کا مقابلہ کرنے کیلئے یسوع نے ہمیں ’دُعا کرتے رہنے‘ کی تاکید کی