سنو اور اپنی زندگی بچاؤ
یہودیوں نے کئی بار جانبوجھ کر یہوواہ کے خلاف بغاوت کی۔ اِسلئے یسوع مسیح نے اُنہیں آگاہ کِیا کہ یروشلیم اور اُس میں موجود ہیکل کو تباہ کِیا جائیگا۔ مگر یسوع نے کوئی تاریخ نہیں بتائی۔ اسکے برعکس یسوع نے اپنے شاگردوں کو کچھ نشانیاں بتائیں جس سے وہ تباہی کے وقت کو پہچان سکیں گے۔ اِن نشانیوں کو دیکھ کر شاگرد اپنی زندگی بچا پائینگے۔
یہ نشانیاں کیا ہیں؟ یسوع نے کہا: ”جب تم یرؔوشلیم کو فوجوں سے گِھرا ہوا دیکھو تو جان لینا کہ اُسکا اُجڑ جانا نزدیک ہے۔“ اُس نے یہ بھی کہا کہ وہ سب کچھ چھوڑکر فوراً پہاڑوں پر بھاگ جائیں اور اپنے مالواسباب کو بچانے کیلئے واپس نہ جائیں۔ اگر وہ یروشلیم میں رہے تو اُنکی زندگی خطرے میں ہوگی۔—لوقا ۲۱:۲۰، ۲۱؛ متی ۲۴:۱۵، ۱۶۔
اب دنبدن یہودیوں اور رومی حکومت کے بیچ نفرت کی آگ بڑھتی گئی۔ آخرکار ۶۶ س.ع. میں، سیسٹیئس گیلس کی قیادت میں رومی سپاہیوں نے یہودیوں پر حملہ کر دیا۔ اُنہوں نے ہیکل کو اپنے قبضے میں لے لیا۔ شہر میں جگہ جگہ افراتفری پھیل گئی۔ یسوع کے شاگردوں کو اُسکی بات یاد آئی۔ وہ سمجھ گئے کہ تباہی سر پر کھڑی ہے۔ رومی فوج نے یروشلیم کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔ تو پھر یسوع کے شاگرد کس طرح بچ پائے؟ اچانک، سیسٹیئس گیلس نے اپنی فوج کو اکٹھا کِیا اور یروشلیم چھوڑکر چلا گیا۔ کچھ جنونی یہودی اُسکا پیچھا کرنے لگے۔ مگر یہ دیکھ کر یسوع کے شاگرد یروشلیم اور یہودیہ سے پہاڑوں کی طرف بھاگ نکلے بالکل جیسے یسوع مسیح نے اُنہیں کہا تھا۔
اگلے ہی سال رومی فوج دوبارہ یروشلیم پر حملہآور ہوئی۔ اِس وقت وسپاسین اور اُسکا بیٹا ٹائٹس فوج کو لیکر آئے اور پورا مُلک جنگ کی لپیٹ میں آ گیا۔ رومیوں نے ۷۰ س.ع. میں یروشلیم کے گرد مورچہ باندھ کر اُسے گھیر لیا۔ بھاگنے کے تمام راستے بند کر دئے گئے۔ (لوقا ۱۹:۴۳، ۴۴) شہر کے اندر مختلف یہودی فرقوں نے بھی ایک دوسرے کو قتل کرنا شروع کر دیا۔ جو اِس قتلِعام سے بچے یا تو وہ رومی فوجوں کے ہاتھوں قتل ہوئے یا پھر اُنہیں حراست میں لے لیا گیا۔ شہر اور اُسکی ہیکل کو مکمل طور پر تباہوبرباد کر دیا گیا۔ پہلی صدی کے یہودی مؤرخ یوسیفس کے مطابق دس لاکھ سے زیادہ یہودی ہلاک ہوئے۔ یہ پیشینگوئی تقریباً ۴۰ سال پہلے یسوع نے اپنے شاگردوں کے سامنے کی تھی کہ شہر یروشلیم کی تباہی ہوگی اور ہیکل کی دوبارہ کبھی تعمیر نہیں ہوگی۔ اُسکی یہ بات بالکل سچ ثابت ہوئی۔
اگر یسوع کے شاگردوں نے یسوع کی آگاہی کو نظرانداز کِیا ہوتا تو وہ بھی ۷۰ س.ع. میں دوسرے یہودیوں کے ساتھ قتل ہو جاتے یا غلام بنا لئے جاتے۔ وہ شہر سے بھاگ نکلے اور پھر کبھی لوٹ کر نہیں آئے۔ قدیم مؤرخین بتاتے ہیں کہ یسوع کے شاگرد یروشلیم اور یہودیہ سے نکل کر دریائےیردن کے پار پہاڑوں پر بھاگ گئے تھے۔ بعض پریہ نام کے صوبے میں رہنے لگے۔ یسوع کی آگاہی پر دھیان دینے سے اُنکی زندگیاں بچ گئیں۔
کیا آپ آگاہیوں پر دھیان دیتے ہیں؟
کئی بار سرکاری حکام اور سائنسدان کسی آفت کے بارے میں آگاہی دیتے ہیں۔ اگر کچھ واقع نہیں ہوتا تو لوگوں کا بھروسا اُن پر سے اُٹھ جاتا ہے اور وہ پھر کبھی اُنکی آگاہی پر کان نہیں لگاتے۔ مگر ہم دیکھ چکے ہیں کہ آگاہیوں پر دھیان دینے سے آپ اپنی زندگی بچا سکتے ہیں۔
چین میں ۱۹۷۵ میں، سائنسدانوں اور سرکاری حاکموں نے زلزلہ کی بابت لوگوں کو آگاہ کِیا اور فوراً کارروائی کی۔ لوگوں نے اِس آگاہی پر عمل کِیا۔ نتیجتاً، کئی ہزار لوگوں کی زندگیاں بچ گئیں۔
دوسری مثال پر غور کریں۔ فلپائین میں کوہِپیناٹوبو نام کے ایک آتشفشاں پہاڑ کے پاس ایک گاؤں ہے۔ اپریل ۱۹۹۱ میں، گاؤں کے لوگوں نے دیکھا کہ جس طرح ریلگاڑی کے اِنجن سے دھواں اٹھتا ہے اسی طرح پہاڑ سے دھواں اور راکھ نکل رہی ہے۔ دو ماہ تک صورتحال کی نگرانی کرنے کے بعد سائنسدانوں نے آگاہ کِیا کہ آتشفشاں پھٹنے والا ہے۔ فوراً، ہزاروں لوگ اپنا گھربار چھوڑکر پہاڑ سے دُور بھاگ گئے۔ جون ۱۵ کی صبحسویرے ایک ایٹم بم کی طرح زوردار دھماکے کیساتھ آتشفشاں پھٹ گیا۔ میلوں تک آسمان سے انگاروں کی طرح راکھ اور پتھر برسنے لگے۔ آگاہی پر دھیان دینے سے ایک بار پھر ہزاروں لوگوں کی زندگیاں بچ گئیں۔
آجکل بھی بائبل آگاہ کرتی ہے کہ یہ دُنیا اپنی آخری سانسیں لے رہی ہے۔ کیا آپ بائبل میں دئے گئے نشانات کو دیکھ رہے ہیں؟ کیا آپ بچنے کیلئے قدم اُٹھا رہے اور یہوواہ پر بھروسا رکھ رہے ہیں؟ کیا آپ دوسروں کو بھی اِس بات سے آگاہ کر رہے ہیں؟
[صفحہ ۲۰ پر تصویر]
پیناٹوبو کے آتشفشاں پہاڑ کے پھٹتے وقت کئی لوگ بچ گئے کیونکہ اُنہوں نے آگاہی پر دھیان دیا
[صفحہ ۲۱ پر تصویر]
جب رومی فوج نے ۷۰ س. ع. میں یروشلیم کو تباہ کِیا تو مسیحیوں کی جانیں بچ گئیں کیونکہ اُنہوں نے یسوع کی آگاہی پر دھیان دیا