کیا آپ اپنے وقت سے آگاہ ہیں؟
خطرے سے باخبر رہنا زندگی اور موت کا معاملہ ہو سکتا ہے۔ دو آتشفشانی جزائر میں پیش آنے والے واقعات سے اسکی وضاحت کی جا سکتی ہے۔
بیسویں صدی کا سب سے خطرناک آتشفشاں پہاڑ پیلے مئی ۸، ۱۹۰۲ میں مارتینیق کے کریبیئن جزیرے میں پھٹا۔ اس نے آتشفشاں پہاڑ کے دامن میں واقع سینٹ پیرے کے شہر میں بسنے والے ۳۰،۰۰۰ باشندوں کو جلا کر خاکستر کر دیا۔
جون ۱۹۹۱ میں، ماؤنٹ پیناٹوبو زوردار دھماکے سے پھٹا جو غالباً اس صدی کا سب سے بڑا آتشفشانی اخراج تھا۔ یہ واقعہ فلپائن کے گنجانآباد علاقے میں پیش آیا اور اس سے ۹۰۰ اموات واقع ہوئیں۔ تاہم، اس مرتبہ دو عناصر ہزاروں زندگیاں بچانے کا سبب بنے: (۱) خطرے سے باخبر ہونا اور (۲) آگاہیوں کے مطابق عمل کرنے کیلئے رضامندی۔
مناسب کارروائی سے زندگیاں بچ گئیں
ماؤنٹ پیناٹوبو سینکڑوں برسوں سے ساکن تھا کہ اپریل ۱۹۹۱ کو اس میں قریبالوقوع آتشفشانی کے آثار دکھائی دینے لگے۔ بھاپ اور سلفر ڈائیآکسائیڈ کا دھانے سے اخراج ہونے لگے۔ مقامی باشندوں نے زلزے کے سلسلہوار جھٹکے محسوس کئے اور پہاڑ سے آفت کا پیشخیمہ یعنی جامد لاوے کا ایک گنبد سا اُبھرنے لگا۔ فلپائن انسٹیٹیوٹ آف والکانولوجی اینڈ سسمالوجی کے سائنسدانوں نے اس پر کڑی نظر رکھی اور عین وقت پر سرکاری اہلکاروں کو اس بات پر راضی کر لیا کہ قریبی قصبوں اور دیہاتوں کو ۳۵،۰۰۰ مکینوں سے خالی کرا لینا دانشمندانہ بات ہوگی۔
یہ بات قابلِفہم ہے کہ لوگ کسی وجہ کے بغیر اپنے گھروں کو چھوڑ کر بھاگ جانے سے ہچکچاتے ہیں مگر آتشفشانی اخراج کے خطرات کی تصویرکشی کرنے والی ایک ویڈیو فلم کے ذریعے اس ہچکچاہٹ پر قابو پا لیا گیا۔ بہت بڑی تعداد میں لوگ عین وقت پر وہاں سے کوچ کر گئے۔ دو دن بعد، ایک زوردار دھماکے سے دو مکعب میل تک راکھ فضا میں پھیل گئی۔ بعدازاں لاوے نے سینکڑوں کو موت کی نیند سلا دیا۔ تاہم، ہزاروں غالباً اسلئے بچ گئے کہ اُنہوں نے خطرے سے باخبر ہوتے ہوئے آگاہیوں کے مطابق عمل کِیا تھا۔
انسانی آفت سے بچ نکلنا
ہمارے سنِعام کی پہلی صدی میں، یروشلیم میں آباد مسیحیوں کو بھی اپنے گھر چھوڑنے کا فیصلہ کرنا پڑا تھا۔ وہ اُس شہر سے ۶۶ س.ع. میں بھاگ جانے کی بدولت اُس تباہی سے بچ گئے جو دیگر باشندوں اور ۷۰ س.ع. کی فسح منانے کیلئے یروشلیم میں آنے والے ہزاروں یہودیوں پر آئی تھی۔ اس فصیلدار شہر میں ایک ملین سے زائد لوگ فسح کی تقریب کیلئے جمع تھے کہ رومی فوجوں نے محاصرہ کر کے بچ نکلنے کے تمام راستے بند کر دئے۔ قحط، اقتدار کی کشمکش اور رومیوں کے شدید حملے ایک ملین سے زائد لوگوں کی موت کا باعث بنے۔
روم کے خلاف یہودی بغاوت کا نامونشان مٹا دینے والی آفت ناگہاں نہیں آئی تھی۔ کئی عشرے قبل، یسوع مسیح پیشینگوئی کر چکا تھا کہ یروشلیم کا محاصرہ کِیا جائیگا۔ اُس نے کہا: ”جب تم یرؔوشلیم کو فوجوں سے گھرا ہؤا دیکھو تو جان لینا کہ اُسکا اجڑ جانا نزدیک ہے۔ اس وقت جو یہوؔدیہ میں ہوں پہاڑوں پر بھاگ جائیں اور جو یرؔوشلیم کے اندر ہوں باہر نکل جائیں اور جو دیہات میں ہوں شہر میں نہ جائیں۔“ (لوقا ۲۱:۲۰، ۲۱) وہ ہدایات بالکل واضح تھیں اور یسوع کے پیروکاروں نے بڑی سنجیدگی سے ان پر دھیان دیا۔
قیصریہ کا چوتھی صدی کا مؤرخ یوسیبیس بیان کرتا ہے کہ یہودیہ کے تمام مسیحیوں نے یسوع کی آگاہی پر عمل کِیا تھا۔ جب رومی ۶۶ س.ع. میں یروشلیم کا پہلا محاصرہ چھوڑ کر چلے گئے تو بہتیرے یہودی مسیحی رومی صوبے پیریہ میں پیلا کے غیرقوم شہر میں رہنے کیلئے چلے گئے۔ اپنے وقت سے آگاہ رہنے اور یسوع کی آگاہی کے مطابق عمل کرنے سے وہ ”تاریخ کے سب سے خطرناک محاصرے“ سے بچ نکلے۔
آجکل بھی ایسی ہی ہوشیاری اور فوری تعمیل کی ضرورت ہے۔ اگلا مضمون وضاحت کریگا کہ کیوں۔
[صفحہ 3 پر تصویر کا حوالہ]
Godo-Foto, West Stock