کہانی نمبر ۱۴
ابرہام کا ایمان
اِس تصویر کو دیکھیں۔ کیا آپ کو پتہ ہے کہ یہ دونوں کون ہیں؟ جس آدمی کے ہاتھ میں چھری ہے، وہ ابرہام ہیں۔ اور جس لڑکے کے ہاتھ بندھے ہیں، وہ ابرہام کا بیٹا ہے۔ لیکن ابرہام کیا کر رہے ہیں؟ کیا وہ اپنے بیٹے کو مار ڈالنا چاہتے ہیں؟ اِس کے بارے میں ہم بعد میں بات کریں گے۔ آئیں، پہلے دیکھتے ہیں کہ ابرہام اور سارہ کا بیٹا کیسے ہوا۔
یاد ہے کہ خدا نے ابرہام اور سارہ سے وعدہ کِیا تھا کہ ”تمہارا بیٹا ہوگا“؟ لیکن ابرہام اور سارہ بہت بوڑھے ہو گئے تھے اِس لئے اُن کے بچے نہیں ہو سکتے تھے۔ مگر ابرہام جانتے تھے کہ خدا سب کچھ کر سکتا ہے۔ اِس لئے اُن کو پکا یقین تھا کہ خدا اپنا وعدہ پورا کرے گا۔
ایک سال بعد وہی ہوا جو خدا نے کہا تھا۔ ابرہام اور سارہ کا بیٹا ہوا۔ اُس وقت ابرہام ۱۰۰ سال کے تھے اور سارہ ۹۰ سال کی تھیں۔ اُنہوں نے اپنے بیٹے کا نام اِضحاق رکھا۔ اِس طرح خدا نے اپنا وعدہ پورا کِیا۔
وقت گزرتا گیا اور اِضحاق تھوڑے بڑے ہو گئے۔ یہوواہ خدا دیکھنا چاہتا تھا کہ ابرہام کا ایمان کتنا مضبوط ہے۔ اِس لئے خدا نے ابرہام کو آواز دی: ”ابرہام!“ اِس پر ابرہام نے کہا: ”جی میرے خدا!“ پھر خدا نے ابرہام کو حکم دیا کہ ”اپنے بیٹے، اپنے اِکلوتے بیٹے اِضحاق کو لو اور اُس پہاڑ پر جاؤ جو مَیں تمہیں دِکھاؤں گا۔ وہاں جا کر اپنے بیٹے کو قربان کر دو۔“
یہ سُن کر ابرہام کو بہت دُکھ ہوا ہوگا، ہےنا؟ وہ اپنے بیٹے سے بہت پیار کرتے تھے۔ ابرہام کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ خدا نے اُن کو ایسا حکم کیوں دیا۔ خدا نے تو وعدہ کِیا تھا کہ ”مَیں ملک کنعان تمہارے بچوں کو دوں گا۔“ لیکن اگر اِضحاق مر گئے تو خدا اپنا وعدہ کیسے پورا کرے گا؟ ابرہام کو یہ بات سمجھ نہیں آ رہی تھی لیکن پھر بھی اُنہوں نے خدا کا کہنا مانا۔
جب ابرہام پہاڑ پر پہنچ گئے تو اُنہوں نے لکڑیوں کا ایک ڈھیر لگایا۔ پھر اُنہوں نے اِضحاق کے ہاتھ باندھے اور اُن کو لکڑیوں پر لٹا دیا۔ اِس کے بعد ابرہام نے اپنے بیٹے کو قربان کرنے کے لئے چھری اُٹھائی۔ اُسی وقت خدا نے ایک فرشتے کے ذریعے ابرہام کو آواز دی: ”ابرہام! ابرہام!“ اِس پر ابرہام نے کہا: ”جی میرے خدا!“
خدا نے کہا کہ ”لڑکے کو کچھ مت کرو۔ اب مجھے پتہ چل گیا ہے کہ تُم مجھ پر پکا ایمان رکھتے ہو کیونکہ تُم میرے لئے اپنے اِکلوتے بیٹے کو بھی قربان کرنے والے تھے۔“
ابرہام خدا پر بہت مضبوط ایمان رکھتے تھے، ہےنا؟ وہ جانتے تھے کہ خدا سب کچھ کر سکتا ہے۔ اُن کو یقین تھا کہ اگر وہ اِضحاق کو قربان کر دیں گے تو یہوواہ خدا اِضحاق کو زندہ کر سکتا ہے۔ لیکن کیا خدا واقعی چاہتا تھا کہ ابرہام اپنے بیٹے کو مار ڈالیں؟ نہیں۔ خدا تو بس یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ ابرہام کا ایمان کتنا مضبوط ہے۔ پھر خدا نے قربانی کے لئے ایک جانور کا بندوبست کِیا۔ پاس ہی ایک مینڈھے کے سینگ جھاڑی میں پھنس گئے تھے۔ جب ابرہام نے یہ دیکھا تو اُنہوں نے مینڈھے کو یہوواہ خدا کے لئے قربان کر دیا۔