کہانی نمبر ۱۳
خدا کا دوست
نوح کے طوفان کے بعد لوگ فرقفرق جگہوں میں جا کر رہنے لگے۔ کچھ لوگ شہر بابل میں رہنے لگے اور کچھ لوگ شہر اُور میں رہنے لگے۔ اُور ایک بڑا شہر تھا اور اِس میں بہت خوبصورت گھر تھے۔ لیکن اُور اور بابل میں رہنے والے لوگ بُتوں کی پوجا کرتے تھے۔ وہ نوح اور اُن کے بیٹے سم کی طرح نہیں تھے جو یہوواہ خدا کی عبادت کرتے تھے۔
طوفان کے بعد نوح ۳۵۰ سال تک زندہ رہے اور پھر مر گئے۔ اِس کے دو سال بعد ایک ایسے آدمی پیدا ہوئے جن کو یہوواہ خدا بہت پسند کرتا تھا۔ آپ اِس آدمی کو تصویر میں دیکھ سکتے ہیں۔ اُن کا نام ابرہام تھا۔ وہ اپنے خاندان کے ساتھ شہر اُور میں رہتے تھے۔
اُور میں ابرہام بڑی اچھی زندگی گزار رہے تھے۔ اُن کے پاس سب کچھ تھا۔ پھر ایک دن یہوواہ خدا نے ابرہام سے کہا کہ ”اپنے رشتہداروں اور شہر اُور کو چھوڑ کر ملک کنعان میں چلے جاؤ۔“ کیا ابرہام نے خدا کا کہنا مانا؟ جی۔ وہ سب کچھ چھوڑ کر کنعان کو روانہ ہو گئے۔ ابرہام ہمیشہ خدا کا کہنا مانتے تھے۔ اِس لئے خدا کے کلام میں اُن کو یہوواہ خدا کا دوست کہا گیا ہے۔
جب ابرہام ملک کنعان کو روانہ ہوئے تو اُن کی بیوی، اُن کے ابو اور اُن کا بھتیجا بھی اُن کے ساتھ گئے۔ ابرہام کی بیوی کا نام سارہ تھا، اُن کے ابو کا نام تارح تھا اور اُن کے بھتیجے کا نام لوط تھا۔ اِن سب نے بہت لمبا سفر کِیا۔ پھر وہ شہر حاران میں پہنچے۔ حاران، شہر اُور سے بہت دُور تھا۔ حاران میں ابرہام کے ابو مر گئے۔
اِس کے بعد ابرہام اور اُن کے گھر والوں نے شہر حاران چھوڑ دیا اور ملک کنعان میں آ گئے۔ کنعان میں یہوواہ خدا نے ابرہام سے کہا کہ ”مَیں یہ ملک تمہارے بچوں کو دوں گا۔“ ابرہام کنعان میں رہنے لگے۔ اب وہ لوگ گھر میں نہیں بلکہ خیموں میں رہتے تھے۔
یہوواہ خدا نے ابرہام کو بہت کچھ دیا۔ ابرہام کے پاس ڈھیر ساری بھیڑیں، بکریاں اور مویشی تھے۔ اُن کے پاس بہت سارے نوکر بھی تھے۔ لیکن ابرہام اور سارہ کے بچے نہیں تھے۔
جب ابرہام ۹۹ سال کے تھے تو یہوواہ خدا نے اُن سے وعدہ کِیا کہ ”تُم بہت سی قوموں کے باپ بنو گے۔“ لیکن ابرہام اور سارہ تو بوڑھے ہو چکے تھے۔ اِس عمر میں لوگوں کے بچے نہیں ہوتے۔ تو پھر خدا نے اپنا وعدہ کیسے پورا کِیا؟