کہانی نمبر ۱۵
لوط کی بیوی کی سزا
کیا آپ کو یاد ہے کہ لوط کون تھے؟ وہ ابرہام کے بھتیجے تھے۔ لوط بھی ابرہام کے ساتھ ملک کنعان آئے۔ ایک دن ابرہام نے لوط سے کہا کہ ”آپ کے مویشی اور میرے مویشی بہت زیادہ ہو گئے ہیں اور اِن کے لئے چراگاہیں کم ہیں۔ اِس لئے ہمیں الگ ہو جانا چاہئے۔ آپ بتاؤ کہ آپ کس علاقے میں جانا چاہتے ہو؟“
لوط نے دیکھا کہ دریائےیردن کا علاقہ بہت اچھا ہے۔ وہاں بہت پانی تھا اور ہریہری چراگاہیں تھیں۔ اِس علاقے میں شہر سدوم بھی تھا۔ لوط اپنے بیویبچوں اور جانوروں کے ساتھ اِس علاقے میں رہنے لگے۔ اور بعد میں وہ شہر سدوم میں رہنے لگے۔
سدوم کے پاس ہی شہر عمورہ تھا۔ اِن دونوں شہروں کے لوگ بہت بُرے تھے۔ لوط اچھے آدمی تھے اِس لئے وہ اِن لوگوں کی وجہ سے بہت پریشان تھے۔ خدا بھی اِن شہروں کے لوگوں کو پسند نہیں کرتا تھا۔ اُس نے دو فرشتوں کو بھیجا تاکہ وہ لوط کو بتائیں کہ خدا سدوم اور عمورہ کو تباہ کرنے والا ہے۔
فرشتوں نے لوط سے کہا کہ ”جلدی کرو۔ اپنی بیوی اور بیٹیوں کو لے کر اِس شہر سے چلے جاؤ۔“ لیکن لوط اور اُن کے گھر والوں نے دیر لگائی۔ اِس لئے فرشتوں نے اُن کا ہاتھ پکڑا اور اُن کو شہر سے باہر لے آئے۔ پھر ایک فرشتے نے اُن سے کہا کہ ”اپنی جان بچانے کے لئے بھاگو! سامنے جو پہاڑ نظر آ رہے ہیں، وہاں بھاگ جاؤ۔ پیچھے مڑ کر مت دیکھنا ورنہ مر جاؤ گے۔“
لوط اور اُن کی بیٹیوں نے خدا کا کہنا مانا اور سدوم سے بھاگ گئے۔ وہ کہیں نہیں رُکے اور اُنہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ لیکن لوط کی بیوی نے خدا کا کہنا نہیں مانا۔ ابھی وہ لوگ سدوم سے تھوڑا آگے گئے تھے کہ لوط کی بیوی رُک گئیں۔ پھر اُنہوں نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ اُسی وقت وہ نمک کا ستون بن گئیں۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ وہ تصویر میں کہاں ہیں؟
اِس کہانی سے ہم کیا سبق سیکھتے ہیں؟ ہم سیکھتے ہیں کہ خدا اُن لوگوں کو بچاتا ہے جو اُس کا کہنا مانتے ہیں۔ لیکن جو لوگ خدا کا کہنا نہیں مانتے، وہ مارے جائیں گے۔