لِفٹ لینے کے خطرات
آسٹریلیا سے جاگو! کا مراسلہنگار
برطانیہ کا ۲۴سالہ پال اَننیانز ۱۹۹۰ کے موسمِگرما میں ایک دن اپنے کندھے پر سامان کا تھیلا اُٹھائے سڈنی، آسٹریلیا کے جنوب میں ہیوم کی شاہراہ پر لفٹ مانگ رہا تھا۔ جب ایک اجنبی اُسے لفٹ دینے کیلئے رُکا تو پال بہت خوش ہوا۔ اُسکے وہموگمان میں بھی نہ تھا کہ اس لفٹ کو قبول کرنا اُسکی زندگی کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہوگا۔a
خطرے سے غافل پال، گاڑی کی اگلی نشست پر بیٹھ گیا اور ڈرائیور کیساتھ باتیں کرنے لگا۔ چند ہی لمحوں میں بظاہر کریماُلنفس ڈرائیور جارحیتپسند بن گیا اور بحث کرنے لگا۔ اس کے بعد اچانک ہی ڈرائیور نے یہ کہتے ہوئے اپنی گاڑی سڑک کے کنارے کھڑی کر دی کہ وہ سیٹ کے نیچے سے چند کیسٹس نکالنا چاہتا ہے۔ اُس نے کیسٹس کی بجائے بندوق نکالکر اُسکی چھاتی پر تان لی۔
ڈرائیور نے پال سے اپنی جگہ پر بیٹھے رہنے کو کہا مگر وہ جلدی سے اپنی سیٹ بیلٹ کھولکر باہر نکلا اور پوری قوت کیساتھ شاہراہ پر دوڑنے لگا۔ ڈرائیور نے بھی دوسری گاڑیوں والے لوگوں کی پرواہ کئے بغیر اُسکا پیچھا کرنا شروع کر دیا۔ انجامکار، ڈرائیور نے اُسے ٹیشرٹ سے پکڑ کر زمین پر پٹک دیا۔ اُسے پیچھے دھکیل کر پال بھاگتا ہوا ایک وین کے سامنے آ گیا جس میں ایک ماں اپنے بچوں کیساتھ سفر کر رہی تھی۔ اِس ماں نے خوفزدہ ہوکر وین روک دی۔ پال کی درخواست پر ماں نے اُسے اندر آنے کی اجازت دے دی اور وین کو تیزی سے چلانا شروع کر دیا۔ بعدازاں پال پر یہ انکشاف ہؤا کہ حملہ کرنے والا ایک جنونی قاتل تھا جو سات مسافروں کو قتل کر چکا تھا جن میں سے بعض لفٹ مانگر سفر کرنے والے لوگ تھے۔
کس چیز نے انہیں قاتل کا پُرکشش نشانہ بنا دیا تھا؟ قاتل کے مقدمے کے دوران، جج نے بیان کِیا: ”اُس کا نشانہ بننے والے سب کے سب نوجوان تھے۔ وہ ۱۹ سے ۲۲ سال کی عمر کے تھے۔ یہ سب اپنے گھر سے کافی دُور تھے جس سے یہ نتیجہ اخذ کِیا جا سکتا ہے کہ اگر اِنہیں کچھ ہو بھی جائے تو کسی کو اُنکی پرواہ نہیں ہوگی۔“
آوارہگردی کی آزادی
چند سال پہلے کی نسبت آجکل لوگوں کیلئے بیناُلاقوامی سفر زیادہ آسان ہو گیا ہے۔ مثال کے طور پر، پانچ سال کے عرصے میں ایشیا کا دَورہ کرنے والے آسٹریلوی لوگوں کی تعداد دُگنی سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔ تجربے یا مہمجوئی کی غرض سے کئی نوجوان اور بالغ ہوائی جہاز پر سفر کرتے ہوئے دُوردراز علاقوں کا رُخ کرتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر سیاح لفٹ لیکر سفر کرنے سے اپنے اخراجات کم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ دُنیا کے بیشتر حصوں میں، لفٹ لیکر سفر کرنا اب—نہ صرف لفٹ لینے والوں بلکہ دینے والوں کیلئے بھی—پہلے کی طرح دلچسپ اور محفوظ نہیں رہا۔
سفر کیلئے مثبت میلان، جوش، بُردباری اور عملی حکمت کا نعمالبدل نہیں ہو سکتا۔ ”سیاحت کے شوق میں نوجوان لوگ نہ تو کافی تیاری کرتے ہیں اور نہ ہی خطرات یا اپنی ذمہداریوں کی کوئی پرواہ کرتے ہیں،“ گمشُدہ بچوں کی تلاش کرنے والے خاندانوں کی مدد کیلئے لکھا گیا ایک کتابچہ بیان کرتا ہے۔
یہ کتابچہ مزید بیان کرتا ہے: ”جو لوگ کاروبار اور سیاحت کیلئے منظم گروہ یا سفری ہدایتناموں کیساتھ سفر کرتے ہیں وہ شاذونادر ہی گم ہوتے ہیں۔ آسٹریلیا ہو یا کوئی دوسرا ملک، گمشُدہ قرار دئے جانے والے بیشتر لوگ عموماً کندھوں پر تھوڑے سے سامان کا تھیلا اُٹھا کر سستا سفر کرنے والے لوگ ہی ہوتے ہیں۔“
آپ خواہ لفٹ لیں یا نہ لیں، سفری ہدایتنامے کے بغیر سفر کرنا—آپ کیلئے زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے۔ جب رشتہداروں اور دوستاحباب کو سفر کرنے والے شخص کا اتاپتا نہیں ہوتا تو ہنگامی صورتحال میں وہ کوئی بھی مدد نہیں کر پاتے۔ مثال کے طور پر، ایسی صورتحال میں کیا ہو اگر سفر کرنے والا شخص ہسپتال میں بیہوش پڑا ہے اور گھر میں کسی کو معلوم بھی نہیں کہ وہ کہاں ہے؟
رابطہ رکھیں
اپنی کتاب ہائیوے ٹو نووئیر میں برطانوی صحافی رچرڈ شیئرز نے لفٹ لینے کی وجہ سے گم ہو جانے والے سات لوگوں کی بابت لکھا جنہوں نے ”اچانک ہی اپنے خاندانوں اور دوستوں کیساتھ رابطہ بند کر دیا تھا۔“ بِلاشُبہ، شروع میں تو خاندان شاید وثوق سے یہ نہ کہہ سکیں کہ آیا اُن کے رشتےدار گم ہو گئے ہیں یا محض اُن سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ اسی وجہ سے جب اُنہیں سفر کرنے والوں کی طرف سے کوئی اطلاع نہیں ملتی تو وہ اربابِاختیار کو مطلع کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔
لفٹ لیکر سفر کرنے والی ایک لڑکی اپنے والدین کیساتھ ٹیلیفون پر گفتگو کے سلسلے کو پیسے ختم ہو جانے کی وجہ سے اکثر بیچ میں ہی منقطع کر دیا کرتی تھی۔ اس لڑکی کی موت کے بعد اُسکے والدین نے دیگر خاندانوں کو تاکید کی کہ اپنے بچوں کو فون کارڈز یا دیگر ایسی سہولیات فراہم کریں جن سے وہ اپنے گھر والوں کیساتھ فون پر رابطہ رکھ سکیں۔ اگرچہ اس سے اُس لڑکی کی زندگی تو نہیں بچ سکتی تھی توبھی باقاعدہ رابطہ مشکلات سے بچنے یا نپٹنے کیلئے سفر کرنے والے کی مدد کر سکتا ہے۔
ہلاک ہونے والے سات مسافروں نے سفرناموں میں یہ ضرور پڑھا ہوگا کہ لفٹ لیکر سفر کرنے کے سلسلے میں آسٹریلیا دُنیا کا محفوظترین ملک ہے۔ تاہم، جوڑوں کے طور پر ہو یا ”محفوظترین“ ممالک میں، لفٹ لیکر سفر کرنا خطرناک ہی ہے۔
[فٹنوٹ]
a غورطلب بات یہ ہے کہ بعض خطوں میں لفٹ لینا غیرقانونی ہے۔
[صفحہ ۲۷ پر تصویر]
والدین اپنے بچوں کو گھر بات کرنے کیلئے فون کارڈز یا دیگر سہولیات فراہم کرنے سے غیرضروری پریشانی سے بچ سکتے ہیں