چھوٹے سے جزیرے سے ایک بڑا سبق
راپا نوئی کا رقبہ صرف ۱۷۰ مربع کلومیٹر ہے۔ آتشفشانی کے نتیجے میں وجود میں آنے والا یہ جزیرہ دُنیا کا انتہائی الگتھلگ آبادشُدہ خطہ ہے جس پر درختوں کا نامونشان تک نہیں ہے۔a یہ جزیرہ کسی حد تک اپنے حجری مجسّموں کی وجہ سے جنہیں موآئی کہا جاتا ہے، اب ایک تاریخی یادگار بن گیا ہے۔ یہ مجسّمے ماضی کی ایک پُررونق تہذیب کا شاہکار ہیں۔
آتشفشانی پتھروں سے تراشے ہوئے بعض موآئی زمین میں اسقدر دھنس گئے ہیں کہ اُنکے صرف بڑےبڑے سر ہی نظر آتے ہیں۔ کچھ مجسّموں کا صرف دھڑ ہی زمین کے اُوپر نظر آتا ہے جبکہ کچھ موآئی کے سر پر ایک گرہ سی ہوتی ہے جسے پوکاؤ کہتے ہیں۔ بہت سارے مجسّمے گڑھوں میں یا پھر قدیم سڑکوں پر نامکمل حالت میں بکھرے پڑے ہیں جنہیں دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے کاریگر اپنے اوزار پھینک کر چلے گئے تھے۔ اِدھراُدھر بکھرے ہوئے مجسّموں کے برعکس کچھ قطاروں میں کھڑے ہیں، ہر قطار میں تقریباً ۱۵ مجسّمے ہیں اور اُنکی پیٹھ سمندر کی طرف ہے۔ بدیہی طور پر، عرصۂدراز سے موآئی سیاحوں کیلئے اچنبھا بنے ہوئے ہیں۔
حالیہ برسوں کے دوران سائنس نے نہ صرف موآئی کا راز جان لیا ہے بلکہ اس معمے کو بھی حل کر لیا ہے کہ کبھی انہیں تعمیر کرنے والی اتنی ترقییافتہ تہذیب کیسے تباہوبرباد ہو گئی۔ سچ ہے کہ افشا ہونے والے حقائق تاریخی اہمیت سے زیادہ مطلب رکھتے ہیں۔ انسائیکلوپیڈیا بریٹینیکا کے مطابق، وہ ”جدید دُنیا کیلئے ایک اہم سبق“ پیش کرتے ہیں۔
اس سبق کا تعلق زمین، بالخصوص اسکے قدرتی وسائل کی دیکھبھال سے ہے۔ بِلاشُبہ، زمین اس چھوٹے جزیرے سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور حیاتیاتی طور پر متنوع ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم راپا نوئی سے حاصل ہونے والے سبق کو نظرانداز کر دیں۔ پس آئیے چند لمحوں کیلئے راپا نوئی کی تاریخ کے اہم پہلوؤں پر نگاہ ڈالیں۔ ہماری سرگزشت کا آغاز تقریباً ۴۰۰ س.ع. سے ہوتا ہے جب اس جزیرے پر آباد ہونے والے پہلے چند خاندان اپنی کشتیوں پر یہاں پہنچے تھے۔ اُنہیں صرف فضا میں اُڑنے والے سینکڑوں آبیپرندوں کی آنکھیں دیکھ رہی تھیں۔
ایک فردوسی جزیرہ
جزیرے پر پودوں کی بہت زیادہ اقسام تو نہیں تھیں مگر جھاڑیوں، جڑی بوٹیوں، فرنز اور گھاس کے علاوہ کھجور، ہاؤہاؤ اور ٹورومیرو کے درختوں کی بہتات تھی۔ اِس دُورافتاد علاقے میں زمینی پرندوں کی کمازکم چھ اقسام کی افراط تھی جن میں اُلو، حواصل، آبچلیک اور طوطے شامل تھے۔ ڈسکور میگزین بیان کرتا ہے کہ راپا نوئی ”پولینیشیا اور غالباً پورے بحراُلکاہل میں آبیپرندوں کی نسلکشی کا سب سے بڑا خطہ بھی تھا۔“
ممکن ہے نوآبادکار اپنے ساتھ مرغیاں اور خوراک کے طور پر استعمال ہونے والے چوہے بھی لائے ہوں جنہیں وہ جزیرے کیلئے طعامِلذیز خیال کرتے تھے۔ اس کے علاوہ وہ پھل اور اناج کے پودے بھی لائے جن میں تارو، یم، شکرقندی، کیلا اور گنا شامل تھے۔ مٹی زرخیر ہونے کی وجہ سے اُنہوں نے فوری طور پر زمین کو صاف کرنا اور پودے لگانا شروع کر دیا جس میں آبادی بڑھنے کیساتھ ساتھ اضافہ ہوتا رہا۔ اگرچہ راپا نوئی میں اچھی کاشتکاری کی گئی تھی توبھی اسکا رقبہ محدود ہونے کی وجہ سے یہاں درخت ہی کم لگائے تھے۔
راپا نوئی کی تاریخ
راپا نوئی کی تاریخ کی بابت ہمارا علم بنیادی طور پر تین شعبہہائےتحقیق پر مبنی ہے: زیرہدانی تجزیہ، اَثریات اور فوسلیات۔ زیرہدانی تجزیے میں تالابوں اور دلدل کی تہہ میں بیٹھے ہوئے مادے سے زیرہدانے کے نمونے حاصل کئے جاتے ہیں۔ یہ نمونے کئی سو سال پہلے افراط سے پائے جانے والے پودوں کی مختلف اقسام کی بابت بتاتے ہیں۔ زیرہدانے کا نمونہ جتنی گہرائی سے لیا جاتا ہے وہ اُتنے ہی قدیم وقت کی نمائندگی کرتا ہے۔
اَثریات اور فوسلیات رہائش، ظروف، موآئی اور بطور غذا استعمال ہونے والے جانوروں کے باقیات جیسی چیزوں کی طرف توجہ دِلاتے ہیں۔ راپا نوئی کے تمام ریکارڈ خطِتصویر میں تحریر ہیں جسکی وجہ سے انہیں پڑھنا مشکل ہے۔ لہٰذا، یورپی رابطے سے پہلے کی تاریخیں محض اندازے ہیں اور بیشتر مفروضات کو ثابت نہیں کِیا جا سکتا۔ مزیدبرآں، مندرجہذیل مخصوص انکشافات میں متصل وقتی مدت کے لحاظ سے تھوڑا بہت فرق ہو سکتا ہے۔ جلی حروف میں لکھی گئی تمام تاریخیں سنِعام کی ہیں۔
۴۰۰ بیس سے پچاس کے لگبھگ پولینیشیائی نوآبادکار، ۸،۰۰۰ کلوگرام سے زیادہ وزن اُٹھانے والی تقریباً ۵۰ فٹ یا اس سے بھی زیادہ لمبی دو کشتیوں میں سوار ہو کر یہاں پہنچتے ہیں۔
۸۰۰ پانی کی تہہ میں بیٹھے ہوئے زیرہدانوں کی مقدار کا کم ہونا جنگلات کے خاتمے کی علامت ہے۔ صاف کئے جانے والے بعض علاقہجات میں گھاس بڑھنے کی وجہ سے گھاس کے زیرہدانوں میں اضافہ ہوتا ہے۔
۹۰۰-۱۳۰۰ اس عرصہ کے دوران خوراک کیلئے شکار کئے جانے والے جانوروں کی ہڈیوں کا تقریباً تیسرا حصہ ڈولفن مچھلی کی ہڈیاں ہیں۔ کُھلے سمندر میں ڈولفن کا شکار کرنے کیلئے جزیرے کے لوگ کھجور کے تنے سے تیارکردہ کینوز [کشتیاں] استعمال کرتے ہیں۔ اس وقت موآئی بنانے کا کام فروغ پا رہا ہے اور انہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے اور نصب کرنے کیلئے بھی درختوں کی لکڑی سے کام لیا جاتا ہے۔ زراعت میں توسیع اور ایندھن کے طور پر لکڑی کی ضرورت کے باعث جنگلات میں کمی جاری رہتی ہے۔
۱۲۰۰-۱۵۰۰ مجسّمہسازی اپنے عروج پر ہے۔ راپا نوئی کے لوگ اپنے بیشتر وسائل موآئی بنانے اور اِنہیں روایتی چبوتروں پر نصب کرنے میں ضائع کرتے ہیں۔ ماہرِاَثریات جواین وان ٹلبرگ لکھتی ہے: ”راپا نوئی کی معاشرتی ساخت نے بڑے اور زیادہ مجسّمے تیار کرنے کی پُرزور حمایت کی۔“ وہ مزید بیان کرتی ہے کہ ”۸۰۰ سے ۱،۳۰۰ سال کے اندر اندر . . . کل آبادی کے تناسب سے سات سے نو لوگوں کے لئے ایک مجسّمے کے حساب سے اندازاً ۱،۰۰۰ مجسّمے تیار کئے گئے۔“
بدیہی طور پر موآئی کی پرستش نہیں کی جاتی تھی مگر وہ تجہیزوتدفین اور زرعی رسومات میں خاص مقام رکھتے تھے۔ شاید اُنہیں روحوں کا مسکن خیال کِیا جاتا تھا۔ وہ بظاہر معمار کی طاقت، حیثیت اور حسبنسب کی علامت بھی تھے۔
۱۴۰۰-۱۶۰۰ آبادی ۷،۰۰۰ سے ۹،۰۰۰ تک پہنچ جاتی ہے۔ کسی حد تک درختوں میں زرگل پہنچانے اور بیجوں کو بکھیرنے والے مقامی پرندوں کے ناپید ہو جانے کی وجہ سے جنگل کے آخری قطعات بھی ختم ہو جاتے ہیں۔ ڈسکور بیان کرتا ہے، ”تمام مقامی پرندے بالکل ناپید ہو گئے۔“ چوہے بھی جنگلات کے خاتمے کا باعث بنے تھے کیونکہ شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ اُنہوں نے کھجوروں کے بیج ہی کھا لئے تھے۔
جلد ہی زمین کے کٹاؤ کا عمل شروع ہو جاتا ہے، ندیاں سوکھنے لگتی ہیں اور پانی کی قلّت ہو جاتی ہے۔ سمندری کشتیوں کو تیار کرنے کیلئے درکار درختوں کی کمی کی وجہ سے، سن ۱۵۰۰ کے لگبھگ ڈولفن کی ہڈیاں نظر آنا بھی بند ہو جاتی ہیں۔ اب تو جزیرے سے فرار بھی ناممکن ہو جاتا ہے۔ جب خوراک کی قلّت ہوتی ہے تو لوگ سمندری پرندوں کا صفایا کر دیتے ہیں۔ مرغی زیادہ مقدار میں کھائی جاتی ہے۔
۱۶۰۰-۱۷۲۲ درختوں کا صفایا، زمین کا بکثرت استعمال اور زرعی اراضی کا خاتمہ فصلوں کی تباہی کا سبب بنتا ہے۔ بڑے پیمانے پر غذا کی کمی واقع ہو جاتی ہے۔ راپا نوئی دو مخالف گروہوں میں بٹ جاتے ہیں۔ پہلے معاشرتی بحران اور آدمخوری کی علامات نمودار ہونے لگتی ہیں۔ یہ جنگ کا عروج ہے۔ لوگ تحفظ کی غرض سے غاروں میں رہنے لگتے ہیں۔ سن ۱۷۰۰ کے قریب آبادی کم ہو کر تقریباً ۲،۰۰۰ رہ جاتی ہے۔
۱۷۲۲ اس جزیرے کو دریافت کرنے والا پہلا یورپی ڈچ کھوجی جیکب روجیون ہے۔ یہ واقعہ ایسٹر کے دن پیش آتا ہے لہٰذا وہ اس کا نام ایسٹر آئیلینڈ رکھ دیتا ہے۔ وہ اپنا پہلا تاثر بیان کرتا ہے: ”[ایسٹر آئیلینڈ] کا تباہشُدہ نظارہ صرف غربت اور ویرانے کا غماز ہے۔“
۱۷۷۰ اس وقت تک راپا نوئی پر مخالف گروہ ایک دوسرے کے مجسّموں کو گِرانا شروع کر دیتے ہیں۔ سن ۱۷۷۴ میں جب برطانوی کھوجی کیپٹن جیمز کک یہاں آیا تو اُس نے دیکھا کہ بہت سے مجسّمے گرا دئے گئے ہیں۔
۱۸۰۴-۱۸۶۳ دوسری اقوام کیساتھ تعلقات بڑھ جاتے ہیں۔ بحراُلکاہل کے علاقے میں اس وقت غلامی عروج پر ہے اور بیماری کے باعث موت کی شرح بہت بڑھ گئی ہے۔ روایتی راپا نوئی ثقافت تقریباً دم توڑ چکی ہے۔
۱۸۶۴ اس وقت تک تمام موآئی گرائے جا چکے ہیں اور بیشتر کے سر تو دانستہ طور پر اُڑا دئے گئے ہیں۔
۱۸۷۲ جزیرے پر صرف ۱۱۱ مقامی لوگ رہ گئے ہیں۔
سن ۱۸۸۸ میں راپا نوئی چلی کا ایک صوبہ بن گیا۔ حالیہ برسوں میں راپا نوئی کی مخلوط آبادی تقریباً ۲،۱۰۰ ہے۔ چلی نے پورے جزیرے کو ایک تاریخی یادگار قرار دے دیا ہے۔ راپا نوئی کی منفرد خصوصیت اور تاریخ کو محفوظ رکھنے کیلئے بیشتر مجسّموں کو ازسرِنو تعمیر کِیا گیا ہے۔
ہمارے زمانے کیلئے سبق
راپا نوئی کے لوگوں نے اپنی روش کی جانچ کرکے تباہی کو روکنے کی کوشش کیوں نہ کی؟ اُسکی صورتحال کی بابت مختلف ماہرین کے تبصرہجات پر غور کریں۔
”جنگلات ایک ہی دن میں نہیں بلکہ رفتہرفتہ کئی عشروں میں ختم ہوئے ہونگے۔ . . . جزیرے کے کسی بھی شخص نے اگر جنگلات کے بتدریج خاتمے کی بابت آگاہ کرنے کی کوشش کی ہوگی تو بُتتراشوں، افسرشاہی اور سرداروں کے مفادات کی خاطر اُسکی آواز کو دبا دیا گیا ہوگا۔“—ڈسکور۔
”اُنہیں اپنے روحانی اور سیاسی نظریات کو فروغ دینے کی جو قیمت ادا کرنی پڑی اُس کی بدولت بڑی حد تک اس جزیرے کے مفاداتومقاصد کا اپنا فطریپن اسکا عکس بن کر رہ گیا۔“—ایسٹر آئیلینڈ—آرکیآلوجی، ایکالوجی، اینڈ کلچر۔
”راپا نوئی کا انجام اس بات کی دلالت کرتا ہے کہ بےقابو افزائش اور ردوبدل کی غرض سے ماحول کے تسلسل میں خلل ڈالنا ترقییافتہ دُنیا کے نہیں بلکہ انسانی کردار کا خاصہ ہیں۔“—نیشنل جیوگرافک۔
اگر آج بھی انسانی خصلت میں کوئی تبدیلی نہیں آتی تو اس کی بابت کیا کہا جا سکتا ہے؟ اگر نوعِانسان آج بھی ہماری زمین—خلا میں مُعلّق ہمارے اس جزیرے پر—ماحولیاتی اعتبار سے ناقابلِبرداشت طرزِزندگی کو مسلّط رکھتے ہیں تو کیا ہوگا؟ ایک مصنف کے مطابق ایک طرح سے ہم راپا نوئی سے قدرے بہتر ہیں۔ ہمارے پاس ”تباہی کے شکار معاشروں“ کی انتباہی مثالیں موجود ہیں۔
تاہم، سوال یہ ہے کہ کیا انسان اِن تاریخی شہادتوں سے کوئی سبق سیکھ رہا ہے؟ وسیع پیمانے پر جنگلات کا خاتمہ اور زمین کے جانداروں کی مسلسل ناپیدگی حیرانکُن طور پر یہ ظاہر کرتی ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ زو بُک میں لنڈا کوبنر لکھتی ہیں: ”ایک یا دو یا پھر پچاس انواع کا خاتمہ ایسے اثرات مرتب کریگا جنکی بابت قبلازوقت کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ ناپیدگی ہمارے نتائج کو سمجھنے سے پہلے ہی تبدیلی پیدا کر رہی ہے۔“
اگر کوئی غارتگر ایک وقت میں جہاز میں سے ایک رِپٹ نکال دیتا ہے اور یہ نہیں جانتا کہ کونسی رِپٹ جہاز کی تباہی کا سبب بنے گی تو جب خطرناک رِپٹ بھی نکال دی جاتی ہے تو پھر جہاز کے بچنے کی کوئی اُمید باقی نہیں رہتی، اگرچہ وہ اگلی ہی پرواز پر تباہ نہیں ہوتا۔ اسی طرح انسان ۲۰،۰۰۰ انواع سالانہ کی شرح سے زمین کو قائم رکھنے والی ”رِپٹ“ نکالتے جا رہے ہیں جس میں کسی قسم کی کمی واقع ہوتی ہوئی نظر نہیں آتی! تو پھر بچنے کی کیا اُمید ہے؟ نیز ایسے پیشگی علم سے کیا کوئی فرق پڑیگا؟
کتاب ایسٹر آئیلینڈ—ارتھ آئیلینڈ نے یہ خاص تبصرہ کِیا: ”[راپا نوئی] پر آخری درخت کو کاٹنے والا شخص یہ دیکھ سکتا تھا کہ یہ آخری درخت ہی ہے۔ مگر اس کے باوجود اُس نے اِسے کاٹ ڈالا۔“
”ہمیں اپنا مذہب بدلنا چاہئے“
”اگر بچنے کی کوئی اُمید باقی ہے،“ ایسٹر آئیلینڈ—ارتھ آئیلینڈ بیان کرتی ہے تو ”وہ یقیناً اسی بات کی ہے کہ ہمیں اپنا مذہب بدل لینا چاہئے۔ معاشی ترقی، سائنس اور ٹیکنالوجی، دنبدن بلند ہونے والے معیارِزندگی اور مقابلہبازی کی اقدار جیسے ہمارے دیوتا—جیہاں وہ معبود جنہیں ہم ہر طرح سے طاقتور خیال کرتے ہیں—ایسٹر آئیلینڈ کے چبوتروں پر نصب دیوپیکر مجسّموں کی مانند ہیں۔ بڑے سے بڑا مجسّمہ نصب کرنے کیلئے ایک گاؤں اپنے پڑوسی گاؤں کیساتھ مقابلہ کرتا تھا۔ . . . وسائل کا بھرپور استعمال کرنے کیلئے زیادہ سے زیادہ جدوجہد کی جاتی تھی . . . مگر بُت تراش کر اُنہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرکے نصب کرنا دراصل بیکار تھا۔“
ایک مرتبہ ایک دانشمند شخص نے کہا: ”انسان کی راہ اُسکے اختیار میں نہیں۔ انسان اپنی روش میں اپنے قدموں کی راہنمائی نہیں کر سکتا۔“ (یرمیاہ ۱۰:۲۳) صرف ہمارا خالق ہی ’ہمارے قدموں کی راہنمائی‘ کر سکتا ہے۔ صرف وہی ہمیں افسوسناک حالت سے باہر نکال سکتا ہے۔ وہ اپنے کلام، بائبل میں اس کا وعدہ کرتا ہے—ایک ایسی کتاب جس میں ماضی کی تہذیبوں کی اچھی اور بُری مثالوں کا ریکارڈ موجود ہے۔ بِلاشُبہ، یہ کتاب اِن تاریک ایّام میں ’ہماری راہ کیلئے روشنی‘ ثابت ہو سکتی ہے۔—زبور ۱۱۹:۱۰۵۔
انجامکار یہ راہ فرمانبردار انسانوں کو اَمن اور ضروریاتِزندگی سے بھرپور فردوس یعنی ایک نئی دُنیا میں لیجائیگی جس میں جنوبی بحراُلکاہل کا یہ چھوٹا جزیرہ راپا نوئی بھی شامل ہوگا۔—۲-پطرس ۳:۱۳۔
[فٹنوٹ]
a اگرچہ اس جزیرے کے باشندے خود کو اور اس جزیرے کو راپا نوئی کہتے ہیں، یہ جزیرہ ایسٹر آئیلینڈ کے طور پر مشہور ہے اور یہاں کے باشندے ایسٹر آئیلینڈرز کہلاتے ہیں۔
[صفحہ ۲۳ پر نقشہ]
(تصویر کے لئے چھپے ہوئے صفحے کو دیکھیں)
ایسٹر آئیلینڈ
[تصویر کا حوالہ]
.Mountain High Maps® Copyright © 1997 Digital Wisdom, Inc
[صفحہ ۲۳ پر تصویر]
”تقریباً ۱،۰۰۰ مجسّمے بنائے گئے تھے“
[صفحہ ۲۵ پر تصویریں]
دُورافتادہ جزیروں سمیت تمام زمین فردوس بن جائیگی