دُنیا کا نظارہ کرنا
زمین ایک منفرد سیارہ
ماہرینِفلکیات کا کہنا ہے کہ سیاروں کی گردش اور تجاذبی کشش کے باعث دُوراُفتادہ ستاروں میں پیدا ہونے والی معمولی حرکت کی پیمائش کرنے سے مزید سیارے دریافت ہو رہے ہیں۔ سن ۱۹۹۹ میں یہ دعویٰ کِیا گیا تھا کہ ہمارے نظامِشمسی کے باہر ایسے ۲۸ سیارے موجود ہیں۔ نئے دریافتشُدہ سیاروں کی بابت کہا جاتا ہے کہ اُنکا حجم تقریباً مشتری کے برابر یا اس سے تھوڑا بڑا ہے۔ کمیت کے اعتبار سے مشتری زمین سے ۳۱۸ گُنا بڑا ہے۔ ایک خیال کے مطابق مشتری کی مانند، یہ سیارے بھی ہیلیئم اور ہائیڈروجن کا مرکب ہیں۔ اِن سیاروں کے مداری فاصلے کی وجہ سے یہ کہا جاتا ہے کہ شاید ہی ان کیساتھ زمین کے حجم کا کوئی سیارہ موجود ہو۔ اِس کے علاوہ، زمین کے ۱۵۰ ملین کلومیٹر پر محیط مستدیر مدار کے برعکس، یہ سیارے اپنے ستاروں کے گرد بیضوی مداروں میں گھومتے ہیں۔ یہ سیارے درحقیقت مداری گردش کے دوران اپنے ستارے سے ۵۸ ملین کلومیٹر سے لیکر ۳۴۴ ملین کلومیٹر دُور ہو سکتے ہیں۔ ایک ماہرِفلکیات نے کہا، ”یہ بات ظاہر ہو گئی ہے کہ جیسے منظم مستدیر مدار ہمارے نظامِشمسی میں پائے جاتے ہیں ویسے کہیں اَور نہیں ہو سکتے۔“
سیٹی رابطے کا ذریعہ
لندن کے دی ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، کینیری جزائر کے ایک جزیرے گومارا پر سکول جانے والے ہسپانوی بچوں سے سیٹی کی زبان سیکھنے کا تقاضا کِیا جا رہا ہے جسے صدیوں سے مقامی چرواہے استعمال کرتے آ رہے ہیں۔ بنیادی طور پر پہاڑی وادیوں میں ایک سے دوسری جگہ رابطے کے لئے ترتیب دی جانے والی گومارا سلبو یا سیٹی بجا کر گفتاری آوازیں نکالی جاتی ہیں۔ سیٹی بجانے والے اپنے ہاتھوں کو پیالہنما شکل دیکر انگلیوں کو مُنہ میں ڈال لیتے ہیں جس سے مختلف آوازیں نکالی جاتی ہیں جو ۳ کلومیٹر کے فاصلے تک سنائی دے سکتی ہیں۔ سلبو ۱۹۶۰ کے دہے میں تقریباً ختم ہو گئی تھی مگر اب یہ ایک بار پھر مقبول ہو رہی ہے کہ جزیرے کے لوگ ہر سال سیٹی بجانے کا دن مناتے ہیں۔ تاہم، سیٹی بجانے کا یہ فن کسی حد تک محدود ہے۔ مقامی ایجوکیشن ڈائریکٹر یوآن ایورسٹو بیان کرتا ہے، ”آپ گفتگو تو کر سکتے ہیں مگر ایسی بہت ساری باتیں ہیں جو آپ نہیں کہہ سکتے۔“
بچے اور نیند
”والدین کو اِس سلسلے میں حدود مقرر کرنی چاہئیں کہ سکول جانے والے بچے کب تک جاگ سکتے ہیں اور اُنہیں سونے سے پہلے کیا کرنا چاہئے،“ پیرنٹس میگزین بیان کرتا ہے۔ ”ٹیوی دیکھنا، کمپیوٹر اور ویڈیو گیمز کھیلنا نیز انٹرنیٹ پر تفریح کرنا جیسی دلچسپ کارگزاریاں بچوں کے ذہن کو ضرورت سے زیادہ مصروف رکھتی ہیں۔ علاوہازیں سکول کے بعد دوسروں کیساتھ ملاقاتوں میں زیادہ وقت صرف کرنے کی وجہ سے، وہ اپنا ہوم ورک بھی ختم نہیں کر پاتے۔“ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ نیند کی کمی چھوٹے بچوں پر مختلف طرح سے اثرانداز ہوتی ہے—وہ غیرمعمولی طور پر فعال اور بےقابو ہو جاتے ہیں جبکہ بالغ سُست اور خاموشطبع ہو جاتے ہیں۔ نتیجتاً، جن بچوں کی نیند پوری نہیں ہوتی اُنکی توجہ دینے، سبق یاد رکھنے اور سوال حل کرنے کی صلاحیت میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ والدین کو اپنے بچوں کیلئے سونے کے وقت کا تعیّن کرنا چاہئے اور اسے اوّلیت دینی چاہئے اور یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ بچے تھکٹوٹ کر خود ہی سو جائینگے۔
عالمگیر ایڈز
اقوامِمتحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، دُنیابھر میں ”۵۰ ملین سے زیادہ—برطانیہ کی آبادی کے مساوی—لوگ ایچآئیوی-ایڈز سے متاثر ہیں اور ۱۶ ملین وفات پا چکے ہیں،“ کینیڈا کا دی گلوب اینڈ میل بیان کرتا ہے۔ ”نو افریقی ممالک پر مبنی تحقیق نے ظاہر کِیا ہے کہ مردوں کی نسبت ۲۰ فیصد زیادہ خواتین اب اس بیماری سے متاثر ہیں“ اور ”نوعمر لڑکوں کی نسبت نوعمر لڑکیوں کا ایچآئیوی-ایڈز سے متاثر ہونے کا امکان تقریباً پانچ گُنا زیادہ ہے۔“ ایچآئیوی/ایڈز سے متعلق اقوامِمتحدہ کے مشترکہ پروگرام کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پیٹر پائٹ کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں مشرقی یورپ میں ”بڑا اضافہ“ ہو رہا ہے۔ رپورٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ”گزشتہ دو سال کے اندر سابقہ سوویت یونین میں ایچآئیوی انفیکشن کی شرح دُگنی ہو گئی ہے جو کہ دُنیابھر میں ایک ناقابلِیقین اضافہ ہے۔“ ماہرین کی رائے ہے کہ یہ بات اس علاقے میں نس کے ٹیکے کے ذریعے منشیات کے استعمال میں اضافے کی نشاندہی بھی کرتی ہے۔ تمام دُنیا کے اندر، ایچآئیوی-ایڈز سے متاثر نصف سے زیادہ لوگ ”۲۵ سال کی عمر میں اس بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں اور ۳۵ سال کی عمر کو پہنچنے سے پہلے ہی وفات پا جاتے ہیں۔“
دھوپ سے بچاؤ والے لوشن اور کینسر
”دھوپ سے بچاؤ کیلئے تیز لوشن کا استعمال لوگوں کو پُرفریب احساسِتحفظ میں مبتلا کرنے کے علاوہ جِلدی کینسر کے خطرے میں بھی اضافہ کرتا ہے،“ لندن کا دی ٹائمز بیان کرتا ہے۔ ”اسکی وجہ یہ ہے کہ وہ بیشتر وقت دھوپ میں گزارتے ہیں جس سے اُن کی جِلد میں زیادہ شعائیں جذب ہوتی ہیں۔“ میلان، اٹلی میں یورپین انسٹیٹیوٹ آف آنکالوجی کے ماہرین نے یہ دریافت کِیا ہے کہ جو لوگ ۳۰ فیکٹر والے لوشن لگاتے ہیں وہ فیکٹر ۱۰ والا لوشن استعمال کرنے والے لوگوں کی نسبت ۲۵ فیصد زیادہ دھوپ میں رہتے ہیں۔ اس تحقیق کا مصنف فلپ اوٹائیر بیان کرتا ہے: ”جِلدی کینسر بالخصوص میلانوما کے خلاف لوشن کا حفاظتی اثر ابھی تک عام لوگوں میں نظر نہیں آیا مگر اس بات کو ثابت کرنے والے بہت سے اعدادوشمار دستیاب ہیں کہ دھوپ میں تفریح اور جِلدی کینسر کے درمیان گہرا تعلق ہے۔“ یہ لوشن خواہ کتنا ہی تحفظ فراہم کرتے ہوں، طبّی ماہرین لوگوں کو زیادہ دیر تک دھوپ میں رہنے کے خلاف آگاہ کر رہے ہیں۔ بریٹنز ہیلتھ ایجوکیشن اتھارٹی کا کینسر کیمپین مینیجر کرسٹوفر نیو مشورہ دیتا ہے: ”لوشن ضرور استعمال کریں مگر یاد رکھیں کہ اسکا مقصد آفتابی غسل نہیں ہونا چاہئے۔“
بہترین سواری؟
تین پہیوں والا سائیکل رکشا انڈیا میں کئی عشروں سے استعمال ہو رہا ہے۔ تاہم، میگزین آؤٹلُک بیان کرتا ہے کہ ”لکڑی کے بھاری ڈھانچے، لوہے کی بڑی چیسی، پیچھے جھکی ہوئی سیٹوں اور گیئرز کے بغیر“ ان سائیکل رکشوں میں ابھی تک کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ حالیہ برسوں میں، ان کے استعمال کی سخت مخالفت کی گئی ہے کیونکہ انہیں چلانے کیلئے بہت جسمانی مشقت کرنی پڑتی ہے جو عموماً اس کے کمزور اور بوڑھے ڈرائیوروں کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ اس وقت، انڈیا میں فضائی آلودگی کے پیشِنظر سائیکل رکشا کو ایک نئی شکل دی گئی ہے۔ دہلی کی ایک فرم نے ایک ایسا ڈیزائن پیش کِیا ہے جس میں ڈھانچہ ہلکا ہونے کی وجہ سے ہوا کا دباؤ کافی کم ہو جاتا ہے، اُس میں گیئر سسٹم بھی ہے جس کی بدولت پیڈل بھی کم مارنے پڑتے ہیں، ڈرائیور کی نشست بھی سہل حرکت کے اعتبار سے موزوں ہے، اسکا ہینڈل کلائی پر زیادہ زور نہیں پڑنے دیتا، جگہ بھی زیادہ ہے اور سواریوں کے بیٹھنے کیلئے سیٹیں بھی آرامدہ ہیں۔ پروجیکٹ لیڈر ٹی. وِینے کے مطابق، ”یہ آجکل کی سیاسی یا معاشرتی فضا کیلئے بالکل موزوں ہے جس میں انسانی حقوق اور آلودگی سے پاک ماحول کے نعرے لگائے جاتے ہیں۔“ آؤٹلُک بیان کرتا ہے: ”یہ ادنیٰ سا رکشا اکیسویں صدی کی بہترین سواری ثابت ہو سکتا ہے۔“
لاثانی ڈاک
آج تک، ”ٹیکنالوجی خط کی افادیت کی جگہ لینے میں کامیاب نہیں ہوئی،“ اخبار لی فیگارو بیان کرتا ہے۔ سن ۱۹۹۹ میں ایک فرانسیسی پوسٹل سروس نے ۲۵ بلین خطوط تقسیم کرکے ریکارڈ قائم کِیا۔ اِس میں سے ۹۰ فیصد کاروباری اور صرف ۱۰ فیصد ذاتی خطوط تھے۔ اس ڈاک کا تقریباً نصف حصہ اشتہاری خطوط پر مشتمل تھا جنہیں حاصل کرنے والے ۹۸ فیصد لوگوں نے دعویٰ کِیا کہ اُنہوں نے اسے غور سے پڑھا ہے۔ ہر روز فرانس کے ۹۰،۰۰۰ ڈاکیے روزانہ ڈاک میں ڈالے جانے والے ۶۰ ملین خطوط کو پہنچانے کے لئے ۷۲،۰۰۰ سے زیادہ چکر لگاتے ہیں، جن میں سے ۴۰ فیصد خواتین ہیں۔
پریشان بیمہکار
فرنچ اخبار لی مونڈ نے بیان کِیا کہ ۱۹۹۹ ”دُہرا بیمہ کرنے کے سلسلے میں بڑا ہی منحوس سال ثابت ہوا تھا۔“ قدرتی آفات کی وجہ سے ۱۹۹۸ میں ۹۰ بلین ڈالر کا نقصان ہوا جس میں سے ۱۵ بلین ڈالر بیمہ کمپنیوں نے ادا کئے۔ تاہم، ۱۹۹۹—ترکی اور تائیوان میں زلزلوں، جاپان میں آندھیوں، انڈیا اور ویتنام میں سیلابوں اور دیگر آفات کا سال—بیمہ کرنے والوں کو اَور بھی مہنگا پڑ سکتا ہے۔ بیمہکار گنجانآباد علاقوں میں بڑی بڑی آفات کے بڑھتے ہوئے امکان کی بابت فکرمند ہیں۔ دُنیا کا نامیگرامی بیمہکار عالمی پیمانے پر حدت کے ”تباہکُن اثرات“ اور ”موسم میں انسانی مداخلت کے نتائج“ سے خبردار کرتا ہے۔
ماؤنٹ ایورسٹ اب اَور بھی اُونچا ہو گیا ہے
رائٹرز کی حالیہ رپورٹ بیان کرتی ہے کہ ”دُنیا کا بلندترین پہاڑ، ماؤنٹ ایورسٹ سائنسدانوں کے گزشتہ اندازے سے بھی زیادہ اُونچا ہے اور اسکی اُونچائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔“ ”کوہپیماؤں نے نہایت حساس سیٹلائٹ کو استعمال کرتے ہوئے، ایورسٹ کی پیمائش کی جس کے مطابق اسکی اُونچائی ۲۹،۰۳۵ فٹ—تقریباً ساڑھے پانچ میل ہے . . . یہ ۱۹۵۴ میں کی جانے والی ۲۹،۰۲۸ فٹ کی باضابطہ پیمائش سے سات فٹ زیادہ ہے۔“ نئی پیمائش برف سے ڈھکی ہوئی چوٹی تک کی ہے۔ برف کے اندر چھپے ہوئے پہاڑ کی بلندی ابھی تک معلوم نہیں ہوئی۔ نیشنل جیوگرافک سوسائٹی اپنے نقشہجات کیلئے نئے اعدادوشمار کا انتخاب کر رہی ہے۔ اُونچائی میں اضافے کے علاوہ، یہ پہاڑ—دراصل کوہ ہمالیہ کا پہاڑی سلسلہ—ہر سال ۱۶/۱ سے لیکر ۴/۱ انچ کے حساب سے شمالمشرقی سمت میں، چین کی طرف بڑھ رہا ہے۔