یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو 8/‏1/‏99 ص.‏ 23-‏25
  • چہرے کے نشان نائجیریا کا انعدام‌پذیر ’‏شناختی کارڈ‘‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • چہرے کے نشان نائجیریا کا انعدام‌پذیر ’‏شناختی کارڈ‘‏
  • جاگو!‏—‏1999ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • ملے‌جلے تاثرات
  • تمسخر کا مقابلہ کرنا
  • ایک انعدام‌پذیر روایت
  • ایک تجویز
    ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۱۹۹۸
  • کیا نسلی رقابت کا کوئی جواز ہے؟‏
    جاگو!‏—‏2003ء
  • نسلی تعصّب کا حل کیا ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2007ء
  • آپ کی مسکراہٹ—‏ایک تحفہ
    جاگو!‏—‏2017ء
جاگو!‏—‏1999ء
جاگو 8/‏1/‏99 ص.‏ 23-‏25

چہرے کے نشان نائجیریا کا انعدام‌پذیر ’‏شناختی کارڈ‘‏

نائجیریا میں جاگو!‏ کے مراسلہ‌نگار سے

ایک صبح ۱۹۶۰ کے دہے کے آخر میں، ایک چھ سالہ لڑکا ڈانجما اپنے والد کے پاس گیا اور اصرار کرنے لگا کہ اُسکے چہرے پر بھی وہ نشان لگائے جو اِگالا کے شہری بڑے فخر سے اپنے چہروں پر لگواتے ہیں۔ ڈانجما نے محسوس کِیا کہ وہ اب مزید اپنے ہم‌مکتبوں کا تمسخر برداشت نہیں کر سکتا جو اُسے چہرے پر نشان نہ ہونے کی وجہ سے تنگ کرتے تھے۔ اِگالا میں اگرچہ یہ نشان عموماً شیرخواروں کو لگائے جاتے تھے جنکے لئے اس خوفناک عمل کی تاب لانا بہت مشکل ہوتا تھا۔ تاہم کچھ بڑے لڑکے ایسے نشانات کو بہادری کی علامت خیال کرتے تھے۔ ان نشانات کے بغیر لوگوں کو وہ بزدل خیال کرتے تھے جو چاقو کا سامنا نہیں کر سکتے۔‏

اُس وقت تک، ڈانجما کا باپ اپنے بیٹے کے چہرے پر نشان لگوانے کی مزاحمت کرتا رہا تھا۔ تاہم اُس صبح، اپنے بیٹے کے اپنی بہادری کو ثابت کرنے کے عزم کے دباؤ میں آکر اُس نے چاقو پکڑا اور لڑکے کے چہرے کے دونوں طرف اُس کے مُنہ کے کناروں سے ذرا اُوپر تین گہرے اُفقی نشان لگا دئے۔‏

ڈانجما کا باپ جانتا تھا کہ ان نشانات کے حقیقی مفہوم کا بہادری کیساتھ کوئی تعلق نہیں۔ اسکی بجائے، یہ زخم ٹھیک ہونے پر شناختی علامات بن جائینگے۔ وہ مستقل ’‏شناختی کارڈ‘‏ ہونگے جنہیں نہ تو گم کِیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسکی نقل تیار کی جا سکتی ہے۔ وہ اُسکے بیٹے کو فوری طور پر اُس کے مرد رشتہ‌داروں کیلئے قابلِ‌شناخت بنا دینگے اور اُسے اِگالا کا ایک شہری ہونے کے تمام حقوق اور استحقاقات کے اہل قرار دینگے۔ تاہم یہ نشانات اُسے نائجیریا کے دیگر ۲۵۰ سے زائد نسلی گروہوں سے مختلف بھی بنا دینگے۔‏

نشترزنی اور اندمال کا عمل، اگرچہ افریقہ تک محدود نہیں تاہم اس برِاعظم میں اس کی تاریخ بڑی قدیم ہے۔ یونانی مؤرخ ہیرودوتس نے پانچویں صدی قبل‌ازمسیح میں مصر میں رہنے والے کیریوں کی بابت لکھا:‏ ”‏وہ یہ ثابت کرنے کیلئے کہ اپنی پیشانیوں کو چھریوں سے زخمی کرتے تھے کہ وہ پردیسی ہیں اور مصری نہیں۔“‏ ایفی، نائجیریا میں، سات سو سال پہلے تیار کئے گئے تانبے کے سروں والے چہروں پر ایسی لکیریں نمایاں ہیں جن کی بابت بہتیرے یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ مخصوص طبقاتی نشانات ہیں۔ بینن کی قدیم نائجیرین سلطنت کے مجسّمہ‌سازی کے فن میں بھی چہرے کے نشانات صاف عیاں ہیں۔‏

چہرے پر تمام نشان محض طبقاتی شناخت کیلئے ہی نہیں بنائے جاتے۔ بعض نشان ارواحی اور مذہبی رسومات سے تعلق رکھتے تھے اور ابھی تک رکھتے ہیں۔ دیگر روایتی معاشروں میں علامتِ‌رُتبہ ہوتے ہیں۔ جبکہ دیگر ’‏آرائشی نشان‘‏ ہوتے ہیں۔‏

چہرے کے نشانات کئی اقسام کے ہوتے ہیں جنہیں علاقے کے ماہرین لگاتے ہیں۔ بعض جلد میں چھوٹی سی جھری کی صورت میں ہوتے ہیں جبکہ دیگر انگلیوں کے ذریعے چوڑے اور گہرے کئے گئے کاری زخم ہوتے ہیں۔ بعض‌اوقات نشانات کو رنگ‌دار بنانے کیلئے زخم میں کوئی مقامی رنگ بھر دیا جاتا ہے۔ ہر طبقاتی گروہ کا اپنا منفرد نمونہ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، دونوں گالوں پر ایک ایک عمودی نشان اونڈو مردوں اور عورتوں کی شناخت کراتا ہے۔ دونوں گالوں پر تین تین اُفقی نشانات اویو لوگوں کی شناخت کراتے ہیں۔ جو لوگ ان نشانات کا علم رکھتے ہیں اُن کیلئے کسی کے چہرے پر ایک نظر ڈالنا ہی اُس شخص کے طبقاتی گروہ، شہر، حتیٰ‌کہ خاندان کی بابت جاننے کیلئے کافی ہوتا ہے۔‏

ملے‌جلے تاثرات

جسطرح نشانات اور اُن سے متعلق وجوہات کی کئی اقسام ہیں اُسی طرح اُن کی بابت تاثرات بھی کافی مختلف ہیں۔ کئی ایک ان نشانات کو بڑے فخر سے لگواتے ہیں۔ نائجیریا کے ڈیلی ٹائمز کے ایک ایڈیٹر نے بیان کِیا:‏ ”‏بعض ان نشانات کو حب‌اُلوطنی کی علامت خیال کرتے ہیں۔ اس سے اُنہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنے آباؤاجداد کے حقیقی فرزند ہیں۔“‏

نائجیریا کا ایک شخص جی‌مو اسکی بابت اپنی رائے کا اظہار یوں کرتا ہے:‏ ”‏مجھے اپنے اویو نشانات سے کبھی شرمندگی محسوس نہیں ہوتی کیونکہ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ مَیں الافن کے قصبے کا ایک حقیقی یوروبا باشندہ ہوں۔“‏ وہ مزید بیان کرتا ہے کہ ۱۹۶۷ میں ان نشانات نے نائجیریا کی خانہ‌جنگی کے دوران اُسکی جان کیسے بچائی تھی:‏ ”‏میرے گھر پر حملہ کِیا گیا اور وہاں موجود [‏دوسرے]‏ تمام لوگ مارے گئے۔ قاتلوں نے میرے چہرے پر موجود نشانات کی وجہ سے مجھے نقصان نہ پہنچایا۔“‏

دیگر ان نشانات کی بابت نہایت آزردہ محسوس کرتے ہیں۔ تاجودن اپنے چہرے پر موجود نشانات کی بابت کہتا ہے:‏ ”‏مجھے اس سے نفرت ہے اور مَیں اس دن کو کوستا ہوں جس دن یہ مجھے لگایا گیا تھا۔“‏ علاوہ‌ازیں ایک جواں‌سال لڑکی اپنی ماں کی تعریف کرتی ہے کیونکہ اُس نے بچپن میں اُسکے ایسے نشان نہیں لگوائے تھے۔ وہ کہتی ہے:‏ ”‏اگر میرے یہ نشانات لگے ہوتے تو مَیں تو خودکشی ہی کر لیتی۔“‏

تمسخر کا مقابلہ کرنا

ڈانجما، جس کا شروع میں ذکر کِیا گیا ہے، یہ نشانات نہ لگوانے کی وجہ سے تمسخر کا نشانہ بنا۔ صورتحال عموماً اسکے برعکس ہوتی ہے۔ تقریباً ۴۵ سال قبل، جی.‏ٹی.‏ باسڈن نے اپنی کتاب نائجر ائبوس میں لکھا:‏ ”‏نشترزنی اور داغنے کا رواج اب ختم ہوتا جا رہا ہے۔ بہتیرے نوجوان خوشی سے [‏اپنے ان نشانات]‏ سے چھٹکارا حاصل کرتے ہیں۔ ایک شخص کیلئے جو چیز اُس کے اپنے قبیلے میں باعثِ‌فخر ہوتی ہے وہی ملک کے دیگر حصوں میں تمسخر اور حقارت کا سامنا کرنے کی وجہ سے اُس کیلئے باعثِ‌رسوائی بن جاتی ہے۔“‏

آجکل یہ الفاظ یقینی طور پر بالکل سچ ہیں۔ لاگوس یونیورسٹی سے نفسیات کی ڈگری حاصل کرنے والی اَجی نے حال ہی میں نائجیریا میں چہرے کے نشانات کا مطالعہ کِیا۔ وہ بیان کرتی ہے:‏ ”‏آجکل لاگوس جیسے شہروں میں چہرے پر نشانات والے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے اور دیگر لوگ اکثر اُنکا مذاق اڑاتے ہیں۔ مثلاً، لوگوں کو کسی شخص کو کرنل کہتے سننا بڑی عام سی بات ہے لیکن جب پوچھا جائے تو پتا یہ چلتا ہے کہ وہ کسی فوج کا رُکن نہیں ہے بلکہ یہ کہ اُسکی گالوں پر دھاریوں کی تعداد اُتنی ہی ہے جتنی کہ فوج کے ایک کرنل کے یونیفارم پر ہوتی ہیں۔ بعض کو اُنکی دھاریدار گالوں کی وجہ سے ٹائیگر کہا جاتا ہے یا پھر بعض کا کبھی نہ رکنے والے آنسوؤں کے طور پر ذکر کِیا جاتا ہے۔ .‏ .‏ .‏ ذرا تصور کریں کہ اسکا کسی شخص کی عزتِ‌نفس پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔“‏

شاید مشکل‌ترین آزمائشوں کا مقابلہ سکول میں کرنا پڑتا ہے۔ سموئیل کی پوری جماعت میں صرف اُسی کے چہرے پر نشان تھے۔ وہ بیان کرتا ہے:‏ ”‏سکول میں میرا بہت مذاق اُڑایا جاتا تھا۔ میرے ساتھی مجھے ’‏ریلوے لائن‘‏ اور ’‏ریلوے لائن والا لڑکا‘‏ کہتے تھے۔ وہ ہمیشہ میرا مذاق اُڑاتے تھے اور تین انگلیوں کے ساتھ نشان بناتے تھے۔ اس سے مَیں احساسِ‌کمتری میں مبتلا ہو جاتا تھا۔“‏

اُس نے کیسے اس کا مقابلہ کِیا؟ سموئیل مزید بیان کرتا ہے:‏ ”‏ایک دن یہ مذاق اتنی شدت اختیار کر گیا کہ مَیں اپنے بیالوجی کے ٹیچر کے پاس گیا اور اُس سے پوچھا کہ آیا ان نشانات کو مٹانا ممکن ہے۔ اُس نے کہا کہ پلاسٹک سرجری سے ایسا کِیا جا سکتا ہے مگر مجھے اس سے پریشان نہیں ہونا چاہئے کیونکہ نائجیریا میں ہزاروں لوگوں کے ایسے نشان ہوتے ہیں۔ اُس نے کہا کہ تمہارے دوست اسلئے تمہارا مذاق اُڑاتے ہیں کیونکہ وہ ناپُختہ ہیں اور جب تُم بڑے ہو جاؤ گے تو یہ مذاق ختم ہو جائیگا۔ اُس نے یہ بھی کہا کہ نشانات اس بات کا تعیّن نہیں کرتے کہ مَیں درحقیقت کیا ہوں یا کیا بنوں گا۔‏

‏”‏اس سے مجھے کافی تسلی ہوئی اور نشانوں کی بابت میری پریشانی ختم ہو گئی۔ لوگ اب شاذونادر ہی میرے نشانوں کا ذکر کرتے ہیں۔ اب جب وہ اسکا ذکر کرتے بھی ہیں تو مَیں محض مسکرا دیتا ہوں۔ دوسروں کے ساتھ میرے تعلقات خراب نہیں۔ لوگ میرے نشانوں کی وجہ سے نہیں بلکہ میری شخصیت کی وجہ سے میری عزت کرتے ہیں۔“‏

ایک انعدام‌پذیر روایت

چونکہ نشانات عموماً چھوٹے بچوں کو لگائے جاتے ہیں اسلئے نائجیریا کے جن لوگوں کے چہروں پر یہ طبقاتی نشانات موجود ہیں اُنکی اپنی پسند کا اس میں بہت کم عمل‌دخل ہے۔ تاہم جب وہ والدین بنتے ہیں تو اُنہیں اس بات کا فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ آیا وہ اپنے بچوں پر نشان لگوائیں گے یا نہیں۔‏

بعض لوگ ایسا کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ لاگوس کے ٹائمز انٹرنیشنل کے مطابق، ایسا فیصلہ کرنے کی کئی ایک وجوہات ہیں۔ میگزین بیان کرتا ہے:‏ ”‏بعض ابھی بھی اسے آرائش‌وزیبائش کا حصہ خیال کرتے ہیں۔ دیگر کا خیال ہے کہ قبائلی نشانات طرفداری کے اعتبار سے ایک شخص کی نسل کا تعیّن کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ ایک اَور وجہ یہ ہے کہ یہ روایتی پیرائے میں کسی بچے کے جائز اولاد ہونے کا تعیّن کرنے میں مدد دیتے ہیں۔“‏

تاہم، آجکل زیادہ‌تر والدین ان وجوہات سے قائل نہیں ہیں۔ جو لوگ اپنے نشانات کی بابت فخر محسوس کرتے ہیں اُن میں سے بھی نسبتاً کم ہی لوگ اپنے بچوں کے چہروں پر قبائلی جراح کے چاقو کا خطرہ مول لیتے ہیں۔ یہ بات بالخصوص شہروں کے معاملے میں زیادہ سچ ثابت ہوتی ہے۔ درد اور انفیکشن کے خطرے کے علاوہ بچے کے تجربے میں آنے والا ناروا سلوک اور شدید توہین ایسے عناصر ہیں جنکی بِنا پر والدین چہروں پر نشانات لگوانے سے انکار کرتے ہیں۔‏

واضح طور پر، چہروں پر نشانات کی مقبولیت اور پسندیدگی دن‌بدن تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ مستقبل کے نائجیریا میں، لوگوں کا ’‏شناختی کارڈ‘‏ چہروں کی بجائے اُنکے بٹوؤں میں ہوگا۔‏

‏[‏صفحہ 23 پر تصویر]‏

چہرے کے نشان طبقاتی گروہوں کو ظاہر کرتے ہیں

‏[‏صفحہ 24 پر تصویر]‏

چہرے پر نشان لگانا ایک انعدام‌پذیر روایت ہے

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں