سات بیٹوں کی پرورش کے چیلنج اور برکات
برٹ اور مارگریٹ ڈکمین کی زبانی
مَیں ۱۹۲۷ میں اوماہا، نبراسکا، یو.ایس.اے میں پیدا ہوا اور جنوبی ڈکوٹا میں پرورش پائی۔ مجھے عظیم کسادبازاری (۱۹۲۹-۱۹۴۲) کے دوران اپنے لڑکپن کے کٹھن سال ابھی تک یاد ہیں۔ ماں ایک سوپ بنایا کرتی تھی جسے وہ فاقہکشی کا اسٹیو کہا کرتی تھی۔ وہ فرائیپان میں تھوڑا سا گھی ڈالکر اُس میں کچھ پانی ملا دیتی اور پھر ہم اُس میں اپنی روٹی ڈبو ڈبو کر کھایا کرتے تھے۔ اُس وقت بہت سے خاندانوں کو مشکل حالات کا سامنا تھا۔
مقامی پروٹسٹنٹ مذہب میں بہت زیادہ ریاکاری دیکھنے کی وجہ سے میرے خاندان کے افراد کو مذہب سے کوئی لگاؤ نہیں تھا۔ جہاں تک میرا تعلق ہے تو دوسری جنگِعظیم کے دوران دو سال فوج میں رہنے کی وجہ سے میری سوچ اُسی سانچے میں ڈھل چکی تھی۔ اُس وقت مجھے شراب اور جوئے کی عادت پڑ گئی۔
ایک مرتبہ فوج سے چھٹی کے دوران مَیں ایک مقامی رقص پر گیا جہاں میری ملاقات جرمن-یوکرائنی نژاد لڑکی مارگریٹ شالٹ سے ہوئی۔ ہمیں ایک دوسرے سے محبت ہو گئی اور تین ماہ کی کورٹشپ کے بعد، ہم نے ۱۹۴۶ میں شادی کر لی۔ آٹھ سال میں ہمارے ہاں سات بیٹے پیدا ہوئے اور تب ہمیں احساس ہوا کہ والدین ہونا کوئی کھیل نہیں۔
آرے کی مشین پر کام کرتے ہوئے ۱۹۵۱ میں ایک خطرناک حادثے کے دوران میرے بائیں بازو کا نچلا حصہ کٹ گیا۔ ہڈی اور جلد کی پیوندکاری کیلئے مجھے دو سال تک ہسپتال میں رہنا پڑا۔ اس دوران مارگریٹ نے پانچوں لڑکوں کی ذمہداری اُٹھائی۔ دوستوں اور پڑوسیوں کی بدولت وہ اس مشکل وقت کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوئی۔ ہسپتال میں میرے پاس زندگی کے مقصد کی بابت سوچنے کیلئے کافی وقت تھا۔ مَیں نے بائبل پڑھنے کی کوشش کی لیکن اُس کو سمجھنے میں مجھے زیادہ کامیابی حاصل نہ ہوئی۔
ہسپتال سے آنے کے تھوڑی دیر بعد ہم واشنگٹن ریاست کے ایک قصبے، اوپرچیونٹی میں منتقل ہو گئے اور مَیں اپنے برادرِنسبتی کے ساتھ تعمیراتی کاروبار میں لگ گیا۔ اب مَیں مارگریٹ کو موقع دونگا کہ وہ اپنی آپبیتی بیان کرے۔
مَیں بہت مصروف تھی!
مَیں نے ایک فارم پر پرورش پائی جہاں ہم اناج اُگایا کرتے تھے اور دودھ دینے والے جانوروں کے ایک چھوٹے سے ریوڑ کی دیکھبھال کِیا کرتے تھے اور سبزیاں اور پھل ڈبوں میں پیک کِیا کرتے تھے۔ سخت محنت کرنے کی میری عادت نے مجھے مستقبل میں آنے والے زندگی کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کیلئے تربیت فراہم کی جو واقعی بہت زیادہ تھے۔ ہم نے دوسروں کی نسبت کسادبازاری کا مقابلہ کہیں بہتر حالات میں کِیا کیونکہ ہمارے پاس کھانے کیلئے ہمیشہ کچھ نہ کچھ ضرور ہوتا تھا۔
اگرچہ مَیں کبھیکبھار سنڈے سکول چلی جاتی تھی تاہم میرے والدین کے پاس مذہب کیلئے بالکل بھی وقت نہیں تھا۔ پھر ۱۹ سال کی عمر میں، مَیں نے اور برٹ نے شادی کر لی۔ ہم نے چرچ جانے کی بجائے شادی کی سادہ سی تقریب کا اہتمام میرے والدین کے گھر کی بیٹھک میں ہی کِیا جہاں کلیسیا کے ایک خادم نے شادی کی رسم ادا کی۔ چند ہی سالوں میں میرے ہاں سات لڑکے پیدا ہوئے—رچرڈ، ڈین، ڈگ، گیری، مائیکل، کین اور سب سے آخر میں ۱۹۵۴ میں سکاٹ۔ بس اتنے تھے کہ اُنہیں سنبھالا جا سکتا تھا!
جب ہم اوپرچیونٹی میں منتقل ہوئے تو ایک خاتون بائبل کے متعلق باتچیت کرنے کے لئے ہمارے گھر آئی۔ مَیں نے اُس سے پوچھا کہ کیا وہ آتشِجہنم پر یقین رکھتی ہے کیونکہ مَیں اس عقیدے سے دراصل خائف تھی۔ مجھے یہ سُن کر تسلی ہوئی جب اُس نے بتایا کہ نہ تو آتشِجہنم بائبل کی تعلیم ہے اور نہ ہی جان کے غیرفانی ہونے کی تعلیم بائبل میں پائی جاتی ہے! مَیں نے موت کے خوف اور دہشت میں زندگی بسر کی تھی اور کبھی بھی آتشِجہنم کو محبت کے خدا کے ساتھ ہمآہنگ نہیں کر پائی تھی۔ مَیں نے تہیہ کر لیا تھا کہ مَیں اپنے بچوں کو ہرگز ایسی جھوٹی تعلیمات نہیں سکھاؤنگی۔
مَیں نے ۱۹۵۵ میں، کتاب ”خدا سچا ٹھہرے“a کی مدد سے بائبل مطالعہ شروع کر دیا۔ جیسےکہ آپ توقع کر سکتے ہیں ٹھیک اُسی وقت ایک پینٹیکاسٹل مناد نے اچانک میرے لئے فکرمندی ظاہر کی کہ وہ مجھے یہوواہ کے گواہوں سے بچانا چاہتا ہے! اُس نے ایک بڑی غلطی یہ کی کہ مجھے آتشِجہنم کی بابت تعلیم دینا شروع کر دی! مجھے یہوواہ کے گواہوں کیساتھ مطالعہ کرنے سے باز رکھنے کی غرض سے اُس نے اپنی کلیسیا کی تین پینٹیکاسٹل خواتین کو بھی بھیجا۔
اسی دوران برٹ نے بیٹھک میں بیٹھے بیٹھے میرے بائبل مطالعے کو سنا۔ بعدازاں، جب اُس نے نیو ورلڈ ٹرانسلیشن آف دی کرسچین گریک سکرپچرز پڑھنی شروع کی تو اُسے سمجھ آنے لگی۔ وہ ایک ایسی شفٹ میں کام کر رہا تھا جو آدھی رات کو ختم ہوتی تھی۔ اُسکے آنے تک مَیں سو چکی ہوتی تھی۔ ایک رات مَیں خاموشی سے نچلی منزل پر آئی اور اُسے چھپ کر اپنی کتابیں پڑھتے پایا! مَیں خاموشی سے واپس آ کر بستر پر لیٹ گئی اور اس بات سے بہت خوش ہوئی کہ وہ خود تحقیق کر رہا ہے۔ آخرکار اُس نے بھی بائبل کا مطالعہ کِیا اور ۱۹۵۶ میں ہم بپتسمہیافتہ گواہ بن گئے۔
آٹھ سالوں میں سات بیٹے ہونے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ ہر روز اُنہیں کھلانے اور پہنانے کے معمول کے ساتھ ساتھ گھر کو صافستھرا رکھنا واقعی ایک چیلنج ہے۔ لڑکوں نے گھر کے کام میں ہاتھ بٹانا سیکھ لیا تھا۔ مَیں اکثر کہا کرتی تھی کہ میرے پاس ایک نہیں سات خودکار ڈشواشر ہیں! ہر ایک اپنی اپنی باری پر یہ کام کرتا تھا۔ یقیناً برٹ بھی بہت مدد کرتا تھا۔ وہ گھر میں مستقل نظموضبط قائم رکھنے کے باوجود رابطے کے سلسلے کو ہمیشہ کھلا رکھتا تھا۔ لڑکے اپنے باپ کی عزت کرتے تھے مگر اُس سے خوفزدہ نہیں تھے۔ برٹ نے ہمارے بیٹوں کو جنس اور افزائشِنسل کی بابت بھی تعلیم دینے کی اپنی ذمہداری سے کبھی غفلت نہیں برتی تھی۔
ہمارا سب سے بڑا بیٹا رچرڈ، ۱۹۶۶ میں بروکلن نیو یارک میں واچ ٹاور سوسائٹی کے ہیڈکواٹرز میں رضاکارانہ خدمت کیلئے چلا گیا۔ پہلے بچے کو گھر سے رخصت ہوتے دیکھنا میرے لئے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔ ہر روز میز پر اُسکی کرسی خالی دیکھ کر مَیں غمگین ہو جاتی تھی۔ لیکن مجھے خوشی تھی کہ وہ اچھی تربیت اور تجربہ حاصل کر رہا ہے۔
اب باقی کہانی برٹ سے سنیں۔
اپنے لڑکوں کی بائبل اصولوں کے مطابق پرورش کرنا
مارگریٹ اور مَیں نے سپوکین، واشنگٹن میں منعقد ہونے والی کنونشن پر بپتسمہ لیا تھا۔ اب ہمارے سامنے اپنے لڑکوں کی بائبل اصولوں کے مطابق پرورش کرنے کا چیلنج تھا—جسے آپ شاید پرانا طریقہ خیال کریں۔ مَیں جھوٹ یا دوہرے معیار کو بالکل پسند نہیں کرتا تھا اور لڑکے اس بات سے بخوبی واقف تھے۔ ہم نے اُنہیں سکھایا کہ یہوواہ بہترین چیز کا مستحق ہے۔
تاہم وہ جانتے تھے کہ وہ مجھے اپنا ہمراز بنا سکتے ہیں کیونکہ ہمارے درمیان قریبی رشتہ تھا اور ہم بیشتر کام ملجل کر کرتے تھے۔ خاندان کے طور پر ہم ساحل پر جانے، پہاڑوں پر پکنک منانے اور سوفٹبال کھیلنے سے لطفاندوز ہوتے تھے۔ ہمارا ایک باغ اور کچھ جانور تھے لہٰذا اس میں جو بھی کام کرنا ہوتا تو لڑکے اُس میں ہاتھ بٹاتے تھے۔ یوں اُنہوں نے کھیلنا اور کام کرنا سیکھا۔ ہم اپنی سرگرمیوں میں توازن قائم رکھنے کی کوشش کرتے تھے۔
ایک تھیوکریٹک مہم
جہاں تک روحانی معاملات کا تعلق ہے تو ہم سب ملکر کنگڈم ہال میں تمام مسیحی اجلاسوں پر حاضر ہوتے اور باقاعدگی کے ساتھ خاندانی مطالعہ بھی کرتے تھے۔ ہم ۱۹۵۷ میں سیٹل، واشنگٹن میں یہوواہ کے گواہوں کی کنونشن پر حاضر ہوئے۔ پروگرام کے دوران خاندانوں سے ایسے علاقوں میں منتقل ہونے کیلئے درخواست کی گئی جہاں گواہوں کو خدا کی بادشاہت کی خوشخبری سنانے کی زیادہ ضرورت تھی۔ ہمارے خاندان نے سوچا کہ یہ اچھا خیال ہے لہٰذا ہم نے منتقل ہونے کا منصوبہ بنانا شروع کر دیا۔ پہلے ہم ۱۹۵۸ میں میسوری گئے اور پھر ۱۹۵۹ میں مسسسپی۔
ہماری پہلی بڑی تھیوکریٹک مہم کا آغاز ۱۹۵۸ میں ہوا۔ مَیں نے عارضی قیام کیلئے پہیوں والا ایک مکان بنایا جسے تین سیٹوں اور چھ سلنڈروں والی ۱۹۴۷ کی ایک بہت پُرانی ڈیسوٹو کھینچتی تھی۔ اُس سال ہم نو لوگ نیو یارک میں ہونے والی انٹرنیشنل کنونشن پر حاضر ہونے کیلئے اسی گاڑی میں نیو یارک گئے۔ مغربی ساحل پر سپوکین سے نیویارک آتے ہوئے ہم نے ۲،۶۰۰ سے زیادہ میل کے اس سفر کے دوران کئی ہفتے سڑک پر کیمپنگ کرتے ہوئے گزارے! لڑکے ابھی بھی اُس سفر کو ایک شاندار اور پُرلطف وقت کے طور پر یاد کرتے ہیں۔
ایک کیک سے تنبیہ حاصل کرنا
اس کنونشن پر ہم نے کتاب فرام پیراڈائز لوسٹ ٹو پیراڈائز ریگینڈ کی اپنی اپنی کاپی حاصل کی۔b بائبل کیساتھ یہ کتاب ہمارے ہفتہوار خاندانی بائبل مطالعے کیلئے بنیادی اشاعت بن گئی۔ سب لڑکوں نے چھوٹی عمر میں ہی پڑھنا سیکھ لیا تھا۔ سکول کے بعد ماگی کچھ وقت لڑکوں کے ساتھ صرف کرتی تھی اور اُنہیں بائبل پڑھتے ہوئے سنتی تھی۔ ہم نے ٹیوی کو اُن کے ذہنوں پر غلبہ حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔
ہمارے خاندان میں عزتواحترام اور نظموضبط پایا جاتا تھا۔ ایک بار مارگریٹ نے ایک بڑا کیک بنایا—جو اُسکے خاصالخاص پکوان میں سے تھا۔ اُس دن کھانے میں گاجریں بھی تھیں۔ ہم ہمیشہ لڑکوں کی حوصلہافزائی کرتے تھے کہ وہ کمازکم سبزیاں چکھا تو کریں۔ ڈگ کو گاجریں پسند نہیں تھیں۔ اُسے کہا گیا کہ جب تک وہ گاجریں نہیں کھائے گا اُسے کیک نہیں ملے گا۔ اُس نے پھر بھی اپنا کھانا ختم کرنے سے انکار کر دیا۔ مارگریٹ نے کہا، ”اگر تم یہ گاجریں نہیں کھاؤ گے تو تمہارا کیک کتے کو دے دیا جائے گا۔“ مجھے نہیں لگتا کہ ڈگ کو اس بات کا اُس وقت تک یقین آیا ہوگا جبتک اُس نے بلےکی کو اپنا مزیدار کیک کھاتے ہوئے نہ دیکھ لیا! اس تجربے سے اُس نے اور باقی لڑکوں نے ایک سبق سیکھ لیا۔ والدین کے طور پر ہم جوکچھ کہتے تھے وہ کرتے بھی تھے۔
زندگی پُرلطف تھی
مارگریٹ اور مَیں نے متی ۶:۳۳ میں پائے جانے والے یسوع کے الفاظ سے راہنمائی حاصل کی تھی: ”پہلے اسکی بادشاہی اور اُسکی راستبازی کی تلاش کرو تو یہ سب چیزیں بھی تمکو مل جائینگی۔“ بطور خاندان ہم نے بادشاہتی مفادات کو پہلا درجہ دینے کی کوشش کی۔ ہم سب ملکر منادی میں جانے سے لطف اُٹھاتے تھے اور لڑکے گھربہگھر کے کام میں باری باری میرے ساتھ حصہ لیتے تھے۔ ہر ایک کا اپنا بیگ، بائبل اور بائبل لٹریچر ہوتا تھا۔ ہم اُنہیں اُنکی ترقی پر شاباش دیتے تھے۔ مارگریٹ اکثر اُنہیں گلے لگا لیتی تھی۔ بِلاشُبہ، ہم لگاتار اُن کیلئے شفقت دکھاتے رہتے تھے۔ ہم ہمیشہ لڑکوں کیلئے وقت نکالتے تھے—زندگی بہت پُرلطف تھی!
جُوں جُوں لڑکے بڑے ہوتے گئے اُنہیں لوگوں کو اجلاس پر لانے، کنگڈم ہال کھولنے اور دوسرے کاموں میں مدد دینے کی ذمہداریاں سونپی گئیں۔ اُنہوں نے کنگڈم ہال کی اپنی پرستش کی جگہ کے طور پر قدر کرنا سیکھ لیا تھا اور وہ اس کی دیکھبھال کرکے خوش ہوتے تھے۔
مسیحی اجلاسوں پر تبصرے کرنے کیلئے بھی ہم اُنکی حوصلہافزائی کرتے تھے۔ وہ تھیوکریٹک منسٹری سکول میں مختصر تقاریر دیتے تھے جہاں سے اُنہوں نے رفتہ رفتہ مقرر بننا سیکھا۔ ہمارے پانچویں بیٹے مائیکل کو تقریر دینا پسند نہیں تھا لہٰذا اُسے پلیٹفارم پر مشکل پیش آتی تھی۔ آدھی تقریر پیش کرنے کے بعد اُسکی آنکھوں سے مایوسی کے آنسو بہنے لگتے تھے کیونکہ وہ تقریر ختم نہیں کر پاتا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اُس نے اس مشکل پر قابو پا لیا اور اب وہ شادیشُدہ ہے اور سفری نگہبان ہے اور مختلف کلیسیاؤں کا دَورہ کرتے ہوئے ہفتے میں کئی تقاریر پیش کرتا ہے۔ کتنی بڑی تبدیلی!
لڑکوں نے تربیت کو کیسا خیال کِیا
جاگو! نے مائیکل سے یہ جاننے کیلئے رابطہ کِیا کہ وہ اس فرسودہ طریقے سے پرورش پانے کی بابت کیسا محسوس کرتا ہے۔ ”ہم نے ڈیڈی کو مفید تربیت فراہم کرنے والا باپ خیال کِیا۔ مجھے یاد ہے کہ جوالسالی میں مَیں ایک ریڈیو سٹیشن پر کام کرنے کیلئے گیا۔ مَیں ایک کار خریدنا چاہتا تھا تاکہ مَیں کُلوقتی پائنیر خدمت میں حصہ لے سکوں۔ سٹیشن مینیجر نے مجھے اپنی دو دروازوں والی فورڈ مستا کنورٹیبل کی پیشکش کی جو ایک سپورٹس کار تھی اور نوجوانوں میں بیحد مقبول تھی۔ مجھے وہ بہت پسند آئی، اگرچہ مَیں جانتا تھا کہ لوگوں کو اپنے ساتھ خدمتگزاری میں لیجانے کیلئے یہ کار زیادہ عملی نہیں ہے۔ مَیں کچھ ڈرتے ڈرتے ڈیڈی کے پاس گیا۔ جب مَیں نے اُسے اس پیشکش کے بارے میں بتایا تو وہ کہنے لگے ’آؤ اسکے متعلق بات کرتے ہیں۔‘ مَیں جانتا تھا کہ اس کا کیا مطلب ہے! اُنہوں نے میرے ساتھ استدلال کِیا اور مجھے زیادہ عملی کار کے فوائد بتائے۔ لہٰذا مَیں نے ایک چار دروازوں والی سیڈان خرید لی اور اُسے اپنی منادی کی تفویض میں کوئی ۱،۰۰،۰۰۰ میل چلانے کے بعد مَیں صرف یہی کہہ سکتا تھا، ’ڈیڈی کا مشورہ دُرست ہی تھا۔‘
”اپنی جوانی میں واشنگٹن سے میسوری پھر مسسسپی منتقل ہونا ہمارے لئے دلچسپ تجربہ تھا۔ ہم اُس سے بہت محظوظ ہوئے۔ اگرچہ ہم نو لوگ ایک سال تک ۸ فٹ چوڑے اور ۳۷ فٹ لمبے پہیوں والے گھر میں رہے توبھی یہ سب بہت پُرلطف تھا اور اس نے ہمیں چھوٹے چھوٹے کمروں میں بھی منظم طور پر رہنے اور ایک دوسرے کیساتھ گزارا کرنا سکھایا۔ بیشک ہم باہر کھیلنا بہت پسند کرتے تھے۔
”ایک چیز اَور جو مجھے ابھی تک یاد ہے اور جسے مَیں بہت پسند کرتا ہوں وہ ڈیڈی کا ہمارے ساتھ ملکر روزانہ کی آیت پر گفتگو کرنے کا طریقہ تھا۔ اُنہوں نے ۱۹۶۶ میں ساؤتھ لاسنگ، نیو یارک میں، کنگڈم فارم میں بزرگوں کیلئے منعقد کئے جانے والے سکول میں شرکت کی اور دیکھا کہ بیتایل خاندان ہر روز آیت پر تبصرہ کرنے کیلئے تحقیق کرتا ہے۔ اُنہوں نے اسی نظام کو ہمارے خاندانی معمول کا حصہ بنا دیا۔ ہم ساتوں لڑکوں میں سے ہر ایک کو ایک صبح اپنی تحقیق پر مبنی تبصرہ پیش کرنے کی تفویض دی جاتی تھی۔ اگرچہ ہم بعضاوقات بڑبڑاتے تھے، اس چیز نے ہمیں سکھایا کہ تحقیق کیسے کریں اور پھر یہ کہ اپنی بات کی وضاحت کیسے کریں۔ ایسی عادات زندگیبھر ساتھ رہتی ہیں۔
”ممی اور ڈیڈی نے ہماری خاطر جو قربانیاں دی تھیں مَیں اُن سے بھی بیحد متاثر تھا۔ جب میرے دو بڑے بھائی رچرڈ اور ڈین خاندان کی کفالت کیلئے کمانے کے قابل ہوئے تو ہمارے والدین نے اُنکی حوصلہافزائی کی کہ وہ واچٹاور سوسائٹی کے ورلڈ ہیڈکواٹرز، بروکلن، نیو یارک میں رضاکاروں کے طور پر خدمت کرنے کیلئے جائیں۔ ہمارے والدین نے کچھ رقم بھی پسانداز کی تاکہ ہم چاروں نیو یارک جا کر اپنی آنکھوں سے ہیڈکواٹرز دیکھیں۔ اس چیز نے مجھے بہت متاثر کِیا۔ اس نے یہوواہ کی تنظیم کیلئے ہماری قدردانی میں اضافہ کِیا۔
”اب مَیں ڈیڈی سے کہوں گا کہ وہ کہانی کو جاری رکھیں۔“
ہمیں مسائل کا سامنا بھی رہتا تھا
کسی بھی دوسرے خاندان کی طرح ہمارے بھی مسائل اور پریشانیاں تھیں۔ جب لڑکے کورٹنگ کی عمر کو پہنچے تو مجھے اُنہیں مشورت دینی پڑی کہ پہلی ہی نظر میں پسند آ جانے والی لڑکی سے شادی کرنے میں جلدبازی سے کام نہ لیں۔ ہم اس بات کا بھی یقین کر لیتے تھے کہ جب وہ لڑکیوں کے ساتھ ہوں تو اُنکی مناسب نگرانی بھی کی جائے۔ ہم چاہتے تھے کہ جیون ساتھی کا انتخاب کرنے سے پہلے وہ زندگی میں کچھ تجربہ حاصل کریں۔ بعضاوقات یہ آنسوؤں اور عارضی طور پر دلشکنی کا باعث بھی ہوا تاہم بالآخر اُنہوں نے بالخصوص ”خداوند میں شادی“ کرنے کی بائبل مشورت کی حکمت کو جان لیا۔ ہم اُنکی دانشمندی کیلئے اُنکو شاباش دیتے ہیں۔—۱-کرنتھیوں ۷:۳۹۔
ہمارا ساتواں بیٹا سکاٹ ہمارے لئے کچھ دُکھ کا باعث بنا۔ وہ اپنی جائے ملازمت پر بُری صحبت میں پڑ گیا۔ آخرکار اُسے کلیسیا سے خارج کر دیا گیا۔ یہ ہم سب کیلئے بہت بڑا دھچکا تھا مگر ہم سب نے بزرگوں کے عدالتی فیصلے کا احترام کِیا۔ سکاٹ کو ایک کٹھن تجربے سے گزرنے کے بعد ہی یہ معلوم ہوا کہ یہوواہ کی خدمت کرنا ہی زندگی کی بہترین راہ ہے۔
ہم کبھی بھی اُسکے کلیسیا میں واپس آنے کی بابت نااُمید نہیں تھے۔ خوشی کی بات ہے کہ پانچ سال بعد وہ واپس کلیسیا میں بحال ہو گیا۔ ماضی پر نظر ڈالتے ہوئے وہ کہتا ہے، ”جب مجھے کلیسیا سے خارج کر دیا گیا تو ایک چیز جس نے میری مدد کی وہ یہ ہے کہ اگرچہ خاندان کیساتھ میری رفاقت بہت محدود تھی تو بھی مجھے ہمیشہ یقین تھا کہ میرا خاندان مجھ سے محبت کرتا ہے۔“ سکاٹ ترقی کرتا گیا اور گزشتہ آٹھ سال سے وہ بزرگ کے طور پر خدمت انجام دے رہا ہے۔
افسوس کی بات ہے کہ حالیہ برسوں میں ہمارے اسباط میں سے دو کو خارج کر دیا گیا ہے۔ لیکن ہم مطمئن ہیں کہ یہوواہ کی طرف سے تنبیہ مثبت نتائج پر منتج ہو سکتی ہے۔
ہماری زندگیوں میں ایک بڑی تبدیلی
آخرکار ۱۹۷۸ تک، سب لڑکے گھر سے چلے گئے تھے۔ گزشتہ سالوں کے دوران مَیں نے ہیٹنگ، وینٹیلیشن اور ائیرکنڈیشننگ سسٹمز میں کافی تجربہ حاصل کر لیا تھا۔ ۱۹۸۰ میں مجھے اور مارگریٹ کو نو ماہ کیلئے واچ ٹاور سوسائٹی کے بروکلن ہیڈکواٹرز میں خدمت انجام دینے کیلئے ایک حیرانکُن دعوت ملی۔ آج ۱۸ سال کے بعد بھی ہم یہیں ہیں!
ہمیں بےشمار برکات ملی ہیں۔ اپنے بچوں کی پُرانے طریقے یعنی بائبل اصولوں کے مطابق پرورش کرنا اگرچہ ہمیشہ آسان نہیں تھا تو بھی ہمیں اسکا اجر ملا ہے۔ ہمارے خاندان کی موجودہ صورتحال یہ ہے کہ ہمارے پانچ لڑکے کلیسیائی بزرگوں کے طور پر خدمت کر رہے ہیں اور ایک سفری نگہبان ہے۔ ہمارے ۲۰ پوتے پوتیاں ہیں اور ۴ پڑپوتے پڑپوتیاں ہیں—جن میں سے بیشتر سچائی میں ہیں اور خدا کے وفادار ہیں۔
ہم نے زبورنویس کے الفاظ کی صداقت کو جان لیا ہے: ”دیکھو! اولاد خداوند کی طرف سے میراث ہے اور پیٹ کا پھل اُسی کی طرف سے اجر ہے۔ جوانی کے فرزند ایسے ہیں جیسے زبردست کے ہاتھ میں تیر۔“—زبور ۱۲۷:۳، ۴۔
[فٹنوٹ]
a اسے واچٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیویارک، انکارپوریٹڈ نے ۱۹۴۶ میں شائع کِیا؛ اب زیرِطباعت نہیں۔
b واچٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیو یارک، انکارپوریٹڈ کی شائعکردہ
[صفحہ 20 پر تصویریں]
۱۹۹۶ میں اپنی ۵۰ویں انیورسری پر اپنے پوتے اور پوتیوں (بائیں) اور (اگلی طرف بائیں جانب) اپنے بیٹوں اور بہوؤں کیساتھ