بائبل کا نقطۂنظر
خدا کی رُوحاُلقدس کیا ہے؟
”جب سب لوگوں نے بپتسمہ لیا اور یسوع بھی بپتسمہ پا کر دُعا کر رہا تھا تو ایسا ہوا کہ آسمان کھل گیا۔ اور رُوحاُلقدس جسمانی صورت میں کبوتر کی مانند اُس پر نازل ہوا اور آسمان سے آواز آئی کہ تُو میرا پیارا بیٹا ہے۔ تجھ سے مَیں خوش ہوں۔“—لوقا ۳:۲۱، ۲۲۔
قدیم یونان میں مفکرین کے ایک گروہ سے خطاب کرتے ہوئے پولس رسول نے خدا کو ”آسمان اور زمین کا مالک“ کہا۔ پولس نے بیان کِیا، یہی وہ خدا ہے جس نے ”دُنیا اور اُس کی سب چیزوں کو پیدا کِیا“ اور جو ”سب کو زندگی اور سانس اور سب کچھ دیتا ہے۔“ (اعمال ۱۷:۲۴-۲۸) خدا یہ سب کچھ کیسے انجام دیتا ہے؟ اُسکی روحالقدس یا سرگرم قوت سے یہ سب کچھ انجام پاتا ہے۔
بائبل یہ بھی بیان کرتی ہے کہ خدا ”قدرت کی عظمت“ اور ”بازو کی توانائی“ بھی رکھتا ہے۔ (یسعیاہ ۴۰:۲۶) جیہاں، خدا نے تمام کائنات کو خلق کِیا ہے جو اُس کی قدرت کی عظمت اور توانائی کی مظہر ہے۔
سرگرمِعمل قوت
یہ کہنا بالکل درست تو نہیں ہوگا کہ روحاُلقدس خدا کی قوت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قوت کسی بھی شخص یا چیز کے اندر مخفی یا غیرفعال حالت میں بھی موجود ہو سکتی ہے جیسےکہ ایک چارجشدہ مگر ناقابلِاستعمال بیٹری میں موجود قوت۔ تاہم، کسی زیرِاستعمال بیٹری سے نکلنے والی برقیرو کی طرح صحائف خدا کی روح کے بھی متحرک ہونے کا ذکر کرتے ہیں۔ (پیدایش ۱:۲) لہٰذا، خدا کی پاک روح اُسکی مؤثر توانائی، اُسکی سرگرم قوت ہے۔
بعضاوقات بائبل روحاُلقدس کا ذکر کسی خاص کام کی انجامدہی یا پھر خدا سے دور کسی دوسری جگہ پر موجود ہونے کے حوالے سے کرتی ہے۔ (متی ۲۸:۱۹، ۲۰؛ لوقا ۳:۲۱، ۲۲؛ اعمال ۸:۳۹؛ ۱۳:۴؛ ۱۵:۲۸، ۲۹) جن لوگوں نے ایسے اقتباسات پڑھے ہیں وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ روحاُلقدس خدا سے جدا اپنی الگ شناخت رکھتی ہے۔ صحائف میں ایسا اندازِبیان کیوں استعمال کِیا گیا ہے؟ کیا روحاُلقدس کا خدا سے الگ کوئی وجود ہے؟
قادرِمطلق خدا مادی تخلیق سے بالکل مختلف عالم میں رہتا ہے۔ وہ ایک روح ہے جسے ہم دیکھ نہیں سکتے۔ (یوحنا ۴:۲۴) بائبل بیان کرتی ہے کہ یہوواہ خدا آسمانوں میں سکونت کرتا ہے اور وہ وہاں سے نوعِانسان پر نظر کرتا ہے۔ (زبور ۳۳:۱۳، ۱۴) یہ قابلِفہم بات ہے۔ خالق یقیناً اُن چیزوں سے بالاتر ہوگا جن سے وہ کام لے رہا ہے۔ وہ اُن پر اختیار رکھتا ہے، اُنہیں خوشاسلوبی سے استعمال کرتا، تشکیل دیتا اور قابو میں رکھتا ہے۔—پیدایش ۱:۱۔
اپنی نادیدہ سکونتگاہ سے خدا کسی بھی وقت اور کسی بھی جگہ پر کچھ بھی کروا سکتا ہے۔ لہٰذا، اُسے اُس مقام پر موجود ہونے کی ضرورت نہیں جہاں اُسکی سرگرم قوت کارفرما ہے۔ وہ کسی کام کی انجامدہی کیلئے روح کو بھیج سکتا ہے۔ (زبور ۱۰۴:۳۰) جدید زمانے میں وائرلیس ریموٹ کنٹرول والی چیزیں استعمال کرنے والے لوگ اسے بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ آج ہم بجلی یا انفرا ریڈ [زیریں سُرخ] شعاعوں جیسی نادیدہ قوتوں کو تسلیم کرتے ہیں۔ اسی طرح خدا ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوئے بغیر، اپنی غیرمرئی پاک قوت یا روح کے ذریعے اپنی مرضی کے مطابق ہر کام کر سکتا ہے۔—یسعیاہ ۵۵:۱۱۔
بائبل وقتوں میں اس نظریے کو سمجھنا شاید مشکل ہو۔ رُوحالقدس کا ایک علیٰحدہ قوت کے طور پر ذکر کرنے سے قارئین کی یہ بات سمجھنے میں ضرور مدد ہوئی ہوگی کہ کیسے خدا اُس جگہ پر بھی اپنی قوت کو عمل میں لا سکتا ہے جہاں وہ بذاتِخود موجود نہیں ہوتا۔ جب بائبل کوئی کام کرنے کے سلسلے میں روحاُلقدس کا حوالہ دیتی ہے تو درحقیقت اسکا مطلب یہ ہوتا ہے کہ خدا نے ذاتی طور پر اپنی مرضی کی انجامدہی کیلئے اپنی قوت کو لوگوں یا چیزوں کے سلسلے میں استعمال کِیا ہے۔
روحاُلقدس کے مختلف کام
یہوواہ نے تمام جاندار اور بےجان چیزوں کی تخلیق میں روحاُلقدس کو استعمال کِیا تھا۔ (زبور ۳۳:۶) خدا نے اسے طوفان کے ذریعے متشدّد اور غیرتائب لوگوں کی ایک پُشت کو تباہوبرباد کرنے کیلئے بھی استعمال کِیا تھا۔ (پیدایش ۶:۱-۲۲) یہی وہ سرگرم قوت تھی جسے خدا نے اپنے بیٹے کی بیشقیمت زندگی کو مریم نام کی ایک کنواری یہودن کے رحم میں منتقل کرنے کیلئے استعمال کِیا تھا۔—لوقا ۱:۳۵۔
بسااوقات روح نے آدمیوں کو اپنی جانوں کے خطرے میں ہونے کے باوجود بڑی دلیری اور جرأت کے ساتھ دشمنوں کے روبرو کلام کرنے کی طاقت بخشی۔ (میکاہ ۳:۸) نیز بائبل میں بالخصوص پیشینگوئیوں کے حوالے سے کئی ایک ایسے واقعات ہیں جب آدمیوں اور عورتوں کو اس قوت کے ذریعے خاص بصیرت اور فہم عطا کِیا گیا تھا۔ چونکہ کوئی بھی انسان صحیح طور پر یہ بیان نہیں کر سکتا کہ مستقبل میں کیا ہوگا اسلئے یہ روح کا ایک غیرمعمولی کام ہے۔—۲-پطرس ۱:۲۰، ۲۱۔
روح لوگوں کو معجزانہ قوتیں بھی بخش سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، اس قوت کے ذریعے یسوع قدرتی عوامل پر قابو پا سکتا، بیماریوں سے شفا دے سکتا اور مُردے بھی زندہ کر سکتا تھا۔ (لوقا ۴:۱۸-۲۱؛ ۸:۲۲-۲۶، ۴۹-۵۶؛ ۹:۱۱) روح ابتدائی مسیحیوں کو ساری زمین پر خدا کے گواہوں کے طور پر خدمت انجام دینے کے لئے منظم کرنے اور تقویت دینے کے لئے ایک آلۂکار تھی۔—اعمال ۱:۸؛ ۲:۱-۴۷؛ رومیوں ۱۵:۱۸، ۱۹؛ ۱-کرنتھیوں ۱۲:۴-۱۱۔
ہماری خاطر کارفرما خدا کی قوت
کیا آجکل خدا کے انسانی خادموں کے لئے قوت کے اس لامحدود سرچشمے سے مستفید ہونا ممکن ہے؟ جیہاں! خدا مناسب مقدار میں اپنے لوگوں کو روحاُلقدس عطا کرتا ہے تاکہ وہ اس کی مرضی کو سمجھ سکیں اور اُسے سرانجام دے سکیں۔ وہ اپنی روح اُن لوگوں کو عطا کرتا ہے جو مخلصانہ دُعائیہ استدعا کرتے ہیں، جو درست دلی میلان رکھتے ہیں اور جو اُس کے تقاضوں پر پورا اُترتے ہیں۔ (۱-کرنتھیوں ۲:۱۰-۱۶) یہ روح ناکامل انسانوں کو ”حد سے زیادہ قدرت“ سے لیس کرتی ہے جو اُنہیں مشکلات کے باوجود وفاداری کے ساتھ خدا کی خدمت کرنے کے قابل بناتی ہے۔ تو پھر، یقینی طور پر، تمام خداترس لوگ خدا کی روح حاصل کرنا اور استعمال میں لانا چاہتے ہیں۔—۲-کرنتھیوں ۴:۷؛ لوقا ۱۱:۱۳؛ اعمال ۱۵:۸؛ افسیوں ۴:۳۰۔
جلد ہی خدا اس بدکار نظام میں سے ناانصافی اور دُکھدرد کو ختم کرنے کیلئے اس قوتِمتحرکہ کو استعمال کریگا اور یوں اپنے عظیم اور پاک نام کی تقدیس کرائے گا۔ روحاُلقدس پوری دُنیا کی بھلائی کیلئے کام کریگی اور ہم سب اسکے پھلوں کا مشاہدہ کرینگے جس سے اسکے ماخذ کی تمجید ہوگی۔—گلتیوں ۵:۲۲، ۲۳؛ مکاشفہ ۲۱:۳، ۴۔