یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو98 8/‏10 ص.‏ 11-‏13
  • ایک چھوٹے جزیرے سے مصروف ہوائی‌اڈے تک

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ایک چھوٹے جزیرے سے مصروف ہوائی‌اڈے تک
  • جاگو!‏—‏1998ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • ایک جزیرے پر ہوائی‌اڈہ
  • جزیروں کو تیزی سے عبور کرنے کیلئے منفرد پُل
  • ہوائی‌اڈے سے شہر تک ۲۳ منٹ میں!‏
  • مستقبل کیلئے ہوائی‌اڈہ
  • ‏”‏کانکو“‏ ہوائی‌اڈہ نظر آتا ہے مگر آواز سنائی نہیں دیتی
    جاگو!‏—‏1996ء
  • شہرت سے حقیقی خوشی تک کا سفر
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2015ء
جاگو!‏—‏1998ء
جاگو98 8/‏10 ص.‏ 11-‏13

ایک چھوٹے جزیرے سے مصروف ہوائی‌اڈے تک

ہانگ کانگ میں جاگو!‏ کے مراسلہ نگار سے

‏”‏ہم چھتوں سے ٹیلیوژن کے اینٹینے گرا دیں گے!‏“‏ ہانگ کانگ کے کائی تاک بین‌الاقوامی ہوائی‌اڈے پر لینڈ کرتے ہوئے جہاز کی کھڑکی سے باہر جھانکنے والی مسافر خاتون نے بوکھلا کر کہا۔ زمین پر، کاؤلون شہر میں ایک خاتون جو اپنی چھت پر کپڑے ڈال رہی تھی، جب گرجدار جہاز اُسکے سر پر سے گزرا تو وہ اپنے کانوں کے پردوں پر حملے کو برداشت کرتے ہوئے دُبک کر بیٹھ گئی۔‏

‏”‏مسئلہ پہاڑوں کا ہے،“‏ جان کہتا ہے جو کئی مرتبہ بڑی مہارت سے یہ خطرناک لینڈنگ کر چکا ہے۔ ”‏اگر ہم شمال‌مغرب کی طرف سے لینڈ کریں تو رن‌وے سے تھوڑا پہلے ایک خطرناک موڑ کاٹنا پڑتا ہے۔ یہ پہاڑ ہوا کی خطرناک لہروں کے بھی ذمہ‌دار ہیں جنہیں ہم ونڈ شیئر کہتے ہیں۔“‏

خوفزدہ ہو جانے والے مسافر، پائلٹ اور بالخصوص کاؤلون شہر کے لوگ اُس دن کا بڑی شدت سے انتظار کر رہے تھے جب کائی تاک آخری پرواز کا استقبال کریگا۔ بالآخر وہ دن جولائی ۱۹۹۸ میں آ ہی گیا جب ہانگ کانگ نے اپنا نیا ہوائی اڈہ استعمال کرنا شروع کر دیا۔‏

ایک جزیرے پر ہوائی‌اڈہ

۱۹۸۰ کے دہے میں کائی تاک ہوائی‌اڈے پر جگہ کم پڑنے لگی۔ چونکہ مزید توسیع ممکن نہ تھی اسلئے ہوائی‌اڈے کیلئے جگہ تلاش کی گئی۔ تاہم ہانگ کانگ میں ہوائی‌اڈے کیلئے اتنی ہموار جگہ دستیاب نہ تھی۔ اسکے علاوہ لوگ اپنے گردونواح میں شور شرابے والا ہوائی‌اڈہ نہیں چاہتے تھے۔ اسکا حل؟ چیک لیپ کوک، لانتاؤ کے شمال میں واقع ایک دورافتادہ چھوٹا، غیرترقی‌یافتہ جزیرہ۔ یہ ایک سول انجینیئر کے خواب کی تعبیر تھا۔‏

ہوائی‌اڈے کو تعمیر کرنے کیلئے ایک چھوٹے جزیرے اور اسکے ساتھ ایک اَور جزیرے کو ہموار کرنے اور سمندر سے کوئی ساڑھے تین مربع میل زمین حاصل کرنے کی ضرورت تھی۔ ہوائی‌اڈے کو ہانگ کانگ شہر سے ملانے کے لئے ایک ۲۱ میل لمبی ریل کی پٹڑی اور شاہراہ بنائی گئی، یہ دونوں جزیروں، آبناؤں، وکٹوریا بندرگاہ اور کاؤلون کے شہر کو عبور کر رہی تھیں۔ اسکے لئے پُل، سرنگیں اور محرابیں بھی تعمیر کرنا پڑیں۔ یہ سب کچھ دنیا کے نہایت عظیم تعمیراتی منصوبوں میں سے ایک پر منتج ہوا۔‏

جزیروں کو تیزی سے عبور کرنے کیلئے منفرد پُل

ہزاروں لوگ مشہورِزمانہ لانتاؤ لنک کو دیکھنے کے لئے ہانگ کانگ کے نئے علاقے نیوٹیریٹریز میں جاتے ہیں جو لانتاؤ جزیرے کو مرکزی علاقے سے ملاتا ہے۔ یہ تاروں پر قائم پُل پر مشتمل ہے جو جزیرہ لانتاؤ کو ایک چھوٹے جزیرے ما وین سے ملاتا ہے اور ما وین سے ایک آبنائے اور ۴،۵۲۰ فٹ رقبے والا ایک مُعلّق پُل ما وین کو ایک تیسرے جزیرے چن‌لی سے ملاتا ہے۔ یہ دو عرشی پُل دنیا میں اپنی نوعیت کے سب سے زیادہ لمبے پُل ہیں جس میں اُوپر کے عرشے پر گاڑیاں چلتی ہیں اور نچلے عرشے پر ریل کی پٹری اور موٹر گاڑیوں کے لئے دو لینز ہیں۔‏

مُعلّق پل کو سہارا دینے والے تار دور سے دیکھنے میں بہت کمزور لگتے ہیں۔ کوئی سوچ سکتا ہے کہ آیا انجینیئر کا حساب کتاب درست تھا یا یہ پُل پانی میں جا گرے گا۔ تاہم قریب سے دیکھنے پر پتہ چلتا ہے کہ تار کمزور نہیں ہیں۔ ۵.‏۳ فٹ موٹے تاروں میں ۱۰۰،۰۰۰ میل لمبی تار ہے جس سے زمین کو چار دفعہ لپیٹا جا سکتا ہے۔ ان تاروں کا موٹا ہونا ضروری ہے کیونکہ اُنہیں پُل کو تشکیل دینے والے پہلے سے تیارشدہ عرشوں کے ۹۵ حصوں کے ۵۰۰ ٹن وزن کو اٹھانا تھا۔ جب تاروں پر کام مکمل ہو گیا تو پہلے سے تیارشُدہ حصوں کو مال‌بردار کشتیوں کے ذریعے تعمیر کی جگہ لے جایا گیا اور پھر بڑی بڑی مشینوں سے پانی میں کھڑا کر دیا گیا۔‏

مُعلّق تاروں کو اُوپر اٹھا کر رکھنے والے ستونوں کو دیکھ کر قریبی رہائشی بہت متاثر ہوئے۔ یہ ستون تعمیراتی منصوبوں میں استعمال ہونے والے تختوں کی مدد کے بغیر کھڑے کئے گئے۔ معماروں نے جو طریقہ استعمال کِیا اُسے سلپ فارمنگ کہا جاتا ہے۔ اس طریقے میں جن سانچوں میں کنکریٹ ڈالا جاتا ہے اُنہیں آہستہ آہستہ اُوپر لے جایا جاتا ہے یوں اُنہیں ہر مرحلے پر اکھاڑنے اور دوبارہ کھڑا کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ اس طریقے کو استعمال کرتے ہوئے معماروں نے پُل کیلئے ۶۰۰ فٹ اونچا ستون صرف تین ماہ میں بنا لیا۔‏

ہانگ کانگ طوفانی ہواؤں کا علاقہ ہے۔ تیز ہوائیں اس پُل پر کیسے اثرانداز ہونگی؟ واشنگٹن یو.‏ایس.‏اے.‏ میں ٹاکوما نیروز برج کو ۶۸ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہوا نے ۱۹۴۰ میں ایسے مروڑ دیا جیسے وہ بانس کا بنا ہوا ہو۔ اس وقت سے پُل کی تعمیر کے ڈیزائن میں بہت بہتری آ چکی ہے۔ ان نئے پلوں کو ایسے تیار کِیا گیا ہے اور آزمایا گیا ہے کہ وہ ۳۰۰ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں کو برداشت کر سکیں۔‏

ہوائی‌اڈے سے شہر تک ۲۳ منٹ میں!‏

نئے ہوائی‌اڈے سے ہانگ کانگ کے جزیرے پر پہنچنا کائی تاک کے ہوائی‌اڈے کی نسبت زیادہ آسان ہے اگرچہ یہ اُس سے چار گُنا زیادہ دور ہے۔ کیوں؟ ہانگ کانگ کے تجارتی مرکز، سینٹرل تک جانے والی ریل‌گاڑیاں ۱۳۵ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی ہیں۔ سب سے پہلے لانتاؤ کے خشک پہاڑوں کا منظر ہے۔ اسکے بعد ریل‌گاڑی اپنے راستے میں دو مزید جزیروں کو عبور کرتی ہوئی، دنیا کی سب سے بڑی ترسیلی بندرگار کوائی چنگ سے گزرتی ہوئی مرکزی جزیرے میں پہنچتی ہے۔ تین میل چلنے کے بعد یہ مون کوک پہنچتی ہے جسکی آبادی ۱،۷۰،۰۰۰ ہے۔ اسکے بعد سیاحتی مرکز چم شا چوئی، بندرگاہ کے نیچے ایک سرنگ میں سے گزرتی ہوئی ہوائی‌اڈہ چھوڑنے کے ۲۳ منٹ بعد یہ سینٹرل میں اپنی منزل پر پہنچ جاتی ہے!‏

مستقبل کیلئے ہوائی‌اڈہ

دسمبر ۱۹۹۲ میں چیک لیپ کوک ایک مربع میل رقبے والا چٹانی جزیرہ تھا۔ جون ۱۹۹۵ تک یہ نئے ہوائی‌اڈے کیلئے ۸.‏۴ مربع میل کی ہموار جگہ تھی اور ہانگ کانگ کی خشک زمین کے علاقے میں ۱ فیصد کا اضافہ تھا۔ جب ۴۴،۰۰۰ ٹن آتش‌گیر مادوں کے دھماکے سے جزیرے کو ہموار کِیا جا رہا تھا تو لوگوں کی ایک بڑی تعداد سمندر کی تہہ سے لائی گئی مٹی کو تعمیر کی جگہ پر پہنچا رہی تھی۔ جب تعمیر کا کام عروج پر تھا تو ہر روز ۵ ایکڑ زمین سمندر سے حاصل کی جا رہی تھی۔ کُل ۳۱ مہینوں میں اوسطاً ہر سیکنڈ دس ٹن میٹریل زمین کی بھرائی کیلئے تعمیر کی جگہ پر لایا جاتا تھا۔ جیسے ہی زمین تیار کرنے والے کنٹریکٹر اپنے کام سے فارغ ہوئے تو ہوائی‌اڈہ تعمیر کرنے والوں کا کام شروع ہو گیا۔‏

سٹیو جس نے منصوبے پر کام کِیا چند اہم باتیں بیان کرتا ہے:‏ ”‏آجکل کے جمبو جیٹ جہاز ناقص رن‌وے کو تباہ کر سکتے ہیں۔ لہٰذا اسفالٹ بچھانے سے پہلے ریت کو بٹھانے کیلئے ضخیم رولرز استعمال کئے گئے۔ ایک اندازے کے مطابق جب ان رولرز نے پہلے رن‌وے کو مکمل کِیا تو وہ ۱،۹۲،۰۰۰ کلومیٹر کا فاصلہ طے کر چکے تھے جو پوری دنیا کے گرد پانچ مرتبہ چکر لگانے کے برابر ہے۔‏

‏”‏ایک ٹرمینل کا کنٹریکٹ ہماری کمپنی کے پاس تھا؛ ہم نے لوہے کے شہتیر بنائے اور کھڑے کئے۔ اُن میں سے ہر ایک کا وزن ۱۵۰ ٹن تھا۔ اُنہیں کئی پہیوں والے ٹرالوں میں رکھنے کیلئے ہم نے بہت بڑی کرین استعمال کی جو اُنہیں ۲ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ٹرمینل تک لے گئے۔“‏

یہ ٹرمینل کوئی چوکور کنکریٹ کی عمارت نہیں تھی۔ اس کے برعکس کم‌وزن ہوادار عمارت بنانے پر زور دیا گیا جو ہوائی‌اڈے پر کام کرنے والوں اور مسافروں دونوں کے لئے خوشگوار ہوگی۔ اس کے علاوہ ہوائی‌اڈے کو اس طرح بنایا گیا تھا کہ مسافروں کی روانگی میں زیادہ تاخیر نہ ہو۔ چیک‌ان کاؤنٹر پر پہنچنے کے ۳۰ منٹ بعد مسافر جہاز میں بیٹھ سکتے تھے۔ اسے مزید بہتر بنانے کے لئے ٹرمینل کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک جانے کے لئے ڈرائیور کے بغیر ٹرین مہیا کی گئی ہے۔ علاوہ‌ازیں ۸.‏۲ کلومیٹر پر محیط متحرک راستہ تھکے ہوئے لوگوں کے لئے اور زیادہ آسانی پیدا کرتا ہے۔‏

سٹیو مزید بیان کرتا ہے:‏ ”‏کائی تاک سے کیا ہی مختلف جس نے ۱۹۹۵ میں ۲۷ ملین سے زیادہ مسافروں کو گزرتے دیکھا!‏ یہ نیا ہوائی‌اڈہ ہر سال ۳۵ ملین مسافروں اور تین ملین ٹن سامان کی گنجائش رکھتا ہے۔ انجام‌کار اس میں ۸۷ ملین مسافروں اور نو ملین ٹن سامان کی گنجائش ہوگی!‏“‏

ہانگ کانگ اس منصوبے میں کافی سرمایہ لگا رہا ہے—‏۲۰ بلین ڈالر یا ہانگ کانگ کے ۳.‏۶ ملین مکینوں میں سے ہر ایک کیلئے ۳،۳۰۰ ڈالر۔ اُمید کی جاتی ہے چیک لیپ کوک ہوائی‌اڈہ ہانگ کانگ کی خوشحالی کو برقرار رکھنے میں مدد دیگا۔ ایسا ہو یا نہ ہو ایک چیز کی ضمانت دی جا سکتی ہے:‏ ہانگ کانگ میں لینڈنگ ایک یادگار تجربہ رہیگا۔‏

‏[‏صفحہ 12 پر نقشہ]‏

چیک لیپ کوک میں ہوائی‌اڈہ

چنگ ما برج

لانتاؤ لنک

کیپ سوئی مون برج

جزیرہ لانتاؤ

جزیرہ ہانگ کانگ

کائی تاک کا ہوائی‌اڈہ

ویسٹ کاؤلون ایکسپریس‌وے

نارتھ لانتاؤ ایکسپریس‌وے

ائیرپورٹ ریلوے

ایکسپریس‌وے

کاؤلون

‏[‏صفحہ 13 پر تصویر]‏

چنگ ما برج کی تعمیر

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں