برازیلیا نوخیز، منفرد اور تیزی سے پھیلتا ہوا شہر
برازیل میں جاگو! کے مراسلہنگار سے
دُنیا میں آپ اُس نمونہساز کو کہاں ٹیلیفون کر سکتے ہیں جس نے آپکے ملک کے دارالحکومت کا نقشہ تیار کِیا؟ آپ اُس ماہرِتعمیرات سے کہاں مل سکتے ہیں جس نے دارالحکومت کی پہلی سرکاری عمارت کا نقشہ تیار کِیا اور اُسکی نگرانی کی؟ نیز آپ دارالحکومت میں گزرتے ہوئے کہاں پر یہ یقین رکھ سکتے ہیں کہ ۴۰ برس سے زیادہ کا کوئی بھی آدمی جو آپکو نظر آتا ہے وہاں پر پیدا نہیں ہوا تھا؟ برازیل کے دارالحکومت برازیلیا میں—ایک نوخیز، منفرد شہر جو گہرے مشاہدے کا مستحق ہے۔a
طویل آغاز
ساؤ پولو سے برازیلیا تک تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کی پرواز ہے۔ آرامدہ بسیں یہ سفر تقریباً ۱۲ گھنٹے میں طے کرتی ہیں۔ مَیں نے بس کے سفر کا انتخاب کِیا۔ اس سے مجھے شہر کی تاریخ پڑھنے کیلئے کافی وقت مل گیا۔
پرتگالی حکومت کیخلاف ۱۸ویں صدی کے اختتام پر پہلی منظم بغاوت کے وقت سے لیکر برازیل میں ایک نیا دارالحکومت بنانے کی خواہش موجود رہی ہے۔ ۱۸۲۲ میں برازیل کی آزادی کے کچھ ہی عرصہ بعد برازیلی سیاستدان زوزے بونفاسیو ڈے اینڈراڈ ای سلوا نے مستقبل کے اس دارالحکومت کا نام برازیلیا تجویز کِیا، نام جو ۱۷ویں صدی کے نقشہسازوں نے پورے ملک کو نامزد کرنے کیلئے استعمال کِیا تھا۔
ملک کے نئے آئین نے ۱۸۹۱ میں یہ بیان کِیا کہ سینٹرل ہائیلینڈ پلین میں ۱۴،۰۰۰ مربع کلومیٹر سوانا کے جنگلات کے گرد باڑ لگائی جائے۔ وہاں ساحل سے کوئی ۱،۰۰۰ کلومیٹر دور نیا دارالحکومت تعمیر کِیا جانا تھا۔ سیاستدانوں نے یہ دلیل پیش کی کہ رائیو ڈی جنیرو کی بجائے دارالحکومت کو کسی اَور جگہ منتقل کر دینا ملک کے امورِداخلہ میں ترقی کو فروغ دیگا۔ تاہم کسی بھی پیشرفت کے بغیر ۵۰ سال گزر گئے۔ بالآخر، ۱۹۵۵ میں برازیلیا کا طویل آغاز ختم ہوگیا اور عملی شروعات کا باب کھلنے کو تھا۔
ایک مقابلہ اور منصوبہ
اُسی سال، زوسلینو کوبی چیک نے وعدہ کِیا کہ اگر وہ منتخب ہو جاتا ہے تو بطور صدر اُس کے پانچ سال کی مدت ختم ہونے سے پہلے نیا دارالحکومت ایک حقیقت بن جائیگا۔ اپریل ۱۹۵۶ میں کوبی چیک منتخب ہو گیا۔
چند ماہ پہلے حکومت نے ایک مقابلے کا اعلان کِیا تھا: برازیل کے ماہرِتعمیرات، انجینیئرز اور شہر کی منصوبہسازی کرنے والوں کو نئے دارالحکومت کا نقشہ تیار کرنے کیلئے مدعو کِیا گیا۔ چند ہی مہینوں میں ۲۶ اُمیدواروں نے مثالی دارالحکومت کی بابت اپنے خاکے ارسال کر دئے۔ مارچ ۱۹۵۷ میں، ایک بینالاقوامی جیوری نے فاتح کا اعلان کِیا: شہری منصوبہساز لوسیو کوسٹا۔
دوسرے اُمیدواروں کی تحریروں کے برعکس کوسٹا کی تحریر چند خاکوں اور صفحات پر مشتمل تھی جن پر بہت گندی لکھائی کی گئی تھی—منیلا کاغذ کے لفافے میں پورے شہر کا نقشہ! اُس نے جیوری سے اس غیرمعیاری خاکے کیلئے معافی چاہی تاہم اضافہ کِیا: ”اگر یہ موزوں نہیں ہے تو اسے رد کرنا آسان ہوگا اور مَیں نے اپنا اور کسی دوسرے کا وقت ضائع نہیں کِیا ہوگا۔“ جیوری نے اسکے نقشے کو پسند کِیا اور اُسے ”واضح، براہِراست اور بنیادی طور پر سادہ“ قرار دیا۔ اُسکے نقشے میں کیا تجویز کِیا گیا اور وہ کنکریٹ کے شہر میں کیسے تبدیل ہوگیا؟
مٹی میں ”ہوائیجہاز“
اسے معلوم کرنے کا ایک آسان طریقہ میوزیو ویوو ڈا میموریا کینڈانگا (لائیو میوزیم آف کینڈانگو میموری) کا دَورہ کرنا ہے۔ چونکہ میوزیم اُس جگہ قائم ہے جہاں پر دارالحکومت کا پہلا ہسپتال واقع تھا اسلئے یہ برازیلیا کا گہوارہ ہے۔ برازیلیا میں ۴۰ سال پہلے پیدا ہونے والے بچوں نے یہیں سے اپنی زندگی کا آغاز کِیا تھا۔ آجکل سابقہ ہسپتال برازیلیا کی پیدائش اور عمر کے اوائل کی تاریخ بیان کرتا ہے۔ میوزیم کی ایک عبارت بیان کرتی ہے کہ یہ ”مٹی، کینوس اور کنکریٹ“ کی کہانی ہے۔
میوزیم کے سٹاف کی ایک رکن لاریٹ مشاڈو پہلے مجھے ”مٹی“ کے دَور کا دَورہ کرواتی ہے۔ وہ ۱۹۵۷ میں لی گئی ایک تصویر کے سامنے رُکتی ہے جس میں سوانا کے بیچ میں سے گزرنے والی دو کچی سڑکیں دکھائی گئی ہیں جو پھر ایک غیرآباد علاقے میں آپس میں ملتی ہیں۔ وہ بیان کرتی ہے، ”یہ تصویر شہر کی تعمیر کے پہلے مرحلے کی عکاسی کرتی ہے۔“ بعدازاں کوسٹا کے نقشہجات کا جائزہ لیتے ہوئے ہم دیکھتے ہیں کہ شہری منصوبہساز نے ان دونوں سڑکوں میں سے ایک کو کیسے محراب کی شکل دی اور بعدازاں جب کارکنوں نے جو کانڈانگوسb کہلاتے ہیں اس محرابنما سڑک کو تعمیر کِیا تو مٹی میں سے ایک ہوائیجہاز کی شبِیہ اُبھر آئی۔
یہ منفرد انداز برازیلیا کے ڈیزائن میں قائم رہتا ہے: ایک ہوائی جہاز جسکا کاکپٹ مشرق کی طرف اور کمان کی شکل میں اُسکے پَر شمال اور جنوب کی طرف پھیلے ہوئے ہیں۔ حکومت کی تین شاخوں کی رہائشی عمارات کاکپٹ میں ہیں، کاروباری علاقہ جہاز کے درمیانی حصہ کو تشکیل دیتا ہے اور رہائشی علاقے پروں کو تشکیل دیتے ہیں۔
کینوس سے کنکریٹ تک
میوزیم کے ”کینوس“ اور ”کنکریٹ“ کے سیکشن ظاہر کرتے ہیں کہ پورے برازیل سے کام کرنے والوں نے تعمیر کی جگہ پر پہنچنے کیلئے اپنی چیزیں بیچ ڈالیں۔ ایک کارکن جو اگست ۱۹۵۷ میں پہنچا یاد کرتا ہے، ’میرے والد نے ایک ٹرک خریدا، جس میں وہ ۲۰ سے زیادہ افراد پر مشتمل ہمارے خاندان کو لیکر ۱۹ دنوں کی مسافت کے بعد یہاں پہنچا۔‘ دیگر نے بسوں یا بیل گاڑیوں یا لفٹ لے کر سفر کِیا۔ مجموعی طور پر ۶۰،۰۰۰ کارکن پہنچے۔
کینوس کے خیموں میں رہنے والے تعمیری کارکنوں کے اس لشکر کی اشد ضرورت تھی کیونکہ شہر کے افتتاح کی تاریخ اپریل ۲۱، ۱۹۶۰ مقرر کر دی گئی تھی۔ اسکا مطلب یہ تھا کہ انجینیئروں، تکنیکی ماہرین اور تعمیری کارکنوں کے پاس دارالحکومت بنانے کیلئے صرف ۱،۰۰۰ دن تھے—ایک غیرمعمولی مفوضہ! تاہم کارکن افتتاح کی حتمی تاریخ سے پہلے ہی کام مکمل کر چکے تھے۔ دنیا کا سب سے کم عمر دارالحکومت سوانا کی مٹی سے نمودار ہو چکا تھا۔
پہلا اور واحد
شہر اور تعمیر کرنے کی والوں کی نیکنامی برازیلیا میں اقوامِمتحدہ کے تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارے (یونیسکو) کے دفتر میں ابھی تک قائم ہے۔ یونیسکو کا ثقافتی ماہر بیان کرتا ہے: ”کوسٹا کے نقشے کے علاوہ کسی اَور شہر کو اسکے نقشے کے عین مطابق تعمیر نہیں کِیا گیا۔ اس کی ایک وجہ یہی ہے کہ برازیلیا ۲۰ویں صدی کا وہ پہلا اور واحد شہر ہے جو یونیسکو کی عالمگیر ورثے کی فہرست میں شامل ہے۔“c
اُس فہرست میں برازیلیا اس لحاظ سے بھی واحد شہر ہے کہ ابھی تک یہ زیرِتعمیر ہے۔ ڈاکٹر بیکا بیان کرتا ہے کہ یہ ایک چیلنج پیش کرتا ہے، ”ہم شہر کے اصلی نمونہ کو کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں جبکہ شہر میں تبدیلیاں ہو رہی ہیں؟“ ماہرِتعمیرات لوسیو کوسٹا نے ۹۰ کے دہے میں ہونے کے باوجود اس چیلنج کا سامنا کِیا۔ وہ نئی تعمیرات کا محتاط جائزہ لیتا ہے تاکہ یہ اُسکے نقشہ کو خراب نہ کر دیں۔ مثال کے طور پر جب کوسٹا کو شہر میں ریل کیلئے پٹریاں ڈالنے کے منصوبے کا علم ہوا تو اُس نے اصرار کِیا کہ ریلگاڑیاں زیرِزمین چلنے والی ہوں۔
سریع منظری
اب شہر کی سیر کا وقت ہے۔ اگر آپ پہلی مرتبہ دورہ کر رہے ہیں تو آپکو کوئی خاص مشکل پیش نہیں آئیگی۔ دو بڑی سڑکیں ہیں اور شہر کی بسوں کا اڈہ اُس جگہ پر ہے جہاں پر یہ دونوں سڑکیں آپس میں ملتی ہیں۔ ایک سڑک مغرب سے مشرق (”ہوائی جہاز“ کی دم سے کاکپٹ تک) جاتی ہے اور آپکو ہوٹلوں، تھیئٹروں، بنکوں اور سٹوروں تک پہنچاتی ہے۔ دوسری شمال سے جنوب (ایک پر سے دوسرے تک) جاتی ہے اور آپ کو رہائشی علاقے سے لیکر گزرتی ہے۔
اگر یہ دیکھنا مقصود ہو کہ برازیلیا کیسا لگتا ہے تو اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ایک ۷۳۰ فٹ اونچی عمارت، ٹیلیوژن ٹاور پر چڑھکر اسے دیکھیں جو ہوائی جہاز کے درمیانی حصے میں پروں سے تھوڑا پیچھے واقع ہے۔ خودکار سیڑھیاں آپ کو زمین سے ۲۵۰ فٹ اُوپر لے جاتی ہیں اور آپ کو شہر کے مرکز کا سریع منظر پیش کرتی ہیں جسے پلانو پیلوٹو کہا جاتا ہے۔ شہر کے وسیع سبزہزاروں کو دیکھتے ہوئے جنہیں آسمان بھی چھو سکتا ہے آپ برازیلیا کی کشادگی سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ درحقیقت نمونہساز رابرٹو برلے-مارکس نے برازیلیا کے پارکوں اور گھاس کے میدانوں کا نقشہ اتنی فیاضی سے بنایا ہے کہ دُنیا کے کسی بھی دارالحکومت کی نسبت یہاں پر ہر شخص کے حصے میں سب سے زیادہ سبز علاقہ آتا ہے۔
مشرق کی طرف سڑک کے دونوں طرف گھاس کی کشادہ پٹی ہے۔ سڑک کے ساتھ ساتھ ایک جیسی ۱۷ عمارتیں ہیں۔ ان بکسنما عمارتوں میں حکومت کے مختلف شعبہجات قائم ہیں۔ اس پٹی کے آخر پر برازیلیا کی شناخت ہے: دو عینی گنبد، ایک بالکل سیدھا اور دوسرا اوندھا، جو برازیل کی قانونساز مجلس، نیشنل کانگرس کی رہائشگاہ، ۲۸ منزلہ عمارت کے نشیب میں واقع ہیں۔
نیشنل کانگرس کی ساخت شاید آپکو نیویارک میں اقوامِمتحدہ کے ہیڈکواٹر کی یاد دلائے—جو بِلاجواز نہیں ہے۔ یواین کی عمارتوں کی منصوبہسازی کرنے والے ماہرینِتعمیرات میں سے ایک آسکر نائمییر تھا—اسی برازیلی ماہرِتعمیرات نے اس نیشنل کانگرس اور تقریباً برازیلیا کی تمام اہم عمارتوں کا ڈیزائن تیار کِیا۔ وزارتِخارجہ (پکاسیو اٹامراٹی) اور وزارتِانصاف (پلاسیو ڈا جسٹیا) نیشنل کانگرس کے دو میناروں کے سامنے واقع اُس کے ڈیزائنوں میں سے نہایت عمدہ ہیں۔
آپ گُم کیوں نہیں ہو سکتے
تاہم برازیلیا ایک تعمیراتی پارک سے زیادہ کچھ ہے۔ یہ ہزاروں لوگوں کیلئے خوب منظم گھر بھی ہے۔ جبکہ ہم رہائشی علاقے سے گزرتے ہیں تو برازیلیا میں رہنے والا ایک وکیل کہتا ہے: ”دوسرے شہروں میں بدنظمی کے عادی لوگوں کیلئے اس شہر کا نظمونسق راحت کا باعث ہوا ہے۔“
برازیلیا کے باشندے اپارٹمنٹس میں رہتے ہیں۔ ایک صحن کے گرد ایسی عمارتوں کا گروپ ایک سپربلاک کو تشکیل دیتا ہے۔ سپربلاکس کی قطاریں شہر کے شمالی اور جنوبی پروں کو پُر کرتی ہیں۔ گھروں کے پتے بآسانی تلاش کر لئے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ”این-۱۰۲-ایل“ شہر کے شمالی علاقے، سپربلاک ۱۰۲، رہائشی عمارت ایل میں ملتا ہے۔ نیز اگر آپ پروں کے سروں کی طرف گاڑی چلاتے ہوئے یاد رکھیں کہ بلاک کے نمبر (۱۰۲ سے ۱۱۶) تک بڑھتے ہیں تو آپ شاید ہی غلط راستے پر جائینگے۔
ترتیب اور نزدیکی کو قائم رکھنے کیلئے کوئی بھی رہائشی عمارت چھ منزلوں سے اونچی نہیں ہے۔ سینہور کوسٹا بیان کرتا ہے کہ اسطرح صحن میں کھیلنے والا کوئی بھی بچہ اپارٹمنٹ کی کھڑکی سے اپنی ماں کی آواز باآسانی سن سکتا ہے: ”مانویل وین کا!“ (مانوایل ادھر آؤ!)
افزائش کے مسائل
اگرچہ برازیلیا کو منصوبے کے مطابق تعمیر ہونے والا شہر ہونے پر فخر ہے، شہر کے نقشے میں برازیلیا کو تعمیر کرنے والے کارکنوں کو نظرانداز کر دیا گیا ہے۔ یہ خیال کِیا گیا تھا کہ دارالحکومت کے افتتاح کے بعد کارکن اپنے اوزار اور دیگر چیزیں لے کر اپنے آبائی مقامات پر واپس چلے جائیں گے۔ تاہم ہسپتالوں، مدرسوں یا روزگار کے بغیر علاقوں میں واپس جانا کارکنوں کو اچھا نہ لگا۔ اُنہوں نے برازیلیا میں رہنے کو ترجیح دی—مگر کہاں؟
وہ زیادہ کرائے والے اپارٹمنٹس کا خرچ نہیں اٹھا سکتے تھے جو اُنہوں نے تعمیر کئے تھے اس لئے وہ برازیلیا کے اردگرد کے میدانوں میں آباد ہو گئے۔ جلد ہی برازیلیا سے کہیں زیادہ بڑے شہر وجود میں آ گئے۔ آجکل، صرف ۴،۰۰،۰۰۰ لوگ منصوبہشدہ شہر میں رہتے ہیں اور بہتیرے اپارٹمنٹس خالی ہیں؛ تاہم تقریباً ۲ ملین باشندے غیرمنصوبہشدہ علاقوں میں آباد ہیں۔ مساواتپسندی کے اصولوں کے باوجود آمدنی میں فرق کے باعث آبادی مکمل طور پر دو مختلف شہروں میں تقسیم ہو گئی ہے۔
غیرمتوقع طور پر آبادی کا بڑھنا اور گروہبندی نتیجتاً جرم اور ہر شہر میں عام دیگر معاشرتی اور معاشی مسائل کو فروغ دے رہے ہیں۔ برازیل کا نوخیز دارالحکومت افزائش کی وجہ سے مشکلات سے دوچار ہے۔ اچھے طریقے سے ترتیب دی گئی سڑکیں اور نیا اندازِتعمیر لوگوں کے دلوں اور رویے کو بدلنے کے قابل نہیں ہیں۔
”برازیل کا دل“؟
برازیل کی سڑکوں پر لگے سائنبورڈز کی لمبی قطاریں آنے والے سیاحوں کو یاد دلاتی ہیں کہ وہ ”برازیل کے دل“ میں داخل ہونے والے ہیں۔ یہ بات کئی لحاظ سے درست ہے: اگرچہ یہ ملک کے جغرافیائی مرکز میں واقع نہیں ہے تو بھی برازیلیا ملک کے تمام اہم شہروں سے ایک جیسے فاصلے پر ہے۔ تاہم اس عبارت کا عمیق مفہوم کیا ہے؟ کیا برازیلیا واقعی ایک برازیلی کا دل ہے؟ لوگ مختلف رائے رکھتے ہیں۔ اس منفرد شہر کا دورہ ہی آپ کے لئے اس سوال کا جواب پیش کر سکتا ہے۔ تاہم یاد رکھیں کہ جلدی میں برازیلیا کے بارے میں کوئی فیصلہ نہ کریں۔ شہر کو اپنے آپ کو ظاہر کرنے کا موقع دیں جیسے کہ ایک رہائشی نے بیان کِیا، ”برازیلیا سیڈیوس گراجیولیمنٹے۔“ ”برازیلیا آہستہ آہستہ پھسلا لیتا ہے۔“
[فٹنوٹ]
a اس شہر کے نمونہساز، لوسیو کوسٹا نے اس مضمون کی تیاری کے تھوڑی ہی دیر بعد جون ۱۹۹۸ میں، ۹۶ سال کی عمر میں وفات پائی۔
b انگولا سے مشتق ایک لفظ (جسے پہلے افریقی پرتگالیوں کا ذکر کرنے کیلئے استعمال کرتے تھے) جسے پیار سے برازیلیا کے تعمیری کارکنوں کا نام بنا دیا گیا۔
c یہ فہرست جسے یونیسکو نے ترتیب دیا ہے پوری دنیا میں ۵۵۲ علاقوں کا تذکرہ کرتی ہے جو ”منفرد قدرتی یا ثقافتی اہمیت“ کے حامل ہیں۔
[صفحہ 15 پر تصویر]
”مٹی، کینوس اور کنکریٹ“ کی کہانی
[صفحہ 15 پر تصویر]
”کانڈانگوس“ کی پریڈ
[صفحہ 17 پر تصویر]
برازیلیا کا سریع منظر
۱۔ وزارتیں
۲۔ کانگرس کی دفتری عمارتیں
۳۔ سپریم کورٹ
۴۔ پلازہ آف دی تھری پاورز
۵۔ انتظامیہ کے دفاتر
[صفحہ 18 پر تصویر]
دنیا کے دارالحکومتوں میں سب سے زیادہ سبز علاقے کا حامل