”کانکو“ ہوائیاڈہ نظر آتا ہے مگر آواز سنائی نہیں دیتی
جاپان میں جاگو! کے مراسلہنگار سے
ہوائی پرواز سے کانسی بینالاقوامی ہوائیاڈے کے قریب پہنچتے ہوئے، آپ انگریزی میں شناختی عبارت ”کانسی“ کیساتھ ایک جزیرہ دیکھینگے۔a یہ جاپانی جزیرہ اوساکا خلیج سے کوئی ۵ کلومیٹر دُور واقع ہے۔ ہوائیاڈے اور اس سے متصل سہولیات کے علاوہ اور کچھ نہیں دیکھا جا سکتا۔ درحقیقت، یہ جزیرہ بالخصوص ہوائیاڈے کے طور پر استعمال کرنے کیلئے بنایا گیا ہے۔ ستمبر ۱۹۹۴ میں افتتاح کیساتھ، ہوائیاڈے کو اس کے جاپانی نام کانسی کوکوسائی کوکو کے مخفف کانکو کا نام دیا گیا ہے۔
۷۵.۳ کلومیٹر لمبا، ریلگاڑی کا ایک پُل، اسے روڈ اور ریل کے ذریعے قابلِرسائی بناتے ہوئے، ہوائیاڈے کے جزیرے کو خشکی سے ملاتا ہے۔ جزیرہ بحری جہازوں اور پار لیجانے والی کشتیوں کیلئے بندرگاہ کی سہولیات کیساتھ مزین ہے۔ لیکن ایک ہوائیاڈے کیلئے ایک مکمل نیا جزیرہ تعمیر کرنے کی کیا ضرورت تھی؟
ایک ہوائیاڈہ جس سے آواز نہیں آتی
کانسی کے علاقے میں سیاحوں اور ملاقاتیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اوساکا کے بینالاقوامی ہوائیاڈے کے گردوپیش کے رہائشی علاقے کے اُوپر متعدد ہوائی جہازوں کے بہت زیادہ شور کا باعث بنی تھی۔ وہاں رہنے والے لوگوں کو شور کی پریشانی سے نجات دلانے کیلئے، رات ۹ بجے سے صبح ۷ بجے تک کرفیو نافذ کر دیا گیا۔ ۱۹۷۴ سے لیکر مزید بینالاقوامی پروازیں بڑھانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ لہٰذا، مسافربردار اور مالبردار جہازوں کی بھرمار سے نپٹنے کیلئے زمین پر ایک ایسے ہوائیاڈہ کی اشد ضرورت تھی جس سے آواز نہ آتی ہو۔
ایک ایسا ہوائیاڈہ جسے بغیر کسی پریشانی کے چوبیس گھنٹے استعمال کِیا جا سکتا ہے—یہ اس پراجیکٹ پر کام کرنے والوں کیلئے ایک بڑا چیلنج تھا۔ واحد حل جو پیش کِیا گیا وہ یہ تھا کہ جہاں لوگ رہتے ہیں اُس سے دُور ایک جزیرہ تعمیر کِیا جائے اور اُسے ایک ہوائیاڈہ بنا دیا جائے۔ واقعی ایک ضخیم پراجیکٹ!
نئے ہوائیاڈے کو تعمیر کرنے اور چلانے کیلئے ایک پرائیویٹ کمپنی کو تشکیل دیتے ہوئے، نیشنل اور لوکل حکومتوں کیساتھ ساتھ مقامی کاروباری دُنیا نے بھی اس ۱۵ بلین ڈالر کے پراجیکٹ میں سرمایہ لگایا۔ کانسی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کمپنی کے وائس پریذیڈنٹ، مسٹر کاسوکی کیمورا نے جاگو! کو بتایا: ”پرائیوٹ کمپنی ہوتے ہوئے، ہم اس جزیرے کو بنانے کیلئے بہت زیادہ وقت نہیں دے سکتے تھے۔ کام کو جلدازجلد کِیا جانا تھا۔“
”جزیرہ تشکیل دینا“
ساحل کیساتھ بند باندھ کر سمندر سے زمین خالی کرانا ہی مشکل ہے، لیکن ساحل سے پانچ کلومیٹر دُور جزیرہ تیار کرنا اس سے بھی مشکل کام ہے۔ ہوائیاڈے کیلئے، ۱،۲۶۰ ایکڑ جزیرہ بنانے کیلئے، ۴.۶ بلین مکعب فٹ ریت اور مٹی کو بھرائی کے طور پر استعمال کِیا گیا تھا۔ ”یہ ۷۳ اہراموں کے مساوی ہے—میرا مطلب ہے کیوپس بادشاہ کے ذریعے تعمیر کئے جانے والوں میں سے سب سے بڑا،“ مسٹر کیمورا بیان کرتا ہے۔
سمندر کی تہہ میں، اوسطاً ۶۰ فٹ کی گہرائی میں، مٹی کی ایک نرم تہہ بچھی ہوئی ہے جس میں سے پانی نکالا جانا تھا۔ ”۴۰ سینٹی میٹر قطر کے ایک ملین ریت کے ڈھیر، پانی نکالنے کیلئے اور بنیاد کو مضبوط کرنے کیلئے تہہ میں ڈالے گئے تھے۔ بھرائی کی گئی مٹی کے اس وزن نے، زمین کی ۲۰ میٹر نرم تہہ کو ۱۴ میٹر تک سکیڑتے ہوئے اس سے پانی نکال دیا تھا،“ مٹی کی بھرائی کا پراجیکٹ انچارج مسٹر کینیشرو مینامی وضاحت کرتا ہے۔ ”جس چیز سے ہم سب سے زیادہ خائف تھے وہ نیچے کی ناہموار زمین تھی۔ ہم نے یہ معلوم کرنے کیلئے کہ صحیح طور پر مٹی کہاں ڈالی جائے کمپیوٹرز استعمال کئے تاکہ سطح ہموار ہو۔“
بھرائی کی کُل گہرائی ۱۱۰ فٹ تک پہنچ گئی، جو ایک ۱۰ منزلہ عمارت کے مساوی تھی۔ تاہم بھرائی کی مٹی کے وزن کے نیچے، سمندر کی تہہ بیٹھ گئی تھی اور بیٹھتی جا رہی ہے۔ یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ جزیرے کو سطح سمندر سے صرف دس فٹ اُوپر چھوڑتے ہوئے، ۵۰ سال میں سمندر کی تہہ مزید پانچ فٹ نیچے بیٹھ جائے گی۔
۱۹۹۱ میں، پورے جزیرے کے تشکیل دیئے جانے سے بھی پہلے، مسافروں کے ٹرمینل کی بلڈنگ اور کنٹرول ٹاور میں کام شروع ہو گیا تھا۔ مشقتطلب کام کے تقریباً سات سال سے زیادہ عرصہ بعد، جزیرے کی تعمیر، ہوائیاڈے اور اس سے متصل جگہوں کی تعمیر مکمل ہوئی تھی۔
وسیع مگر جامع
یہاں پہنچنے والے مسافر حیران رہ جاتے ہیں۔ ”جب تک ہم سامان اُتارنے والے علاقے میں پہنچے، ہمارے سوٹکیس وہاں پہنچ چکے تھے،“ ریاستہائےمتحدہ سے ایک مسافر بیان کرتا ہے۔ کیا چیز اس سبکرفتاری کا باعث ہے؟ ”مسافروں کی ٹرمینل بلڈنگ بہت وسیع مگر جامع تھی،“ مسٹر کازوہیٹو آرو، مسافروں کی ٹرمینل بلڈنگ کا انچارج کہتا ہے۔ ”مسافروں کو بینالاقوامی ہوئیاڈوں جیسی بھولبھلیوں سے گزرنا نہیں پڑتا۔“
مسافروں کی ٹرمینل بلڈنگ کی بناوٹ سادہ مگر منفرد ہے۔ بڑی بلڈنگ مسافروں کو غیرضروری نقلوحرکت سے بچانے کیلئے بنائی گئی ہے۔ اندرونِمُلک مسافر گاڑی کے سٹیشن سے سیدھے ٹکٹ کے کاؤنٹر پر اور اسکے بعد اُوپر نیچے سڑھیاں اُترے چڑھے بغیر سیدھے بورڈنگ گیٹ کی طرف جا سکتے ہیں۔
بڑی بلڈنگ سے، جہاں ٹکٹ دکھانے والے کاؤنٹر، امیگریشن دفاتر اور کسٹم کا شعبہ ہے، ۲،۳۰۰ فٹ کی وسیع عمارتیں شمال اور جنوب کی طرف ۳۳ بورڈنگ گیٹس کی طرف جاتی ہیں۔ بڑی بلڈنگ سے دُور کے گیٹ استعمال کرنے والے مسافر خودکار رہبر گزرنے کے نظام کا، جو ونگ شٹل کہلاتا ہے سہارا لے سکتے ہیں۔ شٹل کے انتظار میں گزرنے والے وقت سمیت—یہ پانچ منٹ کے اندر اندر مسافروں کو اُن کے مطلوبہ گیٹ پر لیجاتا ہے۔
ہوائیاڈہ جو دکھائی دیتا ہے
”ہوائیاڈہ مکمل طور پر سمندر پر ہونے کی وجہ سے یہ ہر قسم کی رُکاوٹ سے بالکل صاف ہے،“ مسٹر آرو کہتا ہے۔ ”جیہاں، ہم سنتے ہیں کہ پائلٹ یہ کہہ رہے ہیں کہ اُترنے کیلئے یہ ایک آسان ہوائیاڈہ ہے،“ مسٹر کیمورا اتفاق کرتا ہے۔
دوسرے اس بات کی بھی قدر کرتے ہیں کہ یہ کیسا دکھائی دیتا ہے۔ ہوائی جہاز کے پروں کی شکل میں بنا ہوا ٹرمینل بلڈنگ کا پیچیدہ ڈیزائن کانکو آنے والے بہتیرے سیاحوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ وہ ہوائی جہازوں کو اس غیرمعمولی جزیرے نما ہوائیاڈے سے اُڑتے اور اُترتے دیکھ کر محظوظ ہوتے ہیں۔ ”ہوائیاڈے کی سیاحت کے لئے آنے والوں کے لئے ہمیں مینٹینّس سنٹر کے اُوپر نگرانی کا عرشہ تعمیر کرنا پڑا تھا، اگرچہ پہلے ایسے کرنے کا ہمارا کوئی ارادہ نہیں تھا،“ مسٹر کیمورا کہتا ہے۔ ہر روز اوسطاً ۳۰،۰۰۰ لوگ محض سیر کرنے کے لئے ہوائیاڈے کا دَورہ کرتے ہیں۔
اگر آپ کانسی کے علاقے کے قریب جاپان کا دورہ کرتے ہیں، تو کیوں نہ کانکو سے پرواز کی جائے یا اُسکی طرف پرواز کی جائے—ایک ہوائیاڈہ جسے اُس کے پڑوسی دیکھ تو سکتے ہیں مگر اُس کی آواز نہیں سن سکتے۔
[فٹنوٹ]
a کانسی مغربی جاپان کا عام علاقہ ہے جس میں اوساکا اور کوبی کے تجارتی شہر اور کیوٹو اور نارا کے تاریخی شہر شامل ہیں۔ کوکوسائی کوکو کا مطلب ”بینالاقوامی ہوائیاڈہ“ ہے۔