جب اُمید اور محبت بحال ہو جاتی ہے
والدین اساتذہ اور نوعمروں کیلئے کام کرنے والے دیگر لوگ سمجھتے ہیں کہ نہ تو وہ خود نہ نوجوان اور نہ ہی کوئی اَور دُنیا کو بدل سکتا ہے۔ اس میں کچھ ایسی قوتیں کارفرما ہیں جو طوفانی موجوں کی مانند ہیں جنہیں روکنا کسی کے بس میں نہیں۔ تاہم، ہم نوجوانوں کو خوشباش، صحتمند بننے اور اپنے حالات سے مطابقت پیدا کرنے کے سلسلے میں مدد دینے کیلئے بہت کچھ کر سکتے ہیں۔
چونکہ پرہیز علاج سے بہتر ہے لہٰذا والدین کو اس سلسلے میں محتاط ہونا چاہئے کہ انکا طرزِزندگی اور ترجیحات بچوں کے رُجحانات اور رویوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ گھر میں محبتآمیز اور بامروت فضا ایسا تحفظ بخشتی ہے جو اپنی ذات کے خلاف تخریبی رویے کا بہترین سدِباب ہے۔ نوجوانوں کی ایک انتہائی اہم ضرورت یہ ہے کہ کوئی اُنکی بات سنے۔ اگر والدین انکی بات نہیں سنتے تو شاید ناپسندیدہ اوصاف کے مالک اشخاص اُنکی سنیں۔
آجکل والدین کیلئے اس کا کیا مطلب ہے؟ اپنے بچوں کیلئے وقت نکالیں جب اُنہیں اسکی ضرورت ہے—جب وہ نوعمر ہیں۔ بہتیرے خاندانوں کیلئے ایسا کرنا آسان نہیں ہے۔ ضروریاتِزندگی پوری کرنے کی خاطر ماں اور باپ دونوں کو ملازمت کرنی پڑتی ہے۔ اپنے بچوں کیساتھ زیادہ وقت گزارنے کی خاطر قربانیاں دینے کیلئے رضامند والدین نے اکثر اپنے بیٹے اور بیٹیوں کو زندگی میں بہتر کامیابی حاصل کرتے ہوئے دیکھنے کا اجر پایا ہے۔ تاہم جیسے شروع میں بتایا گیا ہے بعضاوقات والدین کی بہترین کوششوں کے باوجود بچے سنگین مسائل سے دوچار ہو سکتے ہیں۔
دوست اور دیگر بالغ اشخاص مدد کر سکتے ہیں
جنگوں، زنابالجبر اور نوجوانوں کے استحصال کی وجہ سے ایسے بالغ اشخاص کو نقصان پر قابو پانے کیلئے سخت جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے جو واقعی اُنکی پرواہ کرتے ہیں۔ ایسے منفی تجربات کی وجہ سے دلبرداشتہ نوجوان شاید مدد کی کوششوں کیلئے بھی اچھا جوابیعمل نہ دکھائیں۔ اس کیلئے بہت سا وقت اور سخت کوشش درکار ہو سکتی ہے۔ یقینی طور پر اُنہیں نیچا دکھانا یا رد کر دینا بھی دانشمندی نہیں ہے۔ کیا ہم جذباتی طور پر خود کو زیادہ باتدبیر بناتے ہوئے خطرے کے شکار لوگوں کیلئے موزوں مہربانی اور محبت کا مظاہرہ کر سکتے ہیں؟
صرف والدین کو ہی نہیں بلکہ دوستوں اور بہن بھائیوں کو بھی اُن علامات کو نوٹ کرنے میں چوکس ہونا چاہئے جو نوجوانوں میں نازک یا غیرمتوازن جذباتی حالت کی نشاندہی کرتی ہیں۔ (صفحہ ۸ پر بکس ”ماہرانہ مدد درکار“ کو دیکھیں۔) اگر علامات موجود ہیں تو فوراً سننے کیلئے آمادہ ہوں۔ اگر ممکن ہو تو اُنہیں اپنی پُرخلوص دوستی کا یقین دلاتے ہوئے بامروت سوالات کے ذریعے پریشانحال نوجوان کی دل کی بات کہلوانے کی کوشش کریں۔ قابلِاعتماد دوست اور رشتےدار مشکل صورتحال سے نپٹنے کیلئے والدین کی مدد کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔ تاہم، اُنہیں محتاط رہنا چاہئے کہ وہ والدین کی ذمہداری نہ لیں۔ بسااوقات نوجوانوں میں خودکشی کے میلانات توجہ—والدین کی توجہ کیلئے عاجزانہ درخواست پر مشتمل ہوتے ہیں۔
نوجوانوں کیلئے بہترین تحفہ ایک مسرور مستقبل کی مضبوط اُمید ہے جو کہ زندہ رہنے کیلئے ایک محرک ہے۔ بہتیرے نوجوانوں نے جلد آنے والے بہتر عالمی نظام کی بابت بائبل کے وعدوں کی صداقت کو جان لیا ہے۔
متوقع خودکشی سے بچا لئے گئے
اکثر خودکشی کی بابت سوچنے والی ایک جاپانی خاتون بیان کرتی ہے: ”مَیں نے بارہا ایسا کرنے کی خواہش کی۔ جب مَیں بچی ہی تھی تو ایک قابلِبھروسہ شخص نے مجھے جنسی بدسلوکی کا نشانہ بنایا۔ . . . مجھے یاد نہیں کہ مَیں نے ماضی میں کتنی مرتبہ یہ بات لکھی کہ ’مَیں مرنا چاہتی ہوں۔‘ اب مَیں یہوواہ کے گواہوں میں سے ایک ہوں اور کُلوقتی مناد کے طور پر خدمت انجام دیتی ہوں تاہم، کبھی کبھی یہ خواہش میرے دل میں پھر سے اُبھر آتی ہے۔ . . . بہرحال یہوواہ نے مجھے زندہ رہنے کی اجازت دے رکھی ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے وہ پیار سے مجھے کہہ رہا ہو، ’زندہ رہو۔‘“
روس سے ایک ۱۵سالہ لڑکی نے وضاحت کی: ”جب مَیں آٹھ سال کی تھی تو مجھے محسوس ہونے لگا کہ کسی کو میری ضرورت نہیں ہے۔ میرے والدین کے پاس میرے ساتھ باتچیت کرنے کیلئے وقت نہیں تھا اسلئے مَیں اپنے مسائل خود حل کرنے کی کوشش کرنے لگی۔ مَیں اپنی ہی ذات میں مگن ہو گئی۔ مَیں مسلسل اپنے رشتےداروں سے لڑتیجھگڑتی تھی۔ پھر میرے ذہن میں خودکشی کرنے کا خیال آیا۔ یہوواہ کے گواہوں سے ملکر مَیں کسقدر خوش تھی!“
علاوہازیں آسٹریلیا سے کیتھی، اپنے ۳۰ کے دہے کے اوائل میں، یہ حوصلہافزا بیان دیتی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مایوسی اُمید میں بدل سکتی ہے: ”مَیں اپنی زندگی ختم کرنے کے مختلف طریقوں کے خواب دیکھا کرتی تھی اور آخرکار مَیں نے خودکشی کی کوشش کر ہی لی۔ مَیں اس دُنیا سے فرار چاہتی تھی جو کہ تکلیف، غصے اور کھوکھلےپن سے بھری پڑی ہے۔ افسردگی نے میرے لئے اُس ’مکڑی کے جالے‘ سے نکلنا مشکل بنا دیا جس میں مَیں پھنس گئی تھی۔ لہٰذا اُس وقت خودکشی ہی اس کا واحد حل دکھائی دیا۔
”جب مَیں نے پہلی مرتبہ زمین کے فردوس بننے کے امکان کی بابت سنا جس میں زندگی سب کیلئے پُرامن اور مسرورکُن ہوگی تو میرے دل میں اس کیلئے تمنا جاگ اٹھی۔ نیز یہ ایک ناممکن خواب معلوم ہوتا تھا۔ تاہم مَیں زندگی کی بابت یہوواہ کے نظریہ کو آہستہ آہستہ سمجھنے لگی کہ اسکی نظر میں ہم سب کسقدر قیمتی ہیں۔ مَیں پُراعتماد ہو گئی کہ مستقبل کیلئے کوئی اُمید ہے۔ بالآخر مجھے اُس ’مکڑی کے جالے‘ سے نکلنے کا راستہ مل گیا۔ تاہم اس سے نکلنا مشکل ثابت ہوا۔ بعضاوقات افسردگی مجھ پر غلبہ پا لیتی اور مَیں بہت پریشان ہو جاتی۔ تاہم یہوواہ کو اپنی زندگی کا محور بنانے سے اسکے قریب رہنے اور محفوظ محسوس کرنے سے مدد حاصل ہوئی ہے۔ یہوواہ نے میرے لئے جو کچھ کِیا ہے اس کیلئے مَیں بہت شکرگزار ہوں۔“
مزید جوان اموات نہ ہونگی
بائبل کا مطالعہ کرنے سے ایک نوجوان شخص یہ جان سکتا ہے کہ ایک بہتر چیز کی اُمید کی جا سکتی ہے جسے مسیحی رسول پولس ”حقیقی زندگی“ کہتا ہے۔ اُس نے نوجوان تیمتھیس کو مشورت دی: ”اس موجودہ جہان کے دولتمندوں کو حکم دے کہ . . . ناپایدار دولت پر نہیں بلکہ خدا پر اُمید رکھیں جو ہمیں لطف اٹھانے کے لئے سب چیزیں افراط سے دیتا ہے۔ اور نیکی کریں اور اچھے کاموں میں دولتمند بنیں . . . آیندہ کیلئے اپنے واسطے ایک اچھی بنیاد قائم کر رکھیں تاکہ حقیقی زندگی پر قبضہ کریں۔“—۱-تیمتھیس ۶: ۱۷-۱۹۔
درحقیقت پولس کی مشورت کا یہ مقصد ہے کہ ہم دوسرے لوگوں میں دلچسپی لیں اور مستقبل کیلئے اُنہیں ایک مضبوط اُمید رکھنے میں مدد دیں۔ ”حقیقی زندگی“ وہ ہے جسکا وعدہ یہوواہ نے ”نئے آسمان اور نئی زمین“ پر مشتمل نئی دُنیا میں فرمایا ہے۔—۲-پطرس ۳:۱۳۔
خطرے سے دوچار بیشتر نوجوانوں نے یہ جان لیا ہے کہ منشیات کا استعمال اور بداخلاق طرزِزندگی موت کی ایک طویل راہ کے سوا کچھ نہیں جس سے فوری چھٹکارا خودکشی ہے۔ اُنہوں نے یہ جان لیا ہے کہ یہ دُنیا اپنی جنگوں، نفرتوں، استحصالی رویوں اور غیرمشفقانہ طورطریقوں سمیت جلد ہی جاتی رہے گی۔ انہوں نے یہ سیکھ لیا ہے کہ یہ عالمی نظام ناقابلِتصحیح ہے۔ وہ پُختہ یقین رکھتے ہیں کہ خدا کی بادشاہت ہی واحد حقیقی اُمید ہے جو ایسی نئی دُنیا کا آغاز کریگی جس میں نہ صرف نوجوان بلکہ تمام فرمانبردار نوعِانسان کبھی نہیں مرینگے بلکہ مرنے کی خواہش بھی نہیں کرینگے۔—مکاشفہ ۲۱:۱-۴۔