بائبل کا نقطۂنظر
فلرٹ کرنے میں کیا خرابی ہے؟
”ہم فلرٹ [ظاہری عشق] کو ناجائز یا پُرفریب یا بُرا کیوں خیال کرتے ہیں؟ یہ بُرا نہیں ہے! یہ تو ایک کھیل ہے! ایک ایسا کھیل جس میں صرف جیت ہی جیت ہے کیونکہ اس سے آپ دوسرے شخص کو خوش کرتے ہیں۔“—سوزین رابن، ڈائریکٹر آف دی سکول آف فلرٹنگ، نیو یارک سٹی۔
بیشتر لوگ فلرٹ کو عام، بےخطر حتیٰکہ انسانی رشتوں کو تشکیل دینے اور برقرار رکھنے کے لئے ضروری سمجھتے ہیں۔ مغربی ممالک میں، حال ہی میں ایسی کتابوں، رسالوں میں شائع ہونے والے مضامین اور مخصوص کورسز کی بھرمار ہو گئی ہے جو ”فلرٹ کرنے کے فن“ کے لئے ضروری اشاروں، اداؤں اور خاص انداز سے دیکھنے کی تعلیم دیتے ہیں۔
فلرٹ [ظاہری عشق] کیا ہے؟ اُسکی بہت سی تشریحات ہیں۔ ایک لغت اس کی تعریف ”نازیبا عشقبازی یا شہوتانگیز“ رویے کے طور پر کرتی ہے۔ ایک دوسری لغت فلرٹ کی توضیح ”کسی سنجیدہ ارادے کے بغیر عشقبازی“ کے طور پر کرتی ہے۔ پس، عام نظریہ یہ ہے کہ فلرٹ سے مراد ایسا شخص ہے جو شادی کے ارادے کے بغیر رومانوی دلچسپی کا اظہار کرتا ہے۔ کیا فلرٹ کو بےضرر خیال کِیا جانا چاہئے؟ ظاہری عشق کی بابت بائبل کا نقطۂنظر کیا ہے؟a
اگرچہ صحائف فلرٹ کا واضح طور پر تو ذکر نہیں کرتے تو بھی ہم خدا کے نقطۂنظر کا تعیّن کر سکتے ہیں۔ کیسے؟ اس معاملے پر روشنی ڈالنے والے بائبل اُصولوں کی جانچ کرنے سے، یوں اس طرح ہم ’نیکوبد میں امتیاز کرنے کیلئے اپنے حواس‘ کو تیز کرتے ہیں۔ (عبرانیوں ۵:۱۴) آئیے پہلے اس بات پر غور کریں کہ آیا شادیشُدہ لوگوں کو فلرٹ کرنا زیب دیتا ہے۔
اگر کوئی شادیشُدہ ہے
بیاہتا جوڑوں کا خلوت میں ایک دوسرے کیساتھ عاشقانہ انداز سے پیش آنا فطرتی بات ہے۔ (مقابلہ کریں پیدایش ۲۶:۸۔) تاہم ازدواجی بندھن سے باہر لوگوں کیلئے ایسی رغبت دکھانا خدا کے اُصولوں کے منافی ہے۔ یہوواہ کا مقصد تھا کہ بیاہتا جوڑے قریبی اور بااعتماد رشتے سے لطفاندوز ہوں۔ (پیدایش ۲:۲۴؛ افسیوں ۵:۲۱-۳۳) وہ شادی کو ایک مُقدس، مستقل بندھن خیال کرتا ہے۔ ملاکی ۲:۱۶ خدا کی بابت بیان کرتی ہے: ”وہ طلاق سے بیزار ہے۔“b
کیا شادیشُدہ شخص کا فلرٹ کرنا شادی کی بابت خدا کے نظریے سے ہمآہنگ ہے؟ یہ ایک سنگین معاملہ ہے کیونکہ شادیشُدہ شخص کا فلرٹ کرنا خدا کے ازدواجی بندوبست کے تقدس کیلئے احترام کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ علاوہازیں، افسیوں ۵:۳۳ مسیحی شوہر کو ”اپنی بیوی سے اپنی مانند محبت کرنے“ اور بیوی کو ”اپنے شوہر سے ڈرتے رہنے“ کا حکم بھی دیتی ہے۔ کیا بدگمانی پیدا کرنے والا فلرٹ بیاہتا ساتھی کیلئے محبت اور احترام ظاہر کرتا ہے؟
اس سے بڑھکر سنجیدہ حقیقت یہ ہے کہ فلرٹ کرنا زناکاری پر منتج ہو سکتا ہے جو ایسا گناہ ہے جسکی یہوواہ سختی سے مذمت کرتا ہے اور اُسے بےوفائی خیال کرتا ہے۔ (خروج ۲۰:۱۴؛ احبار ۲۰:۱۰؛ ملاکی ۲:۱۴، ۱۵؛ مرقس ۱۰:۱۷-۱۹) درحقیقت، یہوواہ زناکاری کو اسقدر سنجیدہ خیال کرتا ہے کہ وہ ازدواجی بےوفائی کا شکار ہونے والے اشخاص کو طلاق کی اجازت دیتا ہے (متی ۵:۳۲) پس، کیا ہم تصور کر سکتے ہیں کہ یہوواہ فلرٹ جیسی خطرناک تفریح کی اجازت دیگا؟ جس طرح شفیق والدین اپنے ننھے بچے کو باورچیخانے کے تیز چاکو سے کھیلنے کی اجازت نہیں دینگے اُسی طرح خدا فلرٹ کی بھی ہرگز اجازت نہیں دیگا۔
زناکاری کی بابت بائبل آگاہ کرتی ہے: ”کیا ممکن ہے کہ آدمی اپنے سینہ میں آگ رکھے اور اُس کے کپڑے نہ جلیں؟ یا کوئی انگاروں پر چلے اور اُس کے پاؤں نہ جھلسیں؟ وہ بھی ایسا ہے جو اپنے پڑوسی کی بیوی کے پاس جاتا ہے۔ جو کوئی اسے چھوئے بےسزا نہ رہے گا۔“ (امثال ۶:۲۷-۲۹) تاہم، اگر زناکاری کا ارتکاب نہیں بھی کِیا جاتا توبھی فلرٹ کرنے والا شادیشُدہ شخص ”جذباتی تعلق“ میں اُلجھ کر آئندہ کیلئے خطرے کو دعوت دیتا ہے۔
جذباتی تعلقات
بعض لوگوں نے کسی بھی جنسی ملاپ کے بغیر اپنی شادی سے باہر ایسے رشتے استوار کر لئے ہیں جن سے رومانوی احساسات فروغ پاتے ہیں۔ تاہم، یسوع نے خبردار کِیا: ”جس کسی نے بُری خواہش سے کسی عورت پر نگاہ کی وہ اپنے دل میں اُس کیساتھ زنا کر چکا۔“ (متی ۵:۲۸) یسوع نے ایسی بُری خواہش کی مذمت کیوں کی جو محض دل ہی میں رہتی ہے؟
ایک پہلو تو یہ ہے کہ ”زناکاریاں . . . دل ہی سے نکلتی ہیں۔“ (متی ۱۵:۱۹) تاہم، ایسا رشتہ زناکاری کی حد تک نہ جانے کے باوجود نقصاندہ ہے۔ کس طرح؟ اس موضوع پر ایک کتاب وضاحت کرتی ہے: ”آپ کے بیاہتا ساتھی کیساتھ آپکی زندگی سے بہت زیادہ وقت اور قوت حاصل کرنے والا ہر کام یا رشتہ بےوفائی کی ایک قسم ہوتا ہے۔“ جیہاں، جذباتی تعلق بیاہتا ساتھی کو وقت، توجہ اور محبت سے محروم کر دیتا ہے۔ یسوع کے اس حکم کے پیشِنظر کہ جو کچھ تم چاہتے ہو کہ لوگ تمہارے ساتھ کریں وہی تم بھی اُنکے ساتھ کرو، فلرٹ کرنے والے شادیشُدہ شخص کو خود سے یہ پوچھنا چاہئے کہ ’اگر میرا بیاہتا ساتھی کسی دوسرے کیساتھ اس طرح پیش آئے تو مَیں کیسا محسوس کرونگا؟‘—امثال ۵:۱۵-۲۳؛ متی ۷:۱۲۔
اگر ایک شخص نے ایسا غیرموزوں جذباتی بندھن قائم کر لیا ہے تو اُسے کیا کرنا چاہئے؟ کسی کے ساتھ غیرموزوں جذباتی تعلق رکھنے والا شادیشُدہ شخص چلتی گاڑی میں سو جانے والے ڈرائیور کی مانند ہو گا۔ اُسے اپنی شادی اور خدا کیساتھ اپنے رشتے کے ٹوٹنے سے پہلے اپنی حالت کو پوری طرح سمجھنے اور بِلاتاخیر فیصلہکُن کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔ یسوع نے تمثیل سے سخت کارروائی کی ضرورت کو سمجھایا اور کہا کہ اگر آنکھ یا ہاتھ جیسی بیشقیمت چیز خدا کے حضور راست حیثیت کو نقصان پہنچاتی ہے تو اُسے نکال کر یا کاٹ کر پھینک دینا ہی اچھا ہوگا۔—متی ۵:۲۹، ۳۰۔
لہٰذا یہ دانشمندی کی بات ہو گی کہ آپ اس سلسلے میں حد مقرر کریں کہ آپ دوسرے شخص سے کہاں اور کس حالت میں ملتے ہیں۔ یقیناً، اُس شخص کیساتھ تنہا ہونے سے گریز کریں اور اگر ملازمت کی جگہ پر ایسا ہے تو باتچیت کی نوعیت کی حد مقرر کریں۔ اس شخص کے ساتھ تمام رابط ختم کر دینا بھی ضروری ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد، آنکھوں، خیالات، احساسات اور رویے کے سلسلے میں پُختہ ضبطِنفس کو عمل میں لایا جانا چاہئے۔ (پیدایش ۳۹:۷-۱۲؛ زبور ۱۹:۱۴؛ امثال ۴:۲۳؛ ۱-تھسلنیکیوں ۴:۴-۶) ایک شادیشُدہ شخص، ایوب نے ایک عمدہ نمونہ قائم کِیا جب اس نے کہا: ”مَیں نے اپنی آنکھوں سے عہد کِیا ہے پھر مَیں کسی کنواری پر کیونکر نظر کروں؟“—ایوب ۳۱:۱۔
بِلاشُبہ، کسی شادیشُدہ شخص کا فلرٹ کرنا خطرناک اور غیرصحیفائی ہے۔ تاہم، کنوارے لوگوں کے مابین فلرٹ کی بابت بائبل کا نقطۂنظر کیا ہے؟ کیا اسے عام، بےخطر یا مخالف جنس کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کے لئے ضروری خیال کِیا جانا چاہئے؟ کیا یہ کسی حقیقی نقصان پر منتج ہو سکتا ہے؟
غیرشادیشُدہ کی بابت کیا ہے؟
اگر دو کنوارے اشخاص شادی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ناپاک چالچلن سے گریز کرتے ہیں تو پھر ایک دوسرے میں رومانوی دلچسپی ظاہر کرنے میں کوئی خرابی نہیں ہے۔ (گلتیوں ۵:۱۹-۲۱) ایسی دلچسپی شاید کورٹشپ کے ابتدائی مراحل میں دکھائی جائے جب شادی کا کوئی امکان بھی نہ ہو۔ جب نیت صاف ہو تو یہ ضروری طور پر نامناسب نہیں ہے۔ ایسا رویہ درحقیقت فلرٹ کرنا نہیں ہے۔
اگر کنوارے اشخاص محض تفریح کی خاطر ایک دوسرے کو رومانوی اشارے کرتے ہیں تو کیا ہو؟ یہ بےضرر دکھائی دے سکتا ہے کیونکہ وہ غیرشادیشُدہ ہیں۔ تاہم، جذباتی ٹھیس کے امکان پر غور کریں۔ اگر فلرٹ کرنے والے شخص کے طورطریقوں کو کچھ زیادہ ہی سنجیدہ خیال کِیا جاتا ہے تو یہ انتہائی رنج اور دردِدل پر منتج ہو سکتا ہے۔ امثال ۱۳:۱۲ کے یہ الفاظ کس قدر حقیقت پر مبنی ہیں: ”اُمید کے بَرآنے میں تاخیر دل کو بیمار کرتی ہے پر آرزو کا پورا ہونا زندگی کا درخت ہے۔“ اگر دو اشخاص یہ سمجھنے کا دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ دونوں ہی ایک دوسرے میں سنجیدہ دلچسپی نہیں رکھتے تو بھی کیا وہ وثوق سے یہ بتا سکتے ہیں کہ دوسرا کیا سوچتا یا کیسا محسوس کرتا ہے؟ بائبل جواب دیتی ہے: ”دل سب چیزوں سے زیادہ حیلہباز اور لاعلاج ہے۔ اُس کو کون دریافت کر سکتا ہے؟“—یرمیاہ ۱۷:۹؛ مقابلہ کریں فلپیوں ۲:۴۔
نیز، حرامکاری کے خطرے پر بھی غور کریں جس کے ممکنہ نتائج بیماری یا ناجائز حمل کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔ صحائف کی رو سے حرامکاری منع ہے اور جو قصداً ایسا کرتے ہیں وہ خدا کی مقبولیت کھو بیٹھتے ہیں۔ پولس رسول نے دانشمندی سے مسیحیوں کو آگاہ کِیا کہ آزمائش سے بچنے کے لئے اُنہیں ”حرامکاری“ کے سلسلے میں ”اپنے . . . اعضا کو مُردہ“ کرنا چاہئے اور حرامکاری پر منتج ہونے والے ”شہوت کے جوش“ سے گریز کرنا چاہئے۔ (کلسیوں ۳:۵؛ ۱-تھسلنیکیوں ۴:۳-۵) افسیوں ۵:۳ میں وہ ہمیں نصیحت کرتا ہے کہ بُری خواہش کو اُبھارنے والے انداز میں حرامکاری کا ”ذکر تک نہ“ کریں۔ فلرٹ اس مشورت سے بالکل ہمآہنگ نہیں ہے۔ خدا جنس کی بابت غیرصحتمندانہ باتچیت سے بھی منع کرتا ہے۔
بائبل اُصول آشکارا کرتے ہیں کہ فلرٹ کرنا ساتھی انسانوں کو ایذا پہنچانے اور شادی کے بانی، یہوواہ کی بےحرمتی کرنے کے مترادف ہو سکتا ہے۔ نامناسب فلرٹ کی بابت بائبل کا نقطۂنظر یقیناً مشفقانہ اور معقول ہے کیونکہ یہ لوگوں کو نقصان سے بچاتا ہے۔ اس لئے وہ لوگ جو خدا سے محبت کرتے ہیں غیرموزوں فلرٹ سے گریز کریں گے اور مخالف جنس کے ساتھ پاکیزگی اور احترام سے پیش آئینگے۔—۱-تیمتھیس ۲:۹، ۱۰؛ ۵:۱، ۲۔
[فٹنوٹ]
a فلرٹ کو عاشقانہ محرک کے بغیر ہمدردانہ یا دوستانہ ہونے کیساتھ خلطملط نہیں کِیا جانا چاہئے۔
b فروری ۸، ۱۹۹۴ کے اویک! کے شمارے میں مضمون ”خدا کس قسم کی طلاق سے بیزار ہے؟“ دیکھیں۔