ایک مُہلک اتحاد
ریاستہائے متحدہ کے ہیلتھورکروں نے ۱۹۵۹ میں پیشگوئی کی کہ بہت جلد تپِدق (ٹیبی) کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔ درحقیقت، مابعدی سالوں میں اس بیماری میں اتنی تیزی سے کمی واقع ہوئی کہ بعض لوگ یہ گمان کرنے لگے کہ اس پر قابو پا لیا گیا ہے۔ تاہم ٹیبی ایک مُہلک حلیف—مدافعتی نظام کو کمزور کرنے والے اور عموماً ایڈز کا باعث بننے والے وائرس، ایچ-آئی-وی—کے ہمراہ لوٹ آئی ہے۔
اگرچہ دو بلین سے زیادہ لوگوں یعنی دُنیا کی تقریباً ایک تہائی آبادی میں ٹیبی کا بیکٹیریا پایا جاتا ہے توبھی جب یہ لوگ پہلےپہل اس سے متاثر ہوتے ہیں تو اُنکی زندگی میں اس بیماری میں مبتلا ہونے کا امکان صرف ۱۰ فیصد ہوتا ہے۔ دلچسپی کی بات یہ ہے کہ ایچ-آئی-وی سے متاثرہ لوگوں کے ٹیبی میں مبتلا ہونے کے امکانات ۸ فیصد سالانہ ہوتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ لوگوں کے ایچ-آئی-وی سے متاثر ہونے کی وجہ سے ٹیبی کے لاحق ہونے کا خطرہ بھی اُنکے سر پر منڈلا رہا ہے۔
ڈبلیو-ایچ-او (عالمی ادارۂصحت) کا ڈاکٹر رچرڈ جے- اوبرائن بیان کرتا ہے کہ حالیہ برسوں کے دوران ریاستہائے متحدہ میں ٹیبی کے مریضوں کی تعداد میں تقریباً ۱۵ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اسکا ”بڑا سبب ایچ-آئی-وی اور ٹیبی کا باہمی عمل ہے۔“ تاہم، ترقیپذیر دُنیا میں یہ خطرہ نہایت سنگین ہے۔ ہر سال آٹھ ملین نئے مریضوں میں سے ۹۰ فیصد غریب ممالک سے تعلق رکھتے ہیں اور ان میں سے تقریباً تین ملین مر جاتے ہیں۔
پوری دُنیا میں ۴.۴ ملین لوگ اس مُہلک جوڑے کیخلاف نبردآزما ہیں۔ ڈبلیو-ایچ-او نے پیشگوئی کی ہے کہ مستقبل قریب میں ٹیبی ہر سال ایچ-آئی-وی سے متاثرہ لوگوں میں سے ایک ملین کی زندگیاں چھین لے گی۔ جوائنٹ یونائیٹڈ نیشنز پروگرام برائے ایچ-آئی-وی/ایڈز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پیٹر پائیو کا کہنا ہے کہ ”اس عشرے میں یہ دونوں وبائیں لوگوں کی صحت کیلئے سب سے بڑا خطرہ بن گئی ہیں۔“