پرندوں کا مشاہدہ سب کیلئے ایک دلکش مشغلہ؟
”پرندوں کا مشاہدہ کرنے والے کی زندگی غیرمختتم حیرتوں کا ایک سلسلہ ہے۔“ ڈبلیو. ایچ. ہڈسن—دی بُک آف اے نیچرالسٹ۔
جنوبی افریقہ اور موزمبیق کی درمیانی سرحد کے قریب، خلیج کوزی پر، کیتھ، ایولن، جینی اور اُنکے گائیڈ نے ایک پرندے کو دیکھنے کیلئے ۱۵ میل کا سفر کِیا۔ یہ کوئی عام پرندہ نہیں تھا! یہ لوگ پامنٹ گدھ کی تلاش میں تھے—ایک بڑا سا سیاہ اور سفید پرندہ جسکے سفید چہرے پر آنکھوں کے گرد سرخ حلقے ہوتے ہیں۔ اسکی خوراک مُردہ مچھلی اور تاڑ کے پیڑ کا پھل ہوتی ہے۔
کیتھ بیان کرتا ہے: ”کافی دیر تک پیدل چلنے کے بعد، ہم دُور ہی سے ایک پرندہ دیکھنے کے بعد مایوس ہوکر واپس لوٹ آئے۔ کیمپ واپس پہنچنے پر ہمیں کیا نظر آیا؟ ہمارے بالکل اُوپر تاڑ کے پیڑ پر تین پامنٹ گدھ بیٹھے ہوئے تھے! اُن کے اُڑنے سے پیشتر تقریباً نصف گھنٹے تک ہم اُن سے محظوظ ہوتے رہے جوکہ پورے پنکھ پھیلائے شاندار نظارہ پیش کر رہے تھے۔ اُسی دن ہم نے پہلی مرتبہ مچھلیوں کا شکار کرنے والا اُلو بھی دیکھا۔ جیہاں، مچھلیاں پکڑنے والا اُلو!“
ہر ایک کیلئے ہیجانخیز
دُنیابھر میں پرندوں کو دیکھنا اور اُنکی آواز سننا اچھا لگتا ہے۔ کسی بھی مشاق مشاہد کیلئے ۹۶۰۰ سے زیادہ اقسام بیشمار مواقع فراہم کرتی ہیں۔ شکرخورے یا ایک ماہیخور کے رنگ کی تیز چمک کو دیکھ کر کون خوش نہیں ہوتا؟ کون بولتی مینا، بلبل یا خوبصورت آسٹریلوی بربطدُمہ یا ککو کی منفرد آواز یا آسٹریلوی نیلکنٹھ کی مسرورکُن قلقل سے متاثر نہیں ہوتا؟
پرندوں کا مشاہدہ کرنے (جسے ریاستہائے متحدہ میں عام طور پر برڈنگ کہا جاتا ہے) سے مُراد بالخصوص جنگلی پرندوں کا مطالعہ کرنا ہے۔ آپ اسے جتنا دلکش بنانا چاہیں بنا سکتے ہیں۔ ممکن ہے نایاب پرندوں کی تلاش میں آپ دلدلے علاقوں سے گزرنا یا پہاڑوں پر چڑھنا پسند نہ کریں۔ تاہم، بہتیرے لوگ اپنے صحن یا باغ میں ہی پرندوں کے مشاہدے کو اطمینانبخش اور تازگیبخش پاتے ہیں۔ مقامی پرندوں کو بلانے کیلئے بہتیرے لوگ پانی اور دانہدُنکا بھی باہر رکھتے ہیں۔ ہر سال شائقین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بیشتر لوگ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ مشغلہ کوشش کا مستحق ہے۔
یہ اسقدر مقبول کیوں ہے؟
سٹیو ایچ. مرڈک کی کتاب این امریکہ چیلجنڈ کے مطابق، ۱۹۹۰ اور ۲۰۵۰ کے درمیانی سالوں میں، پرندوں کا مشاہدہ کرنے کی بابت یہ توقع کی جاتی ہے کہ اس میں یو.ایس. کی آبادی سے بھی زیادہ تیزی کیساتھ اضافہ ہوگا۔ نیو سائنٹسٹ میگزین نے بیان کِیا کہ ”انڈیا میں زیادہ سے زیادہ لوگ پروں والے دوپایہ جانداروں کے حصول کو پیشے کے طور پر اَپنا رہے ہیں۔“ نیز، جنوبی افریقہ کی برڈلائف پبلیکیشنز کمیٹی کے چیئرمین، گارڈن ہولٹسہاؤسن کے خیال کے مطابق، ”جنوبی افریقہ میں . . . [پرندوں] کی کتب بائبل کے بعد دوسرے نمبر پر ہیں۔“
جب آپ ایک بار کسی پرندے کو، پرندوں کا مشاہدہ کرنے والے کی آنکھ سے دیکھ لیتے ہیں تو آپ اسکے شیدائی ہو جائینگے! یہ مشغلہ ایک سے دوسرے میں منتقل ہونے کا میلان رکھتا ہے۔ یہ ایک ایسی کمخرچ تفریح ہو سکتی ہے جو آپ کو گھر سے باہر کھلی فضا میں لیجاتی اور آپ کے ذہن کیلئے ایک چیلنج پیش کرتی ہے۔ یہ جان سے مارے بغیر ہی شکار کرنے کا مزہ دیتی ہے۔ بچے اور بڑے چونکہ اسے جلدی سیکھ لیتے ہیں اسلئے خاندانوں یا دوستوں کے گروہوں کی صورت میں اس سے لطفاندوز ہو سکتے ہیں۔ اس سے تنہا بھی لطفاندوز ہوا جا سکتا ہے۔ پرندوں کا مشاہدہ کرنا ایک صافستھری، خوشگوار اور صحتمندانہ تفریح ہے اور سال کے کسی بھی حصے میں کہیں بھی کی جا سکتی ہے۔
پرندوں کا مشاہدہ کرنے کے بنیادی اُصول
کیا آپ کسی پرندے کو دیکھ کر یہ سوچتے ہیں کہ اسکا نام کیا ہے؟ نہ صرف رُعبدار عقابوں، موروں اور راجہنسوں کے نام سیکھنے سے ہی خوشی کا احساس ہوتا ہے بلکہ بآسانی نظرانداز کر دئے جانے والے پشہخوار اور درختوں یا جھاڑیوں میں رینگنے یا چلنے والے پرندوں کے نام سیکھنے سے بھی خوشی حاصل ہوتی ہے۔ مزیدبرآں، مشابہت رکھنے والے ریت سریلے اور نغمہسنج پرندے اور ان ہی جیسے دیگر پرندے بھی اس میں شامل ہیں۔a
ان کی شناخت کرنے کیلئے، آپکو اپنے مُلک یا خطے کے پرندوں کے سلسلے میں فیلڈ گائیڈ کی ضرورت ہوگی۔ یہ ہر قسم کے نر اور مادہ کی تصاویر اور تفصیلات پر مشتمل ایک پاکٹ سائز کتاب ہے۔ اس سے بہتر گائیڈز میں نوخیز اور موسمیاتی پرندے بھی شامل ہیں۔
پہلی بار پرندوں کا مشاہدہ کرنے والے شخص کو اَور کس چیز کی ضرورت ہے؟ پرندوں کا مشاہدہ کرنے والے کیلئے ایک اچھی دُوربین اُتنی ہی اہمیت کی حامل ہے جتنیکہ مچھلیاں پکڑنے والے کیلئے ڈوری اور بنسی یا جال ہوتا ہے۔ دُوربین کسی چیز کو بہت قریب دکھاتی ہے تاکہ آپ اُسے واضح طور پر دیکھ سکیں۔ دُوربین کے ذریعے اپنے اردگرد کے پرندوں کو دیکھ کر آپ حیران رہ جائینگے۔ مثال کے طور پر، افریقہ میں ایک دریائی گھوڑے کو بآسانی دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم دُوربین استعمال کئے بغیر شاید آپ دریائی گھوڑے کی پُشت پر بیٹھے کیڑے کھانے والے کٹھبڑھئی کو نہ دیکھ سکیں۔
تمام دُوربینیں پرندوں کا مشاہدہ کرنے کیلئے نہیں بنائی جاتیں تاہم مختلف ماڈلز کیسے کام کرتے ہیں اسکا موازنہ کرنے کیلئے کوئی نعمالبدل نہیں ہے۔ پرندوں کا مشاہدہ کرنے والوں میں ۷ ۴۲ x اور ۸ ۴۰ x کے دو ماڈل بڑے مقبول ہیں۔ پہلا نمبر تکبیری طاقت کی نشاندہی کرتا ہے اور دوسرا نمبر، بڑے عدسے (لینز) کے قطر کو ملیمیٹر میں پیش کرتا ہے۔ نیشنل جیوگرافک فیلڈ گائیڈ ٹو دی برڈز آف نارتھ امریکہ بیان کرتی ہے کہ ”عدسے کے سائز اور تکبیری طاقت کے مابین ۱ تا ۵ کی نسبت کو روشنی جمع کرنے کی صلاحیت کے اعتبار سے عموماً بہترین خیال کِیا جاتا ہے۔“ یہ آپکو نامناسب روشنی والی حالتوں کے تحت بھی رنگوں کو پہچاننے کے قابل بناتی ہے۔ لہٰذا، ضروری نہیں کہ زیادہ تکبیری ہی بہترین ہو۔ درحقیقت آپ چاہتے ہیں کہ صاف نظر آئے۔
کہاں سے دیکھنا شروع کریں؟ اپنے گردونواح میں
جو شخص اپنے اردگرد کے پرندوں سے واقف ہے وہ نایاب یا کموبیش نظر آنے والے پرندوں کو تلاش کرنے کیلئے دوسری جگہوں پر جانے کیلئے بھی اچھی طرح تیار ہوگا۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ کونسی اقسام مستقل طور پر آپکے گھر کے آسپاس رہتی ہیں؟ کونسے ایسے اُڑنے والے پرندے ہیں جو شاید قریبی جھیل یا دلدل کی طرف جاتے ہوئے بھی زمین پر نہیں آتے؟ اپنے موسمیاتی سفر کے دوران کونسے ہجرت کرنے والے پرندے یہاں سے گزرتے ہیں؟ اپنی کتاب دی برڈواچرز کمپینیئن میں کرسٹوفر لیہی نے لکھا: ”شمالی امریکہ میں، بچے دینے والے پرندوں کی تقریباً ۶۴۵ اقسام کا ۸۰ فیصد [نقلمکانی] کرتا ہے۔“
ان نقلمکانی کرنے والے پرندں میں سے بعض ہو سکتا ہے کہ خوراک حاصل کرنے یا آرام کرنے کی غرض سے آپکے گھر کے قریب بسیرا کریں۔ بعض علاقوں میں پرندوں کا مشاہدہ کرنے کے شائقین نے اپنے ہی گھر کے صحن میں پرندوں کی ۲۱۰ سے زیادہ اقسام کی شناخت کر لی ہے! جب آپ ہر سال مختلف اقسام کو پہلی اور آخری مرتبہ دیکھتے ہیں تو ان تاریخوں کا ریکارڈ رکھنے کو آپ دلچسپ اور معلوماتی پائینگے۔
پرندوں کا مشاہدہ کرنے کے طریقے
اپنے گلے میں دُوربین لٹکائے ہوئے اور فیلڈ گائیڈ کو اپنی جیب میں رکھے ہوئے اب آپ اپنی تلاش کو صحن سے آگے بڑھانے کیلئے تیار ہیں۔ اکثر پارکوں اور فطرت کے تحفظاتی اداروں میں پرندوں سے متعلق فہرستیں دستیاب ہوتی ہیں۔ یہ عموماً بتاتی ہیں کہ کس موسم میں یہ اقسام یہاں نظر آتی ہیں اور آپ کیلئے اُن کو تلاش کرنے کا کتنا امکان ہے۔ فہرست آپکے مشاہدے کیلئے ایک کارآمد آلہ ثابت ہوگی۔ اگر آپ سوچتے ہیں کہ جو پرندہ آپ نے ابھی ابھی دیکھا ہے وہ نایاب پرندوں کی فہرست میں شامل ہے تو پھر یہ اچھا ہوگا کہ اسکی خوب جانچپڑتال کریں، بالخصوص اگر آپ اس میدان میں بالکل نئے ہیں۔ (بکس ”شناخت کیلئے بنیادی راہنمائی“ کو دیکھیں۔) اسکے برعکس اگر یہ کثرت سے پائے جانے والے پرندوں کی فہرست میں شامل ہے تو غالباً آپ نے اس کی صحیح شناخت کر لی ہے۔
جس قسم کے علاقوں اور راستوں سے آپکا گزر ہوگا انکی نشاندہی کرنے والا ایک نقشہ پہلے ہی حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ جہاں پرندوں کی دو یا اس سے زیادہ فطرتی یا اصلی رہائشگاہیں قریب قریب ہوتی ہیں وہاں عموماً پرندوں کی کثرت ہوتی ہے۔ خواہ آپ گھومتے پھرتے ہیں یا ایک ہی جگہ پر رہتے ہیں، گردونواح سے ہمآہنگی پیدا کرنے کی کوشش کریں اور پرندوں کے اپنے پاس آنے کا انتظار کریں۔ ذرا صبر سے کام لیں۔
بعض علاقوں میں ایسا ٹیلیفون نمبر ہوتا ہے جس پر شائقین اس علاقے کے تازہترین دلچسپ مشاہدوں کی رپورٹیں سننے کیلئے ٹیلیفون کر سکتے ہیں۔
پیشگی تیاری مفید ثابت ہوتی ہے
مخصوص پرندوں پر توجہ مرکوز کرنا سودمند ہوتا ہے، تاہم آپ کیلئے یہ بہتر ہوگا کہ جو پرندے آپ دیکھنا چاہتے ہیں اُنکی بابت پہلے ہی پڑھ لیں۔ اگر آپ کریبیئن میں ہیں تو شاید آپ سبز چڑیا (ٹودی) کی تلاش میں ہیں خواہ یہ کیوبا، پورٹوریکو یا جمیکا کی ہے۔ یہ سبز اور سُرخ رنگبرنگے پروں والا ایک چھوٹا سا انمول پرندہ ہے۔ ہربرٹ رافیل کی گائیڈ ٹو دی برڈز آف پورٹکوریکو اینڈ دی ورجن آئیلینڈز ہمیں بتاتی ہے کہ یہ ”کموبیش نظر آتا ہے مگر اسکی آواز اکثر سنائی دیتی ہے۔“ کیوبا کی سبز چڑیا اپنے ندیدےپن کیلئے اور جس تیزی سے وہ اپنے بچوں کو کھانا کھلاتی ہے اُس کی وجہ سے مشہور ہے۔ پرندوں کے اپنے بچوں کو کھانا کھلانے کے طریقوں کو بیان کرنے کے بعد، رافیل یہ نصیحت کرتا ہے: ”دو پتھروں کو آپس میں ٹکرانا عموماً اُنکی توجہ حاصل کریگا۔“
شاید آپ ماحول کا جائزہ لینا پسند کریں تاکہ آپ کسی پرندے کی تاریخِزندگی کے چند ایک واقعات کی شہادت دے سکیں جیسےکہ موسمِبہار کے اوائل میں آبیا (وڈکاک) کا دلچسپ ہوائی مظاہرہ۔ یہ جبلالطارق یا باسفورس میں سفید بگلوں کی بڑی تعداد بھی ہو سکتی ہے جوکہ موسمِخزاں میں افریقہ کی طرف پرواز کرنے کی تیاری کر رہے ہیں یا پھر اسرائیل کے مُلک کے اُوپر سے پرندوں کی نقلمکانی۔
مسلمہ طور پر، کوئی خاص پرندہ تلاش کرنے کی منصوبہسازی کرنا کسی تاریخی مقام کی سیاحت کیلئے جانے کی مانند نہیں جس کی بابت آپ جانتے ہیں کہ ہمیشہ وہیں ہوگا۔ پرندے مسلسل ادھر اُدھر حرکت کرتے رہتے ہیں۔ وہ زندگی، مختلف اقسام اور حیرتوں سے بھرپور ہوتے ہیں۔ تاہم انکی تلاش اور انتظار فائدہمند ہیں!
یہ سب کچھ پرندوں کا مشاہدہ کرنے کو دلچسپ بنا دیتا ہے۔ آپکی منصوبہسازی کے باوجود، ممکن ہے کہ جب آپ وہاں پہنچیں تو پرندے وہاں نہ ہوں—کمازکم وہ جنہیں دیکھنے کی آپ آس لگائے بیٹھے ہیں۔ بہرحال کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ کونسی غیرمتوقع دریافتیں آپکی منتظر ہیں۔ ایک بات یقینی ہے کہ پرندے آپکو کبھی مایوس نہیں کرینگے۔ بس ذرا صبر سے کام لیں۔ پرندوں کے مشاہدے سے لطفاندوز ہوں! نیز اُنکے نمونہساز کو کبھی نہ بھولیں!—پیدایش ۱:۲۰؛ ۲:۱۹؛ ایوب ۳۹:۱۳-۱۸، ۲۷-۲۹۔
[فٹنوٹ]
a پرندوں کو آٹھ بنیادی مرئی اقسام میں تقسیم کِیا گیا ہے: (ا) تیرنے والے—بطخیں اور بطخنما پرندے، (۲) اُڑنے والے—مُرغابیاں اور مُرغابینما پرندے، (۳) لمبی ٹانگوں والے ساحلی پرندے—بگلے اور کونجیں، (۴) چھوٹے ساحلی پرندے—مرغِباراں اور ریت سریلے، (۵) مُرغنما پرندے—گراؤس (بھٹ تیتر) اور بٹیر، (۶) شکاری پرندے—شکرے، عقاب اور اُلو، (۷) عصفوری (درختوں پر بسیرا کرنے والے) پرندے اور (۸) غیرعصفوری زمین پر رہنے والے پرندے۔—اے فلیڈ گائیڈ ٹو دی برڈز ایسٹ آف دی راکیز، از روجر ٹورے پیٹرسن۔
[صفحہ 26 پر بکس]
شناخت کیلئے بنیادی راہنمائی
پہلی مرتبہ کسی غیرمانوس پرندے کی نشاندہی کرتے وقت ذیل میں درج بعض سوالات کے جواب دینے کی کوشش کرنا معاون ثابت ہو سکتا ہے:
۱. پرندے کا رنگ کیسا ہے—یکسر، دھاریدار،، چتکبرا یا ابلق؟
۲. پرندہ کہاں پایا جاتا ہے—پانی، کیچڑ، دلدل، سبزہزار یا جنگل میں؟
۳. پرندے کی قدوقامت کیسی ہے؟ کسی مانوس پرندے—چڑیا، لالچڑی، کبوتر یا شکرے سے موازنہ کریں۔
۴. پرندے کا رویہ کیسا ہے—کیڑےمکوڑوں پر جھپٹتا ہے، بہت اُونچا اُڑتا ہے، دُم کو اُوپرنیچے حرکت دیتا ہے، یا زمین پر چلتا ہے؟
۵. چونچ کی شکل کیسی ہے—چھوٹی اور نوکیلی، چھوٹی اور موٹی، لمبی، خمدار یا مڑی ہوئی؟
ان ”خصوصیات“ پر غور کرنے اور پرندوں کی بنیادی گائیڈ سے رجوع کرنے سے ایک اناڑی بھی عام اقسام کو پہچاننے لگے گا۔—اگزہیبٹ گائیڈ، میرل کریک ریزروئیر، نیو جرسی، یو.ایس.اے۔