خواتین کیلئے مستقبل کیا تھامے ہوئے ہے؟
امریکہ میں ۱۵۰ برس قبل خواتین کے خلاف ہونے والی ناانصافیوں کے لئے احتجاج کے طور پر لکھا جانے والا سینیکا فالز، نیو یارک، کا ڈیکلریشن آف سینٹیمنٹس (منشورِجذبات) کچھ یوں پڑھا جاتا ہے، ”نوعِانسان کی تاریخ، مرد کی عورت کو باربار نقصان پہنچانے اور اُس کے حقوق غصب کرنے کی تاریخ ہے۔“
بِلاشُبہ، اُس وقت سے لیکر ترقی ہوئی ہے، تاہم جیسےکہ اقوامِمتحدہ کی اشاعت دی ورلڈز ویمن ۱۹۹۵ بیان کرتی ہے، ابھی بہت کچھ باقی ہے۔ ”اکثراوقات، خواتین اور مرد مختلف دُنیاؤں کے باسی ہوتے ہیں،“ اس نے بیان کِیا، ”ایسی دُنیائیں جو تعلیم اور ملازمت کے مواقع، صحت، ذاتی تحفظ اور فارغ وقت تک رسائی حاصل کرنے کے سلسلے میں بالکل مختلف ہوتی ہیں۔“
اس کی بابت اضافی آگہی، قوموں کی طرف سے خواتین کے حقوق کا تحفظ کرنے کے لئے قوانین کی منظوری دینے کا باعث بنی ہے۔ تاہم، قوانین دلوں کو تبدیل نہیں کر سکتے جہاں ناانصافی اور تعصب کی جڑیں ہیں۔ مثال کے طور پر، نوعمر کسبیوں کی زبوںحالی پر غور کریں۔ نیوزویک نے اس بینالاقوامی تذلیل کی بابت کہا: ”بچوں کے ناجائز جنسی استعمال کی روکتھام سے متعلق قانونسازی نیکنیتی پر مبنی تو ہے تاہم اکثر غیرمؤثر ہے۔“ اسی طرح، قانون کا وجود بذاتِخود تشدد کی روکتھام نہیں کرتا۔ ”ثبوت آشکارا کرتے ہیں کہ خواتین کے خلاف تشدد، وسیع پیمانے پر پھیلا ہوا ایک عالمگیر مسئلہ ہے،“ ہیومن ڈیویلپمنٹ رپورٹ ۱۹۹۵ بیان کرتی ہے۔ ”زیادہتر قوانین ایسے تشدد کو روکنے کے لئے ناکافی ہیں—تاوقتیکہ موجودہ ثقافتی اور معاشرتی اقدار نہیں بدلتیں۔“—نسخ عبارت ہماری ہے۔
”ثقافتی اور معاشرتی اقدار“ عموماً انتہائی پُرانی روایات پر مبنی ہوتی ہیں—جنہیں توڑنا مشکل ہوتا ہے۔ ”روایت انسانوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے کہ خواتین کو چاہنے کی بجائے اُنہیں مصرف میں لانا چاہئے، اُنکی فکر کرنے کی بجائے اُنہیں استعمال کرنا چاہئے،“ مشرقِوسطیٰ کی ایک خاتون کہتی ہے۔ ”نتیجتاً، ایک عورت کی کوئی شنوائی نہیں، کوئی حقوق نہیں اور اُسکے پاس اپنی حالت کو بہتر بنانے کا بمشکل کوئی موقع ہوتا ہے۔“
شوہروں اور والدوں کو تعلیم دینا
بیجنگ، چین میں، ۱۹۹۵ میں خواتین کی بابت ایک عالمی کانفرنس نے اس منشور پر عمل کرنے کی حمایت کی تھی جس نے یہ اعلان کِیا تھا کہ ”سب کی طرف سے فوری اور متحدہ کوشش“ ہی سے ایک ”پُرامن، انصافپسند اور شریفاُلنفس دُنیا“ حاصل ہو سکتی ہے جس میں خواتین کا احترام کِیا جائیگا۔
خواتین کی زندگیوں کو ’پُرامن، انصافپسند اور شریفاُلنفس‘ بنانے والی کسی بھی کارگزاری کا آغاز گھر سے، شوہروں اور والدوں سے ہونا چاہئے۔ اس سلسلے میں، یہوواہ کے گواہ وثوق سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ بائبل تعلیم کامیابی کی کُنجی ہے۔ اُنہیں اس بات کا تجربہ ہوا ہے کہ جب مرد ایک دفعہ یہ سیکھ جاتے ہیں کہ خدا اُن سے اپنی بیویوں اور بیٹیوں کا احترام کرنے اور اُن کیلئے پاسولحاظ دکھانے کی توقع کرتا ہے تو وہ اِس پر دل لگاتے ہیں اور ایسا ہی کرتے ہیں۔
وسطی افریقہ میں، ایک شادیشُدہ مرد، پیڈرو، چار بچوں کا باپ، اب اپنی بیوی کی ضروریات کا خیال رکھتا ہے۔ وہ بچوں کی دیکھبھال کرنے میں اُسکی مدد کرتا ہے اور جب مہمان خاندان کے ساتھ کھانا کھاتے ہیں تو وہ کھانا پیش بھی کرتا ہے۔ اُس کے مُلک میں ایسا بامرّوت رویہ انتہائی غیرمعمولی بات ہے۔ کیا چیز اُسے اپنی بیوی کی قدر کرنے اور اُسکے ساتھ تعاون کرنے کے قابل بناتی ہے؟
”جب مَیں نے بائبل کا مطالعہ شروع کِیا تو مَیں نے شوہر کے کردار کی بابت دو اہم اُصول سیکھے،“ پیڈرو بیان کرتا ہے۔ ”جو نظریہ مَیں اپنی بیوی کی بابت رکھتا ہوں اُنہوں نے اس پر بہت زیادہ اثر ڈالا ہے۔ ۱-پطرس ۳:۷ میں پایا جانے والا پہلا اُصول بیان کرتا ہے کہ ایک شوہر کو ”عورت کو . . . نازک ظرف“ جانتے ہوئے اپنی بیوی کی عزت کرنی چاہئے۔ افسیوں ۵:۲۸، ۲۹ میں پایا جانے والا دوسرا اُصول کہتا ہے کہ ایک شوہر کو اپنی بیوی کیساتھ ’اپنے بدن کی مانند‘ برتاؤ کرنا چاہئے۔ جب سے مَیں نے اس مشورت پر عمل کِیا ہے ہم بہت قریب آ گئے ہیں۔ اسلئے ہم مردوں کو مقامی رسمورواج کی بجائے خدا کی مشورت کو زیادہ اہمیت دینی چاہئے۔“
مغربی افریقہ سے، مائیکل یہ تسلیم کرتا ہے کہ گواہوں کے ساتھ بائبل کا مطالعہ شروع کرنے سے پہلے، وہ اپنی بیوی کے ساتھ مناسب برتاؤ نہیں کرتا تھا۔ ”جب مَیں ناراض ہوتا تھا تو اُسے مارا بھی کرتا تھا،“ وہ اعتراف کرتا ہے۔ ”تاہم بائبل نے مجھے سکھایا کہ مجھے اپنے طورطریقوں میں تبدیلی لانی چاہئے۔ اب مَیں اپنے غصے کو قابو میں رکھنے اور اپنی بیوی کو اپنے بدن کی مانند پیار کرنے کے لئے سخت کوشش کرتا ہوں۔ نیز ہم دونوں بہت خوش ہیں۔“ (کلسیوں ۳:۹، ۱۰، ۱۹) اُس کی بیوی، کمفرٹ اس بات سے اتفاق کرتی ہے: ”اب مائیکل ہمارے علاقے کے بیشتر شوہروں کے دستور کی نسبت میرے ساتھ زیادہ عزت اور شفقت سے پیش آتا ہے۔ ہم اپنے مسائل کی بابت گفتگو کر سکتے اور اکٹھے ملکر ایک ٹیم کے طور پر کام کر سکتے ہیں۔“
پیڈرو اور مائیکل نے اپنی بیویوں کی عزت کرنا اور اُن سے پیار کرنا سیکھ لیا ہے کیونکہ اُنہوں نے خدا کے کلام کی ہدایات پر دل لگایا تھا جوکہ اس بات کو بالکل واضح کرتا ہے کہ عورتوں کیساتھ ناانصافی ہمارے خالق کو بہت زیادہ ناراض کرتی ہے۔
خواتین کیلئے خدا کی فکرمندی
خدا ہمیشہ سے خواتین اور اُنکی فلاحوبہبود کی بابت فکرمند رہا ہے۔ اگرچہ اُس نے ہمارے پہلے والدین کو یہ بتا دیا تھا کہ اُنکی سرکشی کی بدولت، ناکاملیت عورتوں کے ’زیرِتسلط آنے‘ کا باعث بنے گی، تاہم یہ کبھی بھی خدا کا مقصد نہیں تھا۔ (پیدایش ۳:۱۶) اُس نے حوّا کو آدم کی ”مددگار“ کے طور پر اور اُس کیلئے بطور ایک ساتھی کے خلق کِیا تھا۔ (پیدایش ۲:۱۸) قدیم اسرائیل کو دی گئی موسوی شریعت میں، یہوواہ نے خاص طور پر بیواؤں کیساتھ بدسلوکی کی مذمت کی تھی اور اسرائیلیوں کو اُن کیساتھ نرمی سے پیش آنے اور اُنکی مدد کرنے کی ہدایت کی تھی۔—خروج ۲۲:۲۲؛ استثنا ۱۴:۲۸، ۲۹؛ ۲۴:۱۷-۲۲۔
اپنے آسمانی باپ کی نقل میں، یسوع نے اپنے زمانے کی عام روایت کی پیروی نہیں کی تھی جو عورتوں کی ہتک کرتی تھی۔ وہ عورتوں کے ساتھ نرمی سے باتچیت کرتا تھا—اُن سے بھی جو بدنام تھیں۔ (لوقا ۷:۴۴-۵۰) مزیدبرآں، یسوع اُن خواتین کی مدد کرنے سے بھی خوش ہوتا تھا جو صحت کے مسائل سے دوچار تھیں۔ (لوقا ۸:۴۳-۴۸) ایک موقع پر، جب اُس نے ایک بیوہ کو اپنے اکلوتے بیٹے کی موت پر ماتم کرتے دیکھا تو وہ فوراً جنازے کے قریب گیا اور اُس نوجوان کو زندہ کر دیا۔—لوقا ۷:۱۱-۱۵۔
یسوع کے ابتدائی شاگردوں میں خواتین بھی شامل تھیں اور اُس کے زندہ کئے جانے کی پہلی گواہ تھیں۔ بائبل لدیہ، تبیتا اور پرسکہ جیسی خواتین کی مہماننوازی، ترس اور دلیری کی بہت زیادہ تعریف کرتی ہے۔ (اعمال ۹:۳۶-۴۱؛ ۱۶:۱۴، ۱۵؛ رومیوں ۱۶:۳، ۴) نیز ابتدائی مسیحیوں کو عورتوں کیلئے احترام دکھانے کی تربیت دی گئی تھی۔ پولس رسول نے اپنے مشنری ساتھی تیمتھیس کو بتایا کہ ”بڑی عمر والی عورتوں کو ماں جانکر اور جوان عورتوں کو کمال پاکیزگی سے بہن جانکر“ اُن کیساتھ پیش آئیں۔—۱-تیمتھیس ۵:۲۔
عورتیں جنہوں نے احترام حاصل کِیا ہے
اگر آپ ایک مسیحی مرد ہیں تو آپ عورتوں کیلئے اسی قسم کا احترام دکھائینگے۔ آپ کبھی بھی رسمورواج کو اُن کیساتھ بدسلوکی کرنے کا بہانہ نہیں بنائینگے۔ مزیدبرآں، خواتین کے ساتھ قابلِاحترام برتاؤ، آپ کے ایمان کی پُرجوش گواہی دے سکتا ہے۔ (متی ۵:۱۶) افریقہ سے تعلق رکھنے والی ایک جوان خاتون، سلیمہ بیان کرتی ہے کہ اُس نے مسیحی اُصولوں پر عمل کرنے سے کیسے استفادہ کِیا۔
”مَیں نے ایک ایسے گھرانے میں پرورش پائی جہاں عورتوں اور لڑکیوں کیساتھ بُرا سلوک کِیا جاتا تھا۔ میری والدہ دن میں ۱۶ گھنٹے کام کرتی تھی تاہم اگر کوئی کام چھوٹ جاتا تھا تو اس تمام کے صلے میں اُسے صرف جھڑکیاں ملتی تھیں۔ اس سے بھی بدتر بات یہ تھی کہ میرا باپ جب بہت زیادہ شراب پی لیتا تھا تو اُسے مارتاپیٹتا تھا۔ ہمارے علاقے کی دوسری عورتوں کیساتھ بھی اسی طرح کا سلوک کِیا جاتا تھا۔ تاہم، مَیں جانتی تھی کہ ایسا سلوک غلط تھا—یہ ہماری زندگیوں میں مایوسی اور غم کا زہر گھول رہا تھا۔ تاہم، اس حالت کو بدلنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی۔
”تاہم، جب مَیں نوعمر ہی تھی تو مَیں نے یہوواہ کے گواہوں کیساتھ بائبل کا مطالعہ شروع کر دیا۔ جب مَیں نے پطرس رسول کے الفاظ پڑھے تو مَیں بیحد متاثر ہوئی، جس نے کہا تھا کہ عورتوں کی عزت کی جانی چاہئے۔ مگر مَیں نے سوچا کہ ’خاص طور پر ہماری مقامی روایت کے پیشِنظر یہ ممکن نظر نہیں آتا کہ لوگ اس مشورت کا اطلاق کرینگے۔‘
”تاہم، جب مَیں کنگڈم ہال گئی، وہ جگہ جہاں گواہ اپنے اجلاس منعقد کرتے ہیں تو مرد اور عورتیں دونوں ہی میرے ساتھ نرمی سے پیش آئے۔ اس سے بھی حیرانکُن بات یہ تھی کہ اُن کے درمیان مرد اپنی بیویوں کی واقعی پرواہ کرتے تھے۔ جب مَیں وہاں کے لوگوں کو بہتر طور پر جاننے لگی تو مجھے معلوم ہوا کہ یہ ایک ایسی چیز ہے جسکا سب گواہوں سے تقاضا کِیا جاتا تھا۔ اگرچہ بعض مرد میری طرح کے پسمنظر ہی سے آئے تھے تاہم، اب وہ عورتوں کیساتھ عزت سے پیش آ رہے تھے۔ مَیں بھی اس بڑے خاندان کا حصہ بننا چاہتی تھی۔“
ایک مستقل حل
جس عزتواحترام کا سلیمہ نے مشاہدہ کِیا وہ محض اتفاقیہ نہیں تھا۔ وہ خدا کے کلام پر مبنی ایک تعلیمی پروگرام کا نتیجہ تھا جو لوگوں کی مدد کرتا ہے کہ ایک دوسرے کو ویسا ہی خیال کریں جیسا خدا خیال کرتا ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس وقت بھی کیا کِیا جا سکتا ہے اور یہ کہ جب تمام زمین پر مکمل طور پر خدا کی بادشاہت حکمرانی کریگی تو ہر جگہ کیا کچھ وقوعپذیر ہوگا۔ (دانیایل ۲:۴۴؛ متی ۶:۱۰) یہ آسمانی حکومت تمام طرح کی ناانصافی کا خاتمہ کریگی۔ بائبل ہمیں یقین دلاتی ہے: ”جب تیری [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] عدالت زمین پر جاری ہے تو دُنیا کے باشندے صداقت سیکھتے ہیں۔“—یسعیاہ ۲۶:۹۔
اب بھی، راستبازی میں تربیت لاکھوں لوگوں کی سوچ کو بدل رہی ہے۔ جب تمام زندہ انسان خدا کی بادشاہت کی رعایا ہونگے تو یہ تعلیم تمام زمین پر دی جائے گی اور آدم کے گناہ کے نتیجے میں عورتوں کیساتھ کئے جانے والے مردوں کے استبدادی سلوک کو ختم کرے گی۔ یسوع مسیح، خدا کا مقررہ بادشاہ، خواتین کیساتھ کی جانے والی اس ناانصافی کو اپنی حکمرانی کا ستیاناس کرنے کی اجازت نہیں دیگا۔ مسیح کی اُس حکمرانی کی منظرکشی کرتے ہوئے، بائبل بیان کرتی ہے: ”وہ محتاج کو جب وہ فریاد کرے اور غریب کو جسکا کوئی مددگار نہیں چھڑائیگا۔ وہ غریب اور محتاج پر ترس کھائیگا اور محتاجوں کی جان کو بچائیگا۔ وہ فدیہ دیکر اُنکی جان کو ظلم اور جبر سے چھڑائیگا۔“—زبور ۷۲:۱۲-۱۴۔
مضامین کے اس سلسلے نے خواتین کے مسائل کی طرف توجہ دلائی ہے۔ تاہم، یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ بہت سے مرد بھی بدسلوکی کا شکار ہوئے ہیں۔ شروع سے لیکر اب تک شریر آدمیوں نے مردوں اور عورتوں کے خلاف ناقابلِبیان تکالیف برپا کی ہیں۔ نیز بعض عورتوں نے بھی ایسا ہی کِیا ہے۔ مثال کے طور پر، بائبل ایزبل، عتلیاہ اور ہیرودیاس جیسی شریر عورتوں کے ہاتھوں بےگناہوں کے خون کی بابت بیان کرتی ہے۔—۱-سلاطین ۱۸:۴، ۱۳؛ ۲-تواریخ ۲۲:۱۰-۱۲؛ متی ۱۴:۱-۱۱۔
پس، تمام نوعِانسان کو خدا کی بادشاہتی حکمرانی کے تحت اُسکی نئی دُنیا کی ضرورت ہے۔ جلد ہی جب وہ دن طلوع ہوتا ہے تو مردوں اور عورتوں سے نہ تو بدسلوکی کی جائیگی اور نہ امتیازی سلوک روا رکھا جائیگا۔ اسکی بجائے، ہر ایک کیلئے ہر دن ”شادمان“ ہونے کا دن ہوگا۔—زبور ۳۷:۱۱۔
[صفحہ 13 پر تصویر]
مسیحی شوہر بائبل ہدایات کی پیروی کرتے اور اپنی بیویوں کا احترام کرتے اور اُنہیں عزت دیتے ہیں