خواتین اور اُنکے کام کی قدرافزائی کرنا
تین ہزار سال پہلے، لیموئیل نامی شخص نے ایک لائق بیوی کی شاندار کردارنگاری کی۔ یہ بائبل میں امثال کی کتاب کے ۳۱ باب میں درج ہے۔ جس خاتون کی خوبیوں کی اُس نے تعریف کی وہ یقیناً مصروف تھی۔ وہ اپنے خاندان کی دیکھبھال کرنے، کاروبار کرنے، زمین کی خریدوفروخت کرنے، اپنے گھرانے کیلئے کپڑے بنانے کے علاوہ کھیتوں میں بھی کام کرتی تھی۔
اس خاتون کو معمولی خیال نہیں کِیا جاتا تھا۔ ’اُس کے بچے اُسے مبارک کہتے اور اُسکا شوہر اُسکی تعریف کرتا تھا۔‘ ایسی بیوی ایک خزانہ ہے۔ بائبل بیان کرتی ہے، ”اُس کی قدر یاقوت سے بھی زیادہ ہے۔“—امثال ۳۱:۱۰-۲۸، نیو انٹرنیشنل ورشن۔
لیموئیل کے زمانے سے لیکر، خواتین کا کام اَور زیادہ پیچیدہ ہو گیا ہے۔ ۲۰ویں صدی میں اُنکا کردار اکثر اُن سے ہمہوقت—بیویاں، مائیں، آیائیں، اُستانیاں، کمانے والیاں اور کسان بننے کا تقاضا کرتا ہے۔ بیشمار خواتین محض اس بات کا اطمینان کرنے کیلئے کہ اُن کے بچوں کے پاس کھانے کیلئے کافی ہے، بڑی بڑی قربانیاں دیتی ہیں۔ کیا یہ تمام خواتین قدرافزائی اور تعریف کی مستحق نہیں ہیں؟
خواتین بطور کمانے والیاں
پہلے کی نسبت آجکل زیادہ خواتین کو اپنے خاندان کی کفالت میں مدد دینے کے لئے یا پھر خاندان کی واحد کفیل کے طور پر گھر سے باہر کام کرنا پڑتا ہے۔ کتاب ویمن اینڈ دی ورلڈ اکنامک کرائسز (خواتین اور دُنیا کے معاشی بحران) ایک رپورٹ کا ذکر کرتی ہے جس نے بیان کِیا تھا: ”گھریلو کامکاج ہی وہ واحد کام نہیں جو خواتین کرتی ہیں۔ دُنیا میں کہیں بھی ایسی خواتین نسبتاً کم ہی ہیں جو ’محض خاتونِخانہ‘ ہونے کا دعویٰ کر سکتی ہیں۔“ نیز خواتین کا کام شاذونادر ہی پُرکشش ہوتا ہے۔ اگرچہ رسائل یا ٹیلیویژن کے سلسلےوار ڈرامے شاید خواتین کی تصویرکشی شاندار دفاتر میں بطور اعلیٰافسران کے کرتے ہیں تو بھی حقیقت عموماً اس سے کافی مختلف ہوتی ہے۔ دُنیا میں خواتین کی بہت بڑی تعداد، معمولی اُجرت کیلئے طویل گھنٹوں تک سختمحنت کرتی ہیں۔
لاکھوں خواتین، فصلیں کاشت کرنے، خاندانی اراضی کے چھوٹے ٹکڑے کی دیکھبھال کرنے یا پھر مالمویشیوں کا خیال رکھنے کیساتھ ساتھ کھیتوں میں کام کرتی ہیں۔ یہ مزدوری—عموماً کم اجرت یا بغیر اجرت کے—نصف دُنیا کیلئے خوراک فراہم کرتی ہے۔ ”افریقہ میں، ۷۰ فیصد اناج خواتین اُگاتی ہیں، ایشیا میں یہ تعداد ۵۰ سے ۶۰ فیصد ہے اور لاطینی امریکہ میں ۳۰ فیصد،“ کتاب ویمن اینڈ دی انوارئنمنٹ رپورٹ دیتی ہے۔
جب خواتین کی ملازمت تنخواہدار بھی ہوتی ہے تو وہ عموماً مرد کارکنوں سے کم کماتی ہیں محض اسلئےکہ وہ خواتین ہیں۔ یہ بدسلوکی بالخصوص اُس ماں کیلئے ناقابلِبرداشت ہوتی ہے جو خاندان کی واحد کمانے والی ہوتی ہے، ایک ایسا کردار جو دنبدن عام ہوتا جا رہا ہے۔ اقوامِمتحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق افریقہ، کریبیئن اور لاطینی امریکہ میں تمام خاندانوں کا ۳۰ سے ۵۰ فیصد، اپنے واحد کفیل کے طور پر عورت پر انحصار کرتے ہیں۔ علاوہازیں زیادہ ترقییافتہ ممالک میں بھی، خواتین کی زیادہ سے زیادہ تعداد کو بنیادی طور پر کفالت کرنے والا بننا پڑ رہا ہے۔
ترقیپذیر دُنیا کے بہت بڑے حصے میں دیہی غربت اس رُجحان کو فروغ دے رہی ہے۔ ایک شوہر جو یہ محسوس کرتا ہے کہ خاندان کی کفالت کرنا کافی مشکل ہوتا جا رہا ہے وہ کام حاصل کرنے کیلئے کسی قریبی شہر یا دوسرے مُلک جانے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔ وہ اپنی بیوی کو خاندان کی دیکھبھال کرنے کیلئے پیچھے چھوڑ جاتا ہے۔ اگر خوشقسمتی سے اُسے کام مل جاتا ہے تو وہ گھر پیسے بھیجتا رہتا ہے۔ تاہم اُسکے نیک ارادوں کے باوجود، اکثر یہ جاری نہیں رہتا۔ خاندان جو اُس نے پیچھے چھوڑا تھا وہ شاید اَور زیادہ غربت کا شکار ہو جائے اور اُن کی فلاحوبہبود کا انحصار اب ماں پر ہوتا ہے۔
بُرائی کا یہ سلسلہ، جسے موزوں طور پر ”نسائی غربت“ کے طور پر بیان کِیا گیا ہے، لاکھوں خواتین پر بہت زیادہ بوجھ ڈال دیتا ہے۔ ”خاندان جن کی پیشوائی خواتین کرتی ہیں جو اندازاً دُنیا کی کُل تعداد کا تیسرا حصہ ہیں، وہ اکثر اُنکی نسبت زیادہ غریب ہوتے ہیں جنکی پیشوائی مرد کرتے ہیں اور ایسے گھرانوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے،“ کتاب ویمن اینڈ ہیلتھ بیان کرتی ہے۔ تاہم اگرچہ یہ مشکل ہے تو بھی کھانا فراہم کرنا ہی واحد چیلنج نہیں ہے جسکا خواتین کو سامنا ہے۔
مائیں اور اُستانیاں
ایک ماں کو اپنے بچوں کی جذباتی ضروریات کا بھی خیال رکھنا پڑتا ہے۔ وہ بچے کو محبت اور شفقت کی بابت سیکھنے میں مدد دینے کیلئے اہم کردار ادا کرتی ہے—ایسے اسباق جو اُسکی جسمانی ضروریات کی تسکین کی طرح ہی ضروری ہو سکتے ہیں۔ ایک متوازن بالغ بننے کیلئے ایک بچے کو پرورش پاتے وقت پُرتپاک، محفوظ ماحول کی ضرورت ہے۔ ایک بار پھر ماں کا کردار فیصلہکُن بن جاتا ہے۔
کتاب دی ڈیویلپنگ چائلڈ میں ہیلن بی لکھتی ہیں: ”ایک پُرتپاک ماںیاباپ بچے کی فکر رکھتا ہے، شفقت کا اظہار کرتا ہے، اکثروبیشتر یا باقاعدگی کیساتھ بچے کی ضروریات کو مقدم رکھتا ہے، بچے کی کارگزاریوں کیلئے گرمجوشی دکھاتا ہے اور بچے کے احساسات کو فوراً محسوس کرتا اور ہمدردی کا اظہار کرتا ہے۔“ جن بچوں نے پرواہ کرنے والی ماں سے ایسی محبت پائی ہے اُنہیں یقینی طور پر اُس کیلئے اپنی قدردانی کا اظہار کرنا چاہئے۔—امثال ۲۳:۲۲۔
چھاتی سے دُودھ پلانے کے ذریعے، بیشتر مائیں اپنے بچے کیلئے پیدائش کے وقت ہی سے پُرتپاک ماحول فراہم کرتی ہیں۔ خاص طور پر غریب گھرانوں میں ماں کا اپنا دُودھ ایک انمول نعمت ہے جو وہ اپنے نوزائیدہ بچے کو دے سکتی ہے۔ (صفحہ ۱۰-۱۱ پر بکس کو دیکھیں۔) دلچسپی کی بات ہے کہ بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ پولس رسول نے تھسلنیکے کی کلیسیا کیلئے اپنی پُرتپاک شفقت کا موازنہ ایک ”ماں“ کیساتھ کِیا جو ”اپنے بچوں کو پالتی ہے۔“—۱-تھسلنیکیوں ۲:۷، ۸۔
اپنے بچوں کو دُودھ پلانے اور پالنے کے علاوہ، ماں اکثر اپنے بچوں کی بنیادی اُستاد ہوتی ہے۔ اپنے بچوں کو تعلیم دینے کے سلسلے میں مائیں جو وسیع کردار ادا کرتی ہیں اُسکی طرف اشارہ کرتے ہوئے بائبل نصیحت کرتی ہے، ”اَے میرے بیٹے! اپنے باپ کی تربیت پر کان لگا اور اپنی ماں کی تعلیم کو ترک نہ کر۔“ (امثال ۱:۸) عام طور پر یہ ماں یا نانی یا دادی ہی ہوتی ہے جو بڑے صبر کیساتھ بچے کو بولنا، چلنا اور گھر کا کامکاج اور دیگر بیشمار باتیں سکھاتی ہے۔
رحم کی بہت زیادہ ضرورت ہے
ایک عظیمترین تحفہ جو عورتیں اپنے خاندانوں کو دے سکتی ہیں وہ رحم ہی ہے۔ جب خاندان کا کوئی فرد بیمار پڑ جاتا ہے تو اپنی تمامتر دیگر ذمہداریوں کو خوشاسلوبی سے پورا کرتے ہوئے، ماں ایک نرس کی ذمہداری سنبھال لیتی ہے۔ ”درحقیقت دُنیا میں بڑی حد تک خواتین ہی صحت کی نگہداشت کا کام انجام دیتی ہیں،“ کتاب ویمن اینڈ ہیلتھ بیان کرتی ہے۔
ایک ماں کا رحم اُسے یہ بھی تحریک دے سکتا ہے کہ خود کم کھائے تاکہ اُس کے بچے بھوکے نہ سوئیں۔ ماہرین نے دریافت کِیا ہے کہ بعض خواتین اپنی خوراک کو کافی خیال کرتی ہیں اگرچہ وہ غذا کی کمی کا شکار ہو رہی ہوتی ہیں۔ وہ اپنے شوہروں اور بچوں کو زیادہ حصہ دینے کی اتنی عادی ہو جاتی ہیں کہ جبتک وہ کام کر سکتی ہیں وہ محسوس کرتی ہیں کہ وہ مناسب خوراک لے رہی ہیں۔
بعضاوقات ایک عورت کا رحم مقامی گردوپیش کیلئے اُس کی فکرمندی سے ظاہر ہوتا ہے۔ اُسے اس گردوپیش کی فکر ہوتی ہے چونکہ جب خشکسالی، اُجاڑ بیابان اور جنگلات کا خاتمہ مُلک کو مفلس بناتے ہیں تو وہ بھی متاثر ہوتی ہے۔ انڈیا کے ایک قصبے میں، جب خواتین کو یہ معلوم ہوا کہ عمارتی لکڑی کاٹنے والی ایک کمپنی قریب کے جنگل میں تقریباً ۲،۵۰۰ درخت کاٹنے والی ہے تو وہ سخت طیش میں آ گئیں۔ خواتین کو خوراک، ایندھن اور چارے کیلئے ان درختوں کی ضرورت تھی۔ جب لکڑیاں کاٹنے والے آئے تو خواتین پہلے ہی سے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے، درختوں کے گرد حصار باندھے وہاں موجود تھیں۔ اُن خواتین نے لکڑی کاٹنے والوں سے کہا، ’اگر تُم درختوں کو کاٹنا چاہتے ہو تو تمہیں پہلے ہمارے سر کاٹنے ہونگے۔‘ یوں جنگل کو بچا لیا گیا۔
”اُسکی محنت کا اجر اُسے دو“
خواہ روٹی کمانے والی، ماں، اُستانی یا پھر رحم کے سرچشمے کے کردار میں ہی کیوں نہ ہو، عورت اُتنی ہی عزت اور قدرافزائی کی مستحق ہے جتناکہ اُسکا کام ہے۔ دانشمند آدمی لیموئیل، جس نے ایک لائق بیوی کی اتنی زیادہ تعریف کی، اُس نے ایک عورت کے کام اور اُسکی مشورت دونوں کی قدر کی۔ درحقیقت، بائبل واضح کرتی ہے کہ اُسکا پیغام بڑی حد تک اُس تعلیم سے مشتق تھا جو اُسکی ماں نے اُسے دی تھی۔ (امثال ۳۱:۱) لیموئیل اس بات پر یقین رکھتا تھا کہ ایک فرضشناس بیوی اور ماں کو معمولی خیال نہیں کِیا جانا چاہئے۔ ”اُسکی محنت کا اجر اُسے دو،“ اُس نے لکھا۔ ”اُسکے کام مجلس میں اُسکی ستایش کا باعث بنتے ہیں۔“—امثال ۳۱:۳۱، اینآئیوی۔
تاہم، جب لیموئیل نے ان نظریات کو قلمبند کِیا تو وہ محض انسانی سوچ کی عکاسی نہیں تھے۔ وہ بائبل میں مرقوم ہیں جوکہ خدا کا کلام ہے۔ ”ہر ایک صحیفہ خدا کے الہام سے ہے۔“ (۲-تیمتھیس ۳:۱۶) یہ ذہنی اور جذباتی احساسات عورتوں کی بابت قادرِمطلق خدا کے نظریے کو منعکس کرتے ہیں چونکہ خدا نے ہماری راہنمائی کے لئے بائبل کے ان اقتباسات کا الہام بخشا تھا۔
مزیدبرآں، خدا کا الہامی کلام بیان کرتا ہے کہ شوہروں کو ”[اپنی بیویوں] کی عزت“ کرنی چاہئے۔ (ا-پطرس ۳:۷) نیز افسیوں ۵:۳۳ میں، شوہر سے کہا گیا ہے: ”بہرحال تُم میں سے بھی ہر ایک اپنی بیوی سے اپنی مانند محبت رکھے۔“ درحقیقت، افسیوں ۵:۲۵ بیان کرتی ہے: ”اے شوہرو! اپنی بیویوں سے محبت رکھو جیسے مسیح نے بھی کلیسیا سے محبت کر کے اپنے آپ کو اُسکے واسطے موت کے حوالہ کر دیا۔“ جیہاں، مسیح نے اپنے پیروکاروں کیلئے ایسی محبت ظاہر کی کہ وہ اُن کیلئے جان دینے کو تیار تھا۔ اُس نے شوہروں کیلئے کیا ہی عمدہ، بےلوث نمونہ قائم کِیا! لہٰذا جن معیاروں کی یسوع نے تعلیم دی اور جن پر وہ پورا اُترا اُنہوں نے خدا کے معیاروں کی عکاسی کی جو ہمارے فائدے کیلئے بائبل میں قلمبند ہیں۔
تاہم، اتنے زیادہ حلقوں میں اُنکی سخت محنت کے باوجود، بہتیری عورتوں کو شاذونادر ہی اُس کام کا صلہ ملتا ہے جو وہ کرتی ہیں۔ تاہم وہ زندگی میں اپنا نصیبہ اب بھی کیسے بہتر بنا سکتی ہیں؟ نیز، کیا اس بات کا کوئی امکان ہے کہ اُنکی بابت رویوں میں تبدیلی آئیگی؟ خواتین کیلئے آئندہ کیا امکانات ہیں؟
[صفحہ 8 پر تصویر]
مائیں گھر میں اُستانیاں ہیں
[صفحہ 8 پر تصویر]
بہت سی خواتین کو خستہ حالتوں میں کام کرنا پڑتا ہے
[صفحہ 9 پر تصویر]
مغربی دُنیا میں بیشتر خواتین دفاتر میں کام کرتی ہیں