جاپان میں مسیح کی قبر؟
شنٹو پریسٹ، کوما ٹیکوچی نے ۱۹۳۵ میں یہ اعلان کِیا کہ اس نے شمالی جاپان کے گاؤں شینگھو میں ایک پہاڑی پر یسوع مسیح کی قبر دریافت کی ہے۔ اس نے یہ بھی دعویٰ کِیا کہ خاندانی گودام سے ملنے والی دستاویزات کے مطابق، یسوع کچھ عرصہ شینگھو میں رہا اور یہیں وفات پائی۔ یسوع کی قبر کی کھوج میں وہ ایک ٹیلے پر گیا اور سمجھ لیا کہ یہی قبر تھی۔
علاوہازیں، ٹیکوچی کے خاندانی تبرکات میں سے ملنے والی ایک عبرانی دستاویز نے بیان کِیا کہ یسوع دو مرتبہ جاپان آیا تھا اور جاپانی پجاریوں کیساتھ تصوف کا مطالعہ بھی کِیا تھا۔ سرگزشت مبیّنہ طور پر بیان کرتی ہے کہ جب اُسے دھوکہ دیا گیا تو وہ یہودیہ سے سائبریا کے بیابان کو بھاگ گیا، اسکے بعد جاپان کی طرف سفر کِیا، ایک مقامی لڑکی میکو سے شادی کی، تین لڑکیوں کا باپ بنا اور ۱۰۶ سال کی عمر میں وفات پائی۔ اس کہانی کے مطابق، یروشلیم میں جس شخص کو موت کے گھاٹ اُتارا گیا وہ یسوع نہیں تھا بلکہ اسکا چھوٹا بھائی عیسوکری تھا۔
ایسی کہانی کا مقصد کیا ہو سکتا ہے؟ اخبار میانچی شمبن کے مطابق، یسوع اور شینگھو کے درمیان تعلق ”کا مطلب معاشی ترقی کے امکانات ہیں جس سے مقامی اربابِاختیار باخبر ہیں۔“ پس زیارت کرنے کی حوصلہافزائی کی گئی ہے۔ تاہم مزید تحقیق نہیں کی گئی۔ ”فرض کریں کہ اگر قبر کھودی گئی ہوتی اور انہیں وہاں سے گائے کی پُرانی ہڈیوں کے سوا کچھ نہ ملتا،“ مشاہدہ کرنے والے ایک شخص نے بیان کِیا۔ ”تو ذرا تصور کریں کہ سب کو کتنی مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا۔“
لہٰذا ہر سال مئی ۳ کو زائرین بڑی فرضشناسی کیساتھ یسوع کی مبیّنہ قبر کے پاس ”مسیح کی عید“ منانے کے لئے جمع ہوتے ہیں۔ ایک شنٹو پریسٹ اس تقریب کی صدارت کرتا ہے اور رقص شروع ہونے سے پہلے بدروحوں کو بھگا دیتا ہے۔
کیا اس کہانی میں کچھ صداقت پائی جاتی ہے؟ جینہیں۔ بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ ۳۰ سال کی عمر میں، یسوع ایک سیاح کے طور پر نہیں بلکہ ایک بڑھئی کے بیٹے کے طور پر جانا جاتا تھا جس نے ناصرت میں پرورش پائی تھی۔ چاروں اناجیل میں اسرائیل میں ۳۰ سے ۳۳ سال کی عمر تک مسیح کی منادی کا آنکھوں دیکھا حال پایا جاتا ہے۔ ان میں مقامات اور تاریخیں درج ہیں اور وہ اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ یروشلیم میں ہلاک کِیا جانے والا شخص بذاتِخود یسوع مسیح ہی تھا۔ پس حقیقی مسیحی، خودغرضانہ مفادات کیلئے بائبل سچائی کو بگاڑنے والی ایسی لغو رپورٹوں سے گمراہ نہیں ہوتے۔