خدا کے ابتدائی خادموں کے درمیان عورتوں کا باوقار کردار
”یہوؔواہ خدا کہنے لگا: ’آدمی کا اکیلے رہنا اچھا نہیں۔ مَیں اُس کیلئے ایک مددگار، اُسکی ایک مثل بناؤنگا۔‘“—پیدایش ۲:۱۸، اینڈبلیو۔
۱. ایک بائبل ڈکشنری قدیم وقتوں میں عورتوں کے حصے بخرے کو کیسے بیان کرتی ہے؟
”قدیم مسوپتامیہ یا مشرقِ قریب میں کہیں بھی عورتوں کو وہ آزادی نہیں دی گئی تھی جس سے وہ جدید مغربی معاشرے میں لطف اُٹھاتی ہیں۔ عورتوں کا آدمیوں سے کمتر ہونے کا رواج عام تھا، جیسے غلام آزاد سے تھے، اور جوان لوگ بڑی عمر کے لوگوں سے۔ . . . لڑکوں کو لڑکیوں سے زیادہ اعلیٰ قدر خیال کِیا جاتا تھا، اور لڑکیوں کو بعضاوقات مرنے کیلئے موسم کی سختیوں سے غیرمحفوظ چھوڑ دیا جاتا تھا۔“ ایک بائبل ڈکشنری قدیم وقتوں میں عورتوں کے حصے بخرے کو یوں بیان کرتی ہے۔
۲، ۳. (ا) ایک رپورٹ کے مطابق، آجکل بہت سی عورتوں کی حالت کیسی ہے؟ (ب) کونسے سوالات اُٹھائے جاتے ہیں؟
۲ آجکل دُنیا کے بہت سے حصوں میں حالت کچھ زیادہ بہتر نہیں ہے۔ ۱۹۹۴ میں، پہلی مرتبہ، یو.ایس. سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی انسانی حقوق پر مبنی سالانہ رپورٹ نے اپنی توجہ عورتوں کیساتھ سلوک پر مبذول کی۔ ”۱۹۳ ممالک کے مبیّنہ حقائق روزبروز کے امتیاز کو ایک حقیقت ظاہر کرتے ہیں،“ رپورٹ کی بابت نیو یارک ٹائمز کی ایک سرخی نے بیان کِیا۔
۳ چونکہ پوری دُنیا میں مختلف ثقافتی پسِمنظر رکھنے والی عورتوں کی بڑی تعداد یہوؔواہ کے لوگوں کی کلیسیاؤں کیساتھ رفاقت رکھتی ہے تو کچھ سوال پیدا ہوتے ہیں: تھوڑی دیر پہلے جس طرح کے سلوک کا ذکر کِیا گیا ہے کیا خدا نے ابتدا میں عورتوں کے لئے ایسا ہی ارادہ کِیا تھا؟ بائبل وقتوں میں یہوؔواہ کے پرستاروں کے درمیان عورتوں کے ساتھ کیسا سلوک کِیا جاتا تھا؟ اور آجکل عورتوں کے ساتھ کیسا سلوک کِیا جانا چاہئے؟
”ایک مددگار“ اور ”ایک مثل“
۴. پہلے آدمی کے باغِعدؔن میں کچھ وقت کیلئے تنہا رہنے کے بعد یہوؔواہ نے کیا کہا، اور اسکے بعد خدا نے کیا کِیا؟
۴ آؔدم کے باغِعدؔن میں کچھ وقت تک تنہا رہنے کے بعد، یہوؔواہ نے کہا: ”آدمی کا اکیلے رہنا اچھا نہیں۔ مَیں اُس کیلئے ایک مددگار، اُسکی ایک مثل بناؤنگا۔“ (پیدایش ۲:۱۸، اینڈبلیو) اگرچہ آؔدم کامل آدمی تھا تو بھی خالق کے مقصد کو پورا کرنے کی خاطر کسی اَور چیز کی ضرورت تھی۔ اُس ضرورت کو پورا کرنے کیلئے، یہوؔواہ نے عورت کو خلق کِیا اور پہلی شادی انجام دی۔—پیدایش ۲:۲۱-۲۴۔
۵. (ا) عبرانی اسم بمعنی ”مددگار“ کو بائبل نویسوں نے اکثر کیسے استعمال کِیا ہے؟ (ب) اس حقیقت سے کیا ثابت ہوتا ہے کہ یہوؔواہ نے پہلی عورت کا حوالہ بطور ”ایک مثل“ کے دیا؟
۵ کیا الفاظ ”مددگار“ اور ”مثل“ ظاہر کرتے ہیں کہ خدا کی طرف سے تفویضکردہ عورت کا کردار کمتر تھا؟ اِسکے بالکل برعکس۔ بائبلنویس اکثر عبرانی اسم (ایزر) خدا کیلئے استعمال کرتے ہیں، جسکا ترجمہ ”مددگار“ کِیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر، یہوؔواہ ”ہماری کمک [”مددگار،“ اینڈبلیو] اور سپر“ ثابت ہوتا ہے۔ (زبور ۳۳:۲۰؛ خروج ۱۸:۴؛ استثنا ۳۳:۷) ہوسیع ۱۳:۹ میں، یہوؔواہ خود اپنا حوالہ اسرائیل کے ”مددگار“ کے طور پر دیتا ہے۔ جہاں تک عبرانی لفظ (نیگہد) کے ترجمے ”مثل“ کا تعلق ہے تو ایک بائبل عالم وضاحت کرتا ہے: ”جس مدد کی توقع کی گئی وہ محض روزمرہ کے کامکاج یا بچوں کی افزائش میں اعانت ہی نہیں ہے . . . بلکہ باہمی مدد رفاقت مہیا کرتی ہے۔“
۶. عورت کی تخلیق کے بعد کیا کہا گیا تھا، اور کیوں؟
۶ لہٰذا یہوؔواہ کی طرف سے عورت کو ”ایک مددگار“ اور ”ایک مثل“ کے طور پر بیان کرنا کوئی کمتر کرنے والی بات نہیں ہے۔ عورت اپنی منفرد ذہنی، جذباتی، اور جسمانی ساخت رکھتی تھی۔ وہ آدمی کے لئے ایک موزوں مثل، ایک تسلیبخش جزوِلازم تھی۔ ہر ایک مختلف تھا، تاہم ہر ایک خالق کے مقصد کی مطابقت میں ”زمین کو معمور“ کرنے کے لئے ضروری تھا۔ ظاہری طور پر یہ آدمی اور عورت دونوں کی تخلیق کے بعد تھا کہ ”خدا نے سب پر جو اُس نے بنایا تھا نظر کی اور دیکھا کہ بہت اچھا ہے۔“—پیدایش ۱:۲۸، ۳۱۔
۷، ۸. (ا) عدؔن میں گناہ کی ابتدا کیساتھ، عورت کا کردار کیسے متاثر ہوگا؟ (ب) یہوؔواہ کے پرستاروں کے درمیان پیدایش ۳:۱۶ کی تکمیل کی بابت کونسے سوالات اُٹھائے جاتے ہیں؟
۷ گناہ کے وارد ہونے کے ساتھ، آدمی اور عورت کے لئے حالت بدل گئی۔ یہوؔواہ نے دونوں کو گنہگاروں کے طور پر سزا سنا دی۔ جس انجامکار صورت کی وہ اجازت دیتا ہے اُس کا ذکر کرتے ہوئے گویا کہ اسی نے یہ کِیا تھا، یہوؔواہ نے حوؔا سے کہا: ”مَیں تیرے دردِحمل کو بہت بڑھاؤنگا۔“ اُس نے اضافہ کِیا: ”تُو درد کے ساتھ بچے جنے گی اور تیری رغبت اپنے شوہر کی طرف ہوگی اور وہ تجھ پر حکومت کرے گا۔“ (پیدایش ۳:۱۶) اُس وقت سے لیکر، بہتیری بیویوں پر، اُن کے شوہروں نے، اکثراوقات سختی سے حکومت کی ہے۔ مددگاروں اور مثلوں کے طور پر قدر کئے جانے کی بجائے، اُن کے ساتھ اکثروبیشتر نوکروں یا غلاموں جیسا سلوک زیادہ کِیا گیا ہے۔
۸ تاہم، پیدایش ۳:۱۶ کی تکمیل کا یہوؔواہ کی ناری پرستاروں کیلئے کیا مطلب تھا؟ کیا اُنہیں کمتر اور ذلیل مرتبہ تک محدود کِیا گیا تھا؟ ہرگز نہیں! لیکن اُن بائبل سرگزشتوں کی بابت کیا ہے جو عورتوں پر اثرانداز ہونے ہونے والے اُن رسمورواج اور دستورات کی بابت بتاتی ہیں جو شاید آجکل بعض معاشروں میں ناقابلِقبول دکھائی دیتے ہیں؟
بائبل کے رسمورواج کو سمجھنا
۹. جب ہم بائبل وقتوں میں عورتوں سے متعلق رسمورواج پر غور کرتے ہیں تو ہمیں کونسی تین باتیں ذہن میں رکھنی چاہئیں؟
۹ بائبل وقتوں میں خدا کے خادموں کے درمیان عورتوں کے ساتھ بہت اچھا سلوک کِیا جاتا تھا۔ بِلاشُبہ، اُن دنوں میں عورتوں سے متعلق رسمورواج پر غوروخوض کرتے ہوئے، کئی چیزوں کو ذہن میں رکھنا مفید ہے۔ اوّل، جب بائبل ناخوشگوار حالتوں کی بابت بتاتی ہے جو شریر مردوں کے ذریعے خودغرضانہ تسلط کی وجہ سے پیدا ہو گئیں تو اِسکا یہ مطلب نہیں کہ خدا نے عورتوں کیساتھ ایسے سلوک کو پسند کِیا۔ دوئم، اگرچہ یہوؔواہ نے بعض رسمورواج کو اپنے خادموں کے اندر کچھ وقت کیلئے برداشت کِیا تو بھی اس نے عورتوں کو تحفظ دینے کی خاطر اُن رسمورواج کو باضابطہ بنایا۔ سوئم، ہمیں محتاط ہونا چاہئے کہ قدیم رسمورواج کو جدید معیاروں سے نہ پرکھیں۔ بعض رسمورواج جو آجکل رہنے والے لوگوں کو ناخوشگوار دکھائی دے سکتے ہیں ضروری طور پر اُس وقت کی عورتوں کے ذریعے فرسودہ خیال نہیں کئے گئے تھے۔ آئیے بعض مثالوں پر غور کریں۔
۱۰. یہوؔواہ نے کثرتِازدواج کے دستور کو کیسا خیال کِیا، اور کیا چیز ظاہر کرتی ہے کہ اُس نے یکزوجگی کے اپنے ابتدائی مقصد کو کبھی رَدّ نہیں کِیا تھا؟
۱۰ کثرتِازدواج:a یہوؔواہ کے ابتدائی مقصد کے مطابق، ایک عورت دوسری عورت کو اپنے شوہر میں شریک نہیں کریگی۔ خدا نے آؔدم کیلئے صرف ایک بیوی خلق کی۔ (پیدایش ۲:۲۱، ۲۲) عدؔن میں بغاوت کے بعد، کثرتِازدواج کا رواج پہلی مرتبہ قائنؔ کے خاندان میں چلا۔ انجامکار یہ ایک دستور بن گیا اور یہوؔواہ کے بعض پرستاروں نے اپنا لیا تھا۔ (پیدایش ۴:۱۹؛ ۱۶:۱-۳؛ ۲۹:۲۱-۲۸) اگرچہ یہوؔواہ نے کثرتِازدواج کی اجازت دی اور اِس نے اسرائیل کی آبادی کو بڑھانے کا کام دیا تو بھی اُس نے اُس دستور کو ایک نظام کے تحت لانے سے عورتوں کیلئے پاسولحاظ دکھایا اِس طرح بیویاں اور اُنکے بچے محفوظ رہینگے۔ (خروج ۲۱:۱۰، ۱۱؛ استثنا ۲۱:۱۵-۱۷) علاوہازیں، یہوؔواہ نے یکزوجگی کے اپنے ابتدائی معیار کو ترک نہ کِیا۔ نوؔح اور اُسکے بیٹے، جنہیں ’بڑھنے اور زمین کو معمور کرنے‘ کا حکم دیا گیا تھا، سب یکزوجگی والے تھے۔ (پیدایش ۷:۷؛ ۹:۱؛ ۲-پطرس ۲:۵) خدا نے اسرائیل کے ساتھ اپنے رشتے کی علامت پیش کرتے ہوئے خود کی یکزوجہ والے شوہر کے طور پر تصویرکشی کی۔ (یسعیاہ ۵۴:۱، ۵) پھر، یسوؔع مسیح نے بھی یکزوجگی کے خدا کے ابتدائی معیار کو دوبارہ قائم کِیا اور پہلی مسیحی کلیسیا میں اِسے عمل میں لایا جاتا تھا۔—متی ۱۹:۴-۸؛ ۱-تیمتھیس ۳:۲، ۱۲۔
۱۱. بائبل وقتوں میں مہر (دلہن کی قیمت) کیوں ادا کیا جاتا تھا، اَور کیا اس سے عورتوں کی تذلیل ہوتی تھی؟
۱۱ مَہر (دلہن کی قیمت) ادا کرنا: کتاب اینشنٹ ازرائیل—اٹس لائف اینڈ انسٹیٹیوشنز بیان کرتی ہے: ”لڑکی کے خاندان کو ایک رقم، یا اسکے مساوی کچھ ادا کرنے کی ذمہداری بظاہر اسرائیلی شادی کو ایک قِسم کی خرید کی ظاہری شکل دیتی ہے۔ لیکن بطور معاوضہ خاندان کو ادا کی جانے والی [دلہن کی قیمت یعنی مہر] زیادہتر عورت کیلئے اداکردہ قیمت سے تعلق رکھتی ہوئی دکھائی نہیں دیتی۔“ (نسخ عبارت ہماری۔) پس دلہن کی قیمت کی ادائیگی عورت کے خاندان کیلئے اُسکی خدمات کے فقدان اور اُسکی پرورش کرنے میں درکار اُسکے خاندان کے اخراجات کی تلافی کرنے کا کام دیتی ہے۔ تو پھر یہ عورت کو کمقدر کرنے کی بجائے، اُسکے خاندان کیلئے اُسکی قدروقیمت کی تصدیق کرتی ہے۔—پیدایش ۳۴:۱۱، ۱۲؛ خروج ۲۲:۱۶؛ دیکھیں مینارِنگہبانی، اگست، ۱۹۸۹، صفحات ۲۱-۲۵۔
۱۲. (ا) بعضاوقات صحائف میں شادیشُدہ مردوں اور عورتوں کا کیسے ذکر کِیا گیا ہے، اَور کیا یہ اصطلاحیں عورتوں کے لئے ناگوار تھیں؟ (ب) عدؔن میں یہوؔواہ نے جو اصطلاحیں استعمال کیں اُن کی بابت قابلِذکر بات کیا ہے؟ (فٹنوٹ دیکھیں۔)
۱۲ شوہر بحیثیت ”مالکان“: ۱۹۱۸ ق.س.ع. کے قریب اؔبرہام اور ساؔرہ کی زندگی میں ایک واقعہ ظاہر کرتا ہے یہ کہ اُن کے زمانے تک واضح طور پر شادیشُدہ مرد کو ”مالک“ (عبرانی، بعل) کے طور پر اور شادیشُدہ عورت کو ’ملکیت‘ (عبرانی، بیولہا) کے طور پر خیال کرنا رواج بن چکا تھا۔ (پیدایش ۲۰:۳، اینڈبلیو) اِس کے بعد یہ اظہارات بعضاوقات صحائف میں بھی استعمال ہوئے ہیں، اور اِسکا کوئی اشارہ نہیں ملتا کہ مسیحی زمانے سے پہلے کی عورتوں نے اِنہیں ناگوار پایا۔b (استثنا ۲۲:۲۲) تاہم عورتوں کیساتھ جائداد کے ٹکڑوں کے طور پر سلوک نہیں کِیا جانا تھا۔ جائداد یا دولت خریدی، فروخت، اور ورثے میں بھی حاصل کی جا سکتی تھی، لیکن بیوی کے معاملے میں ایسا نہیں تھا۔ ”گھر اور مال تو باپدادا سے میراث میں ملتے ہیں،“ ایک بائبل مثل کہتی ہے، ”لیکن دانشمند بیوی خداوند سے ملتی ہے۔“—امثال ۱۹:۱۴؛ استثنا ۲۱:۱۴۔
ایک باوقار کردار
۱۳. جب خداترس آدمیوں نے یہوؔواہ کے نمونے کی پیروی کی اور اسکی شریعت کی فرمانبرداری کی تو عورتوں کیلئے کیا نتیجہ نکلا؟
۱۳ تو پھر، زمانۂ مسیحیت سے پہلے کے وقتوں میں خدا کے خادموں کے درمیان عورت کا کیا کردار تھا؟ اُنہیں کیسا خیال کِیا جاتا اور اُنکے ساتھ کیسا برتاؤ کِیا جاتا تھا؟ سادہ سی بات ہے کہ جب خداپرست آدمیوں نے یہوؔواہ کے اپنے نمونے کی پیروی کی اور اُسکی شریعت کی فرمانبرداری کی تو عورتوں نے بھی اپنے وقار کو قائم رکھا اور بہت سے حقوق اور استحقاقات سے استفادہ کِیا۔
۱۴، ۱۵. اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ اسرائیل میں عورتوں کا احترام کِیا جاتا تھا، اور کیوں یہوؔواہ جائز طور پر اپنے مرد پرستاروں سے اُنکا احترام کرنے کی توقع کر سکتا تھا؟
۱۴ عورتوں کی عزت کی جانی تھی۔ خدا کی شریعت نے اؔسرائیل کو حکم دیا تھا کہ باپ اور ماں دونوں کی عزت کی جائے۔ (خروج ۲۰:۱۲؛ ۲۱:۱۵، ۱۷) ”تم میں سے ہر ایک اپنی ماں اور اپنے باپ سے ڈرتا رہے،“ احبار ۱۹:۳ کہتی ہے۔ ایک موقع پر جب بتؔسبع اپنے بیٹے سلیماؔن کے پاس گئی تو احتراماً ”بادشاہ اُسکے استقبال کے واسطے اُٹھا اور اُس کے سامنے جھکا۔“ (۱-سلاطین ۲:۱۹) انسائیکلوپیڈیا جوڈیکا بیان کرتا ہے: ”اؔسرائیل کیلئے خدا کی محبت کا ایک شوہر کی اپنی بیوی کیلئے محبت کا نبوتی موازنہ صرف ایک ایسے معاشرے میں ہی کِیا جا سکتا تھا جس میں عورتوں کا احترام کِیا جاتا تھا۔“
۱۵ یہوؔواہ اپنے مرد پرستاروں سے توقع کرتا ہے کہ عورتوں کا احترام کریں کیونکہ وہ اُنکا احترام کرتا ہے۔ اسکی دلالت اُن صحائف میں ملتی ہے جن میں یہوؔواہ عورتوں کے تجربات کو مثال کے طور پر استعمال کرتا ہے اور خود اپنے احساسات کو عورتوں کے احساسات سے مشابہت دیتا ہے۔ (یسعیاہ ۴۲:۱۴؛ ۴۹:۱۵؛ ۶۶:۱۳) یہ قارئین کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ یہوؔواہ کیسے محسوس کرتا ہے۔ دلچسپی کی بات ہے کہ ”رحم“ یا ”ترس“ کیلئے عبرانی اصطلاح جسے یہوؔواہ اپنے اوپر عائد کرتا ہے وہ لفظ ”رِحم“ سے بہت گہرا تعلق رکھتا ہے اور اُسے بطور ”مادرانہ احساسات“ کے بیان کِیا جا سکتا ہے۔—خروج ۳۳:۱۹؛ یسعیاہ ۵۴:۷۔
۱۶. کونسی مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ خداپرست عورتوں کی مشورت کی قدر کی جاتی تھی؟
۱۶ خداپرست عورتوں کی مشورت کی قدر کی جاتی تھی۔ ایک موقع پر، جب خداترس اؔبرہام نے اپنی خداپرست بیوی، ساؔرہ کی مشورت پر دھیان دینے میں تذبذب سے کام لیا تو یہوؔواہ نے اُسے حکم دیا: ”تُو اسکی بات مان۔“ (پیدایش ۲۱:۱۰-۱۲) عیسوؔ کی حتیؔ بیویاں ”اضحاؔق اور ربقہؔ کیلئے وبالِجان ہوئیں۔“ انجامکار، ربقہؔ نے اُس پریشانی کا اظہار کِیا جسکا تجربہ اُسے اُس وقت ہوگا جب اُسکا بیٹا یعقوؔب اگر کسی حتیؔ لڑکی کو بیاہ لائیگا۔ اضحاؔق کا ردِعمل کیا تھا؟ ”تب“ بیان کہتا ہے کہ ”اضحاؔق نے یعقوؔب کو بلایا اور اُسے دُعا دی اور اُسے تاکید کی کہ تو کنعانی لڑکیوں میں سے کسی سے بیاہ نہ کرنا۔“ جیہاں، اگرچہ ربقہؔ نے براہِراست مشورت تو پیش نہیں کی تھی تو بھی اس کے شوہر نے ایک ایسا فیصلہ کِیا جس نے اس کے احساسات کو ملحوظِخاطر رکھا۔ (پیدایش ۲۶:۳۴، ۳۵؛ ۲۷:۴۶؛ ۲۸:۱) بعدازاں بادشاہ داؔؤد خونریزی کرنے سے باز رہا کیونکہ اُس نے ابیجیلؔ کی درخواست پر دھیان دیا تھا۔—۱-سموئیل ۲۵:۳۲-۳۵۔
۱۷. کیا چیز ظاہر کرتی ہیں کہ عورتوں کو خاندان میں کسی حد تک اختیار حاصل تھا؟
۱۷ عورتوں کو کسی حد تک خاندان میں اختیار حاصل تھا۔ بچوں کو تاکید کی گئی تھی: ”اے میرے بیٹے! اپنے باپ کی تربیت پر کان لگا اور اپنی ماں کی تعلیم کو ترک نہ کر۔“ (امثال ۱:۸) امثال ۳۱ باب میں ”نیکوکار بیوی“ کا بیان ظاہر کرتا ہے کہ ایک محنتی شادیشُدہ عورت نہ صرف اپنے گھر کا انتظام کرتی ہے بلکہ غیرمنقولہ جائداد کے کاروبار میں بھی مدد کرتی ہے، پھلدار کھیت لگاتی ہے، چھوٹاموٹا کاروبار بھی چلاتی ہے اور اپنی حکمت کی تعلیم کی وجہ سے بھی مشہور ہے۔ سب سے زیادہ قابلِتعریف بات ایک عورت کا یہوؔواہ کے لئے مؤدبانہ خوف ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسی بیوی کی قدر ”مرجان سے بھی زیادہ“ تھی! بیشقیمت سُرخ مرجان زیورات اور زیبائشی مقاصد کیلئے بہت قیمتی خیال کِیا جاتا تھا۔—امثال ۳۱:۱۰-۳۱۔
عورتیں جنہیں یہوؔواہ کی خاص پسندیدگی حاصل ہوئی
۱۸. بائبل وقتوں میں کن طریقوں سے بعض عورتوں پر خاص کرمفرمائی کی گئی تھی؟
۱۸ عورتوں کیلئے یہوؔواہ کا احترام اُس خاص پسندیدگی سے منعکس ہوتا ہے جو اس نے بائبل وقتوں میں ان میں سے بعض کیلئے دکھائی۔ ہاؔجرہ، ساؔرہ اور منوؔحہ کی بیوی کے پاس فرشتے آئے جنہوں نے ان تک الہٰی ہدایت پہنچائی۔ (پیدایش ۱۶:۷-۱۲؛ ۱۸:۹-۱۵؛ قضاۃ ۱۳:۲-۵) خیمۂاجتماع میں ”خدمتگزار عورتیں“ اور سلیماؔن کے دربار میں گانے والی عورتیں موجود تھیں۔—خروج ۳۸:۸؛ ۱-سموئیل ۲:۲۲؛ واعظ ۲:۸۔
۱۹. بعضاوقات، یہوؔواہ نے کس طرح سے عورتوں کو اپنی نمائندگی کرنے کیلئے استعمال کِیا؟
۱۹ اسرائیل کی تاریخ میں کئی بار، یہوؔواہ نے اپنی نمائندگی کرنے کیلئے یا اپنی خاطر کلام کرنے کیلئے ایک عورت کو استعمال کِیا۔ دبوؔرہ نبِیّہ کی بابت ہم پڑھتے ہیں: ”بنی اسرائیل اُسکے پاس انصاف کیلئے آتے تھے۔“ (قضاۃ ۴:۵) اسرائیل کے کنعانی بادشاہ یاؔبین کو شکست دینے کے بعد، دبوؔرہ کو واقعی ایک خاص شرف حاصل ہوا۔ واضح طور پر وہ فتح کے اُس گیت کے کمازکم کچھ حصے کی نغمہنگار تھی جو کہ انجامکار یہوؔواہ کے الہامی ریکارڈ کا حصہ بنا۔c (قضاۃ، باب ۵) صدیوں بعد، یہوؔواہ سے دریافت کرنے کیلئے، یوؔسیاہ بادشاہ نے خلدؔہ نبِیّہ کے پاس وفد روانہ کِیا جس میں کہ سردار کاہن بھی شامل تھا۔ خلدؔہ بااختیار طور پر جواب دے سکتی تھی: ”خداوند اسرائیل کا خدا یوں فرماتا ہے۔“ (۲-سلاطین ۲۲:۱۱-۱۵) اس موقع پر بادشاہ نے وفد کو حکم دیا کہ ایک نبِیّہ کے پاس جائیں، لیکن یہ یہوؔواہ سے ہدایت حاصل کرنے کیلئے کِیا گیا تھا۔—مقابلہ کریں ملاکی ۲:۷۔
۲۰. کونسی مثالیں عورتوں کے احساسات اور بہبود کیلئے یہوؔواہ کی فکرمندی کو ظاہر کرتی ہیں؟
۲۰ عورتوں کی بہبود کے لئے یہوؔواہ کی فکرمندی اُن واقعات سے بھی ظاہر ہے جن میں اُس نے اپنی پرستار عورتوں کے سلسلے میں کارروائی کی۔ دو مرتبہ اُس نے اؔبرہام کی خوبصورت بیوی، ساؔرہ کو بےحرمت ہونے سے بچانے کیلئے مداخلت کی۔ (پیدایش ۱۲:۱۴-۲۰؛ ۲۰:۱-۷) خدا نے کم محبت حاصل کرنے والی یعقوؔب کی بیوی، لیاؔہ کے ’رِحم کو کھول دینے‘ سے کرمفرمائی دکھائی تاکہ وہ بیٹا پیدا کرے۔ (پیدایش ۲۹:۳۱، ۳۲) جب دو خداترس دائیوں نے عبرانی نر بچوں کو مصرؔ میں ہونے والی بچہکُشی سے محفوظ رکھنے کیلئے اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا تو قدرافزائی کے طور پر یہوؔواہ نے ”اُنکے گھر آباد کر دیئے۔“ (خروج ۱:۱۷، ۲۰، ۲۱) اُس نے حنّہؔ کی پُرجوش دُعا کا بھی جواب دیا۔ (۱-سموئیل ۱:۱۰، ۲۰) اور جب ایک نبی کی بیوہ کو ایک قرضخواہ کا سامنا تھا جو کہ قرض ادا کرنے کی غرض سے اُس کے بچے لے جانے کو تھا تو یہوؔواہ نے اُسے مصیبت میں تنہا نہ چھوڑا۔ مشفقانہ طور پر، خدا نے الیشعؔ نبی کو اس قابل بنایا کہ اُس کے تیل کے ذخیرے کو بڑھائے تاکہ وہ اپنا قرض ادا کر سکے۔ یوں اُس نے اپنے خاندان اور اپنی ناموس کو بچایا۔—خروج ۲۲:۲۲، ۲۳؛ ۲-سلاطین ۴:۱-۷۔
۲۱. عبرانی صحائف عورتوں کے حصے بخرے کیلئے کونسی متوازن تصویرکشی کو پیش کرتے ہیں؟
۲۱ اسلئے عورتوں کی بابت ایک حقارتآمیز نظریے کی حوصلہافزائی کرنے کی بجائے، عبرانی صحائف خدا کے خادموں کے درمیان انکے حصے بخرے کی متوازن تصویرکشی کرتے ہیں۔ اگرچہ یہوؔواہ نے اپنی پرستار عورتوں کو پیدایش ۳:۱۶ کی تکمیل سے تو محفوظ نہ رکھا تو بھی ان خداپرست آدمیوں کیطرف سے جو یہوؔواہ کے نمونے کی پیروی کرتے اور اسکی شریعت پر دھیان دیتے تھے، عورتوں کیساتھ باوقار اور بااحترام برتاؤ کِیا جاتا تھا۔
۲۲. جس وقت یسوؔع زمین پر تھا، عورتوں کا کردار کیسے تبدیل ہو گیا تھا، اور کونسے سوالات پوچھے جاتے ہیں؟
۲۲ عبرانی صحائف کے مکمل ہو جانے کے بعد کی صدیوں کے دوران، یہودیوں کے درمیان عورتوں کا کردار تبدیل ہوگیا۔ جس وقت یسوؔع زمین پر تھا تو ربّیوں کی روایات نے بڑی حد تک عورتوں کو اُنکے مذہبی استحقاقات اور اُنکی معاشرتی زندگی کے سلسلے میں محدود کر دیا تھا۔ جس طریقے سے یسوؔع نے عورتوں کیساتھ برتاؤ کِیا کیا ایسی روایات اُس طریقے پر اثرانداز ہوئیں؟ آجکل مسیحی عورتوں کیساتھ کیسا برتاؤ کِیا جانا چاہئے؟ یہ سوالات اگلے مضمون میں زیرِبحث آئینگے۔ (۱۰ ۷/۱۵ w۹۵)
[فٹنوٹ]
a ویبسٹرز نائنتھ نیو کالجیٹ ڈکشنری کے مطابق، ”کثرتِازدواج“ ایک ایسی ”شادی“ کا حوالہ دیتی ہے ”جس میں کسی بھی صنف کا شریکِحیات ایک ہی وقت میں ایک سے زیادہ بیاہتا ساتھی رکھ سکتا ہے۔“ زیادہ واضح اصطلاح ”تعددِازواج“ کی ”بیک وقت ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے کی حالت یا دستور“ کے طور پر تشریح کی گئی ہے۔
b تمام عبرانی صحائف میں، شادیشُدہ مردوں اور عورتوں کا اکثر مرتبہ ”شوہر“ (عبرانی، ایش) اور ”بیوی“ (عبرانی، ایشّہ) کے طور پر حوالہ دیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر، یہوؔواہ نے عدؔن میں، جو اصطلاحیں استعمال کیں، ”مالک“ اور ’ملکیت‘ نہیں تھیں بلکہ ”شوہر“ اور ”بیوی“ تھیں۔ (پیدایش ۲:۲۴؛ ۳:۱۶، ۱۷) ہوسیعؔ کی پیشینگوئی نے پہلے سے بیان کِیا تھا کہ اسیری سے واپسی کے بعد، اؔسرائیل تائب ہوکر یہوؔواہ کو ”میرے مالک“ نہیں بلکہ ”میرے شوہر“ کہہ کر پکاریگا۔ یہ اس چیز کو بھی ظاہر کر سکتا ہے کہ ”شوہر“ کی اصطلاح ”مالک“ کی نسبت زیادہ محبتآمیز مفہوم رکھتی ہے۔—ہوسیع ۲:۱۶۔
c قضاۃ ۵:۷ میں دبوؔرہ کے متعلق متکلم کا استعمال قابلِغور ہے۔
آپ کیسے جواب دینگے؟
▫ اِلفاظ ”مددگار“ اور ”مثل“ عورتوں کیلئے خدا کی طرف سے تفویضشُدہ کردار کی بابت کیا ظاہر کرتے ہیں؟
▫ بائبل وقتوں میں عورتوں کو متاثر کرنے والے رسمورواج پر غور کرتے وقت، ہمیں کس چیز کو ذہن میں رکھنا چاہئے؟
▫ کیا چیز ظاہر کرتی ہے کہ ابتدائی وقتوں کے خدا کے خادموں کے درمیان عورتوں کا ایک باوقار کردار تھا؟
▫ زمانۂمسیحیت سے قبل کن طریقوں سے یہوؔواہ نے عورتوں پر خاص کرمفرمائی کی تھی؟