نوجوان لوگ پوچھتے ہیں . . .
کیا خدا میرا دوست رہے گا؟
داؤد بادشاہ ایک ایسا شخص تھا جس نے خدا کی دوستی سے لطف اُٹھایا۔ لیکن ایک موقع پر اُس نے کہا: ”میرے دل کے دُکھ بڑھ گئے۔“ داؤد نہ صرف دوسروں کے بُرے رویے بلکہ اپنی غلطیوں کے سبب سے بھی تکلیف اُٹھا رہا تھا۔ وہ محسوس کرنے لگا کہ خدا نے بھی اُسے رد کر دیا تھا اور اُس نے دُعا کی: ”میری طرف متوجہ ہو اور مجھ پر رحم کر کیونکہ مَیں بیکس اور مصیبتزدہ ہوں۔“—زبور ۲۵:۱۱، ۱۶-۱۹۔
شاید آپ بھی دُکھ محسوس کر رہے ہیں۔ شاید گھر یا سکول میں آپ کسی ایسی ناخوشگوار صورتِحال کا سامنا کر رہے ہیں جو ناقابلِبرداشت ہے۔ علاوہازیں، شاید آپ کو صحت کے تشویشناک مسائل کا سامنا ہے یا اپنی کسی کمزوری کے باعث آپ بےحوصلہ محسوس کرتے ہوں۔ معاملہ خواہ کچھ بھی ہو، آپ کو تنہا تکلیف اُٹھانے کی ضرورت نہیں ہے؛ خدا فیاضی کیساتھ اپنی دوستی اور حمایت کیلئے ہاتھ بڑھاتا ہے۔a اگر آپ پہلے ہی سے اُس کیساتھ رشتے کو ترقی دے رہے ہیں تو آپ یہ جان کر تسلی پائینگے کہ وہ مشکل اوقات میں اپنے دوستوں کو کبھی نہیں چھوڑتا۔ باوجودیکہ آپ پر مصیبتوں کے حملہآور ہونے پر شاید آپ محسوس کریں کہ خدا دُور ہے۔ آپ ایسا بھی محسوس کر سکتے ہیں کہ وہ آپ کی بالکل مدد نہیں کر رہا۔ لیکن کیا واقعی ایسا ہے؟
”جسم میں کانٹا“
براہِمہربانی، سب سے پہلے ۲-کرنتھیوں ۱۲:۷-۱۰ پڑھیں۔ پولس رسول یہاں بیان کرتا ہے کہ کیسے اُس نے ”جسم میں کانٹا“ نام کی چیز سے تکلیف اُٹھائی۔ ”کانٹا“ غالباً کوئی جسمانی کمزوری تھی، جسکا تعلق شاید اُسکی بصارت سے تھا۔ وہ جوکچھ بھی تھا، اُس نے اُسے ”مکے“ مارتے ہوئے جذباتی طور پر نڈھال کر دیا۔ اُسے ہٹانے کیلئے خدا سے تین بار سنجیدہ التجا کے باوجود، وہ ”کانٹا“ باقی رہا۔
کیا یہوواہ پولس کی دُعاؤں کو نظرانداز کر رہا تھا؟ ہرگز نہیں! خدا نے اُس سے کہا: ”میرا فضل تیرے لئے کافی ہے کیونکہ میری قدرت کمزوری میں پوری ہوتی ہے۔“ اگرچہ یہوواہ نے اُس ”کانٹے“ کو نہ نکالنے کا انتخاب کِیا توبھی اُس نے پولس کو نہ چھوڑا۔ خدا کے فضل کی معرفت، پولس نے اُس کیساتھ قریبی دوستی سے لطف اُٹھایا۔ یہ پولس کیلئے اُسکی کمزوری میں مقابلہ کرنے کیلئے مدد دینے کیلئے ”کافی“ تھا۔ جب پولس نے ایسا کرنے کیلئے جدوجہد کی تو اُس نے خدا کی سنبھال لینے والی قوت کا ایک نئے اور انفرادی طریقے سے تجربہ بھی کِیا۔
مشکلات کا مقابلہ کرنے کیلئے مدد
شاید آپ بھی پولس کی طرح کسی ”کانٹے“ یا مسئلے سے دوچار ہوں جو نااُمیدی اور حوصلہشکنی کا باعث بنتے ہوئے آپکو تکلیف پہنچاتا ہے۔ پولس کے معاملے کی طرح، شاید خدا مصیبت کو قائم رہنے دے۔ اِس کا یہ مطلب نہیں کہ اب وہ آپکا دوست نہیں رہا۔ خدا نے پولس رسول سے کہا: ”میری قدرت کمزوری میں پوری ہوتی ہے۔“ اگر آپ اپنی بجائے خدا کی قدرت پر انحصار کرتے ہیں تو آپ برداشت کر سکتے ہیں۔ آپ شاید یہ بھی جان لیں کہ خدا کی روح کی مدد سے، آپ وہ کامیابیاں حاصل کرنے کے قابل ہیں جنہیں آپ نے کبھی ممکن نہیں سمجھا تھا۔ پولس نے بیان کِیا؛ ”مَیں بڑی خوشی سے اپنی کمزوری پر فخر کرونگا . . . کیونکہ جب مَیں کمزور ہوتا ہوں اُسی وقت زورآور ہوتا ہوں۔“
ایک نوجوان خاتون رابنb نے اِسے بالکل درست پایا۔ ۱۴ سال کی عمر میں وہ کالے موتیے کے باعث اپنی بینائی کھو بیٹھی۔ اُسی سال اچانک اُسکی والدہ وفات پا گئی۔ ”اب میرے ساتھ صرف یہوواہ تھا،“ رابن اِن تکلیفدہ ”کانٹوں“ سے نپٹنے کا آغاز کرنے کی بابت بیان کرتی ہے۔ ”مَیں جانتی تھی کہ اگر مجھے اِس میں کامیاب ہونا تھا تو مجھے اُسکی قربت میں رہنا تھا۔“ رابن نے ایسا ہی کِیا، جوکہ بالآخر کُلوقتی مناد کے طور پر خدمت انجام دے رہی ہے۔ وہ بیان کرتی ہے: ”مَیں نے یہوواہ سے ہر بات میں مدد کیلئے درخواست کی۔ اُس نے واقعی میری مدد کی۔“
بیشتر نوجوانوں نے محسوس کِیا ہے کہ آزمائشوں کا تجربہ کرنے کی بدولت وہ خدا کے اَور قریب ہو گئے ہیں۔ نوعمر جیف پر غور کریں۔ اُسکا والد اُسکی والدہ کو سات بچوں کی کفالت کرنے کیلئے تنہا چھوڑ گیا۔ ”مَیں نے بڑی شدت سے باپ کی کمی کو محسوس کِیا،“ جیف تسلیم کرتا ہے، جوکہ اُس وقت صرف ۱۲ سال کا تھا۔ ”جو خلا مَیں روزانہ محسوس کرتا تھا، اُسے پُر کرنے کیلئے مَیں نے کسی کی تمنا کی۔“ جیف نے کیا کِیا؟ ”مَیں نے یہوواہ سے دُعا کی کہ وہ اِس ضرورت کو پورا کرنے میں میری مدد کرے۔“ جیف نے اپنی دُعاؤں کی مطابقت میں کام کِیا اور روحانی سرگرمیوں میں محو ہو گیا۔ وقت کے ساتھساتھ وہ یہوواہ کی حمایت کو محسوس کر سکتا تھا—جو اُس نے اپنی تقویتبخش روحالقدس اور مسیحی کلیسیا کے ذریعے فراہم کی۔ (مقابلہ کریں زبور ۲۷:۱۰۔) اب ۲۷ سال کی عمر میں جیف پیچھے نظر دوڑاتا ہے: ”ایسا کوئی نہ تھا جس پر مَیں تحفظ کیلئے اُمید لگا سکتا، لہٰذا مَیں یہوواہ کے بہت قریب ہو گیا۔“ وہ اُس قریبی رشتے کو ”انمول برکت“ قرار دیتا ہے، ”جو اِس آزمائش سے حاصل ہوئی۔“
خدا کی مدد کیسے حاصل کریں
آپ کا آسمانی دوست اِسی طرح مشکلات میں آپ کی بھی مدد کرے گا۔ لیکن آپکو کیا کرنا چاہئے؟ بیشک، کسی بھی دوستی کے پھلنےپھولنے کیلئے رابطے کا ہونا ضروری ہے۔ خدا کیساتھ رابطے کا ہمارا ذریعہ دُعا ہے۔ اِسکے ذریعے ہم اُس پر ظاہر کرتے ہیں کہ ہمیں اُسکی مدد درکار ہے۔ تاہم، اگر دُعا جذبات سے عاری یا میکانکی ہے تو اُسکی کوئی وقعت نہیں۔ متذکرہبالا نوجوانوں کی طرح آپکو خدا کے سامنے ”اپنے دل کا حال کھول دینا“ چاہئے! (زبور ۶۲:۸) آپکو التجائیں کرنے کی بھی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ (فلپیوں ۴:۶) التجائیں ایسی دُعائیں ہیں جو خاص طور پر بڑی سنجیدہ اور پُرزور ہوتی ہیں۔
فرض کریں آپکو اپنے خیالات پر قابو رکھنے یا کسی بُری عادت پر قابو پانے میں مشکل کا سامنا ہے۔ یہوواہ سے التجا کریں! آزمائش کے وقت اُس سے مدد کیلئے منت کریں۔ یہ شاید ہمیشہ آسان نہ ہو۔ ”جب مَیں کوئی غلط کام کرنے کی شدید خواہش محسوس کرتا ہوں تو مَیں خود کو دُعا کرنے کیلئے مجبور کرتا ہوں،“ گیرے نے تسلیم کِیا۔ ”بعضاوقات مَیں سوچتا ہوں، ’مَیں کیسے یہوواہ تک رسائی کر سکتا ہوں؟‘ پھر بھی، مَیں اُس سے مدد کیلئے استدعا کرتا ہوں۔ وہ مجھے قائم رہنے کیلئے درکار قوت بخشتا ہے۔“ اگرچہ شروع میں ایسا کرنا مشکل ہی معلوم ہو توبھی خدا کے حضور اپنا دل کھولتے رہیں۔
لیکن اگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپکی دُعاؤں کا جواب نہیں دیا جا رہا تو کیا ہو؟ مثال کے طور پر، لورا، جلق کی بُری عادت پر قابو پانے کیلئے جدوجہد کر رہی تھی۔ ”مَیں نے ایمانداری سے یہوواہ سے مسئلے کی بابت باتچیت کی،“ وہ وضاحت کرتی ہے، ”مگر ایسا لگتا تھا کہ مَیں اِسے چھوڑ نہیں سکتی۔“ بعضاوقات خدا ہمیں یہ ظاہر کرنے دیتا ہے کہ ہم اپنی التجاؤں کی بابت کتنے سنجیدہ ہیں۔ (مقابلہ کریں زبور ۸۸:۱۳، ۱۴۔) لہٰذا ہمیں دُعا کرتے رہنا چاہئے! (متی ۷:۷؛ رومیوں ۱۲:۱۲) لورا نے ایسا ہی کِیا۔ اِس کیساتھ، ہی ساتھ، اُس نے اِس مضمون پر واچ ٹاور سوسائٹی کی مطبوعات میں شائعکردہ مواد میں موجود تجاویز کا اطلاق کرنا شروع کِیا۔c وقت گزرنے کیساتھ، اُس نے نتائج کا تجربہ کِیا۔ وہ یاد کرتی ہے: ”ہر مرتبہ جب میں کامیابی سے آزمائش کا مقابلہ کرتی تو مَیں یہوواہ کا شکر ادا کرتی کیونکہ مَیں جانتی تھی کہ وہ میرے ساتھ تھا۔“ درست ہے کہ اپنے مسئلے پر غالب آنے کی اپنی جدوجہد میں آپ شاید کبھی اِسکے وارد ہونے سے تکلیف اُٹھائیں۔ لیکن جب تک آپ نبردآزما رہتے ہیں اور جانبوجھ کر اپنی کمزوری سے مغلوب نہیں ہوتے تو خدا آپکی ’سنجیدہ کوششوں‘ سے خوش ہوگا اور آپکا دوست بنا رہے گا۔—۲-پطرس ۱:۵۔
خدا کیساتھ کام کرنا
خدا کی مدد سے استفادہ کرنے کا ایک اَور طریقہ اُسکے ”ساتھ کام کرنے والے“ بننے کیلئے اُسکی دعوت قبول کرنا ہے۔ (۱-کرنتھیوں ۳:۹) اِس میں خدا کی بابت سیکھنے میں دوسروں کی مدد کرنے میں حصہ لینا شامل ہے۔ (متی ۲۸:۲۰،۱۹) جب آپ خود کو مصیبتزدہ یا بےحوصلہ محسوس کرتے ہیں تو کسی بھی کام میں حصہ لینے کا خیال شاید دلچسپ معلوم نہ ہو۔ تاہم، ”خداوند کے کام میں ہمیشہ افزایش“ کرنا واقعی آپکی مدد کر سکتا ہے۔ (۱-کرنتھیوں ۱۵:۵۸) اِس طرح کمازکم آپکا ذہن آپکے مسائل سے ہٹ جائیگا۔ (مقابلہ کریں امثال ۱۸:۱۔) رابن، جس کا پہلے تذکرہ کِیا گیا ہے اپنے مشکل اوقات کی بابت بیان کرتی ہے: ”جس چیز نے مجھے قائم رکھا وہ یہوواہ کیلئے میرا کام تھا!“
خدا کیساتھ کام کرنا، بےدم کر دینے والے کسی بھی ایسے احساس پر قابو پانے میں آپکی مدد کر سکتا ہے کہ خدا نے آپکو چھوڑ دیا ہے۔ جب دو اشخاص ملکر بطور ایک ٹیم، کسی مشترکہ مقصد کے حصول کیلئے کام کرتے ہیں تو کیا وہ زیادہ قریبی دوست نہیں بن جاتے؟ منادی کے کام میں مصروف رہنے کے دوران، آپ مستقل چیلنجوں کا سامنا کرتے ہیں۔ آپ مدد کیلئے خود کو خدا کی طرف راغب ہوتے محسوس کرتے ہیں۔ لہٰذا جب خدا آپکی محنت پر برکت بخشتا ہے تو اُسکی دوستی آپ کیلئے زیادہ حقیقی بن جاتی ہے۔ آپ اُس اعتماد کو سمجھنے لگتے ہیں جو وہ بطور ساتھی کارکن، آپ پر کرتا ہے۔ یہ آپکی خوداعتمادی کیلئے ایک حقیقی حمایت ہو سکتی ہے۔
کیرل، مثال کے طور پر، بہت غیرمحفوظ تھی۔ اُس کی ماں خودکشی کر چکی تھی اور اُسکا بدزبان باپ ہمیشہ اُسکی تحقیر کرتا تھا۔ مگر ۱۷ سال کی عمر میں وہ یہوواہ کے گواہوں میں شامل ہو گئی اور منادی کا کام کرنے لگی۔ کُلوقتی مناد بننے کے دس سال بعد، وہ بیان کرتی ہے؛ ”اِس کام نے میری بہت مدد کی ہے کیونکہ مَیں نے خود پر یہوواہ کی برکت کو دیکھا ہے۔ مَیں خود سے کہتی ہوں، ’اگر خدا مجھ سے محبت رکھتا ہے تو مَیں بےوقعت نہیں ہوں۔‘ یہوواہ نے اپنے نام کو پھیلانے کیلئے جس طرح مجھے استعمال کِیا ہے، اُس نے مجھے اضافی احساسِتحفظ بخشا ہے۔“
”آزما کر دیکھو کہ خداوند [”یہوؔواہ،“ اینڈبلیو] کیسا مہربان ہے“
”میری ساری دہشت سے [خدا نے] مجھے رہائی بخشی،“ بادشاہ داؤد نے جانلیوا صورتِحال سے بالبال بچنے کے بعد تحریر کِیا۔ (زبور ۳۴:۴، ۶، زبور کا عنوان؛ ۱-سموئیل ۲۱:۱۰-۱۲) لہٰذا داؤد تجربے سے کہہ سکتا تھا: ”آزما کر دیکھو کہ خداوند [”یہوؔواہ،“ اینڈبلیو ] کیسا مہربان ہے۔ مبارک ہے وہ آدمی جو اُس پر توکل کرتا ہے۔“—زبور ۳۴:۸۔
اگرچہ آپکی زندگی شاید کبھی خطرے میں نہ رہی ہو جیسے داؤد کی تھی، تاہم، آپ کبھیکبھار دباؤ اور کھچاؤ کا تجربہ تو یقیناً کریں گے۔ جب آپ کے ”دل کے دُکھ بڑھ“ جائیں تو یہوواہ سے التجا کریں۔ (زبور ۲۵:۱۷) اِس بات سے مت ڈریں کہ خدا اپنی دوستی سے پیچھے ہٹ جائیگا۔ جب آپ صبر سے برداشت کرتے اور خود یہوواہ کی فکرمندی اور حمایت کا تجربہ کرتے ہیں تو آپ خود ”آزما کر دیکھ“ لیں گے کہ ”خداوند [”یہوؔواہ،“ اینڈبلیو] . . . کیسا مہربان ہے۔“ لہٰذا وہ ہمیشہ آپ کا دوست رہیگا۔—یعقوب ۴:۸۔
[فٹنوٹ]
a جنوری ۱۹۹۶ کے شمارے میں، ”نوجوان لوگ پوچھتے ہیں . . . کیا مَیں واقعی خدا کا دوست بن سکتا ہوں؟“ کا مضمون دیکھیں۔
b بعض نام تبدیل کر دئے گئے ہیں۔
c واچ ٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیویارک، انکارپورٹیڈ کی شائعکردہ کتاب کویسچنز ینگ پیپل آسک—آنسرز دیٹ ورک، کے باب ۲۵ اور ۲۶ کو دیکھیں۔
[صفحہ 19 پر تصویر]
کیا خدا مصیبت کے وقت اپنے دوستوں کو چھوڑ دیتا ہے؟