پاک کلام سے سنہری باتیں | 2-کُرنتھیوں 11-13
پولُس کے جسم میں کانٹے کی طرح چبھنے والی تکلیف کیا تھی؟
پاک کلام میں لفظ ”کانٹا“ اکثر مجازی معنوں میں اِستعمال ہوتا ہے۔ یہ اُن لوگوں کی طرف اِشارہ کر سکتا ہے جو درد اور تکلیف پہنچاتے ہیں یا اُن چیزوں کی طرف جو مشکلات کھڑی کرتی ہیں۔ (گن 33:55؛ امثا 22:5؛ حِز 28:24) جب پولُس رسول نے کہا کہ ”ایک تکلیف . . . کانٹے کی طرح میرے جسم میں چبھتی رہتی ہے“ تو شاید وہ اُن جھوٹے رسولوں اور لوگوں کی طرف اِشارہ کر رہے تھے جو اُن کی خدمت پر تنقید کرتے تھے اور یہ دعویٰ کرتے تھے کہ پولُس اصل میں رسول نہیں ہیں۔ اِن آیات سے کیسے پتہ چلتا ہے کہ وہ تکلیف اَور کون سی ہو سکتی تھی جو ایک کانٹے کی طرح پولُس کے جسم میں چبھتی رہتی تھی؟
آپ کو کون سی تکلیف کا سامنا ہے جو ’ایک کانٹے کی طرح آپ کے جسم میں چبھتی رہتی ہے‘؟
آپ ثابتقدم رہنے کے لیے یہوواہ پر بھروسا کیسے کر سکتے ہیں؟