یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو97 8/‏10 ص.‏ 14-‏17
  • جنگل میں غنائیہ

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • جنگل میں غنائیہ
  • جاگو!‏—‏1997ء
  • ذیلی عنوان
  • ربڑ کا تعلق
  • خاصۂ‌یورپ کا اہتمام کرنا
  • چمکتی‌دمکتی شیمپئین سے بدبختی کے بادلوں تک
  • ایک بار پھر پُرشکوہ زمانہ
جاگو!‏—‏1997ء
جاگو97 8/‏10 ص.‏ 14-‏17

جنگل میں غنائیہ

برازیل میں جاگو!‏ کے مراسلہ‌نگار سے

جہاز کی کھڑکی سے جھانکتے ہوئے، ہم دو دریاؤں کو ایک دوسرے کی جانب بڑھتے ہوئے دیکھتے ہیں—‏زردی مائل سولیموس اور مٹیالے رنگ کا نیگرو۔ جب وہ ملتے ہیں تو ۶ میل نیچے ایک ندی سے پہلے، وہ ایک دوسرے میں مکمل طور پر مدغم ہونے سے انکاری نظر آتے ہیں۔ قریب ہی، میناؤس میں میدانی علاقے، برازیل کی ایمزونس ریاست کا دارالحکومت ہے۔‏

‏”‏ہمارے ہاں دو موسم ہوتے ہیں،“‏ میناؤس کے لوگ بیان کرتے ہیں۔ ”‏ہر روز بارش ہوتی ہے یا سارا دن بارش ہوتی ہے۔“‏ لیکن تضادات کے اِس شہر میں ۵.‏۱ ملین باشندوں کی گھماگھمی کی راہ میں بارش حائل نہیں ہوتی۔ درختوں والی کشادہ سڑک پر جدید ٹیکنالوجی کی حامل صنعتوں اور پہاڑی راستوں پر واقع گھروں اور رہائشی عمارات سے گزرتے ہوئے، ہم جلد ہی شہر کے مرکز کی گنجان ٹریفک میں تھے جہاں فلک‌بوس عمارتیں اور عظیم‌الشان یادگاریں نگاہوں کو چکاچوندھ کرتی ہیں۔ ہم سمجھ سکتے ہیں کہ کبھی میناؤس کو جنگل کا پیرس کیوں کہا جاتا تھا۔ تاہم، ایک پُرشکوہ عمارت خاص طور پر توجہ کا مرکز بن جاتی ہے—‏غنائیہ‌خانہ۔‏

‏”‏بہت سی جگہوں پر غنائیہ‌خانے ہیں،“‏ تھیئٹر کی ڈائریکٹر انیزلیما ڈاؤ بیان کرتی ہے، ”‏لیکن ٹیٹرو ایمزونس مختلف ہے۔ یہ ایک بالکل غیرآباد علاقے کے وسط میں واقع ہے۔“‏ دُنیا کے سب سے بڑے گرم سیر برساتی جنگل کے وسط میں یہ حسن‌وجمال کیسے آیا؟‏

ربڑ کا تعلق

پرتگالی کیپٹن فرانسسکو ڈا موٹا فالکو نے، ۱۶۶۹ میں، جنگل میں ایک قلعہ کی بنیاد رکھی جسکا نام فورٹالیزا ڈی ساؤ ضوزے ڈو رئیو نیگرو تھا۔ بہت سے نام بدلنے کے بعد، ۱۸۵۶ میں دوبارہ اِسکا نام ایک انڈین علاقائی قبیلے میناؤس کے نام پر رکھا گیا تھا۔ ۱۹۰۰ تک، ۵۰،۰۰۰ لوگ جوق‌درجوق میناؤس آ گئے تھے۔ ہجوم کو کونسی چیز کھنچ لائی؟ ہیوا براسیلینسس یا ربڑ کے درخت جوکہ صرف ایمزون طاس میں ہی پائے جاتے ہیں۔‏

پرتگالی آبادکاروں نے دیکھا کہ انڈین درختوں سے حاصل‌کردہ لیٹکس سے بنے ہوئے بھاری گیندوں سے کھیل رہے تھے۔ وقت کے ساتھ، آبادکاروں نے اِس دودھیے سیال کا ایک اور استعمال دیکھا۔ ۱۷۵۰ میں، پرتگالی بادشاہ ڈوم ضوزے اپنے جُوتے واٹرپروف بنانے کیلئے برازیل بھیج رہا تھا۔ ۱۸۰۰ کے لگ‌بھگ، برازیل، شمالی امریکہ میں نیو انگلینڈ کو ربڑ کے جوتے برآمد کر رہا تھا۔ تاہم، ۱۸۳۹ میں، چارلس گڈائیر کی ولکن‌نائزیشن (‏ربڑ کو سخت کرنے کا عمل)‏ اور ۱۸۸۸ میں جان ڈنلوپ کی پیٹنٹ نیومیٹک ٹائر کی دریافت نے لوگوں کے ہجوم کو، ’‏ربڑ کیلئے نقل‌مکانی‘‏ کرنے کی تحریک دی۔ دُنیا کو ربڑ چاہئے تھی۔‏

زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ تقریباً ۲۰۰،۰۰۰ برازیلی سرہتھیں‌لفظاگیورس یا ربڑ کو چھید کر رس نکالنے والوں کے طور پر ربڑ کے ۸۰ ملین درختوں سے رس نکال رہے تھے جوکہ میناؤس کے چوگرد گرم سیر برساتی جنگلات میں پھیلے ہوئے تھے۔‏

دولت کی فراوانی کے سالوں کی بدولت قصبے میں بجلی، ٹیلیفون، حتیٰ‌کہ ٹرام‌وے بھی آ گئی—‏جنوبی امریکہ میں پہلی مرتبہ۔ ربڑ کے تاجروں نے حویلیاں تعمیر کیں اور وہ آئرش لِلّن کے بنے ہوئے میزپوش استعمال کرتے تھے، اور اُنکے خاندان یورپی ثقافت سے لطف اُٹھانے کیلئے یورپ آتے جاتے رہتے تھے—‏جس میں غنائیہ بھی شامل ہے۔ جلد ہی، وہ یورپ جیسے غنائیہ‌خانے کا تقاضا کرنے لگے۔‏

خاصۂ‌یورپ کا اہتمام کرنا

جب ایک شہر میں، پہاڑی پر دو معاون دریاؤں کے درمیان، گرجے کے نزدیک جنگل سے گھری ہوئی جگہ کا انتخاب کِیا گیا تو اِس خواب نے ۱۸۸۱ میں حقیقت کا روپ دھارنا شروع کر دیا۔ اِس کے بعد، عمارتی سازوسامان سے بھرے جہازوں نے بحرِاوقیانوس کو عبور کِیا اور دریائے‌ایمزون سے میناؤس کی جانب مزید ۸۰۰ میل کا سفر طے کِیا۔‏

لیکن ذرا ٹھہرئیے!‏ اِس نئی کلاسیکل عمارت پر یہ گنبد کیسا ہے؟ یہ سچ ہے کہ عمارت کے بنیادی نمونے کا یہ حصہ نہیں تھا لیکن ایک انجینئر فرانس کے ایک میلے میں گیا، وہاں گنبد دیکھا، اُسے پسند کِیا اور اُسے خرید لیا۔ گنبد کو آراستہ کرنے کیلئے تقریباً ۳۶،۰۰۰ سبز اور زرد رنگ کی جرمن ٹائلیں استعمال کی گئی تھیں۔‏

گھوڑے کی نعل کی شکل کا آڈیٹوریم جس کی پہلی منزل پر کین کی ٹیک والی ۷۰۰ کرسیاں لگائی گئی تھیں، ۱۲ کرسیاں آفیشل بکس میں اور بالائی تین گیلریوں کے ۹۰ پرائیویٹ بکس میں سے ہر ایک میں ۵ نشستیں لگائی گئیں۔ پرائیویٹ بکس حاصل کرنے کیلئے، متموّل خاندانوں نے ۲۲ یونانی ماسک کا عطیہ دیا جنہیں یورپی موسیقاروں، نغمہ‌نگاروں اور ڈرامہ‌نگاروں کے احترام میں ستونوں پر رکھا جاتا تھا۔‏

غنائیہ‌خانہ کی جگمگاہٹ اِسے ایک شوپیس بنا دیتی ہیں۔ آڈیٹوریم کے وسط میں کانسی کا ایک بڑا سا فانوس لٹک رہا ہے جسے فرانس میں بنایا گیا تھا اُسے اطالوی بلور سے آراستہ کِیا گیا ہے۔ اِسکی صفائی کرنے یا بلب تبدیل کرنے کیلئے اِسے نیچے اُتارا جا سکتا ہے۔ ۱۶۶ کانسی کے تلے والے لیمپ، ۱،۶۳۰ ٹیولپ کی شکل کے شیشے کے شیڈ، دیواروں کی دلکشی کو بڑھاتے اور تصاویر کو نمایاں کرتے ہیں۔‏

پیرس میں رہنے والا، کرس‌پیم ڈو ایمائرل نے، ۱۹ویں صدی کا ایک برازیلی مُصوّر جس نے اطالیہ میں تعلیم پائی، اندرونی چھت پر چار مناظر پینٹ کئے—‏غنائیہ، رقص، موسیقی اور المیہ۔ وہ ایفل‌ٹاور کے نیچے کھڑے ہونے کا تاثر دینے میں کامیاب رہا۔ سٹیج کے کینوس کے پردے پر اُس نے ایک ہیجان‌خیز موضوع پینٹ کِیا—‏دو دریاؤں کا ملنا جو ایمزون کو تشکیل دیتا ہے۔ ۱۰۰ سالہ پردہ لپیٹا نہیں جاتا بلکہ سیدھا اُوپر گنبد میں جاتا ہے جس سے تصویر کو کم‌سے‌کم نقصان پہنچتا ہے۔‏

دوسری منزل پر، رقص‌گاہ ہے جہاں کمرے کے ہر سرے پر فرانسیسی بلور کا لمبا آئینہ ۳۲ اطالوی فانوسوں کو منعکس کرتا ہے۔ یہ آب‌وتاب ایمزون کے حیوانات اور نباتات کی تصاویر پر روشنی ڈالتی ہے جوکہ اطالوی مُصوّر ڈومینکو ڈی اہتھیں‌لفظاجلیّس نے بنائی ہیں۔ آہنی ستونوں کو پُرشکوہ بنانے کیلئے پلستر کرنے کے بعد اِسطرح رنگ کِیا گیا ہے کہ وہ ماربل کی مانند دکھائی دیں۔ ماربل نظر آنے والی بالکونی کے جنگلوں کو تھپ‌تھپا کر دیکھیں؛ یہ لکڑی کے ہیں۔ فرانسیسی طرز پر بنایا گیا پالش‌شُدہ فرش، لکڑی کے ۱۲،۰۰۰ ٹکڑے کیلوں یا گوند کے بغیر جوڑے گئے ہیں۔ برازیلی خصوصیت صرف فرشوں، ڈیسک اور میزوں کی لکڑی ہی ہے۔ ہم تصور کر سکتے ہیں کہ اِسے ہر کسی نے آرام‌دہ محسوس کِیا ہوگا—‏اور ٹھنڈا بھی۔ ٹھنڈا کیوں؟‏

سنگ‌تراشوں نے تھیئٹر کے آس‌پاس کی گلیوں میں پُختہ پتھر لیٹکس جیسے مادّے سے جوڑے تھے۔ یہ ہوشیاری سے اُن آوازوں کو دبا دیتا جو دیر سے آنے والوں کی گھوڑا گاڑیوں کے باعث پیدا ہوتی تھیں۔ اِس کی بدولت دروازہ کھلا رکھا جا سکتا تھا تاکہ ہوا اندر آ سکے اور کین کی ٹیک والی کرسیوں سے گزرتی ہوئی، گرمی سے کچھ راحت پہنچائے۔‏

چمکتی‌دمکتی شیمپئین سے بدبختی کے بادلوں تک

۱۸۹۶ میں، پہلی رات جب دروازے کھولے گئے تو غنائیہ‌خانے کے سامنے فواروں میں شیمپئکُتوکُتا بہہ رہی تھی۔ یہ منصوبہ ۱۵ سال کی محنت کے بعد مکمل ہوا تھا اور اس پر ۱۰ ملین ڈالر خرچ ہوئے تھے۔ یہ سریلی آوازوں کیلئے عالیشان گھر تھا۔ سالوں کے دوران اٹلی، فرانس، پرتگال اور سپین سے گروپ اور سولوگر یہاں پونسی کا لا بوہیمی، اور وردی کا ریگولیتو اور ال ٹروواٹورے کا مظاہرہ کرنے کیلئے آتے رہے۔ اگرچہ استوائی امراض جیسے‌کہ ہیضہ، ملیریا اور زردبخار کچھ فنکاروں کے دُور بھاگنے کا سبب بنے، تھیئٹر کیلئے ایک اور خطرہ پیدا ہو گیا—‏ربڑ کی تجارت کا خاتمہ۔ بدبختی کے بادل میناؤس کے گرد منڈلانے لگے—‏دیکھیں بکس ”‏چوری جس نے ربڑ کی تجارت کو ختم کر دیا اور غنائیہ کو بند کر دیا“‏

۱۹۲۳ میں، ربڑ کی صنعت میں برازیل کی اجارہ‌داری ختم ہو گئی تو تاجروں، سٹے‌بازوں، سوداگروں اور کسبیوں نے برق‌رفتاری سے اپنا سامان سمیٹا اور قصبے سے چلتے بنے اور میناؤس کو جھاڑ جھنکار والا پس‌ماندہ علاقہ بنا دیا۔ غنائیہ‌خانہ کا کیا ہوا؟ تھیئٹر کے ملحقہ حصے ربڑ کے گودام کا کام دینے لگے اور سٹیج، اِینڈور فٹ‌بال کھیلنے کیلئے استعمال ہونے لگا!‏

ایک بار پھر پُرشکوہ زمانہ

اِسکے بعد، میناؤس، دوبارہ ماحولیات میں دلچسپی رکھنے والوں سیاحوں کی توجہ کا مرکز بننا شروع ہو گیا جو کہ گرم‌سیر برساتی جنگلات کے راز دریافت کرنے آئے تھے۔ دیگر چند دنوں کیلئے سانپ پکڑنے، طوطے کو خوراک دینے یا ایک سلاتھ کو پالتو بنانے کیلئے آئے۔ غنائیہ‌خانے کی بحالی میناؤس کو ایک مختلف قسم کا جاذبِ‌توجہ مقام بنائیگی!‏

لہٰذا ۱۹۷۴ میں، تھیئٹر کے اصلی سٹائل کو برقرار رکھنے اور تکنیکی بہتری کیلئے، ایک مہنگے منصوبے پر کام شروع ہوا۔ روشنیوں، آئینوں اور فرنیچر کی صفائی کا کام کِیا جانے لگا۔ فنی ماہرین نے سازینے کی اُوپر نیچے حرکت کیلئے ہائیڈرالک سسٹم نصب کِیا۔ اُنہوں نے سٹیج کا نیا فرش بنایا اور بیک‌سٹیج کیلئے نئے صوتی نظام، روشنی اور ویڈیو کے سازوسامان کا انتظام کِیا۔ اُنہوں نے پہلی منزل پر کرسیوں کے نیچے ائیرکنڈیشننگ کا اہتمام کِیا۔‏

پھر ستُبوفسُتے سازندوں کا طائفہ، تھیئٹر پر رائیو ڈی جینیرو ثقافت واپس لایا۔ بعدازاں، نامور جہےپسیخےلے رقاصہ میرگویئے فوکِھچے‌کِنّاچُنیں‌کُتا نے سوان لیک رقص سے سٹیج کو رونق بخشی اور اپنے رقص کے جوتے تھیئٹر کے عجائب‌گھر کے شوکیس میں چھوڑ گئی۔‏

زیادہ آرام، خوبصورتی اور تحفظ کیلئے مزید بہتری پیدا کرنے کی ضرورت تھی۔ کافی تحقیق اور محتاط منصوبہ‌سازی کے بعد، ۶۰۰ کارکن اور ۳۰ فنی ماہرین چار سال تک تھیئٹر میں کام کرتے رہے۔ اُنہیں پینٹ کی آٹھ تہوں کے نیچے اصلی گلابی رنگ مل گیا۔ گنبد کی بھی دوبارہ مرمت کی ضرورت تھی۔ پُرانی ٹائلوں کو نکال دیا گیا۔ اُنہیں برازیل میں بنی ہوئی ویسی ہی ٹائلوں سے بدل دیا گیا۔ کرسیوں پر سُرخ فرانسیسی مخمل لگایا گیا۔ آرٹ کی نازک اشیاء اور تصاویر کو بہتر بنانے کیلئے برش اور نشتر کا استعمال کِیا گیا۔ بدقسمتی سے، نمی نے ہال کے راستوں میں آرٹ ورک کو نقصان پہنچایا تھا، لہٰذا لکڑی کے تختوں کو ڈھانپنے کیلئے سبزی مائل چینی کمخواب کا انتخاب کِیا گیا۔ علاوہ‌ازیں، لکڑی کے ستونوں اور بالکونی کے جنگلوں میں دیمک نے گھر بنا لیا تھا۔ اُس سے نجات حاصل کرنے کیلئے کیڑے مار دوا کے ۳،۶۴۰ گیلن لکڑی میں ڈالے گئے۔‏

۱۹۹۰ میں، عالیشان گھر میں ایک بار پھر سُریلی آوازیں گونج اُٹھیں۔ برازیلی سوپرینو سلیسُتے اِمبرٹ کی دُھنوں اور نیلسن فرے کے پیانو کی نغمہ‌سرائی نے تھیئٹر کو رونق بخشی۔‏

کیا یہ گھنٹی بجی تھی؟ جی‌ہاں، یہ آگاہی جھنکار ہے کہ مظاہرہ پانچ منٹ میں شروع ہو جائیگا۔‏

‏”‏۱۰۰ سالہ ٹیٹرو ایمزونس کی یادگار منانے کیلئے،“‏ تھیئٹر ڈائریکٹر ڈاؤ بیان کرتا ہے، ”‏ہم نے نامور موسیقار جوسی کیرریس کو مدعو کِیا۔ اُس نے صوتی آلات کو ٹسٹ کِیا اور اُسے بالکل درست حالت میں پایا۔“‏ وہ شام رقص‌گاہ میں رقص کیساتھ اختتام کو پہنچی۔ جشن، منتظم زوبن مہتا، موسیقار لوسیانو پیواروٹی اور ارجنٹینا کے طائفے، جس نے رنگارنگ غنائیہ کارمین پیش کِیا۔‏

یہ تین منٹ رہ جانے کی جھنکار تھی۔ بہتر ہوگا کہ ہم اپنی نشست سنبھال لیں۔‏

سارا دن ۶۰ ملازمین شو تیار کرنے کیلئے منظر کے پیچھے اِدھراُدھر بھاگتے رہے ہیں۔ یہاں اور بھی شو ہوا کریں گے—‏جازکنسرٹ، فوک‌شو اور ڈرامے۔ لیکن آج رات یہاں بیلٹ رقص ہو رہا ہے۔‏

ایک منٹ رہ جانے کی جھنکار۔ ہش۔‏

جی تو آپ جنگل کے اِس غنائیہ‌خانے کو کب رونق بخش رہے ہیں؟‏

‏[‏صفحہ 17 پر بکس/‏تصویر]‏

چوری جس نے ربڑ کی تجارت کو ختم کر دیا اور غنائیہ کو بند کر دیا

۱۸۷۶ میں، ہنری ویکم، ایک نوجوان انگریز مہم‌جو، نے ایک منصوبہ بنایا جس نے برازیل کی ربڑ کی تجارت کو بالکل ختم کر دیا۔ اُس نے انڈینز کی مدد سے، ایمزون کے جنگل سے جمع کئے گئے ہیوا براسیلینسس کے ۷۰،۰۰۰ اعلیٰ بیج ”‏چوری“‏ کر لئے، اُنہیں ایک دُخانی جہاز پر لادا اور یہ عذر پیش کرتے ہوئے کہ یہ ”‏ملکہ وکٹوریہ کے لئے نایاب پودوں کے نمونے ہیں“‏ برازیلی کسٹم کو پار کر گیا۔ اُس نے بحر اوقیانوس عبور کرتے ہوئے، کشتی میں اُن کی دیکھ‌بھال کی اور خاص چارٹر ریل‌گاڑی کے ذریعے جلد ہی کیو، انگلینڈ کے رائل بوٹینک گارڈنز [‏نباتاتی باغات]‏ کے گرین‌ہاؤس [‏گرم‌خانہ]‏ کو بھیجا، جہاں چند ہفتوں کے بعد اُن بیجوں سے کونپلیں پھوٹ نکلیں۔ وہاں سے اُنہیں جہاز کے ذریعے ایشیا بھیجا گیا اور اُنہیں سیلون اور مالے کے جزائر کی دلدلی مٹی میں لگایا گیا۔ ۱۹۱۲ میں، چوری‌کردہ بیج، بیماریوں سے پاک، ربڑ کے پودے بن چکے تھے اور جب اِن درختوں نے لیٹکس پیدا کرنا شروع کِیا تو ”‏برازیلی ربڑ کی تجارت“‏ ہمیشہ کے لئے ختم ہو گئی۔‏

‏[‏صفحہ 14 پر تصویر]‏

میناؤس

‏[‏صفحہ 15 پر تصویر]‏

دونوں دریا مدغم ہونے سے انکاری ہیں

‏[‏صفحہ 15 پر تصویر]‏

تھیئٹر کا گنبد—‏ڈھونڈنے کیلئے آسان حوالہ

‏[‏صفحہ 16 پر تصویر]‏

گرم‌سیر جنگل میں حسن‌وجمال

‏[‏صفحہ 17 پر تصویر]‏

پھر سے ایک عالیشان گھر

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں