”مُرغ جس لئے بارش میں طرارے بھرتا ہے. . .“
نائیجریا میں جاگو! کے مراسلہنگار سے
جنوبی نائیجریا میں ہماری چھوٹی سی کلیسیا کو جب بادشاہتی خبر نمبر ۳۴ کی اپنی رسد موصول ہوئی، جسے ساری دُنیا میں تقسیم کِیا گیا تھا تو ہم اپنے علاقے کے ہر حصے میں اِسکی کاپیاں پہنچانے کے متمنی تھے۔ یہ کوئی آسان کام نہیں تھا۔ ہمارے علاقے میں فارم کیمپ تھے جن میں کساوا، کچالو اور دیگر غذائی اشیاء کاشت کی جاتی تھیں۔ یہ فارم کیمپ گرم سیر برساتی جنگلات کے بالکل اندر واقع تھے۔ اُن تک پہنچنا مشکل تو تھا مگر ناممکن ہرگز نہ تھا۔ بہرکیف، خدا کی مرضی یہ ہے کہ خوشخبری ہر قسم کے لوگوں تک پہنچے، حتیٰکہ جنگل میں رہنے والے کسانوں تک بھی۔—۱-تیمتھیس ۲:۳، ۴۔
چنانچہ، اکتوبر ۱۶، ۱۹۹۵ کو ہم ۱۸ لوگ ایک فارم کیمپ ابومبادا کیلئے، صبح ۳۰:۷ پر روانہ ہوئے، جو تقریباً دو میل کا فاصلہ تھا۔ راستے میں ایک ندی عبور کرنے کیلئے ہمیں اُس میں سے پیدل گزرنا پڑا۔ پانی کمر تک تھا۔
اُسی دن ایک اَور کیمپ تک پہنچنے کیلئے ہمیں ایک بڑی ندی میں سے پیدل گزرنا پڑا۔ اِس مرتبہ صرف چار بھائی اور ایک بہن ہی اِسے عبور کر پائے۔ باقی گروپ پیچھے ہی ٹھہر گیا۔
اُس دن، ہمیں بہتیرے ایسے لوگ ملے جو سننے کیلئے آمادہ تھے۔ ہماری خوشی میں اضافہ کرنے والی ایک اور چیز بھی تھی جسے ہم نے جنگل میں اپنا صلہ قرار دیا۔ چونکہ راستے میں جاتے ہوئے ہم نے کچھ جنگلی پھل توڑ کر کھائے۔ ہماری ملاقات مہماننواز کسانوں سے ہوئی، اُن تک پہنچنے کے لئے، انہوں نے ہماری کوششوں کو سراہا؛ ہماری پیاس بجھانے کیلئے اُنہوں نے ہمیں مالٹے دئے۔ اپنے پاس موجود تمام ٹریکٹ تقسیم کرتے ہوئے، ہم نے تقریباً ۲۵۰ لوگوں سے رابطہ کِیا۔
ایک بڑا چیلنج
ایک حقیقی چیلنج دو دن بعد پیش آیا۔ سات میل دُور اوثا اناسی ایک کیمپ تھا، جہاں شاید کبھی بھی باضابطہ منادی نہیں کی گئی تھی۔ بعض وہاں جانے سے گھبرا رہے تھے۔ اُراسی دریا عبور کرنا جانجوکھوں کا کام تھا اور ہم میں سے بہتیروں کو تیرنا نہیں آتا تھا۔ درختوں کے تیز ٹھنٹھ کے باعث پیدل گزرنا بھی خطرناک ہو سکتا تھا۔ کیچڑ والے علاقے پھسلن والے ہونگے اور گرنے سے زخمی ہو سکتے تھے۔ ہاتھ سے بنے ہوئے بعض پل مضبوط نہیں تھے۔ وہاں سانپ، مگرمچھ اور جونکوں سے بھری ہوئی ندیاں تھیں۔
پھر بھی ہم میں سے سولہ نے جانے کا فیصلہ کِیا۔ تیز اور خطرناک دریائےاُراسی کو عبور کرنے کیلئے ڈونگا (کشتی کی ایک قسم) میں سوار ہونے کیلئے، ہم تقریباً ایک میل پیدل چلے۔ ڈونگا تک پہنچنے کیلئے ہمیں ایک سیدھی ڈھلان والی پہاڑی سے نیچے اُترنا پڑا۔ یہ برسات کا موسم تھا اور دریا میں طغیانی تھی۔ تمام علاقے کی مٹی چکنی تھی اور برسات کے موسم میں پھسلن ہو جاتی ہے۔ جب ہم ڈونگا سے اُترے تو ہمیں معلوم ہوا کہ فٹپاتھ ایک ندی میں بدل چکا تھا جوکہ بعض جگہ سے تین فٹ تک گہری تھی۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں سے ہماری حقیقی مشکلات کا آغاز ہوا۔
ہم اِس ندی کے کنارے تقریباً ۳۰ منٹ تک پیدل چلتے رہے۔ زمین پر اتنی پھسلن تھی کہ ہم میں سے بہتیرے گدلے پانی میں گرے جس سے ہماری بائبلیں، میگزین اور ٹریکٹ گیلے ہو گئے۔ ہمارا جذبہ جوان تھا لہٰذا جب بھی کوئی گرتا تو ہم سب بشمول گرنے والے کے قہقہے لگاتے۔
ایک چھوٹی ندی عبور کرتے ہوئے، جونکیں ہماری ٹانگوں سے چمٹ گئیں۔ ایک نوجوان بہن نے، جسکی ٹانگ سے ایک جونک بڑی مضبوطی سے چمٹ گئی تھی، ایک زوردار چیخ ماری۔ جونک کے ہٹا دئے جانے کے بعد بھی وہ چلاتی رہی۔ ہم نے مزاح کا مظاہرہ کرتے ہوئے اِسے بھی مہم کا حصہ سمجھا اور اپنی راہ چلتے رہے۔
ایک اَور ندی عبور کرنے کیلئے، ایک بھائی نے فیصلہ کِیا کہ وہ دوسروں کی طرح پیدل نہیں بلکہ پھلانگ کر پار کریگا۔ وہ پانی کو تو پار کر گیا مگر کیچڑ سے نہ بچ پایا۔ وہ پھسلا اور کیچڑ میں چاروں شانےچت گر پڑا۔ وہ اُٹھا، اپنا جائزہ لیا، یہ جاننے کے بعد کے کوئی چوٹ نہیں آئی، اُس نے کہا: ”کوئی بات نہیں، یہ تجربے کا حصہ ہے۔“ ہم نے یاد کِیا کہ پولس رسول نے بھی ”سمندر کے خطروں“ کا سامنا کِیا، غالباً اِن سے کہیں بڑے جنکا ہمیں سامنا ہوا۔—۲-کرنتھیوں ۱۱:۲۶۔
ہم نے ہاتھ سے بنا ہوا ایک پُل عبور کِیا جوکہ کافی خطرناک دکھائی دیتا تھا مگر ہم سب اُسے عبور کر گئے۔ اِس کے بعد کے علاقے میں بہت زیادہ پھسلن تھی لہٰذا وہاں باربار گرنا اور بھی زیادہ معمول بن گیا۔
ہمارے ساتھ ایک ۷۰سالہ ریگولر پائنیر بھائی بھی تھا۔ اُس صبح وہ ہم سب کو ہمارے سفر کیلئے خدا حافظ کہنے آیا۔ مگر یہوواہ سے برکت کیلئے ہماری دُعا کے بعد، اُس نے پوچھا: ”مَیں کیسے پیچھے رہ سکتا ہوں جبکہ آپ سب منادی کیلئے جا رہے ہیں؟“ اُس نے ساتھ جانے کیلئے اصرار کِیا اور پھر کسی کی کوئی بھی بات اُسے جانے سے نہ روک سکی۔ اُس نے کہا کہ یہوواہ اُس کے ساتھ ہوگا۔ لہٰذا وہ ساتھ گیا۔
جب وہ پھسلنی زمین پر چاروں شانےچت گرا تو کوئی قہقہے نہ لگے۔ فکرمند ہوتے ہوئے ہم نے دریافت کِیا کہ کیا اُسے چوٹ آئی ہے۔ اُس نے جواب دیا: ”نہیں۔ مَیں اِس لئے آرام سے گرا ہوں کہ کہیں زمین کو زخمی نہ کر دوں۔“ ہم نے سکون کا سانس لیتے ہوئے قہقہہ لگایا اور یسعیاہ ۴۰:۳۱ کو یاد کِیا جو بیان کرتی ہے کہ ”خداوند [”یہوؔواہ،“ اینڈبلیو] کا انتظار کرنے والے ازسرِنو زور حاصل کرینگے۔“
قدردان سامعین
آخرکار ہم اپنی منزل پر پہنچ گئے۔ لوگوں کا جوابیعمل انتہائی حوصلہافزا تھا۔ ایک شخص نے جب ہمیں اپنی جھونپڑی کی طرف آتے دیکھا تو وہ خوفزدہ ہو گیا لیکن یہ جاننے کے بعد کہ ہم کون تھے، اُس نے کہا: ”میرے لئے یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ آپ نے صرف ہمیں منادی کرنے کیلئے اتنا دشوارگذار سفر کِیا ہے۔ ہم اِسکی قدر کرتے ہیں۔“ ہم نے ایک مقامی کہاوت کے ذریعے جواب دیا: ”مرغ جس لئے بارش میں طرارے بھرتا ہے وہ یقیناً اُس کیلئے اہم ہے۔“ آدمی سمجھ گیا۔
ایک اَور کسان نے کہا: ”اگر منادی اِس جگہ تک پہنچ گئی ہے تو اِسکا مطلب ہے کہ نجات ہمارے پاس پہنچ گئی ہے۔“ بہت سے لوگوں کے سوالات تھے جنکا ہم نے جواب دیا۔ اُنہوں نے ہمیں دوبارہ آنے کیلئے کہا اور ہم نے ایسا کرنے کا وعدہ کِیا۔
اوثا اناسی میں ہم نے ۱۱۲ ٹریکٹ پیش کئے—تمام جو ہمارے پاس تھے۔ ہم نے مجموعی طور پر تقریباً ۲۲۰ لوگوں کو گواہی دی۔
واپس آتے ہوئے، ہم راستہ بھول گئے۔ کیمپ کی طرف اپنے قدموں کے نشان ڈھونڈتے ہوئے، ہمیں ڈیڑھ گھنٹہ لگا ہوگا اور رات ہونے والی تھی۔ ہم نے خاموشی سے یہوواہ سے دُعا کی اور چلتے رہنے کا فیصلہ کِیا اگرچہ اِسکا مطلب ایک خطرناک ندی کو پیدل عبور کرنا تھا جس میں پانی ہمارے کولھوں تک تھا۔
ندی عبور کرنے کے بعد، ہمیں اپنا راستہ مل گیا اور معلوم ہوا کہ ہم گھر کے کافی قریب تھے جس سے ہم حیران ہوئے۔ راستہ بھول جانے کی وجہ سے ہم ایک مختصر راستے پر چل نکلے جس سے ہمارا ایک گھنٹے کا سفر کم ہو گیا! ہم سب یقیناً بہت خوش تھے اور ہم نے یہوواہ کا شکر ادا کِیا۔ جب سورج غروب ہو رہا تھا تو ہم گھر پہنچ گئے—بھوکے اور تھکے ہوئے لیکن بہت خوش۔
بعدازاں، جبکہ ہم اُس دن کے تجربات کی بابت باتچیت کر رہے تھے تو ایک بہن نے کہا: ”مَیں نے اُس جگہ کی بابت کہانیاں سن رکھی ہیں، لہٰذا میں جانتی تھی کہ مَیں گروں گی۔ اگر یہ خوشخبری کیلئے نہ ہوتا تو مَیں کبھی وہاں نہ جاتی، اِس دُنیا کی تمام دولت کیلئے بھی نہیں!“ ایک بھائی پکار اُٹھا: ”آخرکار اوثا اناسی تک خوشخبری پہنچ ہی گئی ہے!“
[صفحہ 23 پر تصویریں]
ایک مقامی پُل عبور کرتے ہوئے
ہم نے جونکوں سے بھری ہوئی بہت سی ندیوں کو عبور کِیا
اپنی اِس خطرناک مہم کے اختتام پر ہم دریائے اُراسی کو عبور کرنے کیلئے ڈونگا میں سوار ہوئے