یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو97 8/‏1 ص.‏ 9-‏11
  • آخرکار–‏ایک حکومت جُرم کا خاتمہ کریگی

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • آخرکار–‏ایک حکومت جُرم کا خاتمہ کریگی
  • جاگو!‏—‏1997ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • ‏”‏ایک عالمگیر المیہ“‏
  • وہ حکومت جو جُرم کا خاتمہ کریگی
  • جُرم سے پاک دُنیا
  • جرم کا خاتمہ کرنے کیلئے کوشاں
    جاگو!‏—‏1997ء
  • کیا کوئی مُلک جُرم سے پاک ہے؟‏
    جاگو!‏—‏1997ء
جاگو!‏—‏1997ء
جاگو97 8/‏1 ص.‏ 9-‏11

آخرکار–‏ایک حکومت جُرم کا خاتمہ کریگی

بائبل نے پیشگوئی کی تھی کہ ہمارے ایّام میں لوگ ”‏خودغرض، زردوست، شیخی‌باز، مغرور، بدگو، ماں‌باپ کے نافرمان، ناشکر، ناپاک، طبعی محبت سے خالی، سنگدل، تہمت لگانے والے، بے‌ضبط، تندمزاج، نیکی کے دُشمن [‏ہونگے]‏۔“‏ (‏۲-‏تیمتھیس ۳:‏۲، ۳‏)‏ ایسے ہی لوگ جرائم کے مُرتکب ہوتے ہیں۔‏

چونکہ لوگ ہی جُرم کرتے ہیں اسلئے اگر وہ بہتری کیلئے کچھ تبدیلی لائیں تو جُرم میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ لیکن بہتری کے لئے تبدیلی لانا لوگوں کے لئے ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ آجکل یہ پہلے کی نسبت کہیں زیادہ مشکل ہے کیونکہ ۱۹۱۴ سے لیکر، بائبل تاریخ‌نگاری کے مطابق، ہم اس نظام‌اُلعمل کے ”‏آخری ایّام میں رہ رہے ہیں۔ جیسے‌کہ بائبل نے پیشینگوئی کی، اس دَور کی نشاندہی ”‏بُرے دنوں“‏ سے کی گئی ہے۔ یہ بُرے دن، سب سے بڑے مجرم، شیطان اِبلیس کے پیداکردہ ہیں جو اس وقت ”‏بڑے قہر میں ہے کیونکہ جانتا ہے کہ میرا تھوڑا ہی سا وقت باقی ہے۔“‏—‏۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱؛‏ مکاشفہ ۱۲:‏۱۲‏۔‏

یہ بات آجکل کے جُرم میں اضافے کی وضاحت کرتی ہے۔ شیطان جانتا ہے کہ وہ اور اُس کا نظام جلد ختم ہونے والا ہے۔ باقیماندہ تھوڑے سے وقت میں، وہ ہر ممکنہ طریقے سے انسانوں میں ۲-‏تیمتھیس ۳ باب میں متذکرہ بُرے خصائل پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لہٰذا کسی حکومت کے جُرم ختم کرنے کیلئے ضروری ہے کہ وہ شیطان کے اثر سے چھٹکارا حاصل کرے اور لوگوں کو بھی تبدیلی لانے میں مدد دے تاکہ وہ پھر کبھی مذکورہ‌بالا طریقے سے عمل نہ کریں۔ لیکن کیا کوئی حکومت یہ مافوق‌الفطرت کام کرنے کے قابل ہے؟‏

کوئی انسانی حکومت ایسا کرنے کے قابل نہیں ہے۔ یوکرائن میں قانون کے ایک مُعلم، جے۔ واسکوک ”‏ایک عام قابل ادارے“‏ کی تجویز پیش کرتا ہے ”‏جو تمام ممالک اور عوامی تنظیموں کی کاوشوں کو یکجا اور مربوط کرے گی۔“‏ اور فلپائن کے صدر فیڈل راموس نے جُرم کی بابت ایک عالمی کانفرنس میں بیان کِیا:‏ ”‏کیونکہ جدت‌پسندی نے ہماری دُنیا کو چھوٹا کر دیا ہے، جُرم قومی حدود پار کرنے کے قابل ہو گیا ہے اور ایک بین‌الاقوامی مسئلہ بن گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اسی طرح حل بھی بین‌الاقوامی ہونے چاہئیں۔“‏

‏”‏ایک عالمگیر المیہ“‏

اقوامِ‌متحدہ ایک بین‌الاقوامی ادارہ ہے۔ اپنے آغاز ہی سے، اس نے جُرم کا مقابلے کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن اسکے پاس بھی قومی حکومتوں سے بڑھ کر کوئی حل نہیں ہیں۔ کتاب دی یونائیٹڈ نیشنز اینڈ کرائم پری‌وینشن بیان کرتی ہے:‏ ”‏خانگی جُرم زیادہ‌تر انفرادی قوموں کے قابو سے باہر ہو گیا ہے اور بین‌الاقوامی جُرم بین‌الاقوامی برادری کی موجودہ دسترس سے بہت آگے نکل گیا ہے۔ .‏ .‏ .‏ منظم مجرمانہ گروہ کے ذریعے جُرم خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے جو بالخصوص جسمانی تشدد، دھمکی اور عوامی اہلکاروں کی بدعنوانی کے سلسلے میں سنگین نتائج پر منتج ہوا ہے۔ دہشت‌گردی نے ہزاروں معصوم جانیں لے لی ہیں۔ منشیات کے عادی لوگوں میں لوٹ‌مار ایک عالمگیر المیہ بن گئی ہے۔“‏

اقوامِ‌متحدہ کے چوتھے صدر، جیمز میڈیسن نے ایک مرتبہ کہا:‏ ”‏ایک ایسی حکومت کو تشکیل دینے میں جس میں انسانوں نے انسانوں پر حکومت کرنی ہے، سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ:‏ پہلے تو ضروری ہے کہ آپ حکومت کو اُن لوگوں کو قابو میں رکھنے کے قابل بنائیں جن پر اُسے حکومت کرنی ہے؛ اور اسکے بعد اسے خود پر قابو پانے کا پابند کریں۔“‏ (‏مقابلہ کریں واعظ ۸:‏۹‏۔)‏ لہٰذا بہترین حل یہ ہے کہ ایسی حکومتوں کو جس میں ”‏انسان انسان پر حکومت کرتا ہے“‏ ایک ایسے نظام سے بدل ڈالیں جس میں خدا حکومت کریگا۔ لیکن کیا ایسا حل حقیقت‌پسندانہ ہے؟‏

وہ حکومت جو جُرم کا خاتمہ کریگی

بائبل خدا کی بادشاہت کی بابت جوکچھ بیان کرتی ہے سچے مسیحی اس پر ایمان رکھتے ہیں۔‏a یہ ایک حقیقی حکومت ہے۔ اگرچہ آسمان میں ہونے کی وجہ سے حکومت نادیدہ ہے، زمین پر اسکی کامیابیاں دیدنی ہیں۔ (‏متی ۶:‏۹، ۱۰‏)‏ یہ یسوع مسیح اور ۱۴۴،۰۰۰ اشخاص پر مشتمل ہے جو ”‏ہر ایک قبیلہ اور اہلِ‌زبان اور اُمت اور قوم میں سے .‏ .‏ .‏ زمین پر بادشاہی [‏کرنے کیلئے]‏“‏ چن لئے گئے ہیں۔ یہ طاقتور حکومت رعایا کی ایک ”‏بڑی بِھیڑ“‏ پر حکومت کریگی جو بائبل کی پیشینگوئی کے مطابق، ”‏ہر ایک قوم اور قبیلہ اور اُمت اور اہلِ‌زبان“‏ میں سے آتی ہے۔ (‏مکاشفہ ۵:‏۹، ۱۰؛‏ ۷:‏۹‏)‏ پس، حکمران اور رعایا دونوں ہی بین‌الاقوامی پس‌منظر رکھتے ہیں، تمام قوموں میں سے واقعی متحد لوگ جنہیں الہٰی مقبولیت حاصل ہے۔‏

خدا کی حکمرانی قبول کرتے ہوئے، یہوواہ کے گواہوں نے بڑی حد تک خوداپنی صفوں کے اندر جُرم کے مسئلے پر قابو پا لیا ہے۔ کیسے؟ بائبل اُصولوں کی حکمت کی قدر کرنا سیکھنے سے، اُنہیں اپنی زندگیوں پر عائد کرنے سے اور خود کو کائنات میں سب سے بڑی قوت، خدا کی رُوح اور اس کے پھل—‏محبت سے ترغیب پانے دینے سے۔ خدا کا کلام بیان کرتا ہے:‏ ”‏اور ان سب کے اُوپر محبت کو جو کمال کا پٹکا ہے باندھ لو۔“‏ (‏کلسیوں ۳:‏۱۴‏)‏ ۲۳۰ سے زائد ممالک میں، یہوواہ کے گواہ اس بات کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہ خدا کی بادشاہت جُرم کا خاتمہ کرنے کیلئے کیسے پہلے ہی سے اقدامات کر رہی ہے، اس محبت اور اتحاد کو عمل میں لاتے ہیں۔‏

اسکی مثال ۱۹۹۴ کے ایک سروے کے نتائج سے مل سکتی ہے جس میں جرمنی میں ۱۴۵،۹۵۸ یہوواہ کے گواہوں نے شرکت کی۔ اُن میں سے بہتیروں نے یہ تسلیم کِیا کہ گواہ بننے کیلئے اُنہیں سنگین غلطیوں پر قابو پانا لازم تھا۔ بائبل کے اپنے مطالعے سے اُنہوں نے ایسا کرنے کی تحریک پائی تھی۔ مثال کے طور پر، ۳۰،۰۶۰ نے تمباکو یا منشیات کی عادت پر قابو پایا؛ ۱،۴۳۷ نے جؤےبازی چھوڑ دی؛ ۴،۳۶۲ نے متشدّد یا مجرمانہ طرزِعمل کی اصلاح کی؛ ۱۱،۱۴۹ نے حسد یا نفرت جیسے خصائل پر قابو پایا؛ اور ۱۲،۸۲۰ نے کھچاؤ کی شکار خاندانی زندگی کا گھریلو سکون بحال کِیا۔‏

اگرچہ یہ معلومات صرف ایک مُلک کے یہوواہ کے گواہوں سے تعلق رکھتی ہیں، یہ پوری دُنیا میں گواہوں کی مثال ہیں۔ مثال کے طور، یوکرائن کے ایک یوری نامی نوجوان کو لے لیں۔ جس وقت اُس نے یہوواہ کے گواہوں کیساتھ بائبل کا مطالعہ شروع کِیا، وہ ایک جیب‌تراش تھا۔ اُس نے ماسکو تک سفر کِیا تھا جہاں وہ جانتا تھا کہ لوگوں کے ہجوم اُس کے ”‏کام“‏ کو آسان بنا دینگے۔‏

۱۹۹۳ میں، یوری ایک مرتبہ پھر ماسکو میں لوگوں کے ہجوم میں تھا۔ لیکن جمعہ، جولائی ۲۳ کو لوکوموٹیو سٹیڈیم میں موجود ۲۳،۰۰۰ لوگوں میں سے کسی کو بھی اُس کا ڈر نہیں تھا کیونکہ اب وہ ایک یہوواہ کا گواہ تھا۔ بلا‌شُبہ، یوری بین‌الاقوامی سامعین کی نمائندگی کرنے والے ایک پروگرام میں شرکت کرنے کے باعث سٹیج پر موجود تھا۔ بہتری کیلئے تبدیلی لاتے ہوئے، وہ بائبل کے حکم کی فرمانبرداری کرتا ہے:‏ ”‏چوری کرنے والا پھر چوری نہ کرے۔“‏—‏افسیوں ۴:‏۲۸‏۔‏

یوری کی طرح کے بیشمار دیگر لوگوں نے خدا کے راستباز نئے نظام میں زندگی پانے کے لائق ثابت ہونے کیلئے مجرمانہ طرزِزندگی کو ترک کر دیا ہے۔ ایک سابق برطانوی پولیس اہلکار، سر پیٹر ایم‌برٹ، نے جو کچھ کہا یہ اُس کی صداقت کو نمایاں کرتا ہے:‏ ”‏اگر ہر ایک جدوجہد کرنے کیلئے تیار ہو تو جُرم پر راتوں رات قابو پایا جا سکتا ہے۔“‏ خدا کی حکومت کی طرف سے پیش‌کردہ بائبل کا تعلیمی پروگرام خلوصدل لوگوں کو ایسی ”‏جدوجہد کرنے کیلئے“‏ تحریک دیتا ہے جس کی اُنہیں ضرورت ہے۔“‏

جُرم سے پاک دُنیا

جُرم خواہ کیسا بھی ہو دوسروں کے لئے محبت کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ مسیحی یسوع کے نمونے کی پیروی کرتے ہیں، جس نے کہا تھا:‏ ”‏خداوند اپنے خدا سے اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری عقل سے محبت رکھ۔“‏ اور ”‏اپنے پڑوسی سے اپنے برابر محبت رکھ۔“‏—‏متی ۲۲:‏۳۷-‏۳۹‏۔‏

واحد حکومت جو لوگوں کو ان دو احکام کی فرمانبرداری کرنے کی تعلیم دینے کے ذریعے جُرم کا خاتمہ کرنے کے لئے وقف ہے وہ خدا کی بادشاہت ہے۔ آج، پانچ ملین سے زیادہ یہوواہ کے گواہ اس تعلیم سے مستفید ہوتے ہیں۔ وہ اس بات کا پُختہ عزم کئے ہوئے ہیں کہ مجرمانہ رجحانات کو اپنے دلوں میں جڑ پکڑنے کی اجازت نہ دیتے ہوئے، جُرم سے پاک دُنیا کے سلسلے میں اپنا حصہ ادا کرنے کے لئے کسی بھی قسم کی درکار شخصی کوشش کرنے کے لئے تیار ہیں۔ جوکچھ خدا نے اُن کی زندگیوں میں انجام دیا ہے وہ اُس سب کا محض پہلے سے مزہ چکھنا ہے جو خدا اپنی آسمانی حکومت کی حکمرانی کے تحت نئی دُنیا میں کرے گا۔ ایک ایسی دُنیا کا تصور کریں جس میں سپاہیوں، ججوں، وکیلوں یا جیلوں کی ضرورت نہیں ہوگی!‏

عالمی پیمانے پر ایسا کرنے میں کامیاب ہونا، خود خدا کی طرف سے لائے گئے، تاریخ میں بہت بڑے حکومتی انقلاب پر منتج ہوگا۔ دانی‌ایل ۲:‏۴۴ کہتی ہے:‏ ”‏اُن [‏آجکل موجود]‏ بادشاہوں کے ایّام میں آسمان کا خدا ایک [‏آسمانی]‏ سلطنت برپا کرے گا جو تاابد نیست نہ ہوگی اور اُسکی حکومت کسی دوسری قوم کے حوالہ نہ کی جائیگی بلکہ وہ ان تمام مملکتوں کو ٹکڑے ٹکڑے اور نیست کریگی اور وہی ابد تک قائم رہیگی۔“‏ اُسکے بُرے اثر کو ختم کرتے ہوئے، خدا شیطان کو بھی کچل ڈالیگا۔—‏رومیوں ۱۶:‏۲۰‏۔‏

ایک بار جب خدا کی آسمانی حکومت انسانی حکومتوں کی جگہ لے لیگی تو اسکے بعد انسان ایک دوسرے پر کبھی بھی حکومت نہیں کرینگے۔ آسمانی بادشاہ—‏فرشتوں سے بھی بلندمرتبہ بادشاہ—‏نوعِ‌انسان کو راستبازی کی راہوں کی تعلیم دینگے۔ اسکے بعد، قتل‌وغارت، زہریلی گیس کے حملے یا دہشت‌گردوں کے بم نہیں ہونگے!‏ پھر جُرم پیدا کرنے والی معاشرتی ناانصافیاں نہیں ہونگی!‏ کوئی امیر اور غریب نہیں ہوگا!‏

نائجیریا میں اوبافیم آولوو یونیورسٹی کے پروفیسر ایس.‏ اے.‏ آلوکو نے بیان کِیا:‏ ”‏غریب رات کو اسلئے نہیں سو سکتے کیونکہ وہ بھوکے ہوتے ہیں؛ دولتمند اسلئے نہیں سو سکتے کیونکہ غریب جاگ رہے ہوتے ہیں۔“‏ لیکن جلد ہی ہر شخص اس علم کے باعث پُرسکون نیند سوئیگا کہ حکومت—‏خدا کی حکومت—‏نے بالآخر جُرم کا خاتمہ کر دیا ہے!‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a خدا کی بادشاہت کیا ہے اور یہ ایماندار نوعِ‌انسان کو کیسے فائدہ پہنچائیگی، اس کی بابت مفصل وضاحت کے لئے، براہِ‌مہربانی واچ‌ٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیو یارک انکارپوریٹڈ کی شائع‌کردہ کتاب علم جو ہمیشہ کی زندگی کا باعث ہے پڑھیں۔‏

‏[‏صفحہ 10 پر تصویر]‏

ایک سابق چور اور اسکا شکار، اب مسیحی بھائیوں کے طور پر متحد ہیں

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں